الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْل ذلِكَ وبركته
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
حدیث نمبر: 9084
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ قَالَ أَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ وَتَقْرَأَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9084]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري12، 28، 6236، ومسلم: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6581»
وضاحت: فوائد: … مہمان کے اکرام کی بنیاد ذاتی معرفت نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ اکثر لوگوں کا رویہ بن چکا ہے، آج کل دو چیزوں کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے، ایک ذاتی معرفت اور ایک سرمایہ داری، جس مہمان میں یہ دو صفات نہ ہوں، اس کے ساتھ تو دعا سلام لینا گوارہ نہیں کیا جاتا، یہ فرق اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9085
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَحْفَظْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کرے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے ہمسائے کی حفاظت کرے، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9085]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6621»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9086
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالُوا وَمَا كَرَامَةُ الضَّيْفِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مہمان کا اکرام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن، اور اس کے بعد بھی اگر وہ بیٹھا رہے تو ضیافت اس پر صدقہ ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9086]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11749»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9087
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی میں کوئی خیر نہیں ہے، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9087]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17555»
وضاحت: فوائد: … اسلام انسانیت کی تکریم اور غمگساری کا خواہاں ہے، اسی خواہش کا تقاضا ہے کہ مہمان کی عزت کی جائے، اس کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جائے، حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمانی کی جائے اور اس کے آرام و راحت کا خیال رکھا جائے۔ اسلام نے نہ صرف مہمانی پر زور دیا، بلکہ اس کے تمام آداب مقرر کر دیے اور جہاں مہمان نوازی کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا قرار دیا، وہاں مہمان کو بھی تنبیہ کر دی کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنا نہ ٹھہرے کہ وہ اس سے تنگ آ جائے۔ بہر حال مہمان نوازی سے جی چرانا خیرو بھلائی سے محرومی کاباعث ہے، مہمان خیرو برکت کا باعث بنتا ہے، جب سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی نے خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہمان کی میزبانی کا حق ادا کیا تو ان کے اندازِ میزبانی پر اللہ تعالیٰ مسکرائے اور یہ آیات نازل فرما دیں: {وَیُؤثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (سورۂ حشر: ۹) … اور وہ (دوسرے حاجتمندوں کو) اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ اُن کو سخت بھوک ہو اور جو لوگ نفسوں کی بخیلی سے بچ گئے، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ (الصحیحۃ:۳۲۷۲)
اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل پر تعجب کرے اور مسکرائے اور رہتی دنیا تک اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کر دے۔ لہٰذاہمیں خوشنودیٔ الہی کے حصول کے لیے، فقر و فاقہ سے نہ ڈرتے ہوئے فراخ دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دے گا۔ غور فرمائیں کہ میزبانی کے وصف سے محروم شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے برکتا اور خیر سے محروم قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم لوگ معرفت اورعدم معرفت کو سامنے رکھ کر مہمانوں کی میزبانی میں بہت زیادہ فرق کرتے ہیں۔ مثلا ایک مہمان کی پرتکلف خدمت کی، ایک کو صلح شلح پہ ٹال دیا، ایک کو اتنا کمتر سمجھا کہ اسے چائے وائے کا ست کرنا بھی گوارہ نہ کیا اورکسی کے لیے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا اور بچے یا خادم کے ذریعے اسے کوئی پیغام بھیج دینا ہی کافی سمجھ لیا۔
احباب! یہ فرق کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ پہلے سے جناب کی دوستی تھی، دوسرے سے کچھ دعا وسلام تھا اور تیسرا اجنبی تھا۔
کیا ایسی میزبانی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسلام کے رشتے کو مد نظر رکھا گیا ہے؟کیا مہمان کییہ خدمتیں بطورِ مہمان ہیںیا ذاتی تعلق کی بنا پر؟ میزبانی کے ایسے انداز سے ہمیں باز آ جانا چاہئے، یہ مسکراہٹوں کے تبادلے اور دنیاداری ہے۔
اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل پر تعجب کرے اور مسکرائے اور رہتی دنیا تک اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کر دے۔ لہٰذاہمیں خوشنودیٔ الہی کے حصول کے لیے، فقر و فاقہ سے نہ ڈرتے ہوئے فراخ دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دے گا۔ غور فرمائیں کہ میزبانی کے وصف سے محروم شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے برکتا اور خیر سے محروم قرار دیا ہے۔
قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم لوگ معرفت اورعدم معرفت کو سامنے رکھ کر مہمانوں کی میزبانی میں بہت زیادہ فرق کرتے ہیں۔ مثلا ایک مہمان کی پرتکلف خدمت کی، ایک کو صلح شلح پہ ٹال دیا، ایک کو اتنا کمتر سمجھا کہ اسے چائے وائے کا ست کرنا بھی گوارہ نہ کیا اورکسی کے لیے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا اور بچے یا خادم کے ذریعے اسے کوئی پیغام بھیج دینا ہی کافی سمجھ لیا۔
احباب! یہ فرق کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ پہلے سے جناب کی دوستی تھی، دوسرے سے کچھ دعا وسلام تھا اور تیسرا اجنبی تھا۔
کیا ایسی میزبانی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسلام کے رشتے کو مد نظر رکھا گیا ہے؟کیا مہمان کییہ خدمتیں بطورِ مہمان ہیںیا ذاتی تعلق کی بنا پر؟ میزبانی کے ایسے انداز سے ہمیں باز آ جانا چاہئے، یہ مسکراہٹوں کے تبادلے اور دنیاداری ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9088
عَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَقْرِيهِ أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ قَالَ بَلِ اقْرِهِ
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک آدمی کے پاس گیا، اس نے نہ میری ضیافت کی اور نہ میری عزت کی، پھر اگر وہی آدمی میرے پاس آ جائے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو اس کے کیے کا بدلہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تو اس کی ضیافت کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9088]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1303، 1304، والطبراني في الكبير: 19/ 608، والحاكم: 1/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15986»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9089
عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا سنان بن سنّہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شکریہ ادا کرنے والے کھانے والے کا اجر روزہ رکھنے والے اور صبر کرنے والے کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9089]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19223»
وضاحت: فوائد: … بندے کو ہر حالت میں شریعت کے تقاضے پورے کرنے چاہیے۔ اگر مال دار، کھاتا پیتا ہے تو اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے شکر ادا کرے اور اس کی فرمانبرداری میں لگا رہے اور اگر تنگی ترشی ہے تو اللہ کے لیے صبر کرے، اس کی تقسیم پر راضی رہے، اس طرح دونوں حالتوں میں آدمی اجر وثواب کا حقدار ٹھہرے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدْمِ التَّكَلُفِ لِلضَّيْفِ
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 9090
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ دَخَلَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ
۔ عبد اللہ بن عبید کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماکے پاس آیا، انھوں نے روٹی اور سرکہ پیش کیا اور کہا: کھاؤ، یہ چیز پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین سالن سرکہ ہے، اس میں آدمی کی ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائیوں کا ایک گروہ جائے اور وہ گھر میں موجودہ چیز کو بطورِ ضیافت پیش کرنے کو حقیر سمجھے اور اس میں لوگوں کی ہلاکت ہے کہ جو چیز ان کی میزبانی میں پیش کی جائے، وہ اس کو حقیر سمجھیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9090]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبيد الله بن الوليد الوصافي متفق علي ضعفه، وقد اضطرب في اسناد ھذا الحديث، لكن الحديث من ابتداء ه الي قوله: نعم الادام الخل صحيح بطرقه، أخرج الصحيح منه ابوداود: 3820، والترمذي: 1839، 1842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15048»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9091
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَدَعَا لَهُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ لَوْلَا أَنَّا نُهِينَا أَنْ يَتَكَلَّفَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ لَتَكَلَّفْنَا لَكَ
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی گیا، انھوں نے ضیافت میں ماحضر پیش کیا اور کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں تکلف سے منع نہ کیا ہوتا یا اگر ہم کو اپنے ساتھی کے تکلف کرنے سے منع نہ کیا جاتا تو ہم تمہارے لیے تکلّف کرتے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9091]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، أخرجه البزار: 5931، والطبراني: 6084، والحاكم: 4/ 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24134»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا ایک متن اس طرح روایت کیا گیا ہے: سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَتَکَلَّفَنَّ أَحَدٌ لِضَیْفِہٖ مَالَایَقْدِرُ عَلَیْہِ۔)) … کوئی آدمی مہمان کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر تکلف نہ کرے۔ (صحیحہ:۲۴۴۰)
اسلام سادگی اور حقیت پر مبنی مذہب ہے، اس میں تکلف و تصنع اور خوشامد و چاپلوسی کی کوئی گنجائش نہیں، جہاں شریعت نے مہمان کی میزبانی کو فرض قرار دیا ہے، وہاں تکلف سے بچنے کی بھی تلقین کی ہے، تاکہ کوئی آدمی مہمان کی خدمت کو بوجھ نہ سمجھے اور میزبان کے غریب ہونے کی صورت میں گھر کے افراد کے کھانے پینے کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوںنے (بطورِ میزبانی) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: لَوْلَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَھَانَا عَنِ التَّکَلُّفِ لَتَکَلَّفْتُ لَکُمْ۔ فَقَالَ صَاحِبِی: لَوْکاَنَ فِی مِلْحِنَا سَعْتَرٌ، فَبَعَثَ بِمِطْھَرَتِہِ إِلَی الْبَقَّالِ، فَرَھَّنَھَا، فَجَائَ بِسَعْتَرٍ، فَأَلْقَاہُ فِیْہِ، فَلَمَّا أَکَلْنَا قَالَ صَاحِبِی: اَلْحَمْدِ لِلَّہِ الَّذِی قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا۔ فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْقَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَکُنْ مِطْھَرَتِی مَرْھُوْنَۃً عِنْدَالْبَقَّالِ۔ … اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمھاری خاطر تکلف
کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔ انھوں نے کوئی لوٹا نُما برتن بطور گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی جو اس نے ہمیں دیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔ (مستدرک حاکم: ۴/۱۲۳، صحیحہ: ۲۳۹۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف کرنے سے منع فرمایا، صحابۂ کرام اس کا مفہوم یہ سمجھے تھے کہ گھر میں جو موجود ہے، اسے مہمان کی میزبانی کے لیے کافی سمجھا جائے اور مہمان کو چاہیے کہ ماحضر پر قناعت کرے اور اپنی پسند کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ ہاں اگر اصرار کے ساتھ کسی سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا جائے تو اظہار کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ہم لوگ حقیقی باہمی محبت سے محروم ہیں، قرابتداروں کے حقوق سے غافل ہیں اور ظاہری رکھ رکھاؤ کو بڑی ترجیح دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ شرمو کو شرمی کا ضابطہ ترک کر دیں اور مسلمانوں سے بحیثیت مسلمان تعلق رکھیں اور ہر معاملے میں اعتدال برتیں۔ مثلا اگر گرمی کے موسم میں آنے والے مہمان کو بازار سے قیمتی مشروب خرید کر پلانے کی استطاعت نہ ہو، تو گھر میں تیار کی جانے والی شکنجبیں وغیرہ پلا دی جائے، تاکہ مہمان بھی سیراب ہو جائے اور میزبانی کا حق بھی پورا ہو جائے۔ یہی معاملہ کھانے وغیرہ کا ہے۔
اسلام سادگی اور حقیت پر مبنی مذہب ہے، اس میں تکلف و تصنع اور خوشامد و چاپلوسی کی کوئی گنجائش نہیں، جہاں شریعت نے مہمان کی میزبانی کو فرض قرار دیا ہے، وہاں تکلف سے بچنے کی بھی تلقین کی ہے، تاکہ کوئی آدمی مہمان کی خدمت کو بوجھ نہ سمجھے اور میزبان کے غریب ہونے کی صورت میں گھر کے افراد کے کھانے پینے کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
شقیق کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک دوست سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوںنے (بطورِ میزبانی) روٹی اور کوئی نمکین چیز پیش کی اور کہا: لَوْلَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَھَانَا عَنِ التَّکَلُّفِ لَتَکَلَّفْتُ لَکُمْ۔ فَقَالَ صَاحِبِی: لَوْکاَنَ فِی مِلْحِنَا سَعْتَرٌ، فَبَعَثَ بِمِطْھَرَتِہِ إِلَی الْبَقَّالِ، فَرَھَّنَھَا، فَجَائَ بِسَعْتَرٍ، فَأَلْقَاہُ فِیْہِ، فَلَمَّا أَکَلْنَا قَالَ صَاحِبِی: اَلْحَمْدِ لِلَّہِ الَّذِی قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا۔ فَقَالَ سَلْمَانُ: لَوْقَنَعْتَ بِمَا رُزِقْتَ لَمْ تَکُنْ مِطْھَرَتِی مَرْھُوْنَۃً عِنْدَالْبَقَّالِ۔ … اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تمھاری خاطر تکلف
کرتا۔ میرے دوست نے کہا: اگر نمکین ڈش میں پہاڑی پودینہ ڈال دیا جاتا (تو بہت اچھا ہوتا)۔ انھوں نے کوئی لوٹا نُما برتن بطور گروی سبزی فروش کی طرف بھیجا اور پودینہ منگوایا۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو میرے دوست نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اس رزق پر قناعت کرنے کی توفیق بخشی جو اس نے ہمیں دیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو نے اپنے رزق پر قناعت کی ہوتی تو میرا برتن سبزی فروش کے پاس گروی نہ پڑا ہوتا۔ (مستدرک حاکم: ۴/۱۲۳، صحیحہ: ۲۳۹۲)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکلف کرنے سے منع فرمایا، صحابۂ کرام اس کا مفہوم یہ سمجھے تھے کہ گھر میں جو موجود ہے، اسے مہمان کی میزبانی کے لیے کافی سمجھا جائے اور مہمان کو چاہیے کہ ماحضر پر قناعت کرے اور اپنی پسند کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ ہاں اگر اصرار کے ساتھ کسی سے اس کی پسند کے متعلق پوچھا جائے تو اظہار کر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
ہم لوگ حقیقی باہمی محبت سے محروم ہیں، قرابتداروں کے حقوق سے غافل ہیں اور ظاہری رکھ رکھاؤ کو بڑی ترجیح دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ شرمو کو شرمی کا ضابطہ ترک کر دیں اور مسلمانوں سے بحیثیت مسلمان تعلق رکھیں اور ہر معاملے میں اعتدال برتیں۔ مثلا اگر گرمی کے موسم میں آنے والے مہمان کو بازار سے قیمتی مشروب خرید کر پلانے کی استطاعت نہ ہو، تو گھر میں تیار کی جانے والی شکنجبیں وغیرہ پلا دی جائے، تاکہ مہمان بھی سیراب ہو جائے اور میزبانی کا حق بھی پورا ہو جائے۔ یہی معاملہ کھانے وغیرہ کا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ الضَّيَافَةِ وَمَا لِلضَّيْفِ مِنَ الْحَقِّ وَمَا عَلَيْهِ
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 9092
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت کا حق تین دن ہے، اس کے بعد مہمان جو کچھ پائے گا، وہ اس کے لیے صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9092]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطيالسي: 5260، والبزار: 1930، وابويعلي: 6590، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10920»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9093
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9093]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11045»
الحكم على الحديث: صحیح