الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
باب
حدیث نمبر: 9353
عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہے، اگر اس کو کوئی خیر پہنچتی ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، مؤمن کو ہر چیز میں اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمے میں بھی، جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9353]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطيالسي: 211، والبزار: 3116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1487»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9354
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي يَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجَدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ مُؤْمِنًا نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہونے لگی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، میں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اگر ہم میں سے کوئی فرد اس طرح کرتا تو آپ نے اس کی بات تو محسوس کرنی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نیکوکاروں پر تکلیف سخت ہوتی ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ مؤمن کو جو تکلیف بھی لاحق ہوتی ہے، وہ کانٹا ہو یا اس سے کوئی بڑی چیز، اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9354]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 3/ 391، والحاكم: 1/ 345، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25778»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9355
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمَنْ جَزِعَ فَلَهُ الْجَزَعُ
۔ سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزماتا ہے، پس جو صبر کرنا چاہے گا تو اس کے لیے صبر ہو گا اور جو بے صبرا بنے گا، اس کے لیے بے صبری ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9355]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24041»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ مَهْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ذَهَبَ بِالشِّرْكِ (وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً) ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَجَاءَنَا بِالْإِسْلَامِ فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ لَكَ خَيْرًا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَفَّى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میں جلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 2911، والحاكم: 1/ 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16929»
وضاحت: فوائد: … عِیْر سے دو چیزیں مراد لی جا سکتی ہیں: (۱) مدینہ منورہ کا عیر پہاڑ، یا (۲) وحشی گدھا، مفہوم یہ ہے کہ ایسے فرد کے گناہوں کو جمع کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی ہلاکت کا سبب بن سکیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9357
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9357]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرجه البزار: 3260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25750»
وضاحت: فوائد: … صبر کی تین اقسام ہیں:
۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَكَارِهِ مُطْلَقًا وَفَضْل ذلِكَ
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9358
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن جس درد و تکلیف، تعب و تکان، رنج و غم اور ملال و نقصان میں مبتلا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا، جو اس کو چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ اس کی خطائیں معاف کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9358]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرجه البزار: 3260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8014»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9359
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فِي الدُّنْيَا يَحْتَسِبُهَا إِلَّا قُصِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مؤمن کو دنیا میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس وجہ سے قیامت کے دن اس کی خطائیں کم کی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9359]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9208»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9360
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وَصَبٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا حُزْنٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کو تکان، تھکاوٹ، غم، بیماری، تکلیف یا پریشان کر دینے والا کوئی غم لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کو اس کی برائیوں کا کفارہ بناتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11020»
وضاحت: فوائد: … بیماری ایک غیر اختیاری چیز ہے، بندہ بغیر کسی ذاتی دخل کے اس میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔
بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9361
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ وَهُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ وَيَرْزُقُهُمْ
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی نہیں ہے، جو سنی ہوئی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت زیادہ صبر کرنے والا ہو، بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس کے لیے اولاد کر دعویٰ کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19866»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9362
عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَةً لَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَنَا وَاسْتَنْصِرْهُ قَالَ فَاحْمَرَّ لَوْنُهُ أَوْ تَغَيَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ حُفْرَةٌ وَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ
۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سرخ ہو گیایا تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آری لائی گئی اور ان کے سروں پر رکھ کر ان کو چیر دیا گیا، لیکن یہ تکلیف بھی ان کو دین سے باز نہ رکھ سکی اور لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت نوچ لیا گیا، لیکن یہ چیز بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، اور ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے یمن تک سفر کرے گا، لیکن اس کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو گا، یا اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا ڈر ہو گا، لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9362]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3852، ومسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21371»
وضاحت: فوائد: … اللہ اکبر! اللہ ہمارے حالات پر رحم کرے اور ہمیں اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کتنی اذیتوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کی اپیل کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح