🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَكَارِهِ مُطْلَقًا وَفَضْل ذلِكَ
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9363
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو جو مصیبت بھی لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بناتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9363]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5640، ومسلم: 2572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25339»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9364
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِيئَتِهِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مسلمان جس کو کانٹا چبھے یا اس سے بڑی تکلیف پہنچے، مگر اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9364]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24615»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9365
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) مِثْلُهُ وَفِيهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَكُفِّرَ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9365]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24658»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَرْضِ مُطْلَقًا فِي أَى عُضْوِ كَانَ مِنَ الْإِنْسَانِ وَفَضْلِهِ
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو¤اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9366
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَسَمِعْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا قَالَ ( (أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ) ) قُلْتُ إِنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ ( (نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرُ وَرَقَهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخار تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ کو بہت سخت بخار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جی، بیشک مجھے اتنا بخار ہوتا ہے، جتنا تم میں سے دو افراد کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے لیے اجر بھی دو گنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! روئے زمین پر رہنے والے جس مسلمان کو جو تکلیف لاحق ہوتی ہے، وہ بیماری ہو یا کوئی اور تکلیف، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو یوں مٹاتا ہے، جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9366]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5647، 5648، ومسلم: 2571، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3618»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9367
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ أَسَدِ بْنِ كُرْزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (الْمَرِيضُ تَحَاتُّ خَطَايَاهُ كَمَا يَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ) )
۔ سیدنا اسد بن کرز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مریض کی خطائیں اس طرح گرتی ہیں، جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9367]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 1002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16771»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9368
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ) )
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز مؤمن کے جسم کو تکلیف پہنچاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9368]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 230، والحاكم: 1/ 347، والطبراني في الكبير: 19/ 842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16899 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17023»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9369
عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالصُّنَابِحِيَّ مَعَهُ فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدَانِ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ قَالَا نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةٍ فَقَالَ لَهُ شَدَّادُ أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوا لَهُ كَمَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ) )
۔ ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں: میں پہلے وقت میں یا دوپہر کے وقت مسجدِ دمشق کی طرف جا رہا تھا، سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، جبکہ سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہم اِدھر ایک بیماربھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جا رہے ہیں، پس میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ وہ اس بھائی کے پاس پہنچ گئے اور کہا: آپ نے کیسے صبح کی ہے؟ اس نے کہا: جی نعمت کے ساتھ صبح کی ہے، پھر سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: برائیوں کے معاف ہونے اور گناہوں کے مٹ جانے کے ساتھ خوش ہو جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری اس آزمائش پر تعریف کرتا ہے تو وہ اس دن کی طرح خطاؤں سے پاک ہو کر اپنے بستر سے کھڑا ہوتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہیں: میں نے اپنے بندے کو مقید کر دیا ہے اور اس کو آزمایا ہے، لہٰذا فرشتو! تم اس کے وہ سارے اعمال لکھتے رہو، جو تم اس وقت لکھتے تھے، جب وہ صحت مند تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9369]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 7136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17248»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی عافیت کا سوال کرنا چاہیے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آ پڑے تو خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو برداشت کرنا چاہیے، صبر کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی تعریف کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9370
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ الْوَجَعَ عَلَى أَحَدٍ أَشَدَّ مِنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہی سب سے سخت تکلیف کو دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9370]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5646، ومسلم: 2570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25912»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9371
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَكَانَ لِجَدِّهِ صُحْبَةٌ أَنَّهُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِهِ فَبَلَغَهُ بِشَكَائِهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَيْتُكَ زَائِرًا عَائِدًا وَمُبَشِّرًا قَالَ كَيْفَ جَمَعْتَ هَذَا كُلَّهُ قَالَ خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ زِيَارَتَكَ فَبَلَغَنِي شَكَاتُكَ فَكَانَتْ عِيَادَةً وَأُبَشِّرُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنْهُ) )
۔ محمد بن خالد اپنے دادا، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: وہ اپنے ایک بھائی کی زیارت کے لیے نکلے، پھر ان کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ بیمار بھی ہے، پس وہ اس کے پاس گے اور کہا: میں تمہاری زیارت کرنے، تیمار داری کرنے اور تمہیں خوشخبری سنانے کے لیے آیا ہوں، انھوں نے کہا: یہ ساری چیزیں کیسے جمع کر دیں؟ میں نے کہا: میں تمہاری زیارت کے لیے نکلا تھا، پھر مجھے تمہاری بیماری کی خبر بھی مل گئی، اس طرح یہ آنا تیمار داری کا سبب بھی بن گیا اور میں تمہیں اس حدیث کے ذریعے خوشخبری سناتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی منزلت اور درجے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، جس تک بندہ اپنے عمل کی بنا پر نہیں پہنچ سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے جسم یا مال یا اولاد کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق بھی دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے، جس کا اس کے ہاں فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9371]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 3090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22694»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9372
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ابْنَةُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَا لَنَا بِهَا قَالَ ( (كَفَّارَاتٌ) ) قَالَ أَبِي وَإِنْ قَلَّتْ قَالَ ( (وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا) ) قَالَ فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهُ حَتَّى مَاتَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9372]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 995، والحاكم: 4/ 308،والنسائي في الكبري: 7489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11201»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں