الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنِ اللَّعْنِ وَالتَّرْهِيْبِ مِنْهُ
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 10097
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا يَنْبَغِي لِلصِّدِّيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدیق اور سچے آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10097]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2597، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8768»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2597
حدیث نمبر: 10098
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ زَارَهُ فِي أَهْلِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَى أَهْلِهِ فَاسْتَسْقَى قَالَ فَبَعَثَتِ الْجَارِيَةَ تَجِيءُهُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِيرَانِ فَأَبْطَأَتْ فَلَعَنَتْهَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ فَجَاءَ أَبُو عُمَيْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ مِثْلُكَ يُغَارُ عَلَيْهِ هَلَّا سَلَّمْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيكَ وَجَلَسْتَ وَأَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ فَأَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَأَبْطَأَتْ إِمَّا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ وَإِمَّا رَغِبُوا فِيمَا عِنْدَهُمْ فَأَبْطَأَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّ اللَّعْنَةَ إِلَى مَنْ وُجِّهَتْ فَإِنْ أَصَابَتْ عَلَيْهِ سَبِيلًا أَوْ وَجَدَتْ فِيهِ مَسْلَكًا وَإِلَّا قَالَتْ يَا رَبِّ وُجِّهْتُ إِلَى فُلَانٍ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ سَبِيلًا وَلَمْ أَجِدْ فِيهِ مَسْلَكًا فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ) ) فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ الْخَادِمُ مَعْذُورَةً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَةُ فَأَكُونَ سَبَبَهَا
۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود نہ تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوں سے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جاؤں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10098]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3876»
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 10099
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ) )
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6105، 6652، ومسلم: 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16498»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6105
حدیث نمبر: 10100
عَنْهُ أَيْضًا رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ وَمَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ) ) أَوْ قَالَ ( (مُؤْمِنٍ بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ لَعَنَهُ فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا حَلَفَ) )
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10100]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16505»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمییوں کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو یا کروں تو میں یہودییا عیسائی ہو جاؤں، جبکہ وہ جھوٹا بھی ہو، اسلام کے علاوہ کسی مذہب کا ذکر ہو سکتا ہے۔
یہ قسم کی ممنوعہ صورت ہے اور اس حدیث میں اس کی بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: بعض شافعیہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کوکافرقرار دیا، جبکہ وہ جھوٹا ہو،
لیکن تحقیقیہ ہے کہ اس معاملے میں تفصیل بیان کی جائے، اگر اس کا مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر اس کا مقصود بات کو معلق کرنا ہو تو غور کیا جائے گا کہ آیا اس نے اس مذہب کے ساتھ متصف ہونے کا ارادہ کیا ہے، اگر کیا ہے تو کافر ہو جائے گا، کیونکہ کفر کا ارادہ کفر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ اس مذہب سے دور رہنے کا ہو تو وہ کافر نہیں ہو گا۔
بعض روایات میں کَاذِبًا (جھوٹا) کی قید ہے اور بعض میں نہیں ہے، آگے چل کر حافظ صاحب نے کہا: کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا کے الفاظ کی زیادتی حسن درجے کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایسا آدمی اپنے ایمان پر مطمئن ہو تو وہ ایسی چیز کی تعظیم کرنے میں جھوٹا قرار پائے گا، جو تعظیم والی نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کا نظریہیہ ہے کہ وہ اپنی قسم میں جس مذہب کا ذکر کر رہا ہے، وہ حق ہے، تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا اس قسم سے مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو احتمال پیدا ہو جائے گا، تو پھر تفصیل کی ضرورت ہو گی، اگر اس کا مقصد وہ تعظیم ہے، جو منسوخ ہو جانے سے پہلے اس مذہب کی تھی تو یہ خطرناک ہے اور اس کے کافر ہونے کا احتمال ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۵۳۸)
یہ قسم کی ممنوعہ صورت ہے اور اس حدیث میں اس کی بڑی وعید بیان کی گئی ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: بعض شافعیہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کوکافرقرار دیا، جبکہ وہ جھوٹا ہو،
لیکن تحقیقیہ ہے کہ اس معاملے میں تفصیل بیان کی جائے، اگر اس کا مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اگر اس کا مقصود بات کو معلق کرنا ہو تو غور کیا جائے گا کہ آیا اس نے اس مذہب کے ساتھ متصف ہونے کا ارادہ کیا ہے، اگر کیا ہے تو کافر ہو جائے گا، کیونکہ کفر کا ارادہ کفر ہے، لیکن اگر اس کا ارادہ اس مذہب سے دور رہنے کا ہو تو وہ کافر نہیں ہو گا۔
بعض روایات میں کَاذِبًا (جھوٹا) کی قید ہے اور بعض میں نہیں ہے، آگے چل کر حافظ صاحب نے کہا: کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا کے الفاظ کی زیادتی حسن درجے کی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ایسا آدمی اپنے ایمان پر مطمئن ہو تو وہ ایسی چیز کی تعظیم کرنے میں جھوٹا قرار پائے گا، جو تعظیم والی نہیں ہے، ایسی صورت میں وہ کافر نہیں ہو گا، لیکن اگر اس کا نظریہیہ ہے کہ وہ اپنی قسم میں جس مذہب کا ذکر کر رہا ہے، وہ حق ہے، تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا اس قسم سے مقصود اس مذہب کی تعظیم ہو تو احتمال پیدا ہو جائے گا، تو پھر تفصیل کی ضرورت ہو گی، اگر اس کا مقصد وہ تعظیم ہے، جو منسوخ ہو جانے سے پہلے اس مذہب کی تھی تو یہ خطرناک ہے اور اس کے کافر ہونے کا احتمال ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۵۳۸)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16505
12. بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ ﷺ
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
حدیث نمبر: 10101
عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى فَيُقَالُ قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّى فِي النَّاسِ أَفَشَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي قَالَ فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ قَالَ فَإِذَا فِيهَا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ قَالَ وَإِذَا فِيهَا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ الْحَدِيثَ
۔ ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوئی حکم دیتے اور اس کو پورا کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے، تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اس کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی ایسی خاص چیز کی وصیت نہیں کی، جو دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو، ما سوائے اس چیز کے، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے میان میں موجود صحیفے میں ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ انھوں نے صحیفہ نکالا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا: جس نے بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی۔ اس میں مزیدیہ حدیث بھی تھی: بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا …۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10101]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه مختصرا ابوداود: 2035، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»
وضاحت: فوائد: … بدعت ہر اعتبار سے ضلالت ہے اور بدعتی انسان کا اکرام کرنا، اس کا دفاع کرنا اور اس کی پشت پناہی کرنا بہت بڑا شرعی ظلم ہے۔ اس میں ان حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو مجرموں کو تحفظ دیتے ہیں کہ وہ جھوٹی ناموری کے لیے لعنت اور پھٹکار کے مستحق ٹھہرتے ہیں،بالخصوص عصر حاضر کے سیاسی لوگ۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 10102
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ
۔ ابو طفیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلاؤ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف آپ کوعطا کی ہو، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتلائی، جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے بدعتی کو جگہ دی، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے، جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10102]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 855»
وضاحت: فوائد: … جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اورہستی (پیر، پیغمبر، نبی، قطب، ابدال، نیک صالح اور بزرگ وغیرہ) کے لیے، ان کی رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر جانور ذبح کرتا ہے، وہ ملعون ہے۔
نشانات کو بدلنے سے کیا مراد ہے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۰۱۵)
نشانات کو بدلنے سے کیا مراد ہے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۰۱۵)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1978
حدیث نمبر: 10103
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غصہ سخت ہو گیا، جس کو اللہ کا رسول اس کی راہ میں قتل کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10103]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الحاكم: 4/ 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8198»
وضاحت: فوائد: … یہ بہت بڑی بد نصیبی ہے کہ کوئی آدمی کسی جنگ میں نبی کی مخالفت میں لڑ رہا ہو اور نبی اس کو قتل کر دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10104
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعْنِي الْقَوَارِيرِيَّ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْوَلِيدَ يَضْرِبُهَا وَقَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حَدِيثِهِ تَشْكُوهُ قَالَ قُولِي لَهُ قَدْ أَجَارَنِي قَالَ عَلِيٌّ فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا فَأَخَذَ هُدْبَةً مِنْ ثَوْبِهِ فَدَفَعَهَا إِلَيْهَا وَقَالَ قُولِي لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَارَنِي فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى رَجَعَتْ فَقَالَتْ مَا زَادَنِي إِلَّا ضَرْبًا فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْوَلِيدَ أَثِمَ بِي مَرَّتَيْنِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْقَوَارِيرِيِّ وَمَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ولید مجھے مارتا ہے، اس طرح اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کہو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دے دی ہے۔ وہ چند دن ٹھہرنے کے بعد پھر آئی اور کہا: اس نے تو میری پٹائی کرنے میں اضافہ ہی کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کپڑے کا جھالر پکڑا اور اس کو دے کر فرمایا: اس کو کہنا کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دی ہے۔ وہ معمولی عرصہ گزارنے کے بعد پھر آگئی اور کہا: اس نے میری مار میں ہی اضافہ کیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! تو ولید کی گرفت کر، وہ میری وجہ سے دو بار گنہگار ہو چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10104]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم، وضعفِ نعيم بن حكيم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1304»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم
حدیث نمبر: 10105
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ مَلْعُونٌ مَنْ كَمَهَ أَعْمَى عَنْ طَرِيقٍ مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو گالی دینے والا ملعون ہے، اپنی ماں کو برا بھلا کہنے والا ملعون ہے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والا ملعون ہے، زمین کے نشانات کو تبدیل کر دینے والا ملعون ہے، اندھے کو راستے سے بھٹکا دینے والا ملعون ہے، چوپائے سے بد فعلی کرنے والا ملعون ہے اور قوم لوط والا فعل کرنے والا بھی ملعون ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10105]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11546، والحاكم: 4/ 356، والبيھقي: 8/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1875»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 10106
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ يَتَغَنَّيَانِ وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ لَا يَزَالُ حَوَارِيُّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ هُمَا قَالَ فَقَالُوا فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ ارْكُسْهُمَا رَكْسًا وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا
۔ سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو افراد کو گاتے ہوئے سنا، وہ ایک دوسرے کا جواب دے رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے مددگاروں کی ہڈیاں تو (دفن نہ ہونے کی وجہ سے) نظر آتی رہیں، اس نے اپنے آپ سے لڑائی کے ہٹ جانے کو روک دیا کہ اس کو مٹی کے نیچے چھپا کر دفن کر دیاجاتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیکھویہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں اور فلاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے سر کے بال گرا دے اور دھتکار دے جہنم میں۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10106]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، مسلسل بالضعفاء والمجاھيل،يزيد بن ابي زياد ضعيف، كبر فتغير وصار يتلقن، وسليمان مجھول، وابوھلال لايعرف، أخرجه البزار: 3859، وابن ابي شيبة: 15/232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20018»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا