🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمُ الْبُنْيَانِ
عمارتوں کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10087
عَنْ قَيْسٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ نَعُودُهُ وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ ( (الْمُسْلِمُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ خَلَا مَا يَجْعَلُ فِي هَذَا التُّرَابِ) ) وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ) ) زَادَ فِي رِوَايَةٍ ( (ثُمَّ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا وَإِنَّا أَصَبْنَا بَعْدَهُمْ مَا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ) )
۔ قیس کہتے ہیں: ہم سیدنا خباب بن ارت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، جبکہ وہ ایک دیوار بنا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے، ماسوائے اس سرمائے کے، جس کو اس مٹی پر خرچ کرتا ہے۔سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو ان کے پیٹ پر سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا، پھر انھوں نے کہا: ہمارے بعض ساتھی ایسے تھے کہ وہ دنیا سے چلے گئے، لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی، جبکہ ہم نے تو ان کے بعد اتنا مال و متاع حاصل کر لیاہے کہ ہم اس کے لیے مٹی کے علاوہ کوئی جگہ ہی نہیں پاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10087]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6430، ومسلم: 2681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21374»
وضاحت: فوائد: … لیکن دنیا ان کے کسی اجر میں کمی نہ کر سکی اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ مشرف باسلام ہونے کے بعد دنیا کی کوئی نعمت پائے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے، اس طرح ان کو ان کا سارا اجر قیامت کے روز ملے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6430
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10088
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا فَقَالَ ( (مَا هَذَا) ) قُلْنَا خُصًّا لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ قَالَ ( (أَمَا إِنَّ الْأَمْرَ أَعْجَلُ مِنْ ذَلِكَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، جبکہ ہم اپنی ایک جھونپڑی کو مرمت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: جییہ ہماری چھونپڑی کمزور ہو گئی تھی، اس کی مرمت کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موت کا معاملہ اس سے جلدی آنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10088]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 5236، والترمذي: 2335، وابن ماجه: 4160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6502»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10089
عَنْ أُمِّ مُسْلِمٍ الْأَشْجَعِيَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهَا وَهِيَ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ ( (مَا أَحْسَنَهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا مَنِيَّةٌ) ) قَالَتْ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهَا
۔ سیدہ ام مسلم اشجعی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ اپنے ایک گنبد میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا خوبصورت ہے، بشرطیکہ اس میں موت نہ ہوتی۔ وہ کہتی ہیں: پھر میں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ام مسلم، أخرجه الطبراني في الكبير: 25/ 375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28012»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ ان احادیث میں مسلمان کو ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ وہ ضرورت سے زائد عمارتوں پر زیادہ توجہ نہ دھرے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر کسی فرد کے کنبے کے قلیلیا کثیر افراد اور مہمانوں کی کثرت یاقلت کو سامنے رکھا جائے تو عمارت کے سلسلے میں کوئی معینہ حدّ پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ کو درجہ بالا احادیث کا متضاد نہیں سمجھا گیا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِأِمْرَأَتِہِ، وَالثَّالِثُ لِلضَیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ایک بچھونا مرد کے لیے، ایک بچھونا اس کی بیوی کے لیے، ایک مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ یہ صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث ہے، میں نے صحیح ابو داود میں اس کی تخریج کی ہے۔ اسی لیے حافظ ابن حجر ؒنےکہا: انتمامروایات کو (ان عمارتوں پر) محمول کیا جائے گا، جن کی تعمیر کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی،یعنی وہ رہائش کے لیے اور گرمی و سردی سے بچنے کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ پھر حافظ صاحب نے بعض لوگوں کے ایسے اقوال بیان کیے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی عمارت گناہ ہے، پھر ان کا تعاقب کرتے ہوئے کہا: عمارت کا معاملہ اس طرح نہیں ہے،بلکہ اس میں تفصیل ہے، ضرورت سے زائد ہر عمارت کو گناہ نہیں قرار دیا جا سکتا … بلکہ بعض عمارتوں میں تو ثواب ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ دوسرے لوگ ان سے استفادہ کرتے ہیں، ایسی صورت میں مالک اجرو ثواب کا مستحق ہو گا۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۸۳۱)
عصرِ حاضر میں پرشکوہ محلات اور کوٹھیوں اور ان کے لوازمات پر بھاری رقم خرچ کی جا رہی ہے، حالانکہ گھر بنانے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ مختلف موسموں کی سختیوں سے اپنی حفاظت کی جائے اور یہ مقصد دس گیارہ مرلہ کے پلاٹ پر پانچ چھ لاکھ روپیہ صرف کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور کروڑہا روپیہ بھی،یہ۱۴۳۵ ھ (۲۰۱۴ ئ) کی بات ہے۔
قومِ عاد نے مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: {وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ} … اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہیہاں رہو گے۔ (سورۂ شعرائ: ۱۲۹)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ام مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ الْأَسْوَاقِ وَ أَمَاكِنَ أُخْرَى
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10090
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ قَالَ ( (لَا أَدْرِي) ) فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ ( (يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ) ) قَالَ لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقَالَ أَسْوَاقُهَا
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! کون سے مقامات سب سے برے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میں نہیں جانتا، لیکن میں اپنے ربّ سے سوال کروں گا، پھر وہ چلے گئے اور جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، ٹھہرے رہے، پھر آئے اور کہا: اے محمد! آپ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ کون سے مقامات برے ہیں، میں نے جواب دیا تھا کہ میں تو نہیں جانتا، پھر میں نے اپنے ربّ سے سوال کیا کہ کون سے مقامات سے سب سے برے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا: بازار۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10090]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، أخرجه البزار: 1252، وابويعلي: 7403، والطبراني في الكبير: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16865»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:((أَحَبُّ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلاَدِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہترین مقام مساجد ہیں اور سب سے ناپسندیدہ مقام بازار ہیں۔ (صحیح مسلم: ۶۷۱)
بازار، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ مقام ہے، بازار پر حکم لگاتے وقت کسی ایک صادق اور امین تاجر کو نہیں دیکھا، مگر وہاں کے پورے ماحول کو سامنے رکھا گیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10091
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ ( (لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ) ) وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حجر کے پاس سے گزرنے لگے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کی رہائش گاہوں میں نہ گھسو، مگر اس حال میں کہ تم رو رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ جو عذاب ان کو ملا تھا، تم بھی اس میں مبتلا ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10091]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3381، ومسلم: 2980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5705»
وضاحت: فوائد: … حجر، ثمود کی وادی ہے، جو مدینہ اور شام کے درمیان واقع ہے، صالح علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، اس وادی میں ان پر عذاب آیا تھا، ایسے مقام سے گزرتے وقت خوف و خشیت کا عالَم طاری ہونا چاہیے، وگرنہ جو آدمی وہاں سے گزرتے وقت ان کی حالت سے عبرت حاصل کرتے ہوئے نہ رویا، تو اس نے ان کے عمل سے مشابہت اختیار کی اور اس کادل سخت ہو گیا، پس ممکن ہے کہ اس کو بھی اس قسم کے عذاب سے دوچار کر دیا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3381
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10092
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ بَدَا جَفَا) )
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10092]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لكن المتن صحيح من حديث ابي ھريرة، قاله الالباني في الصحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18822»
وضاحت: فوائد: … بدّو، دیہاتی اور جنگلی لوگوں میں اکھڑ پن اور اجڈ پن جیسی صفات پائی جاتی ہیں، حق قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جبکہ شہری لوگوں میں شائشتگی اور نرمی زیادہ ہوتی ہیں اور ان کے دل و دماغ کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ جو آدمی شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے، اس کا دل کبھی بھی معمور نہیں ہوتا، حرص، لالچ اور شغل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ دور دور تک نکل جاتا ہے، نماز اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے غافل ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْي عَنِ اللَّعْنِ وَالتَّرْهِيْبِ مِنْهُ
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10093
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِهِ وَلَا بِالنَّارِ) )
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10093]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4906، والترمذي: 1976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20437»
وضاحت: فوائد: … لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔
کسی معین شخص بالخصوص مؤمن آدمییا کسی مخصوص چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی بد دعا کرنا سخت منع ہے، کیونکہ اس بد دعا کا مطلب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے، جبکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کافر مسلمان ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جائے، بیشتر لوگ ہنسی مذاق یا سنجیدگی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو لعنتی جیسے قبیح القاب سے پکارنے سے اجتناب نہیں کرتے، جبکہ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہٖ۔)) (بخاری، مسلم) … مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ اگر کوئی آدمی ایسے الفاظ کہنے سے گریز نہیں کرتا تو خود اس کے ملعون ہونے کا خطرہ ہے، جیسا کہ سیدنا ابو دردائ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا لَعَنَ شَیْئًا صَعِدَتِ اللَّعَنَۃُ اِلَی السَّمَائِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُ السَّمَائِ دُوْنَھَا، ثُمَّ تَھْبِطُ اِلَی الْاَرْضِ، فَتُغْلَقُ اَبْوَابُھَا دُوْنَھَا۔ ثُمَّ تَأْخُذُ یَمِیْنًا وَ شِمَالًا فَاِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ اِلَی الَّذِیْ لُعِنَ، فَاِنْ کَانَ اَھْلًا لِذَالِکَ، وَاِلَّا رَجَعَتْ اِلٰی قَائِلِھَا۔)) (ابوداود: ۴۹۰۵) … جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے کہ تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے دروازے بھی اس کے ورے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دائیں اور بائیں سمت اختیار کرتی ہے، پھر جب کوئی گنجائش نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ پس اگر وہ چیز اس لعنت کی مستحق ہو (تو اسی پر پڑتی ہے) وگرنہ وہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ (اور یوں لعنت کرنے والا خود اپنی لعنت کا حقدار بن جاتا ہے)۔
لیکنیہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی تعیین کے بغیر کافروں، فاسقوں اور بدکاروں کے حق میں اور ان لوگوں کے حق لعنت کی بددعا کی جا سکتی ہے، جن کا جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چوری کرنے والے، والدین پر لعنت کرنے والے، غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والے، تصویر بنانے والے، سود کھانے والے، مردوں سے مشابہت
کرنے والی عورتوں اور عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کے لیے لعنت کی بددعا کرنا ثابت ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی شخص کا نام لے کر لعنت کرناجائز نہیں، چاہے وہ بظاہر ظالم ہو، جھوٹا ہو، قطع رحمی کرنے والا ہو یا قاتل ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ جس شخص پر اس کے ظلم یا جھوٹ یا کسی اور گناہ کی وجہ سے لعنت کی جا رہی ہے، اس نے اپنے گناہ سے توبہ کر لی ہو یاآئندہ کر لے گا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ظالم یا جھوٹا نہیں رہے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بغیر توبہ کے معاف کر دے۔ اس لیے کسی بھی گنہگار مسلمان کے لیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا گناہ گار کیوں نہ ہو، اس پر اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد لعنت کرنا جائز نہیں۔ صرف یہ کہنا جائز ہے کہ جھوٹوں پر لعنت ہو، ظالموں پر لعنت ہو، ابو جہل پر لعنت ہو، منافقوں اور کافروں پر لعنت ہو،کیونکہ اس انداز میں صرف وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جو مرنے سے پہلے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹے اور ظالم ہی قرار پاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10094
عَنْ جَرْمُوزِ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ ( (أُوصِيكَ أَنْ لَا تَكُونَ لَعَّانًا) )
۔ سیدنا جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10094]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الطبراني في الكبير: 2181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20954»
وضاحت: فوائد: … لعنت کی بد دعا کی ممنوعہ صورتیں مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10095
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ فَتَبِيتُ عِنْدَ نِسَائِهِ وَيَسْأَلُهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ لَيْلَةً فَدَعَا خَادِمَهُ فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهِ فَلَعَنَهَا فَقَالَتْ لَا تَلْعَنْ فَإِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ) )
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجتے، پس وہ ان کی بیویوں کے پاس رات گزارتیں اور وہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کرتے، ایک رات کو عبد الملک اٹھا اور اس نے اپنی خادمہ کو بلایا، جب اس نے آنے میں تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی، اس پر سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا: تو لعنت نہ کر، کیونکہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک لعنت کرنے والے قیامت والے دن گواہ نہیں ہوں گے اور نہ سفارشی۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10095]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28079»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2598
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10096
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ وَلَا الطَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المدح والدم/حدیث: 10096]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 5379، والطبراني في الكبير: 10483، والبيھقي: 10/ 193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3948»
وضاحت: فوائد: … متانت، سنجیدگی،وقار اور ٹھہراؤ، باایمان لوگوں کا زیور ہے، ان کے چال چلن، اٹھک بیٹھک، قول و کردار اور بول چال غرضیکہ ہر چیز میں اعتدال ہوتا ہے، جبکہ حدیث میں مذکورہ خصائل ذمیمہ ایمان اور اعتدال کے منافی امور ہیں، اس لیے مومن کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں