🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدْ الْوَقْتِ الَّذِي تُقْبَلُ فِيهِ التَّوْبَةُ
اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10169
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب سے سورج طلوع ہونے سے قبل توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10169]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10424»
وضاحت: فوائد: … جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا ہے، اس وقت تک توبہ کی قبولیت کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن ہر انسان کے حق میں توبہ کی قبولیت کا قانون حدیث نمبر (۱۰۱۶۷) میں بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10424
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10170
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ فَقَالَ الثَّانِي أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ فَقَالَ الثَّالِثُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ فَقَالَ الرَّابِعُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفْسِهِ
۔ عبد الرحمن بن بیلمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: چار صحابہ کرام جمع ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے ایک دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ دوسرے نے کہا: تو نے یہ بات واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تیسرے نے کہا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ چوتھے نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: میں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتے ہیں، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10170]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن البيلماني، أخرجه الحاكم: 4/ 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15581»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن البيلماني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10171
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (دوسری سند) ایک صحابی سے مروی ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10171]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15581»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15581
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10172
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، یا اس کو بخش دیتا ہے، جبکہ تک پردہ واقع نہ ہو جائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پردے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی جان کا شرک کی حالت میں مرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10172]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نعيم وشيخِه اسامة بن سلمان، أخرجه ابن حبان: 627، والبزار: 4056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21856»
وضاحت: فوائد: … شرک کی حالت میں مرنے والے کے لیے توبہ تائب ہونے کے اسباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دونوں جہاں میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نعيم وشيخِه اسامة بن سلمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ التَّوْبَةِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ أَرَادَ انْ يَتُوْبَ
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10173
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِي عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرِي اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ قَالَ مِسْعَرٌ وَيُصَلِّي قَالَ سُفْيَانُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا غَفَرَ لَهُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع عطا کرتا، جتنا وہ چاہتا، لیکن جب کوئی اور آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم اٹھاتا تو میں اس کی تصدیق کرتا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا اور ابو بکر سچے ہیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی گناہ کرتا ہے، پھر اچھے انداز میں وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10173]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2»
وضاحت: فوائد: … نیکیوں سے برائیوں کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّـیِّاٰتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذّٰکِرِیْنَ } … اور دن کے دونوں کناروں میںنماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہیاد کرنے والوں کے لیےیاد دہانی ہے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10174
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى لِذَلِكَ الذَّنْبِ إِلَّا غَفَرَ لَهُ وَقَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110] {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ} [آل عمران: 135] الْآيَةَ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ تفصیل ہے: پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، پھر یہ دو آیتیں تلاوت کیں: {وَمَنْ یَعْمَلْ سُوْئً اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا} اور جو آدمی برائی کرتا ہے یا اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتا ہے۔ اور {وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ } اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں،یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10174]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 47»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 47
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10175
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ وَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ
۔ عبد اللہ بن معقل کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انھوں نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ندامت توبہ ہے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10175]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3568»
وضاحت: فوائد: … اگر گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے تو ایسے گناہ سے توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں: (۱)اس گناہ کو ترک کر دینا، (۲) اس پر ندامت کا اظہار کرنا اور (۳) اس کو آئندہ نہ کرنے پر پکا ارادہ کرنا۔ اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقو ق سے ہے تو اس کی چار شرطیں ہیں، مذکورہ تین اور چوتھییہ کہ صاحب حق کا حق ادا کیا جائے اور کسی انداز میں اس کے ساتھ تصفیہ کر لیا جائے۔
مرکزی شرط ندامت ہی ہے، جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خطا پر نادم ہو گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور وہ خود آئندہ ایسا گناہ کرنے سے محفوظ رہے گا۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10176
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّارَةُ الذَّنْبِ النَّدَامَةُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ کا کفارہ ندامت ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10176]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 12794،و البزار: 3250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2623»
وضاحت: فوائد: … ہر انسان طبعی طور پر غلطی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور کسی وقت بھی اس سے کسی قسم کا گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور یقینا ایسے ہی ہو گا، انبیاء کے بعد کوئی کس و ناکس عفت و عصمت کا دعوی نہیں کر سکتا ہے، ہر امتی کسی نہ کسی انداز میں کوئی نہ کوئی ٹھوکر ضرور کھائے گا۔ ان احادیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کر کے اس پراصرار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے تو بہ و استغفار کیا جائے، کیونکہیہ چیز اسے بہت پسند ہے اور اتنی پسند ہے کہ اگر ایسے لوگ ناپید ہو جائیں، کہ جن سے گناہ کا صدور ہی نہ ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا فرما دے گا جو گناہوں کے مرتکب ہونے کے بعد بخشش طلب کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا۔ اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ وہ گناہوں کو پسند کرتا ہے اور گناہ گار اسے محبوب ہیں، بلکہ وہ تو بہ و انابت کو پسند فرماتا ہے اور ایسے ہی لوگ اسے محبوب ہیں اور یہی اس حدیث کا مفہوم ہے۔
قارئین کرام! انسانِ اوّل آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کے انسان پر یہ نوبت نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی قوم کو فنا کر دیا ہو جو گناہ نہ کرتی ہو اور اس کی جگہ ایسے لوگ پیدا کر دیے ہوں، جو گناہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہوں اور وہ ان کو بخشتا ہو۔ کیونکہ سرے سے کوئی ایسی قوم پیدا ہی نہیں ہوئی، جو گناہ میں ملوث نہ ہوئی ہو۔ دراصل درج بالا احادیث میں اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی طلب کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے جو گناہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتاہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہ جرأت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ بے فکری کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرنا شروع کر دے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّوْبَةُ مِنَ الذَّنْبِ أَنْ يَتُوبَ مِنْهُ ثُمَّ لَا يَعُودَ فِيهِ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی گناہ سے توبہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اس سے توبہ کرے اور پھر اس کا ارتکاب نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10177]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وقد روي مرفوعا وموقوفا، والصحيح وقفه، الھجري لين الحديث، وعلي بن عاصم صدوق يخطيء ويصر علي الخطأ، أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 300،و البيھقي في الشعب: 7036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4264»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10178
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ الْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو، پس بیشک گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10178]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26809»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بالشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں