🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ التَّوْبَةِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ أَرَادَ انْ يَتُوْبَ
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10179
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مَالِهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ وَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو، وہ آج اس کے پاس جا کر اس سے معذرت کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس کے ظلم کے بقدر اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (اس کے مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10179]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10580»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئی دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیے رشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔
یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَمِ قُنُوطِ الْمُدْنِبِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِهِ مَا دَامَ مُوَحَدًا
گنہگارکا زیادہ گناہوں کی وجہ سے ناامید نہ ہونے کا بیان، جب تک وہ توحید پرست ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10180
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْنَا لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ
۔ ابو زبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم گناہوں کو شرک سمجھتے تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی پناہ۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10180]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 5214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15252»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جابر رضی اللہ عنہ گناہوں کی وجہ سے مسلمان کو مشرک قرار دینے کا ردّ کر رہے ہیں۔ اہل حق کا یہی مذہب ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10181
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَفَرَ لَكُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا لَجَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! اگر تم گناہ کرتے رہو، یہاں تک کہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا درمیانی خلا بھر جائے، پھر جب تم اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو گے تو وہ تم کو بخش دے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر دے گا، جو گناہ کریں اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں گے اور وہ ان کو معاف کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10181]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 4226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13527»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10182
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے گناہ نہ کیے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کریں گے، تاکہ وہ ان کو بخشے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 2526، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8030»
وضاحت: فوائد: … اگرتم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کر دے گا، … اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۱۷۶)
ان احادیث میں دراصل توبہ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نہ کہ گناہ کرنے کی جرأت، عصر حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لے لیں، کیا کوئی ایسا فرد نظر آ رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ چونکہ سارے لوگ گنہگار ہیں، اس لیے سب کو اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10183
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ لَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آ پہنچا تو انھوں نے کہا: میں تم سے ایک حدیث چھپاتا تھا، جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کرے گا، جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10183]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23912»
وضاحت: فوائد: … چھپانے کی وجہ یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت پر توکل کر کے نافرمانیوں میں پڑ جائیں، پھر وفات کے وقت یہ حدیث بیان کر دی تاکہ کتمانِ علم کے الزام سے بری ہو جائیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2748
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10184
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فَقَالَ رَبِّ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ثُمَّ عَمِلَ ذَنْبًا آخَرَ أَوْ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي عَمِلْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْهُ فَقَالَ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَيَأْخُذُ بِهِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایک آدمی نے گناہ کیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کیا ہے، تو اس کو بخش دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور یہ بھی جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو گناہ کو بخش بھی سکتا ہے اور اس کی وجہ سے گرفت بھی کر سکتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے۔ پھر اس بندے نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، پس تو اس کو بخش دے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے۔ پھر اس نے ایک اور گناہ کر دیا اور کہا: اے میرے ربّ! میں نے گناہ کر دیا ہے، پس تو اس کومعاف کر دے، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے، جو گناہ کو بخشتا بھی ہے اور اس کی وجہ سے پکڑ بھی لیتا ہے، تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ہے، وہ جو چاہے عمل کرتا رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10184]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7507، ومسلم: 2758، ولم يذكرا فيه الرابعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7935»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7507
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10185
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِأَسِيرٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ وَلَا أَتُوبُ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ الْحَقَّ لِأَهْلِهِ
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک قیدی کو لایا گیا، اس نے کہا: اے اللہ! میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں، میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف توبہ نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قیدی نے حق کو اس کے اہل کے لیے پہچان لیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10185]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من الاسود بن سريع، أخرجه الطبراني في الكبير: 839، والحاكم: 4/ 255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15672»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. فصل مِنْهُ فِي قِصْةِ الرَّجُلِ الَّذِي قَتَلَ تِسْعَةَ وَتِسْعِينَ نَفْسًا ثُمَّ أَكْمَلَ الْمِائَةَ
اس شخص کا قصہ، جس نے پہلے ننانوے قتل کیے، پھر سو پورا کر دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10186
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي أَنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ بَعْدَ قَتْلِ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ نَفْسًا قَالَ فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ بِهِ فَأَكْمَلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا فَاعْبُدْ رَبَّكَ فِيهَا قَالَ فَخَرَجَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي الطَّرِيقِ قَالَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ قَالَ فَقَالَ إِبْلِيسُ فَإِنَّكَ أَوْلَى بِهِ إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ قَالَ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا قَالَ هَمَّامُ فَحَدَّثَنِي حَمِيدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَلَكًا فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ قَتَادَةَ قَالَ فَقَالَ انْظُرُوا أَيَّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ إِلَيْهِ فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا قَالَ قَتَادَةُ فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ لَمَّا عَرَفَ الْمَوْتَ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ فَقَرَّبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ وَبَاعَدَ عَنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ
۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کیا میں تمھیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، میرے کانوں نے وہ حدیث سنی او رمیرے دل نے اسے یاد کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے ننانوے افراد قتل کر دیے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا۔ اس نے روئے زمین کے سب سے بڑے عالم کی بابت لوگوں سے پوچھا؟ اسے ایک راہب (پادری) کا پتہ بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ وہ ننانوے آدمی قتل کر چکا ہے، کیا ایسے فرد کے لیے توبہ ہے؟ اس نے جواب دیا: کیا ننانوے افراد کے قتل کے بعد؟ (ایسے شخص کے لیے کوئی توبہ نہیں)۔ اس نے تلوار میان سے نکالی اور اسے قتل کر کے سو کی تعداد پوری کر دی۔ پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے لوگوں سے اہل زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اس کے لیے ایک عالم کی نشاندہی کی گئی، وہ اس کے پاس گیا اور کہا: میں سو افراد قتل کر چکا ہوں، کیا میری لیے توبہ (کی کوئی گنجائش)ہے۔ اس نے کہا: تیرے او ر تیری توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ لیکن تو اس طرح کر کہ اس خبیث بستی سے نکل کر فلاں فلاں کسی نیک بستی کی طرف چلا جا۔ کیونکہ وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، تو بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اپنے علاقے کی طرف مت لوٹنا کیونکہ یہ بری سرزمین ہے۔ وہ نیک بستی کی طرف چل پڑا، لیکن راستے میں اسے موت آگئی، وہ اپنے سینے کے سہارے سرک کرپہلی زمین سے دور ہو کر(تھوڑا سا) دوسری طرف ہو گیا۔(اسے لینے کے لیے) رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آ گئے اور ان کے مابین جھگڑا شروع ہو گیا۔ ابلیس نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، اس نے کبھی بھی میری نافرمانی نہیں کی تھی۔ لیکن ملائکہ ٔ رحمت نے کہا: یہ تائب ہو کر آیا تھا اور دل کی پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف آنے والا تھا اور ملائکہ ٔ عذاب نے کہا: اس نے کبھی بھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو ایک آدمی کی شکل میں بھیجا۔ انھوں نے اس کے سامنے یہ جھگڑ اپیش کیا۔ اس نے کہا: دیکھو کہ کون سی بستی اس کے قریب ہے، اسی بستی والوں سے اس کو ملا دیا جائے۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو (جہاں سے وہ آ رہا تھا) حکم دیاکہ تو دور ہو جا اور ارض صالحین (جس کی طرف وہ جا رہا تھا) حکم دیا کہ تو قریب ہو جا۔ جب انھوں نے اس کی پیمائش کی تو جس زمین کی طرف وہ جا رہا تھا، اسے (دوسری کی بہ نسبت) ایک بالشت زیادہ قریب پایا۔ پس رحمت کے فرشتے اسے لے گئے اور اسے بخش دیا گیا۔ حسن راوی کہتے ہیں: جب اسے موت کا علم ہوا تو وہ (نیک بستی کی طرف) سکڑ گیا، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے سینے کے سہارے (نیک بستی کی طرف) سرک گیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اسے قریۂ صالحہ کے قریب کر دیا اور قریۂ خبیثہ سے دور کر دیا، تو ان فرشتوں نے اسے نیک بستی والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10186]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3470، ومسلم: 2766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11171»
وضاحت: فوائد: … گناہ گار لوگوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی توبہ قبول فرماتا ہے، بشرطیکہ خالص توبہ ہو۔ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ بتلاتے وقت، سائل کی نفسیات اور اس کی مشکلات کو سامنے رکھیںاور ایسی حکمت ِ عملی اختیار کریں کہ جس سے اللہ کے حکم میں بھی تبدیلی نہ آئے اور سائل بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر گناہوں پر مزید دلیر نہ ہو۔ نیک لوگوں کی صحبت میں رہنا باعث ِ برکت ہے اور برے لوگوں کے ساتھ رہنا باعث ِ نہوست ہے اور بوقت ِ ضرورت فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانی صورت میں آ جاتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ چاہے تو ہر گناہ کی معافی کے اسباب پیدا کرسکتا ہے، ما سوائے شرک کے۔
حدیث نمبر (۶۴۴۰) والے باب میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ قاتل کتنا بڑا مجرم ہے اور اس کی توبہ قبول ہو گییا نہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3470
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الرَّحْمَةَ أَوْدَعَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ خَلْقِهِ جُزْءٌ مِنْ مِائَةٍ مِنْ رَحْمَتِهِ لِخَلْقِهِ
توحید پرست بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بیان کے ابواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10187
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ كِتَابًا بِيَدِهِ لِنَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَوَضَعَهُ تَحْتَ عَرْشِهِ فِيهِ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل اپنے ہاتھ سے اپنے نفس کے لیے ایک کتاب لکھی اور اس کو اپنے عرش کے نیچے رکھا، اس میں ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10187]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وقوله بيده زيادة منكرة، تفرد بھا شريك عن الاعمش، وانظر ھذا الحديث بالطريق الثالث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9148»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10188
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْخَلْقِ كَتَبَ عَلَى عَرْشِهِ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مخلوق سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے عرش پر لکھا: میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10188]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين،وانظر ھذا الحديث بالطريق الثالث، أخرجه النسائي في الكبري: 7751، وابن حبان: 6143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10015»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں