🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ فِي الأمْرِ بِالتَّوْبَةِ وَفَرْحِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ بِهَا بعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ
توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10159
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عَبْدِي مَا عَبَدْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي غَافِرٌ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَيَا عَبْدِي إِنْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً) ) الْحَدِيثَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے میرے بندے! جب تک تو میری عبادت کرتا رہے گا اور مجھ پر امید قائم رکھے گا تو میں تیرے ہر گناہ کو بخش دوں گا، وہ جو بھی ہو گا، اے میرے بندے! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر مجھے ملے، تو میں ان ہی کے بقدر بخشش لے کر تجھے ملوں گا، بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو، … …۔ اس کے بعد سابقہ حدیث کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10159]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21696»
وضاحت: فوائد: … کوئی ایسا گناہ نہیں ہے، جو توبہ کے سامنے اپنا وجود برقرار رکھ سکے، توبہ سے ہر قسم کے گناہ راکھ ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ توبہ سچی اور خالص ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10160
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ( (إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَى عِبَادِي أَلَا فَلَا تَظَالَمُوا كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِئُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرُ لَهُ وَلَا أُبَالِي وَقَالَ يَا بَنِي آدَمَ كُلُّكُمْ كَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ وَكُلُّكُمْ كَانَ عَارِيًا إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ وَكُلُّكُمْ كَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ وَكُلُّكُمْ كَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَيْتُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ وَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ وَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ وَاسْتَسْقُونِي أَسْقِكُمْ يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَيِّيكُمْ وَبَيِّنَكُمْ عَلَى قَلْبِ أَتْقَاكُمْ رَجُلًا وَاحِدًا لَمْ تَزِيدُوا فِي مُلْكِي شَيْئًا وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ عَلَى قَلْبِ أَكْفَرِكُمْ رَجُلًا لَمْ تَنْقُصُوا مِنْ مُلْكِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْيَطِ مِنَ الْبَحْرِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک میں نے اپنے نفس پر اور اپنے بندوں پر ظلم کرنے کو حرام قرار دیا ہے، پس تم ظلم نہ کیا کرو، بنو آدم کا ہر فرد دن رات خطائیں کرتا ہے، لیکن پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے تو میں کوئی پرواہ کیے بغیر اس کو بخش دیتا ہوں،اے بنو آدم! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے، مگر جس کو میںہدایت دے دوں، تم میں سے ہر ایک ننگا ہے، مگر جس کو میں لباس عطا کر دوں، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے، مگر جس کو میںکھلا دوں اور تم میں سے ہر ایک پیاسا ہے، مگر جس کو میں پانی پلا دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، مجھ سے لباس کا سوال کرو، میں تم کو لباس عطا کروں گا، مجھ سے کھانا طلب کرو،میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پانی پلاؤں گا، اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، جن اور انسان، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت اور بولنے سے عاجز اور فصیح الکلام، سارے کے سارے تم میں سے سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند ہو جائیں تو تم میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرو گے، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، جن اور انسان، چھوٹے اور بڑے اور مذکر اور مؤنث، سارے کے سارے تم میں سے سب سے زیادہ کفر کرنے والے کے دل کی مانند ہو جائیں تو تم میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں کر سکو گے، مگر اتنی جتنی سوئی کا نکہ سمند کے پانی میں کمی کرتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10160]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21750»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10161
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ مُذْنِبٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ نَعَمْ
۔ اغرّ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتا ہوں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ (آسمان دنیا کی طرف) اترتا ہے اور کہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے؟ کیا کوئی گنہگار ہے؟ ایک بندے نے کہا: طلوع فجر تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10161]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11315»
وضاحت: فوائد: … جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے، وہ اس کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، ہم اُس کے اِس نزول کو بلا تاویل تسلیم تو کریں گے، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکیں گے کہ وہ کیسے اترتا ہے۔ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا دو تہائی رات کے بعد، (۳) رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔
قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔
لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10162
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ فَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ابن آدم خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہیں، اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کو تلاش کرے گا، بس مٹی ہی ہے، جو ابن آدم کے پیٹ کو بھرتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10162]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه عليي بن مسعدة الباھلي، وھو ضعيف، وقوله صلي الله عليه وآله وسلم في آخر الحديث: لو كان لابن آدم روي بأسانيد اخري صحيحة عن قتادة عن انس، أخرجه الترمذي: 2499، وابن ماجه: 4251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13080»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10163
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ
۔ محمد بن حنفیہؒ اپنے باپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس مؤمن بندے سے محبت کرتا ہے، جس کو فتنے میں ڈالا جاتا ہو اور پھر وہ توبہ کرنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10163]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا شبه موضوع، ابو عبد الله مسلمة الرازي لم نَقِف له علي ترجمته، وابو عمرو البجلي، قال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الثقات لا يحل الاحتجاج به بحال، وعبد الملك بن سفيان الثقفي مجھول، أخرجه ابويعلي: 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 605»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ آزمائشوں اور فتنوں کی وجہ سے مسلمان کے درجات بلند ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ ان آزمائشوںمیں اسلامی احکام کا خیال رکھے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10164
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں ہر روز اللہ تعالیٰ سے سو بار بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10164]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9806»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10165
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِمْ وَفِي رِوَايَةٍ وَكَانَ ذَلِكَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ يَا حُذَيْفَةُ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مِائَةَ مَرَّةٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری زبان میں تیزی اور فساد تھا، لیکن اس کا تعلق صرف میرے گھر والوں سے تھا، ان سے آگے تجاوز نہیں کرتا تھا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حذیفہ! تو استغفار سے دور کیوں ہے؟ میں تو ہر روزاللہ تعالیٰ سے سو بار استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ جب میں نے یہ بات ابو بردہ بن ابی موسی سے بیان کی تو انھوں نے مجھے سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں ہر شب وروز میں سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10165]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قصة ذرابة اللسان، أخرجه البزار: 2970، والدارمي: 2723، وابن ابي شيبة: 10/ 297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23729»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدْ الْوَقْتِ الَّذِي تُقْبَلُ فِيهِ التَّوْبَةُ
اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10166
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ عَامًا تِيبَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ تِيبَ عَلَيْهِ حَتَّى قَالَ يَوْمًا حَتَّى قَالَ سَاعَةً حَتَّى قَالَ فَوَاقًا قَالَ قَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُشْرِكًا أَسْلَمَ قَالَ إِنَّمَا أُحَدِّثُكُمْ كَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کی، اس کی توبہ قبول کی جائے گی، جس نے اپنی موت سے ایک ماہ پہلے توبہ کی، اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی،یہاں تک کہ انھوں نے ایک دن، ایک گھڑی، بلکہ ایک فُوَاق کا بھی ذکر کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگربندہ مشرک ہو اور پھر اس وقت میں مسلمان ہو جائے؟ انھوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اتنا ہی بیان کروں گا، جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10166]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطيالسي: 2284، والحاكم: 4/ 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6920»
وضاحت: فوائد: … فُوَاق سے مراد دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا اور دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک گھڑی کا ذکر ہو چکا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10167
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10167]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6408»
وضاحت: فوائد: … غرغرہ سے مراد روح کا حلق میں پہنچ جانا ہے، اس کیفیت کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10168
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا قُبِلَ مِنْهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کی طرف سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10168]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7697»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں