🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا يُنْجِي أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10199
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْتَ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی فرد جنت میں ہر گز داخل نہیں ہو گا، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ۔ ہم نے کہا: اورآپ بھی نہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور نہ میں، الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سر کے اوپر اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10199]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11506»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10200
عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ حَوْصٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا يَمَامِيُّ لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّ هَذِهِ الْكَلِمَةَ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِأَخِيهِ وَصَاحِبِهِ إِذَا غَضِبَ قَالَ فَلَا تَقُلْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ كَانَ أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدًا فِي الْعِبَادَةِ وَكَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلَى نَفْسِهِ فَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى ذَنْبٍ فَيَقُولُ يَا هَذَا أَقْصِرْ فَيَقُولُ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا قَالَ إِلَى أَنْ رَآهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ فَقَالَ لَهُ وَيْحَكَ أَقْصِرْ قَالَ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا قَالَ أَحَدُهُمَا قَالَ فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا وَاجْتَمَعَا فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي وَقَالَ لِلْآخَرِ أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَكُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدَيَّ خَازِنًا اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ
۔ ضمضم بن ہوس یمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: اے یمامی! تو نے کسی آدمی کو ہر گز اس طرح نہیں کہنا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا، یا اللہ تعالیٰ تجھ کو کبھی بھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! ہم میں جب کوئی آدمی ناراض ہوتا ہے تو وہ اپنے بھائی اور ساتھی پر یہ جملے کستا ہے، انھوں نے کہا: پس تو نے اس طرح نہیں کہنا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بنواسرائیل میں دو آدمی تھے، ان دونوں میں بھائی چارہ تھا، ان میں سے ایک عبادت میں بڑی محنت کرنے والا تھا اور دوسرا اپنی جان پر زیادتی کرنے والا تھا، عبادت گزار دوسرے آدمی کو گناہوں میںملوث دیکھتا رہتا تھا اور اس کو کہتا تھا: او فلاں! باز آ جا، لیکن وہ کہتا: تو رہنے دے مجھے اور میرے ربّ کو، کیا تجھے مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے، ایک دن اس عبادت گزار نے اس کو ایسے گناہ میں ملوث پایا، جس کو اس نے بڑا سمجھا، پس اس نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، باز آ جا، اس نے حسب ِ روٹین کہا: تو رہنے دے مجھے اور میرے ربّ کو، کیا تجھے مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے، لیکن اس بار اس نے یہ بھی کہہ دیا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا، یا اللہ تعالیٰ تجھے کبھی بھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا اور ان کی روحیں قبض کر لیں، پس وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے گنہگار سے کہا: تو جا اور میری رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جا اور دوسرے سے کہا: کیا تو میرے بارے میںجاننے والا تھا؟ میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے، کیا تو اس کا خزانچی تھا، لے جاؤ اس کو آگ کی طرف۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! اس آدمی نے ایسی بات کر دی کہ جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10200]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8292 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8275»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہر شریعت میں لوگوں سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ اعمالِ صالحہ کا اہتمام کریں اور گناہ والے امور سے اجتناب کریں، اس حدیث میں دو اہم باتوں کا ذکر ہے، ایک اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش سکتا ہے، جیسا کہ اس گنہگار کو بخش دیا تھا، دوسرا زبان کے استعمال میں محتاط رہنا چاہیے، کسی گنہگار کو یہ کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں بخشے گا، یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑی جرأت ہے، اس ایک بول نے نیکوکار کی نیکیوں کو اجاڑ دیا۔
کوئی شخص اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ استدلال نہ کرنے پائے کہ برائیاں کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ نہیں تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَمِ قُنُوطِ الْمُوَحَدِينَ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَفِيهِ بُشْرَى لِلْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ
اس چیز کا بیان کہ توحید پرستوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اس میں امت ِ محمدیہ کے لیے خوشخبری ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10201
عَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ) ) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَضْحَكُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ( (نَعَمْ) ) قَالَ لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا
۔ سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ربّ اس بات پر ہنستا ہے کہ اس کا بندہ ناامید ہو رہا ہوتا ہے، جبکہ اس کے حالات کی تبدیلی قریب ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ربّ تعالیٰ بھی ہنستا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہم ہنسنے والے ربّ کے ہاں خیر کو مفقود نہیں پائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10201]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال وكيع بن حدس، أخرجه ابن ماجه: 181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16288»
وضاحت: فوائد: … جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے معمولی آزمائش کو کچھ وقت کے لیے رفع نہیں کرتا تو خیر سے مایوسی اس پر غلبہ پانے لگتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے کہ اس بندے کے لیے خیر کا معاملہ قریب ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْاعَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَاتَقْنَطُوْامِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} … کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ (سورۂ زمر: ۵۳)
مزید فرمایا: {وَلَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِنَّہٗلَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ۔} … اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک حقیقتیہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ (سورۂ یوسف: ۸۷)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10202
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكَنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لِأُمَّتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ فَأَكْثَرَ الدُّعَاءَ فَأَجَابَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِكَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَقَالَ يَا رَبِّ إِنَّكَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ وَتُثِيبَ الْمَظْلُومَ خَيْرًا مِنْ مَظْلَمَتِهِ فَلَمْ يَكُنْ فِي تِلْكَ الْعَشِيَّةِ إِلَّا ذَا يَعْنِي فَلَمْ يُجِبْهُ تِلْكَ الْعَشِيَّةَ كَمَا فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَعَادَ يَدْعُو لِأُمَّتِهِ فَلَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَسَّمَ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ضَحِكْتَ فِي سَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ قَالَ ( (تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّهِ إِبْلِيسَ حِينَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ لِي فِي أُمَّتِي وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ أَهْوَى يَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَيْلِ وَيَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ جَزَعُهُ) )
۔ سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے لیے کثرت کے ساتھ مغفرت اور رحمت کی دعا کی پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول کی اور فرمایا: بے شک تحقیق میں نے کر دیا ہے اور تیری امت کو بخش دیا ہے، مگر وہ جو یہ خود ایک دوسرے پر ظلم کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے ربّ! تو اس چیز پر قادر ہے کہ تو ظالم کو بخش دے اور مظلوم کو اس پر کے گئے ظلم سے بہتر اجر و ثواب عطا کر دے۔ اس شام کو تو یہی کچھ ہوا تھا، یعنی عرفہ کی شام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ بعض روایاتمیں ہے، جب اگلا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو اپنی امت کے لیے دعا مانگنا شروع کی، جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرانے لگ گئے، ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ایسی گھڑی میں مسکرائے ہیں، جس میں مسکرانا آپ کی عادت نہیں تھی، پس کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسایا ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت مبارک کو مسکراتا رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی وجہ سے مسکرایا ہوں، جب اس کو علم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخش دیا ہے تو اس نے ہلاکت کو پکارا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، پس میں اس جزع و فزع کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10202]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن كنانة بن العباس مجھول، وقال البخاري: لم يصح حديثه، ووالده كنانة مجھول ايضا، وقد تناقض فيه ابن حبان، فذكره في الثقات علي عادته في توثيق المجاھيل، ثم جازف، فاعاد ذكره في المجروحين وقال: حديثه منكر جدا، أخرجه ابوداود: 5234،و ابن ماجه: 3013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16308»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10203
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجُنَبِيِّ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَعَالَى رُدُّوهُ فَيَرُدُّونَهُ قَالَ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ قَالَ إِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ لَهُ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى إِنِّي لَوْ أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مَا عِنْدِي شَيْئًا) ) قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ
۔ سیدنا فضالہ بن عبادہ اور سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے سے فارغ ہو جائے گا، تو دو بندے ابھی تک باقی کھڑے ہوں گے، ان کے بارے میں جہنم کا حکم دیا جائے گا، جب ان میں سے ایک پلٹ کر دیکھے گا تو جبّار تعالیٰ کہے گا: اس کو واپس لاؤ، پس فرشتے اس کو واپس لائیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو نے پلٹ کر کیوں دیکھا ہے؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا، پس اس کے لیے جنت کا حکم دے دیا جائے گا، پھر وہ کہے گا: تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ کچھ عطا کر دیا ہے کہ اگر میں جنتیوں کو کھانا کھلا دوں، تو اس سے میرے پاس جو کچھ ہے، اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر سرور نظر آ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10203]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23179»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10204
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ}) ) فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ أَشْرَكَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ( (إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ) ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ مجھے اس آیت کے بدلے دنیا ومافیہا مل جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، بیشک وہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور جو شخص شرک کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور پھر تین بار فرمایا: مگر جو شرک کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10204]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، وابو عبد الرحمن الجيلاني في عداد المجھولين، أخرجه البيھقي في الشعب: 7137، والطبراني في الاوسط: 176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22720»
وضاحت: فوائد: … ہر گناہ کی بخشش ممکن ہے، اگر معاف نہ کیا گیا تو محدود عذاب کے ذریعے اس کا بدلہ دیا جائے گا، ما سوائے شرک کے، یہ گناہ ناقابل معافی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں