الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الرَّحْمَةَ أَوْدَعَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ خَلْقِهِ جُزْءٌ مِنْ مِائَةٍ مِنْ رَحْمَتِهِ لِخَلْقِهِ
توحید پرست بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بیان کے ابواب
حدیث نمبر: 10189
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي وَفِي لَفْظٍ غَلَبَتْ غَضَبِي
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کامعاملہ مکمل کیا، تو اپنی کتاب میں لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی، وہ کتاب عرش پر اس کے پاس ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10189]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3194، ومسلم: 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7491»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3194
حدیث نمبر: 10190
وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے نفس پر لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10190]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، وقوله بيده زيادة شاذة، أخرجه ابن ماجه: 189، 4295، والترمذي: 3543، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9595»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے غضب کی بہ نسبت اس کی رحمت وسیع ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖمَنْاَشَآئُوَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَیَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَایُؤْمِنُوْن۔} … میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۶)
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
حدیث نمبر: 10191
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ وَإِنَّهُ قَسَمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ وَذَخَرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَخِلَاسٌ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ ذَلِكَ
۔ حسن بصری کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ایک رحمت کو اہل زمین کے مابین تقسیم کیا، وہ ان کے لیے ان کی موتوں تک پوری ہو گئی، اور ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لیے ذخیرہ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس رحمت کو زمین والوںمیں تقسیم کیا ہے، وہ قیامت کے دن اس کو بھی واپس کر کے ننانوے کے ساتھ ملا کر سو پورا کر دے گا۔ محمد بن سیرین اور خلاس نے اس حدیث کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10191]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الحاكم: 1/ 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10680»
الحكم على الحديث:
صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10192
عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا ثُمَّ رَكِبَهَا ثُمَّ نَادَى اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ قَالُوا بَلَى قَالَ لَقَدْ حَظَرْتَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ رَحْمَةً وَاحِدَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلَائِقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا وَعِنْدَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ
۔ سیدنا جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو آیا، اپنے اونٹ کو بٹھا کر اس کے گھٹنے کو باندھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنے سواری کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہوا اور کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحم فرما اور اپنی رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی یہ دعا سن کر فرمایا: کیا تم یہ کہو گے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم لوگوں نے اس کی کہی ہوئی بات سنی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع چیز ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے جنوں، انسان اور جانوروں سمیت تمام مخلوقات ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ننانوے رحمتیں اس کے پاس محفوظ ہیں، اب کیا تم کہو گے کہ وہ خود زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10192]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطرابه، أخرجه ابوداود مختصرا: 4885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19006»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 10193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوَامِّ فِيهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ان میں ایک رحمت انسانوں، جنوں اور کیڑوں مکوڑوں کے درمیان نازل کی ہے، اس کی وجہ وہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کے اثر سے وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربانی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتوں کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10193]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2752، وأخرج بنحوه و اطول منه البخاري: 6469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9607»
وضاحت: فوائد: … تمام مخلوقات میںمحبت کا جو عنصر پایا جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی اس ایک رحمت کا اثر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2752
حدیث نمبر: 10194
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ فِيهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں ایک رحمت کا اثر ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے سے محبت رکھتی ہیں، وحشی جانور اسی رحمت کی وجہ سے اپنی اولاد سے شفقت کرتے ہیں اور اس نے ننانوے رحمتیں قیامت کے دن تک مؤخر کر دی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10194]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24121»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2753
حدیث نمبر: 10195
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمَعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رَحْمَةٍ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت کی طمع نہیں رکھے گا اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت اپنی مخلوق کے اندر نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے یہ ایک دوسرے پر رحیم ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10195]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6469، وأخرج الشطر الثاني مسلم: 2752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10285»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی کرنی چاہیے، لیکن اس کے عذاب کا ڈر بھی ہونا چاہیے، اس کو خوف اور امید کی زندگی کہتے ہیں، پھر عملی انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی نظر آئے اور اس کے عذاب سے ڈر ستاتا رہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6469
7. بَابُ قَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم لَا يُنْجِي أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ
اس حدیث کا بیان کہ کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا
حدیث نمبر: 10196
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُنْجِي أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاغْدُوا وَرُوحُوا وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ لوگوں نے کہا: اور نہ آپ کو، اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور نہ مجھے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے، پس راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو، دن کے شروع میں کچھ چل لو، دن کے آخر میں کچھ چل لو اور کچھ رات کو، اور میانہ روی اختیار کرو، اعتدال کو اپناؤ، اپنے مقصد کو پا لو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10196]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 39، 6463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10688»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 39
حدیث نمبر: 10197
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس کو اس کا عمل نجات دلا سکے۔ لوگوں نے کہا: اور نہ آپ؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور نہ میں، الّا یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی طرف سے بخشش اور رحمت میں ڈھانپ لے، اور نہ میں، الّا یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی طرف سے بخشش اور رحمت میں ڈھانپ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین بارے ایسے ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10197]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7202»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7202
حدیث نمبر: 10198
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ وَهْبٌ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا، وہب راوی نے وضاحت کرتے ہوئے ہاتھ کو بند کیا اور کھولا۔ [الفتح الربانی/كتاب التوبة/حدیث: 10198]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8312»
وضاحت: فوائد: … راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو، دن کے شروع میں کچھ چل لو، دن کے آخر میں کچھ چل لو اور کچھ رات کو، اور میانہ روی اختیار کرو، اعتدال کو اپناؤ، اپنے مقصد کو پا لو گے۔ اس جملے کا معنییہ ہے کہ کثرتِ عبادت کی بجائے ان اوقات میں عبادت کی کچھ مقدار پر ہمیشگی اختیار کی جائے، تاکہ بوریت اور اکتاہٹ بھی نہ ہو اور احکامِ اسلام پر عمل بھی ہوتا رہے۔ اصل میں اس جملے کے ذریعے مسافر کو سفر جاری رکھنے کا ایک انداز بتلایا گیا کہ وہ اپنا سفر دن رات جاری نہ رکھے، وگرنہ عاجز آجائے گا اور منزل مقصدتک نہیں پہنچ پائے گا، اسے چاہیے کہ صبح کے وقت، شام کے وقت اور اسی طرح رات کو کچھ وقت اپنا سفر جاری رکھا کرے، کیونکہیہ پھرتی اور چستی کے اوقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان بھی آخرت تک پہنچنے کے لیے سفر کر رہا ہے، اسے چاہیے کہ اچھے سفر کے لیے اپنی عبادات کے لیے ایسے اوقات کا تعین کرے، جن میں وہ ہشاش بشاش ہو، اور ان عبادات کا تعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کر دیا ہے، ہمیں ان پر کاربند رہنا چاہیے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑے حکیم اور دانا تھے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما دیا کہ کوئی شخص اپنے نیک اعمال کے بل بوتے پر جنت میں نہیں جا سکتا، جبکہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کرنے کا حکم بھی دے رہے ہیں۔ حقیقت میں ان دو امور میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلا شک و شبہ جنت میں داخل ہونے کا سبب اعمالِ صالحہ ہیں اور داخلہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہو گا، مزید تفصیل امام صاحب کے کلام میں پیش کی جاتی ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: بعض لوگ اشکال میں پڑ گئے اور اس حدیث کو درج ذیل آیت کے مخالف گمان کرنے لگے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اَوْرَثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ} (سورۂ زخرف: ۷۲) … تم لوگوں کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا ہے، اس وجہ سے کہ جو تم عمل کرتے تھے۔ اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی آیات و احادیث پائی جاتی ہیں۔
اس تضاد کو دور کرنے کے لیے مختلف جوابات دیے گئے ہیں، سب سے بہتر جمع و تطبیقیہ ہے کہ ((لَاتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِعَمَلٍ)) جیسی مذکورہ بالا احادیث میں باء الثمنیۃ ہے اور درج بالا آیت میں باء السببیۃ ہے۔ یعنی اعمالِ صالحہ جنت میں داخل ہونے کا سبب ضرور ہیں، لیکنیہ جنت اور اس کی نعمتوں اور اس کے درجات کی قیمت نہیں ہیں۔
امام ابن تیمیہ نے کہا: اسی لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسباب کو سب کچھ سمجھ لینا شرک ہے، اسباب کو سرے سے ختم کر دینا عقل کے ناقص ہونے کی علامت ہے اور اسباب سے کلی طور پر اعراض کرنے سے شریعت پر طعن لازم آتا ہے۔
صرف اسباب، مسبَّب کے حصول کے لیے کافی نہیں ہیں، اگر دیکھا جائے تو بارش کا نازل ہونا اور بیج کا کاشت کر دینا کھیتی کے لیے بہت بڑے اسباب ہیں، لیکن در حقیقتیہ کافی نہیں ہیں، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مفید ہواؤں کا چلنا، دوسری تمام شرائط کا پایا جانا اور موانع کی نفی ہونا ضروری امور ہیں۔ یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور قضا سے ہو گا ایک اور مثال سمجھیں کہ بچے کی ولادت کے لیےیہ کافی نہیں ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے جماع کرے، کیونکہ ایسے بے شمار واقعات ہے کہ جماع کے باوجود بچے کی پیدائش نہ ہو سکی، کیونکہ اس سبب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی مشیت ضروری ہے کہ عورت کو حمل ہو، بچہ رحم میں پرورش پائے اور اس کی تخلیق کے سارے مراحل طے پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی مانع بھی نہ ہو۔
یہی معاملہ آخرت کا ہے، سعادت مند بننے کے لیے اعمال کافی نہیں ہیں، ہاں یہ سبب ضرور ہیں،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} (سورۂ نحل: ۳۲) … جنت میں داخل ہو جاؤ، سبب یہ ہے کہ تم عمل کرتے تھے۔ یہ باء السبب ہے، یعنی اعمال صالحہ جنت میں داخل کرنے کا سبب ہیں، اور جن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے عمل کے بل بوتے میں جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، ان میں بائ مقابلہ کے لیے آئی ہے، یعنی ہمارے اعمال جنت میں داخل ہونے کا عوض یا قیمت نہیں ہیں، بلکہ اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی معافی، رحمت اور فضل ضروری ہے، کیونکہ اس کی معافی کی وجہ سے برائیاں مٹ جائیں گی، اس کی رحمت سے خیر و بھلائی آئے گی اور اس کے فضل کی وجہ سے درجات بلند ہوں گے۔
اس مقام پر لوگوں میں دو فرقے گمراہ ہو گئے ہیں:
۱۔ ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان لانے کو حصولِ مقصود کے لیے کافی سمجھ لیا اور اسباب ِ شرعیہ اور اعمالِ صالحہ سے مکمل اعراض کر لیا۔ ان کے اس عقیدے کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتب، رسل اور دین کا کفر کرنے پر اتر آتے ہیں۔
۲۔ دوسرا فریق عمل کرکے اللہ تعالیٰ سے یوں اجر وثواب طلب کرتا ہے، جیسے مزدور اپنی مزدوری پوری کرنے کے بعد مالک سے اجرت طلب کرتا ہے، یعنی ان لوگوں کو اپنے عمل اور قوت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے، یہ لوگ بھی جاہل اور گمراہ ہیں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی تعمیل میں ہماری اپنی خیر و بھلائی پنہاں ہے، نہ کہ اس کا کوئی ذاتی فائدہ، جیساکہ حدیث ِ قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! تم مجھے نقصان دے سکتے ہو نہ نفع۔
بادشاہ اپنی ذاتی حاجت و ضرورت کی وجہ سے اپنے ماتحت لوگوں کو حکم دیتا ہے اور وہ اپنی ذاتی قوت کی بنا پر اس کا مطالبہ پورا کر کے اجرت کے مستحق ٹھہرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ جہان والوں سے غنی ہے، نیکی و بھلائی کے امور سر انجام دینے کی قوتیں اس نے عطا کی ہیں۔ نیکی کرنے والا اپنا ہی فائدہ کرتا ہے اور برائی کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ ابن تیمیہ کا کلام ختم ہوا جو (مجموعۃ الفتاوی: ۸/ ۷۰۔ ۷۱) سے نقل کیا گیا، اسی قسم کا کلام علامہ ابن قیم نے (مفتاح دار السعادۃ: صـ ۹۔ ۱۰) میں اور مقریزی نے (تجرید التوحید المفید: صـ۳۶۔ ۴۳) میں پیش کیا ہے۔ (صحیحہ: ۲۶۰۲)
امام نووی نے اس باب کی حدیث اور عمل والی آیات کے بارے کہا: سرے سے ان احادیث اور آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے، آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال کی وجہ سے جنت میں داخلہ نصیب ہو گا۔ لیکن نیک اعمال، ہدایت اور اخلاص کی توفیق اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ہوتی ہے، لہٰذا یہ بات صحیح ہے کہ اس کامیابی کا انحصار صرف اعمال پر نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شامل حال ہونا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔
بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما دیا کہ کوئی شخص اپنے نیک اعمال کے بل بوتے پر جنت میں نہیں جا سکتا، جبکہ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کرنے کا حکم بھی دے رہے ہیں۔ حقیقت میں ان دو امور میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلا شک و شبہ جنت میں داخل ہونے کا سبب اعمالِ صالحہ ہیں اور داخلہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہو گا، مزید تفصیل امام صاحب کے کلام میں پیش کی جاتی ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: بعض لوگ اشکال میں پڑ گئے اور اس حدیث کو درج ذیل آیت کے مخالف گمان کرنے لگے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ اَوْرَثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ} (سورۂ زخرف: ۷۲) … تم لوگوں کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا ہے، اس وجہ سے کہ جو تم عمل کرتے تھے۔ اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی آیات و احادیث پائی جاتی ہیں۔
اس تضاد کو دور کرنے کے لیے مختلف جوابات دیے گئے ہیں، سب سے بہتر جمع و تطبیقیہ ہے کہ ((لَاتَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِعَمَلٍ)) جیسی مذکورہ بالا احادیث میں باء الثمنیۃ ہے اور درج بالا آیت میں باء السببیۃ ہے۔ یعنی اعمالِ صالحہ جنت میں داخل ہونے کا سبب ضرور ہیں، لیکنیہ جنت اور اس کی نعمتوں اور اس کے درجات کی قیمت نہیں ہیں۔
امام ابن تیمیہ نے کہا: اسی لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسباب کو سب کچھ سمجھ لینا شرک ہے، اسباب کو سرے سے ختم کر دینا عقل کے ناقص ہونے کی علامت ہے اور اسباب سے کلی طور پر اعراض کرنے سے شریعت پر طعن لازم آتا ہے۔
صرف اسباب، مسبَّب کے حصول کے لیے کافی نہیں ہیں، اگر دیکھا جائے تو بارش کا نازل ہونا اور بیج کا کاشت کر دینا کھیتی کے لیے بہت بڑے اسباب ہیں، لیکن در حقیقتیہ کافی نہیں ہیں، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مفید ہواؤں کا چلنا، دوسری تمام شرائط کا پایا جانا اور موانع کی نفی ہونا ضروری امور ہیں۔ یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور قضا سے ہو گا ایک اور مثال سمجھیں کہ بچے کی ولادت کے لیےیہ کافی نہیں ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے جماع کرے، کیونکہ ایسے بے شمار واقعات ہے کہ جماع کے باوجود بچے کی پیدائش نہ ہو سکی، کیونکہ اس سبب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی مشیت ضروری ہے کہ عورت کو حمل ہو، بچہ رحم میں پرورش پائے اور اس کی تخلیق کے سارے مراحل طے پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی مانع بھی نہ ہو۔
یہی معاملہ آخرت کا ہے، سعادت مند بننے کے لیے اعمال کافی نہیں ہیں، ہاں یہ سبب ضرور ہیں،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} (سورۂ نحل: ۳۲) … جنت میں داخل ہو جاؤ، سبب یہ ہے کہ تم عمل کرتے تھے۔ یہ باء السبب ہے، یعنی اعمال صالحہ جنت میں داخل کرنے کا سبب ہیں، اور جن احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے عمل کے بل بوتے میں جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، ان میں بائ مقابلہ کے لیے آئی ہے، یعنی ہمارے اعمال جنت میں داخل ہونے کا عوض یا قیمت نہیں ہیں، بلکہ اعمالِ صالحہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی معافی، رحمت اور فضل ضروری ہے، کیونکہ اس کی معافی کی وجہ سے برائیاں مٹ جائیں گی، اس کی رحمت سے خیر و بھلائی آئے گی اور اس کے فضل کی وجہ سے درجات بلند ہوں گے۔
اس مقام پر لوگوں میں دو فرقے گمراہ ہو گئے ہیں:
۱۔ ایک فریق نے اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان لانے کو حصولِ مقصود کے لیے کافی سمجھ لیا اور اسباب ِ شرعیہ اور اعمالِ صالحہ سے مکمل اعراض کر لیا۔ ان کے اس عقیدے کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتب، رسل اور دین کا کفر کرنے پر اتر آتے ہیں۔
۲۔ دوسرا فریق عمل کرکے اللہ تعالیٰ سے یوں اجر وثواب طلب کرتا ہے، جیسے مزدور اپنی مزدوری پوری کرنے کے بعد مالک سے اجرت طلب کرتا ہے، یعنی ان لوگوں کو اپنے عمل اور قوت پر حد سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے، یہ لوگ بھی جاہل اور گمراہ ہیں۔ ان کو سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی تعمیل میں ہماری اپنی خیر و بھلائی پنہاں ہے، نہ کہ اس کا کوئی ذاتی فائدہ، جیساکہ حدیث ِ قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! تم مجھے نقصان دے سکتے ہو نہ نفع۔
بادشاہ اپنی ذاتی حاجت و ضرورت کی وجہ سے اپنے ماتحت لوگوں کو حکم دیتا ہے اور وہ اپنی ذاتی قوت کی بنا پر اس کا مطالبہ پورا کر کے اجرت کے مستحق ٹھہرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ جہان والوں سے غنی ہے، نیکی و بھلائی کے امور سر انجام دینے کی قوتیں اس نے عطا کی ہیں۔ نیکی کرنے والا اپنا ہی فائدہ کرتا ہے اور برائی کرنے والا اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ ابن تیمیہ کا کلام ختم ہوا جو (مجموعۃ الفتاوی: ۸/ ۷۰۔ ۷۱) سے نقل کیا گیا، اسی قسم کا کلام علامہ ابن قیم نے (مفتاح دار السعادۃ: صـ ۹۔ ۱۰) میں اور مقریزی نے (تجرید التوحید المفید: صـ۳۶۔ ۴۳) میں پیش کیا ہے۔ (صحیحہ: ۲۶۰۲)
امام نووی نے اس باب کی حدیث اور عمل والی آیات کے بارے کہا: سرے سے ان احادیث اور آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے، آیات کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال کی وجہ سے جنت میں داخلہ نصیب ہو گا۔ لیکن نیک اعمال، ہدایت اور اخلاص کی توفیق اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ہوتی ہے، لہٰذا یہ بات صحیح ہے کہ اس کامیابی کا انحصار صرف اعمال پر نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شامل حال ہونا ضروری ہے۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8312