الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالْكَوْاكِبِ
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
حدیث نمبر: 10235
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَغِيبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُؤْذَنُ لَهَا فَتَرْجِعُ فَإِذَا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَطْلَعُ صَبِيحَتَهَا مِنَ الْمَغْرِبِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهَا فَإِذَا أَصْبَحَتْ قِيلَ لَهَا اطْلَعِي مِنْ مَكَانِكِ ثُمَّ قَرَأَ {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ} [سورة الأنعام: 158]
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج عرش کے نیچے غروب ہوتا ہے، پھر اس کو اجازت دی جاتی ہے، پس وہ لوٹ آتا ہے، جب وہ رات ہو گی، جس کی صبح کو سورج نے مغرب سے طلوع ہونا ہو گا، اس کو اجازت نہیں دی جائے گی، پس جب وہ صبح کرے گا تو اس سے کہا جائے گا: تو اسی جگہ سے طلوع ہو، جہاں سے غروب ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کیایہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیںیا ان کے پاس آپ کا ربّ آ ئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸) [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21625»
وضاحت: فوائد: … سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸)
ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ سورج ہر گھڑی میںکسی علاقے کے لیے غروب ہو رہا ہے اور کسی علاقے کے لیے طلوع ہو رہا ہے، سو یہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کر رہا ہے اور آگے چلنے کی اجازت لے رہا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے قنوت الأشیاء کلھا للہ میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کییہ حدیث ذکر کی اور کہا: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد سجدہ کرتا ہے اور اجازت لیتا ہے۔ پھر انھوں نے ابو العالیہ کا مذکورہ بالا قول پیش کیا۔
ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ سورج ہر گھڑی میںکسی علاقے کے لیے غروب ہو رہا ہے اور کسی علاقے کے لیے طلوع ہو رہا ہے، سو یہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کر رہا ہے اور آگے چلنے کی اجازت لے رہا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالے قنوت الأشیاء کلھا للہ میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کییہ حدیث ذکر کی اور کہا: پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد سجدہ کرتا ہے اور اجازت لیتا ہے۔ پھر انھوں نے ابو العالیہ کا مذکورہ بالا قول پیش کیا۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 159
حدیث نمبر: 10236
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ وَبِقَوْمٍ عَاهَةٌ إِلَّا رُفِعَتْ أَوْ خَفَّتْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب صبح کے وقت (ثریا) ستارہ طلوع ہوتا ہے اور اس وقت جو قوم جس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے تو وہ بیمارییا تو سرے سے ختم ہو جاتی ہے، یا اس میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10236]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9027»
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 10237
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب (ثریا) ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، تو آفت ختم کر دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10237]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8476»
وضاحت: فوائد: … عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ کہتے ہیں: ہم لوگ سفر میں تھے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ہمارے ساتھ تھے، میں نے ان سے پھلوں کی بیع کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفت کے اٹھ جانے تک پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کون سی چیز آفت کو دور کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: ثریا ستارے کا طلوع ہو جانا۔ (صحیح بخاری: ۱۴۸۶، صحیح مسلم: ۱۵۳۴، واللفظ لاحمد)
حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8476
حدیث نمبر: 10238
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا فَرَأَى كَوْكَبًا انْقَضَّ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نُتْبِعَهُ أَبْصَارَنَا
۔ محمد کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر تھے، انھوں نے ایک ستارے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا، پھر لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو انھوں نے کہا: ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ ہم اس کو دیکھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10238]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه عبد الرزاق: 20007، والحاكم: 4/ 276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22916»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 10239
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَأَرَانِي الْقَمَرَ حَتَّى طَلَعَ فَقَالَ تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الْغَاسِقِ إِذَا وَقَبَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند کو طلوع ہوتے ہوئے دکھایا اور فرمایا: تو اللہ کی پناہ طلب کر اس غاسق کے شرّ سے، جب اس کی تاریکی پھیل جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10239]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطيالسي: 1486، وابويعلي: 4440، والحاكم: 2/ 540، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26230»
وضاحت: فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: غاسق سے مراد چاند یا رات ہے، جب سرخی غروب ہو جائے، جب چاند کو گرہن لگتا ہے، اس وقت بھی وقب کا لفظ بولا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاند گرہن سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانی ہے، جو مصیبت و آزمائش پر دلالت کرتی ہے۔ دوسرا معنییہ ہے کہ غاسق سے مراد رات ہے، جب مشرق کی طرف اس کا اندھیرا چھا جائے، رات سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ رات کو آفات کا انتشار عام ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق غاسق سے مراد ثریا ستارہ ہے، جب وہ گر جائے اور غروب ہو جائے، ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کہا: میرے نزدیک بہتر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غاسق کے شرّ سے پناہ طلب کریں، جب رات اندھیروں میں داخل ہو تی ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں، جب ستارہ غروب ہوتا ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں اور جب چاند چھا جائے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں، پس غاسق کی تحصیص نہ کی جائے، بلکہ اس کو عام رکھ کر اس سے پناہ مانگی جائے۔ (ملخص از: تحفۃ الاحوذی: ۹/ ۲۱۳)
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 10240
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ يَقُولُونَ الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی طرف نہیں دیکھتے، جو تمہارے ربّ نے کہی ہے؟ اس نے کہا: جب بھی میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت کرتا ہوں تو ان میں ایک فریق تو میرے ساتھ کفر کرنے والا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ستارے نے بارش برسائی، ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10240]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 72، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8797»
وضاحت: فوائد: … جو نعمت کو ستاروں کی طرف منسوب کرتاہے، کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے تو وہ مشرک ہو جاتا ہے اور جو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والا ہو گا۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 72
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّحَابِ وَالرَّعْدِ وَالرِّيَاحِ
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
حدیث نمبر: 10241
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ أَوْ قَالَ وَقْرٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الشَّيْخُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضِّحْكِ
۔ سعد کہتے ہیں: میں حمید بن عبد الرحمن کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو غفار کے ایک خوبصورت بزرگ کا گزر ہوا، ان کے کانوں میں بہرا پن تھا، جب حمید نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ متوجہ ہوئے، اِدھر حمید نے کہا: میرے بھتیجے! میرے اور اپنے درمیان ان کے لیے وسعت پیدا کرو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے، پس وہ بہترین انداز میں بولتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10241]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 5220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24086»
وضاحت: فوائد: … ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا احساس اور اس کے بارے میں شعور ہے، پتھروں کا اللہ کے خوف کی وجہ سے لڑھک پڑنا، موسی علیہ السلام نے جس پتھر پر کپڑے رکھے تھے، اس کا دوڑ پڑنا اور موسی علیہ السلام کا اس کو مارنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے تو تنے کا رونا، وغیرہ۔ یہی معاملہ بادلوں کا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖوَلٰکِنْلَّاتَفْقَہُوْنَتَسْبِیْحَہُمْ اِنَّہٗکَانَحَلِیْمًا غَفُوْرًا۔} … ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا بردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۴۴)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖوَلٰکِنْلَّاتَفْقَہُوْنَتَسْبِیْحَہُمْ اِنَّہٗکَانَحَلِیْمًا غَفُوْرًا۔} … ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا بردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۴۴)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10242
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو فرماتے: اے اللہ! نہ ہمیں اپنے غضب کے ساتھ ہلاک کر اور نہ عذاب کے ساتھ ہمیں تباہ کر، اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10242]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولجھالة حال ابي مطر، أخرجه الترمذي: 3450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5763»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْیُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖوَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳) یعنی اللہ تعالیٰ بجلی کے ذریعے جس کو چاہتا ہے، ہلاک کر ڈالتاہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
حدیث نمبر: 10243
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَتْ يَهُودٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالُوا أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ قَالَ مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ قَالُوا فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ قَالَ صَوْتُهُ قَالُوا صَدَقْتَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ اشیاء کے بارے میں سوال کریں گے، … …، پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا: انھوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کڑک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو بادلوں کا نظام سپرد کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میںآگ کی ایک تلوار ہوتی ہے، وہ اس کے ذریعے بادلوں کو ڈانٹتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق ان کو چلا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جو آواز سنتے ہیں،یہ کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی کی آواز ہوتی ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10243]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة الرعد، فقد تفرد بھا بُكير بن شھاب، ھو لم يرو عنه سوي اثنين، وقال ابو حاتم: شيخ، وقال الذھبي في الميزان: عراقي صدوق، أخرجه الترمذي: 3117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2483»
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قصة الرعد
حدیث نمبر: 10244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگرمیرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا، دن کو سورج نکال دوں گا اور میں ان کو گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، اس کی اچھی عبادت میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10244]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعيف، وسُمير بن نھار جھّله الدارقطني، أخرجه الطيالسي: 2586، والبزار: 664، والحاكم: 4/ 256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8693»
وضاحت: فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہو گی کہ دن کے معمولات بھی متاثر نہ ہوں اور بارش بھی ہو جائے اور وہ بھی ایسے پرسکون انداز میں گرج کی کوئی آواز سنائی نہ دے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف