Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّحَابِ وَالرَّعْدِ وَالرِّيَاحِ
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10245
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَتَعَوَّذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ یہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10245]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3727، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9627»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10246
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَخَذَتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّيحِ فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ مِنْ ذَلِكَ فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10246]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7619»
وضاحت: فوائد: … ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، اس کے اندر خیر بھی ہوتی ہے اور شرّ بھی، بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند چیز کو برا بھلا نہ کہے، بلکہ اس سے خیر کا سوال کرے اور اس کے شرّ کی پناہ طلب کرے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10247
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10247]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14431»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۰۲۳۲ا، ۱۰۲۳۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے موت و حیات اور خوشی و غمی کے واقعات سے متاثر نہیں ہوتا۔
اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10248
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو اس چیز کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو رہے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10248]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12648»
وضاحت: فوائد: … ہوا کے اندر خیر بھی ہو سکتی ہے اور شرّ بھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرّ کے خطرے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ جب شرّ کا باعث بن سکنے والی چیز وجود پکڑے تو اللہ تعالیٰ کی مراقبت کی تیاری کی جائے اور اس کی طرف پناہ پکڑی جائے، اختلاف ِ حالات و ظروف سے بندے کو متاثر ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغَيْمِ وَالْمَطْرِ وَالْبَرَدِ وَ زَمَنِ الشَّتَاءِ
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10249
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى غَيْمًا إِلَّا رَأَيْتُ فِي وَجْهِهِ الْهَيْجَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سَكَنَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بادل نظر آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں خوف اور گھبراہٹ کے آثار دیکھتی، جب وہ بارش برساتا تو تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون میں آتے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10249]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24978»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10250
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ مَا أَمِنْتُ أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ} إِلَى {رِيحٍ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الأحقاف: 24]
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ (سورۂ احقاف: ۲۴) [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10250]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 3891، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25856»
وضاحت: فوائد: … یہ آیت قوم ہود کے بارے میں ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ بارش آنے والی ہے، لیکن اس بادل کا انجام یہ نکلا کہ{ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10251
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10251]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26087»
وضاحت: فوائد: … اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بادل کو دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جب وہ بارش برسانے لگتا، تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے فکر ہوتے۔
نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10252
عَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ النَّاسُ مُجْدَبِينَ فَيَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ فَقِيلَ لَهُ وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا
۔ سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10252]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطيالسي: 1262، والطبراني في الكبير: 19/ 1043، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15622»
وضاحت: فوائد: … بارش اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے نازل ہوتی ہے، اس میں کسی غیر کی رضا یا عدم رضا کا کوئی دخل نہیں ہے، جو شخص اس بارش کے نزول کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10253
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ یہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10253]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12392»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10254
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَائِمٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ قِيلَ لَهُ أَتَأْكُلُ مِنْهُ وَأَنْتَ صَائِمٌ فَقَالَ إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بارش میں اولے برسے، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اولے کھانا شروع کر دیئے، جبکہ وہ روزے دار بھی تھے، کسی نے کہا: کیا تم روزے کی حالت میں یہ اولے کھاتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ تو برکت ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب خلق العالم/حدیث: 10254]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه البزار: 1022، وابويعلي: 1424، 3999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14016»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذاتی اجتہاد ہے، اولے کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں