🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَاتُ ذِكْرِ نَبِيٍّ هُودٍ عليه السلام
ہود علیہ السلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10327
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالَ وَادِي عُسْفَانَ قَالَ لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمُ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمُ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں، ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10327]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زمعة، وسلمةُ بن وھرام مختلف فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2067»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زمعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10328
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا فَقَالَتْ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَاجَةً فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلْتُهَا فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ وَبِلَالٌ مُتَقَلِّدُ السَّيْفِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَالُوا يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا قَالَ فَجَلَسْتُ قَالَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ أَوْ قَالَ رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ هَلْ كَانَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ شَيْءٌ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَكَانَتْ لَنَا الدَّبَرَةُ عَلَيْهِمْ وَمَرَرْتُ بِعَجُوزَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٍ بِهَا فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ وَهَا هِيَ بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ حَاجِزًا فَاجْعَلِ الدَّهْنَاءَ فَحَمِيَتِ الْعَجُوزُ وَاسْتَوْفَزَتْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِلَى أَيْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا مَثَلِي مَا قَالَ الْأَوَّلُ مِعْزَاءُ حَمَلَتْ حَتْفَهَا حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا أَعُوذُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ قَالَ هِيهْ وَمَا وَافِدُ عَادٍ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ قُلْتُ إِنَّ عَادًا قَحَطُوا فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ قَيْلٌ فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ يُقَالُ لَهُمَا الْجَرَادَتَانِ فَلَمَّا مَضَى الشَّهْرُ خَرَجَ إِلَى جِبَالِ تَهَامَةَ فَنَادَى اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ آتِ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَاتٌ سُودٌ فَنُودِيَ مِنْهَا اخْتَرْ فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ فَنُودِيَ مِنْهَا خُذْهَا رَمَادًا رِمْدَدًا لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ أَحَدًا قَالَ فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعِثَ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ مَا يَجْرِي فِي خَاتِمِي هَذَا حَتَّى هَلَكُوا قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَصَدَقَ قَالَ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ
۔ حارث بن یزید بکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں علاء بن حضرمی کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف روانہ ہوا، جب میں ربذہ مقام سے گزرا تو دیکھا کہ وہاں بنوتمیم کی ایک بڑھیا خاتون تھی، اس کے لیے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے! میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی تقاضا ہے، کیا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا سکتا ہے؟ پس میں نے اس کو اپنے ساتھ اٹھا لیا اور مدینہ منورہ پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی، سیاہ رنگ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تلوار لٹکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے، میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو کسی غزوے میں بھیجنا چاہتے ہیں، پس میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوگئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت دی، پس میں داخل ہوا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں (حارث) نے کہا: ہمارا ان پر غلبہ تھا اور میں بنوتمیم کی ایک بڑھیاں خاتون کے پاس سے گزرا، اس کے سفر کے اسباب منقطع ہو چکے تھے، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کو آپ تک پہنچاؤں، اب وہ درروازے پر موجود ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اجازت دی اور وہ اندر آ گئی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان کوئی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں تو دہناء مقام کا تعین کر دیں۔ یہ بات سن کر اس بڑھیا کو غیرت آ گئی تو اس نے اتنی باتیں کیں کہ اپنا پورا حق وصول کر لیا، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنے مضر کو کہاں تک مجبور کریں گے؟ اس کی باتیں سن کر میں نے کہا: میری مثال تو وہ ہے، جس کے بارے میں پہلے کسی نے کہا: معزاء نے اپنی موت کو اٹھا رکھا ہے، میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا، جبکہ مجھے شعور بھی نہیں تھا کہ مجھ سے جھگڑنے لگے گی، میں اس بات سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں عادیوں کے قاصد کی طرح ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ذرا بیان کرو، عادیوں کا قاصد کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس بات کو زیادہ جانتے تھے، لیکن اب اس سے سننا چاہتے تھے، میں نے کہا: عاد قوم قحط میں مبتلا ہو گئی، انھوں نے قَیل نامی قاصد کو بھیجا، وہ معاویہ بن بکر کے پاس سے گزرا اور ایک ماہ تک اس کے ہاں ٹھہرا، وہ اس کو شراب پلاتا اور اس کے لیے دو لونڈیاں گانے گاتی تھیں، ان لونڈیوں کو جرادتان کہتے تھے، جب ایک ماہ گزر گیا تو وہ آدمی تہامہ کے پہاڑوں کی طرف نکلا اور اس نے یہ آواز دی: اے اللہ! بیشک تو جانتا ہے کہ میں نہ کسی مریض کا دوا دارو کرنے کے لیے آیا ہوں اور نہ کسی قیدی کو چھڑانے آیا ہوں، اے اللہ! تو عادیوں پر وہی بارش نازل فرما، جو تو پہلے نازل کرتا تھا، پس اس کے پاس سے کالے کالے بادل گزرے اور اس سے کہا: ان میں سے ایک بادل کو منتخب کر، اس نے ایک سیاہ رنگ کی بدلی کی طرف اشارہ کیا، پس اس کو آواز دی گئی: اب لے اس کو، یہ تو آگ کے ساتھ ہونے والی ہلاکت ہے، یہ قومِ عاد میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گی، پھر انھوں نے کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ ان پر اتنی ہوا بھیجی گئی، جو میری اس انگوٹھی سے گزر سکتی تھی، لیکن اس سے بھی وہ ہلاک ہو گئے۔ ابو وائل کہتے ہیں: حارث نے سچ کہا، اسی وجہ سے جب کوئی عورت یا مرد اپنا قاصد بھیجتے تھے تو وہ کہتے تھے: قومِ عاد کے قاصد کی طرح نہ ہو جانا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10328]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مطولا و مختصرا جدا الترمذي: 3273، 3274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16050»
وضاحت: فوائد: … مِعْزَائُ حَمَلَتْ حَتْفَھَا (معزاء نے اپنی موت کو خود اٹھا رکھا ہے) یہ ایک ضرب المثل ہے، اس کا مصداق وہ شخص ہے جو ایسے امر کا خود سبب بنتاہے، جس میں اس کی اپنی ہلاکت ہوتی ہے، جبکہ اسے شعور تک نہیں ہوتا۔
درج ذیل آیات میں قوم عاد کی اسی ہلاکت کا بیان ہے:
{وَاَمَّا عَاد’‘ فَاُھْلِکُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ۔ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْھَا صَرْعٰی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ۔ فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِّنْ بَاقِیَۃٍ۔} … اور جو عاد تھے وہ سخت ٹھنڈی، تند آندھی کے ساتھ ہلاک کر دیے گئے، جو قابو سے باہر ہونے والی تھی۔ اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ کھجوروں کے گرے ہوئے تنے ہوں۔تو کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے؟ (سورۂ حاقہ: ۶ تا ۸)

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ عليه السلام
اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10329
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ وَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا فَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا فَعَقَرُوهَا فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهْمَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ تَحْتِ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قِيلَ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُو رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران قومِ ثمود کے شہر) حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: معجزات کی طرح کی نشانیوں کا مطالبہ نہ کیا کرو، صالح علیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا، (پس اونٹنی کی صورت میں ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا)، وہ ایک راستے سے آتی تھی اور دوسرے راستے سے نکل جاتی تھی، لیکن انھوں نے سرکشی کی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ ایک دن میں ان کا پانی پی جاتی تھی اور وہ ایک دن میں اس کا دودھ پیتے تھے، لیکن انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اس وجہ سے ایک چیخ ان پر چھا گئی اور اللہ تعالیٰ نے آسمانی کی نچلی سطح کے نیچے والے ان سب کو ہلاک کر دیا، صرف ایک آدمی بچا، وہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا۔ کسی نے کہا: وہ آدمی کون تھا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ابو رغال تھا، جب حرم سے نکلا تو وہ اسی مصیبت میں مبتلاہو گیا، جس میں اس کی قوم مبتلا ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10329]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرجه البزار: 1844، والحاكم: 2/ 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14207»

الحكم على الحديث:
حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10330
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعَشِيرَةِ فَذَكَرَ قِصَّةً وَذَكَرَ أَنَّهُمَا نَامَا عَلَى التُّرَابِ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذت العشیرہ میں رفیق تھے، پھر انھوں نے ایک قصہ بیان کیا، اس میں یہ ذکر بھی تھا کہ وہ دونوں مٹی پر سو گئے، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10330]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 3/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10331
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ {إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا} [سورة الشمس: 12] انْبَعَثَ رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ ابْنِ زَمْعَةَ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبدا للہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر کیا اور فرمایا: جب اس قوم کا بدبخت شخص اٹھا، … ایک خبیث، شریر، سردار اور اپنی قوم کا مطاع کھڑا ہوا، جیسے ابن زمعہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کے متعلق مردوں کو وعظ و نصیحت کی …۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10331]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2855، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16324»
وضاحت: فوائد: … صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا،یہ ایک نافرمان قوم تھی، انھوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ وہ پتھر کی چٹان سے اس طرح ایک اونٹنی نکال کر دکھائے کہ وہ بھی دیکھ رہے ہوں۔ صالح نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد بھی اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کر دیے جائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کا اظہار کر دیا، لیکن باغیوں کا ایمان لانا تو درکنار، انھوں نے تو سرے سے اونٹنی کا قصہ ہی تمام کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں مبتلا ہو گئے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰہَا اِِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰہَا فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰہَا۔} (سورۂ شمس: ۱۲ تا ۱۴) … قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلا دیا۔ جب ان کا بڑا بد بخت کھڑا ہوا۔ انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو)۔ ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو (نیست و نابود کر کے) برابر کر دیا۔
اکثر مفسرین کے نزدیک اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کا نام قدار بن سالف تھا، وہ اس بغا وت کی وجہ سے رئیس الاشقیاء (سب سے بڑا بدبخت) بن گیا۔ چونکہ اس شرارت میں پوری قوم شریک تھی، اس لیے اس آیت میں اس جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا، وگرنہ عملی طور پر ایک شخص نے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔
جنگ نہروان میں خوارج کے صرف نو آدمی بچ گئے تھے، یہ صدارت و امامت کی حیثیت رکھتے تھے، انھوں نے
فارس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوتیں اور سازشیں کیں، لیکن ناکام رہے۔ بالآخر عبد الرحمن بن ملجم مراوی، برک بن عبد اللہ تمیمی اور عمرو بن بکر تمیمی مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور تینوں اس رائے پر متفق ہو گئے کہ سیدناعلی، سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص کو قتل کر دیا جائے، انھوں نے اس ناپاک عزم کی تکمیل کے لیے۱۶ رمضان ۴۰؁ھجمعہکےدنفجرکی نماز کا تقرر کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی ذمہ داری عبد الرحمن بن ملجم نے سنبھالی اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، اس کے ہم خیالوں نے وردان نامی شخص کو ابن ملجم کی مدد کرنے کے لیے مقرر کیا، شبیب بن شجرہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ تینوں پچھلی رات مسجد کوفہ میں پہنچ گئے اور دروازے کے قریب چھپ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حسب ِ عادت لوگوں کو نماز کے لیے آوازیں دیتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے وردان نے آگے بڑھ کر تلوار کا وار کیا، مگر اس کی تلوار دروازے کی چوکھٹ یا دیوار پر پڑی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ ابن ملجم فوراً لپکا اور آپ کی پیشانی پر تلوار کا ہاتھ مارا، جو بہت کاری پڑا۔ اس زخم کے صدمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۱۷ رمضان ۴۰ھ کوشہید ہو گئے۔ بعد میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو قصاصاً ایک ہی وار سے قتل کر دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2855
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10332
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالَ وَادِي عُسْفَانَ قَالَ لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمُ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمُ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں،ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10332]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زمعة، وسلمةُ بن وھرام مختلف فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2067»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زمعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب مُرُورِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِوَادِي الْحِجْرِ مِنْ أَرْضِ ثَمُودَ عَامَ تَبُوكَ
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10333
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ نَزَلَ بِهِمُ الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ فَاسْتَقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهْرَاقُوا الْقُدُورَ وَعَلَقُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا قَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک والے سال حجرمقام پر صحابہ سمیت اترے، یہ مقام ثمود کے گھروں کے پاس تھا، لوگوں نے ان کنووں سے پانی لیا، جن سے ثمودی لوگ پانی پیتے تھے، پس انھوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور ہنڈیوں میں گوشت پکانا شروع کر دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا، پس انھوں نے ہنڈیاں انڈیل دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا،یہاں تک کہ اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا، جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو عذاب دیئے جانے والی قوم کے علاقے میں داخل ہونے سے منع کیا اور فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے، جس میں ان لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا، پس ان پر داخل نہ ہوا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10333]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3379، ومسلم: 981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5984»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3379
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10334
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَدْخُلُوا أَمَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حجر مقام سے گزرے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کے علاقے میں داخل نہ ہو، مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو بھی اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اوڑھ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رونے کی حالت میں نہ ہو تو ان پر داخل نہ ہوا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3380، ومسلم: 2980، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5342»
وضاحت: فوائد: … جو سابقہ قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئی، اس کے مقام کے بارے میں یہ احکام ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10335
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ وَهُوَ يَقُولُ مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُنْذِرُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَمَا كَانَ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران لوگوں نے (ثمود کی منازل) حِجر کی طرف جلدی کی اور وہ ان میں داخل ہونے لگ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں یہ اعلان کیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو، جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے؟ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان سے تعجب ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم کو اس سے زیادہ تعجب والے معاملہ سے نہیں ڈرایا؟ تم میں ہی ایک آدمی ہے، وہ تم کو ان امور کی بھی خبر دیتا ہے، جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں اور ان امور کی بھی، جو تم سے بعد میں ہونے والے ہیں، پس تم سیدھے ہو جاؤ اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی پرواہ نہیں کریں گے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو کسی چیز کو اپنے نفسوں سے دفع نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10335]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن ابي كبشة لين الحديث اذا انفرد، ولم يُتابع علي ھذا الحديث، واسماعيل بن اوسط مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 546،و الطبراني في الكبير: 22/852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18192»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَفَضْلِهِ عَلَيْهِ وَ عَلَى نَبِيِّنَا الصَّلَاةُ وَالسَّلامُ
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10336
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے مخلوق میں سے بہترین؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے باپ ابراہیم تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10336]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12939»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود افضل البشر ہیں، اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں، میدانِ حشر میں آپ ہی لوگوں کے سردار ہوں گے اور آدم علیہ السلام سمیت تمام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محض عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کو خَیْرُ الْبَرِیَّۃ کہا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2369
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں