🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ وَأَمُورٍ تتعلق بهم
انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان¤(انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10317
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهْلِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ وَفَّى عِدَّةُ الْأَنْبِيَاءِ قَالَ ( (مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا) ) وَفِي لَفْظٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ، چوبیس ہزار، ان میں تین سو پندرہ رسول تھے، جم غفیر تھا۔ ایک روایت میں ہے: ان میں تین سو چودہ پندرہ رسول تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10317]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، قاله الالباني في صحيحته، أخرجه الطبراني في الكبير: 7871، وابن حبان: 6190، والحاكم: 2/ 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22644»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: یہ اور دوسری احادیث دلالت کرتی ہیں کہ رسول اور نبی میں فرق ہے، قرآن مجید کی آیت بھی اس فرق پر دلالت کرتی ہے: {وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّٰٓی اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓاُمْنِیَّتِہٖ } (سورۂ حج: ۵۲) … اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجا نہ نبی، مگر اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا تو شیطان نے اس کی آواز میں کچھ ملا دیا۔ ابن جریر طبری سے لے کر علامہ آلوسی تک کے عام مفسرین کا یہی مسلک ہے، امام ابن تیمیہ نے (المجموع: ۰۱/ ۲۹۰، ۱۸/۷) میں کئی مقامات میں کہا ہے: کل رسول نبی و لیس کل نبی رسولا۔ (ہر رسول نبی تو ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں۔)امام قرطبی (۱۲/۸۰) نے کہا: مہدوی نے کہا: یہی رائے صحیح ہے کہ ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں۔ قاضی عیاض نے (الشفائ) میں یہی رائے اختیار کی اور کہا: جمّ غفیر کا یہی مسلک ہے کہ ہر رسول نبی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں ہے، انھوں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلا ل کیا۔
اس کی مزید تائید سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس قراء ت سے ہوتی ہے: {وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَسُوْلٍ وَلَا نَبِیٍّ وَّلَا مُحَدَّثٍ} اس میں محدث سے مراد وہ ہے کہ جس کی طرف نیند میں وحی کی جاتی ہے، کیونکہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ابو بکر انباری نے یہ قول ((الردّ)) میں ذکر کیا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ایسی قرا ء ات سے قرآن مجید ثابت نہیں ہوتا، بہرحال اگر یہ قول سنداً صحیح ہو تو رسول اور نبی کے مابین فرق پر دلالت کرتا ہے، مفسر قرآن مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے بھی فرق کا قول منقول ہے، جس کو امام سیوطی نے (الدر: ۴/۳۶۶) میں ذکر کیا ہے۔ … …۔
رسول اور نبی میں فرق کیا ہے؟
علامہ زمخشری (۳/۳۷) لکھتے ہیں: والفرق بینھما ان الرسول من الأنبیائ: من جَمَع الی المعجزۃ والکتاب المنزل علیہ۔ والنبی غیر الرسول: من لم ینزل علیہ کتاب وانما امر ان یدعو الناس الی شریعۃ من قبلہ۔ … ان دو کے ما بین فرق: رسول،انبیاء میں سے ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ اور کتاب دونوں چیزیں دی جاتی ہیں اور نبی، رسول کے علاوہ ہوتا ہے، اس پر کتاب نازل نہیں کی جاتی، بلکہ اسے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سابقہ رسول کی شریعت کی طرف دعوت دے۔
امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (۴/۵۷) میں کہا: الرسول: من بعثہ اللہ بشریعۃ مجدِّدۃیدعو الناس الیھا، والنبییعمہ، ومن بعثہ لتقریر شرع سابق، کأنبیاء بنی اسرائیل الذین کانوا بین موسی و عیسی ولذالک شبہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علماء امتہ بھم۔ … رسول وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نئی شریعت دے کر بھیجے اور وہ اس کی طرف لوگوں کو دعوت دے اور نبی اس کو بھی کہتے ہیں اور اُس کو بھی جو سابقہ نبی کی شریعت کو برقرار رکھنے کے لیے بھیجا جائے، جیسے موسی اور عیسیm کے مابین آنے والے انبیاء تھے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے علماء کو ان سے تشبیہ دی۔
میں (البانی) کہتا ہوں: امام بیضاوی شاید اس حدیث کی طرف اشارہ کر رہے ہوں: ((عُلَمَائُ اُمَّتِیْ کَأَنْبِیَائِ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ۔)) … میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔
لیکنیہ حدیث سند کے اعتبار سے بے بنیاد ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر اور امام سخاوی وغیرہ نے کہا ہے اور پھر انھوں نے امام بیضاوی کی تعریف پر اعتراضات کیے، جن کا لب لباب یہ تھا کہ بیضاوی کی تعریف سے مجددۃ اور زمخشری کی تعریف سے الکتاب کے الفاظ حذف کر دیےجائیں، کیونکہ اسماعیل علیہ السلام پر کوئی کتاب نازل ہوئی نہ کوئی ایسی شریعت، جو از سرِنو ہو۔ وہ تو ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار تھے، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: {اِنَّہُ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوْلاً نَبِیًّا} (سورۂ مریم: ۵۴) … وہ (اسماعیل) وعدے کے سچے اور رسول اور نبی تھے۔
خلاصۂ کلام یہ نکلا: النبی من بعث لتقریر شرع سابق، والرسول من بعثہ اللہ بشریعۃیدعوا الناس الیھا، سواء کانت جدیدۃ او متقدمۃ۔ … نبی وہ ہے جسے سابقہ شریعت کے قیام کے لیے بھیجا جائے اور رسول وہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نئییا سابقہ شریعت کو برقرار رکھنے کے لیے بھیجے اور وہ لوگوں کو اس کی طرف دعوت دے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۶۶۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10318
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10318]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6916، ومسلم: 2374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11285»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳)
اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کی زیادہ فضیلت ہے۔
تو اس حدیث ِ مبارکہ میں جس فضیلت و برتری سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں انبیاء و رسل کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا ممنوع ہے، جس سے کسی کی تنقیص اور سوئے ادب لازم آئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10319
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا بِلُغَةِ قَوْمِهِ) )
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10319]
تخریج الحدیث: «متنه صحيح، فقد نصّ القرآن الكريم علي ذلك، واسناد ھذا الحديث منقطع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21739»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10320
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِمْ) )
۔ سیدنا اوس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر اس چیز کو حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیا کے جسم کھائے، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10320]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1047، 1531، وابن ماجه: 1085، 1636، والنسائي: 3/ 91، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16262»
وضاحت: فوائد: … قارئین سے گزارش کہ وہ انبیائے کرام کے بیان کیے گئے درج ذیل نسب میں خود غور کریں کہ کس کانسب کس سے مل رہا ہے۔
ابن سعد نے الطبقات الکبری: ا/۵۴ میں ذکر تسمیۃ الأنبیاء وأنسابہم صلی اللہ علیہم و سلم (انبیائے کرام کے اسماء و انساب کا ذکر) کے عنوان میں درج ذیل دلچسپ معلومات پیش کیں ہیں:
یہ وہ انبیاء و رسل h ہیں، جن کے نام شریعت میں بتلائے گئے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا آدم علیہ السلام بھی نبی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، وہ نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا …۔ پہلے نبی جن کو مبعوث کیا گیا وہ
ادریس(خنوخ) علیہ السلام بن یارذ بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم تھے۔
پھر نوح علیہ السلام بن لمک بن متوشلخ بن ادریس (خنوخ) تھے۔
ان کے بعد ابراہیم علیہ السلام بن تارح بن ناحور بن ساروغ بن ارغوا بن فالغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح
پھر اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام، یہ دونوں ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔
ان کے بعد یعقوب بن اسحاق بن ابراہیمh
پھریوسف بن یعقوب بن اسحاق h
پھر لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارح بن ناحور بن ساروغ۔ لوط علیہ السلام، ابراہیم کے بھتیجے تھے۔
پھر ہود علیہ السلام بن عبد اللہ بن الخلود بن عاد بن غوص بن ارم بن سام بن نوح
پھر صالح علیہ السلام بن آسف بن کماشج بن اروم بن ثمود بن جائر بن ارم بن سام بن نوح
پھر شعیب علیہ السلام بن یوبب بن عیفا بن مدین بن ابراہیم خلیل الرحمن
پھر موسی اور ہارون h بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم
پھر الیاس علیہ السلام بن تشبین بن العازر بن ہارون بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب
پھریسع علیہ السلام بن عزی بن نشوتلخ بن افرایم بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق
پھریونس علیہ السلام بن متی، متی حضرت یعقوب کا ایک بیٹا تھا۔
پھر ایوب علیہ السلام بن زارح بن اموص بن لیفزن بن العیص بن اسحاق بن ابراہیم
داود علیہ السلام بن ایشا بن عویذ بن باعر بن سلمون بن نحشون بن عمیناذب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہوذا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم
پھر سلیمان بن داود h
پھر زکریا علیہ السلام بن بشوی، ان کا نسب یہوذا بن یعقوب سے ملتا ہے۔
پھریحییٰ بن زکریاh
پھر عیسی علیہ السلام بن مریم بنت عمران بن ماثان، ان کا نسب یہوذا بن یعقوب سے ملتا ہے۔
پھر نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نسب اسماعیل علیہ السلام سے ملتاہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا»
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10321
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ الْبَابُ فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا} [سورة مريم: 57]
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10321]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا مسلم: 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12533»
وضاحت: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ نُوحٍ وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَا»
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10322
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [سورة البقرة: 143] قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو قیامت والے دن بلا کر ان سے کہا جائے گا: کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا،یا ہمارے پاس کوئی بھی ایسا آدمی نہیں آیا، پس نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: کون تمہارے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت ِ وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی انصاف کرنے والے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو بلایا جائے گا، سو وہ نوح علیہ السلام کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی شہادت دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر میں تم پر گواہی دوں گا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10322]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3339، 4487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11303»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاء َ عَلَی النَّاسِ وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا } … اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے (سورۂ بقرہ: ۱۴۳)
یعنی تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہی دو گے، کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں،یہاں پر وَسَطًا کا معنی بہتر اور عمدہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط ِ عرب تھے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات پر یقین کر کے یہ شہادت دے گی کہ واقعی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا، ایمان و ایقان ہو تو ایسا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10323
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا إِنَّ أَهْلَ الْمَوْقِفِ يَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ نُوحٌ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میدان حشر والے لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت شکر گزار بندہ کہا ہے، پس اپنے ربّ کے ہاں ہمارے لیے سفارش تو کر دو، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس حالت میں ہیں، کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ ہم کس تکلیف میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنا غصے میں آئے گا، مجھے ایک دعا کا حق تھا، لیکن وہ میں نے اپنی قوم پر پورا کر لیا، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، جاؤ تم چلے جاؤ کسی اور کے پاس۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10323]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9621»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک طویل حدیث ہے، جس کے مطابق اہل موقف مختلف رسولوں کے پاس جائیں گے، تاکہ وہ حساب وکتاب شروع ہونے کی سفارش کریں، بالآخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے یہ سفارش کریں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10324
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ أَيْضًا قَالَ فَيَقُولُ يَعْنِي نُوحًا إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10324]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھو حديث طويل، أخرجه الطيالسي: 2711، وابن ابي شيبة: 14/ 135، وروي نحو ھذا الحديث الترمذي: 3148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ ذَكْرِ أَوْلادِهِ وَ وَصِيَّتِهِ لَهُمْ عِنْدَ وَفَاتِهِ
نوح علیہ السلام کی اولاد اور وفات کے وقت ان کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10325
حَدَّثَنَا رَوْحٌ مِنْ كِتَابِهِ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَ الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَامُ أَبُو الْعَرَبِ وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ وَحَامُ أَبُو الْحَبَشِ وَقَالَ رَوْحٌ بِبَغْدَادَ مِنْ حِفْظِهِ وَلَدُ نُوحٍ ثَلَاثَةٌ سَامُ وَحَامُ وَيَافِثُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عربوں کے باپ سام، رومیوں کے باپ یافث اور حبشیوں کے باپ حام ہیں۔ روح راوی نے بغداد میںاپنے حفظ سے بیان کرتے ہوئے کہا: نوح رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10325]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه الترمذي: 3231، 3931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20375»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10326
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ أَوْ مَزْرُورَةٌ بِدِيبَاجٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ وَيَضَعَ كُلَّ فَارِسِ ابْنِ فَارِسٍ فَقَامَ الن بدل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ فَاجْتَذَبَهُ وَقَالَ لَا أَرَى عَلَيْكَ ثِيَابَ مَنْ لَا يَعْقِلُ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَقَالَ إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَيْنِ وَأَنْهَاكُمَا عَنْ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِيهِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْخَيْرَاتِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهِمَا لَفَصَمَتْهُمَا أَوْ لَقَصَمَتْهُمَا وَآمُرُكُمَا بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ كُلُّ شَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا: تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10326]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3069، والبخاري في الادب المفرد: 548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7101»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی اکثریت فقیر اور کمزور لوگوں کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق معاشرے کے اشراف طبقہ سے تھا، اس بدّو نے اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں