🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ ذِكْرِ مُهَا جَرَةِ إِبْرَاهِيمَ بِابْنِهِ إِسْمَاعِيلَ وَ أُمِّهِ هَاجَرَ إِلَى جِبَالِ فَارَانَ وَ هِيَ أَرْضُ مَكَّةَ وَ سَبَبُ وجُودِ زَمْزَمَ وَبَنَائِهِ الْبَيْتَ الْعَتِيقِ
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے¤علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا¤اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10347
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى قَالَ قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی مسجد سب سے پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد ِ حرام۔ میں نے کہا: پھر کون سی بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے کہا: ان دو کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چالیس برس۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پا لے تو وہیں نماز ادا کر لے، پس وہی مسجد ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10347]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3366، 3425، ومسلم: 520، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21718»
وضاحت: فوائد: … معروف یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسجد ِ حرام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصی تعمیر کی ہے، لیکن ان دو نبیوں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ فاصلہ ہے، جبکہ اس حدیث میں چالیس برس فاصلہ بیان کیا گیا ہے؟
حافظ ابن حجر نے مختلف اقوال پیش کر کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے، ہم تلخیص کے ساتھ اس جواب کا ذکر کرتے ہیں: نہ ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں، جنھوں نے کعبہ کی تعمیر کی اور نہ سلیمان علیہ السلام وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے مسجد اقصی کی تعمیر کی، ہمیں ایک ایسی روایت ملی ہے، جس کے مطابق آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے کعبہ کی تعمیر کی، پھر ان کی اولاد زمین میں پھیل گئی اور ممکن ہے کہ کسی نے بیت المقدس تعمیر کیا ہو، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ داود علیہ السلام سے پہلے کسی اللہ کے ولی نے مسجد اقصی کی تعمیر کی ہو، پھر داود علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے اس میں توسیع کی ہو اور بعض کی رائے یہ ہے کہ آدم علیہ السلام یا فرشتوں یا سام بن نوح یایعقوب علیہ السلام نے مسجد اقصی کی بنیاد رکھی اور سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل کی، ابن ہشام کی روایت کے مطابق آدم علیہ السلام نے دونوں مسجدوں کی بنیاد رکھی، پھر نوح علیہ السلام کے طوفان میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا اور ابراہیم علیہ السلام نے دوبارہ اس کی تعمیر کی۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۰۸، ۴۰۹) اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام سے پہلے مسجد حرام اور مسجد اقصی کی تعمیر کی گئی، بوجوہ ان کے آثار کمزور پڑ گئے، پھر ان دو نبیوں نے ان کی تعمیرِ نو کی اور ان ہی کی طرف یہ مسجدیں منسوب ہونے لگیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3366
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10348
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ مَرَّةً يَعْنِي الرَّاوِيَ عَنْ صَفِيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ تُخَمِّرُهُمَا فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّي قَالَ سُفْيَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا
۔ ام منصور کہتی ہیں: بنو سلیم کی ایک خاتون، ہمارے گھر کی عام اولاد اسی سے تھی، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کیوں بلایا تھا؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں نے بیت اللہ کے اندر دنبے کے سینگ دیکھے اور تجھے یہ حکم دینا بھول گیا کہ تو ان کو ڈھانپ دے، پس اب ان کو ڈھانپ دے، کیونکہ مناسب نہیں ہے کہ بیت اللہ میں ایسی چیز ہو، جو نمازی کو مشغول کر دے۔ امام سفیان نے کہا: دنبے کے وہ دونوں سینگ بیت اللہ میں موجود رہے، یہاں تک کہ جب بیت اللہ کو آگ لگ گئی تھی تو وہ بھی جل گئے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10348]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2030، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16754»
وضاحت: فوائد: … اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں جو مینڈھا لایا گیا تھا، یہ اس کے دو سینگ تھے، جو کعبہ کے اندر محفوظ تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَاجَاءَ فِي صِفَتِهِ وَمِيلادِ إِسْحَاقَ وَ وَفَاةِ سَارَةَ ثُمَّ وَفَاتِهِ
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ رحمتہ اللہ علیہ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10349
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَى جَسِيمٌ قَالُوا لَهُ فَإِبْرَاهِيمُ قَالَ أُنْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عیسی علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، عیسی علیہ السلام کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے تھے اور وہ چوڑے سینے والے تھے، حضرت موسی علیہ السلام دراز قد تھے۔ لوگوں نے کہا: اور ابراہیم علیہ السلام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ساتھی کو دیکھ لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد آپ کا اپنا وجود تھا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10349]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2697»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3438
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10350
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں ان کے جس عضو کو دیکھتا، اس کو اپنے اندر بھی دیکھ لیتا، گویا کہ ابراہیم علیہ السلام تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح ہی ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10350]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 2720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3546»
وضاحت: فوائد: … ابراہیم علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل و صورت ملتی جلتی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللهِ لُوطٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَوْلِه تَعَالَى: «قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِى إِلَى رُكْنٍ شَدِيْدٍ»
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10351
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَرِيمَ بْنَ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ إِذْ جَاءَ الرَّسُولُ فَقَالَ {ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ} [يوسف: 50] وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ {لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} [هود: 80] وَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن خلیل الرحمن ابراہیمh ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جیل میں اتنا عرصہ ٹھہرتا، جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں فوراً اس کی بات قبول کرتا، لیکنیوسف علیہ السلام نے کہا: تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف اور اس سے ان عورتوں کے بارے میں پوچھ، جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا ربّ ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اللہ لوط علیہ السلام پر رحم کرے، انھوں نے اپنی قوم سے کہا: کاش کہ مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی قوت ہوتییا میں کسی زبردست کا آسرا پکڑ پاتا۔ (سورۂ ہود: ۸۰) ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے انبوہ کثیر میں بھیجا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3375، ومسلم: ص 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8373»
وضاحت: فوائد: … کریم بن کریم … کا مطلب یہ ہے کہ یہ چاروں ہستیاں معزز و مکرم بزرگ تھیں۔ یوسف کا ذکر کرکے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبر اور کشادہ دلی کی تعریف کر رہے ہیں۔
قوت سے مراد اپنے دست و بازو اور اپنے وسائل کی قوت یا اولاد کی قوت مراد ہے اور رکن شدید (مضبوط آسرا) سے مراد خاندان، قبیلہیا اسی قسم کا مضبوط آسرا مراد ہے، یعنی وہ نہایت بے بسی کے عالم میں آرزو کر رہے ہیں کہ کاش! میرے اپنے پاس کوئی قوت ہوتییا کسی خاندان اور قبیلے کی پناہ اور مدد مجھے حاصل ہوتی تو آج مجھے مہمانوں کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی نہ ہوتی، بلکہ میں ان بد قماشوں سے نمٹ لیتا اور مہمانوں کی حفاظت کر لیتا، لوط علیہ السلام کییہ آرزو، اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں ہے، بلکہ ظاہری اسباب کے مطابق ہے اور توکل علی اللہ کا صحیح مفہوم بھییہی ہے کہ پہلے تمام ظاہری اسباب و سائل بروئے کار لائے جائیں اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جائے۔
لوط علیہ السلام کی مذکورہ بالا کا سیاق و سباق درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:
{وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓئَ بِھِمْ وَضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا وَّقَالَ ھٰذَا یَوْم’‘ عَصِیْب’‘۔ وَجَآئَہٗقَوْمُہٗیُھْرَعُوْنَ اِلَیْہِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ قَالَ ٰیقَوْمِ ھٰٓؤُلَآئِ بَنَاتِیْ ھُنَّ اَطْھَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُل’‘ رَّشِیْد’‘۔ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَالَنَا فِیْ بَنٰتِکَ مِنْ حَقٍّ وَ اِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ۔ قَالُوْا ٰیلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَد’‘ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗمُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ۔ فَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ۔ مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۔} … اور جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں،یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟ انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی،یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔ انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں،یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقتیہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔ پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔ (سورۂ ہود: ۷۷ تا ۸۲)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3375
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10352
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنَّهُ آوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کو بخش دے، بیشک انہوں نے کسی زبردست کا آسرا پکڑنے کی خواہش کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10352]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8262»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8262
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ ذكر نبى اللهِ إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ
اللہ کے نبی اسماعیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10353
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس گئے اور وہ بازار میں تیراندازی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تم تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور میں بنوفلاں کے ساتھ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایک فریق تھا، یہ سن کر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم تیر اندازی کرو (کیوں رک گئے ہو؟) انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے تیر اندازی کریں، جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10353]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2899، 3507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16643»
وضاحت: فوائد: … اسماعیل علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے اور یہی ذبیح تھے، تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۳۴)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2899
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ إِسْحَقَ ثُمَّ يَعْقُوبَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ
اللہ کے نبی اسحاق علیہ السلام اور پھر یعقوب علیہ السلام کے ذکر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10354
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَرِيمُ بْنُ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10354]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3390، 4688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5712»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں چار انبیائے کرام کی تعریف کی گئی ہے۔
کریم کے معانی معزز، شریف، مہربان، پاکیزہ، باوقار، درگذر کرنے والا، وسیع الظرف، عالی ظرف، عمدہ، قابل قدر، قیمتی، سخی اور فیاض کے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ چاروں ہستیاں معزز و مکرم بزرگ تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3390
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بابُ ذِكْرِ يُوْسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
یوسف علیہ السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10355
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَرِيمَ بْنَ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ بْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ} [يوسف: 50]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریمیوسف بن یعقوب بن اسحاق بن خلیل الرحمن ابراہیمR ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں جیل میں اتنا عرصہ ٹھہرتا، جتنا کہ یوسف علیہ السلام ٹھہرے تھے اور پھر میرے پاس بلانے والا آتا تو میں فوراً اس کی بات قبول کرتا، جب کہ قاصد یوسف علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا: تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف اور اس سے ان عورتوں کے بارے میں پوچھ، جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا ربّ ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10355]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن حبان: 6207، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8373»
وضاحت: فوائد: … سابقہ حدیث دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10356
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيَ يُوسُفُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ شَطْرَ الْحُسْنِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یوسف علیہ السلام کو نصف حسن دیا گیا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10356]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14096»
وضاحت: فوائد: … حضرت یوسف علیہ السلام بہت زیادہ حسین تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں