🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَفَضْلِهِ عَلَيْهِ وَ عَلَى نَبِيِّنَا الصَّلَاةُ وَالسَّلامُ
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10337
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي إِبْرَاهِيمُ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ} [سورة آل عمران: 68] الْآيَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نبی کے انبیاء میں سے دوست ہوتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست میرے باپ اور میرے ربّ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: بیشک سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔(سورۂ آل عمران: ۶۸) [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10337]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو الضحي لم يدرك ابن مسعود، أخرجه الترمذي: 2995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3800»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10338
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [سورة البقرة: 260]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس نے کہا: کیا ابھی تک تو ایمان نہیں لایا، ابراہیم نے کہا: جی کیوںنہیں، (میں اس لیے سوال کر رہا ہوں تاکہ) میرا دل مطمئن ہو جائے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10338]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4537، ومسلم: 151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8311»
وضاحت: فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب ثبت کیا ہے: باب زیادۃ طمأنینۃ القلب بتظاہر الأدلۃ فیہ (ظاہر دلائل کی وجہ سے دل کے اطمینان کے زیادہ ہونے کا بیان) پھر امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: شک کرنے سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے، سب سے بہترین اور صحیح ترین جواب وہ ہے جو امام شافعی کے شاگرد امام ابو ابراہیم مزنی اور دوسرے کئی اہل علم نے دیا ہے، ان کے جواب کا مفہوم یہ ہے: مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں ابراہیم علیہ السلام کے حق میں شک کرنا محال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانا چاہتے ہیں: اگر انبیائے کرام کو شک ہو سکتا ہوتا میں شک کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوتا، پس تم جان لو کہ میں نے شک نہیں کیا، سو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی شک نہیں کیا۔ (شرح مسلم للنووی)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4537
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10339
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ قَرَأَ {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ} [سورة الأنبياء: 104]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اس حالت میں اکٹھا کیا جائے گا کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون ہوں گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: جیسے ہم نے پہلی تخلیق کی ابتدا کی، ایسے ہی ہم اسے دوبارہ لوٹائیں گے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10339]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3349، 3447، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1950»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3349
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10340
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ مَا أَتَتْ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کے خلیل ابراہیم رضی اللہ عنہ نے اسی سال کی عمر میں تیشے کے ساتھ ختنہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10340]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8264»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6298
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10341
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ شَارِبَهُ وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں کاٹتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام اپنی مونچھیں کاٹتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10341]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سماك بن حرب حسن الحديث الا ان في روايته عن عكرمة، فان فيھا اضطرابا، أخرجه الترمذي: 2760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2738»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ هِجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ عليه السلام لا إِلَى بِلَادِ الشَّامِ وَدُخُولِهِ الدِّيارَ الْمِصْرِيَّةَ وَقِصَّةِ سَارِةَ مَعَ مَلِكِ مِصْرَ
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ رحمتہ اللہ علیہ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10342
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ قَوْلُهُ حِينَ دُعِيَ إِلَى آلِهَتِهِمْ {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89] وَقَوْلُهُ {فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63] وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ إِنَّهَا أُخْتِي قَالَ وَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ اللَّيْلَةَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْمَلِكُ أَوِ الْجَبَّارُ مَنْ هَذِهِ مَعَكَ قَالَ أُخْتِي قَالَ أَرْسِلْ بِهَا قَالَ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ قَالَ لَهَا لَا تُكَذِّبِي قَوْلِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَتْ إِلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ قَالَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ يُقَلْ هِيَ قَتَلَتْهُ قَالَ فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ قَالَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ يُقَلْ إِنَّهَا قَتَلَتْهُ قَالَ فَأَرْسَلَ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجَعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَأَعْطُوهَا هَاجَرَ قَالَ فَرَجَعَتْ فَقَالَتْ لِإِبْرَاهِيمَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَدَّ كَيْدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے تھے، (۱) جب ان کو ان کی قوم کے باطل معبودوں کی طرف بلایا گیا تو انھوں نے کہا: میں بیمار ہوں، (۲) انھوں نے بتوں کو توڑنے کے بعد کہا: یہ کام تو ان کے بڑے نے کیا ہے اور (۳) انھوں نے اپنی بیوی سیدہ سارہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کہا: بیشک یہ تو میری بہن ہے، آخری بات کی تفصیل یہ ہے: ابراہیم علیہ السلام ایک بستی میں داخل ہوئے، اس میں ایک بادشاہ یا کوئی جابر حکمران تھا، اس کو بتلایا گیا کہ آج رات ابراہیم انتہائی خوبصورت عورت کے ساتھ ہماری بستی میں داخل ہوا ہے، اس نے آپ علیہ السلام کو بلا بھیجا اور پھر پوچھا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ آپ نے کہا: یہ میرے بہن ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بھیج، پس آپ نے ان کو اس طرف بھیجا اور کہا: میری بات کو جھوٹا نہ کرنا، میں اس کو بتلا چکا ہوں کہ تم میری بہن ہو (لہٰذا تم نے بھی اپنے آپ کو میری بہن ظاہر کرنا ہے)، کیونکہ زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مؤمن نہیں ہے، پس جب سیدہ رحمۃ اللہ علیہ اس پر داخل ہوئیں تو وہ ان کی طرف اٹھا، انھوں نے وضو کر کے نماز ادا کی اور کہا: اے اللہ! اگر تو میرے بارے میں جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے علاوہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ پس اس دعا کے اثر سے اس سے دم گھٹنے کی آواز آنے لگی اور وہ پاؤں کو زمین پر مارنے لگ گیا،یہ صورتحال دیکھ کر سیدہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ مرگیا تو کہا جائے گا کہ اس خاتون نے اس کو قتل کر دیا ہے، پس اس کی وہ کیفیت چھٹ گئی اور وہ پھر ان کی طرف کھڑا ہوا، سیدہ نے اس بار پھر وضو کر کے نماز ادا کی اور کہا: اے اللہ! اگر تو میرے بارے میں جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنے خاوند کے علاوہ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ کر۔ اس بادشاہ کی پھر دم گھٹنے کی آواز آنے لگی اور وہ زمین پر پاؤں مارنے لگا، سیدہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اس خاتون نے اس کو قتل کیا ہے، پس اس کیوہ کیفیت چھٹ گئی، اس نے تیسرییا چوتھی بار کہا: تم لوگوں نے تو میری طرف کوئی شیطان بھیجا ہے، اس کو ابراہیم کی طرف لوٹا دو اور اس کو ہاجر دے دو، پس وہ لوٹ آئیں اور ابراہیم علیہ السلام سے کہا: کیا آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے مکر کو ردّ کر دیا ہے اور اس نے خدمت کے لیے ایک لونڈی بھی دی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10342]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 2217، 2635، 6950، ومسلم: 2371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9230»
وضاحت: فوائد: … ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے، بعض نا عاقبت اندیشوں نے اس حدیث ِ مبارکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے اس وجہ سے انکار کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جھوٹ بولیں۔ ان کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ دو امور کا ذکر تو قرآن مجید میں ہے، اب کیا ان آیات کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کا انکار کر دیا جائے، حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے تھے، بیٹے کو ذبح کرنے اور آگ میں پھینکے جانے جیسی کڑی آزمائشوں میں بھی ابراہیم علیہ السلام نے پست ہمتی کا سوچنا گوارا نہیںہے۔
اصل بات یہ ہے کہ رخصت، شریعت کا حسن ہوتی ہے، ہماری شریعت میں اس کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں، شریعت نے ہمیشہ صدق اور سچائی کی تعلیم دی اور اسی کی مدح سرائی کی، لیکن کسی بڑی مصلحت کی خاطر اسی شریعت نے بعض صورتوں میں خلاف ِ واقعہ بات کہہ دینے کی اجازت دی۔
ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ جب کسی نبی کے ذریعے شرعی قوانین مرتّب کیے جا رہے ہوتے ہیں، اس وقت صرف اس نبی کی ایمانی قوت، عملی رغبت اور تعلق باللہ کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کے امتیوں کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے، انبیاء ورسل کا اللہ تعالیٰ پر اتنا مضبوط ایماناور اعتقاد ہوتا ہے کہ کڑا سے کڑا امتحان اور انتہائی کٹھن مرحلہ ان میں تردّد اور تزلزل پیدا نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اعمال اس لیے ترک کر دیتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی آسانی میں رہیں۔ جب شرعی قوانین کو ترتیب دیا جاتا ہے، اس وقت افراد کیفطرتوں اور مجبوریوں کو بھی سامنے رکھا جاتا ہے، ان میں سے ایک مجبوری کسی خاص وقوعہ میں غلط بیانی اور خلافِ واقعہ بات کرنا ہے اور اس میں جہاں امت کے لیے بڑی آسانی ہے، وہاں شریعت کا حسن بھی نظر آتا ہے کہ اس نے بعض امور میں متبادل کی کوئی گنجائش نہیں رکھی، لیکن بعض میں افراد کے لیے سہولت کو پسند کیا۔دیکھیں جب تک کسی بالغ شخص کا ہوش برقرار ہے، اس کے لیے ترکِ نماز کی کوئی گنجائش نہیں ہے، لیکن صرف مریض کی مرض کو دیکھ روزہ ترک کرنے کی سہولت دے دی جاتی ہے اور وہ مستقل مریض ہو تو روزوں کی مستقل رخصت دے دی جاتی ہے اور اس کے عوض کفارہ کی تھوڑی سی مقدار قبول کر لی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جہاں شریعت نے سچ بولنے کو فرض کیا، اس کو سراہا، اس کو نیک لوگوں کی صفت قرار دیا، وہاں بعض مواقع پر غلط بیانی کی رخصت بھی دے دی، تاکہ امت بوجھ محسوس نہ کرے۔
حدیث نمبر (۹۸۹۷)میں جھوٹ کے جواز کی صورتیں گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 2217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ ذِكْرِ مُهَا جَرَةِ إِبْرَاهِيمَ بِابْنِهِ إِسْمَاعِيلَ وَ أُمِّهِ هَاجَرَ إِلَى جِبَالِ فَارَانَ وَ هِيَ أَرْضُ مَكَّةَ وَ سَبَبُ وجُودِ زَمْزَمَ وَبَنَائِهِ الْبَيْتَ الْعَتِيقِ
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے¤علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا¤اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10343
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَوَّلُ مَا اتَّخَذَتِ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قَبْلُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعْفِيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْأُنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلِذَلِكَ سَعَى النَّاسُ بَيْنَهُمَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سب سے پہلے جس خاتون نے کمر پر باندھی جانے والی پیٹی استعمال کی، وہ ام اسماعیل تھیں، انھوں نے سیدہ سارہ رحمۃ اللہ علیہ پر اس کے نشان کو چھپانے کے لیے پیٹی کا اہتمام کیا، پھر انھوں نے بقیہ حدیث ذکر کی اور کہا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرتے، اگر انھوں نے زمزم کو چھوڑ دیا ہوتا، ایک روایت میں ہے: اگر وہ زمزم سے چلو نہ بھرتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز نے ام اسماعیل کو پا لیا کہ وہ مانوسیت کو پسند کرتی تھیں، پس وہ وہاں اتر پڑے اور انھوں نے اپنے اہل کی طرف بھیپیغام بھیجا، سو وہ بھی وہاں آ کر ٹھہر گئے، … …، پس سیدہ ہاجر رحمۃ اللہ علیہ صفا سے اتریں،یہاں تک کہ وادی میں پہنچیں اور اپنی قمیص کا کنارہ اٹھایا، پھر مشقت میں پڑے ہوئے انسان کی طرح دوڑیں،یہاں تک کہ وادی کو عبور کر لیا، پھر وہ مروہ پر آئیں اور اس پر کھڑے ہو کر دیکھا، تاکہ ان کو کوئی آدمی نظر آجائے، لیکن وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں، پس انھوں نے سات دفعہ ایسے ہی کیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے لوگ صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10343]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه بنحوه البخاري: 3365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3250»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10344
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ جَاءَ بِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهَاجَرَ فَوَضَعَهَا بِمَكَّةَ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ جَاءَتْ مِنَ الْمَرْوَةِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ وَقَدْ نَبَعَتِ الْعَيْنُ فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَيْنَ بِيَدِهَا هَكَذَا حَتَّى اجْتَمَعَ الْمَاءُ مِنْ شَقَّةٍ ثُمَّ تَأْخُذُ بِقَدَحِهَا فِي سِقَائِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ عَيْنًا سَائِحَةً تَجْرِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام اور ہاجر رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر آئے اور ان کو مکہ میں زمزم کے مقام پر ٹھہرایا، … …، پھر جب وہ ہاجرہ مروہ سے اسماعیل کے پاس گئیں، تو چشمہ ابل رہا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کر کے چشمہ کی جگہ پر زمین کھودنے لگ گئیں،یہاں تک کہ اس گڑھے میںپانی جمع ہو گیا اور وہ پیالے کی مدد سے اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو چھوڑ دیتیں تو وہ قیامت تک بہنے والا چشمہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10344]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2285»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10345
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا أَيُّوبُ قَالَ أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا فَعَجِلَتِ الْإِنْسَانَةُ فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ لَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پھر فرشتہ سیدہ ہاجرہ رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر آیا،یہاں تک کہ جب زمزم والی جگہ پر پہنچا تو وہاں اپنی ایڑھی ماری، پس اس جگہ سے چشمہ ابل پڑا، اب اس خاتون نے پیالے کی مدد سے پانی کو اپنے مشکیزے میں ڈالنا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر انھوں نے جلدی نہ کی ہوتی تو زمزم جاری چشمہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10345]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3390»
وضاحت: فوائد: … زمزم جاری چشمہ ہوتا، یعنی روئے زمین پر بہنے والا واضح اور ظاہری چشمہ ہوتا، ابن جوزی نے کہا: زمزم کا ظہور محض اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی، اس میں کسی عامل کے عمل کا کوئی دخل نہیں تھا، جب سیدہ ہاجرہ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو پابند کرنا چاہا تو بیچ میں بشر کی محنت آ گھسی، سو وہ پابند ہو گیا۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۰۲)

الحكم على الحديث:
انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3390
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10346
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِرَادَةَ أَنْ يَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ كُلِّهِ مِنْ وَرَاءِ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کی طرف نہیں دیکھتی، جب انھوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا آپ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کر دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا (تو میں اس طرح کر دیتا)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا: اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حطیم کی طرف والے کعبہ کے دو کونوں کا استلام اس بنا پر نہیں کیا کہ اس طرف سے کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ بیت اللہ کا پوری طرح طواف کریں اور ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے پیچھے سے چکر کاٹیں۔ [الفتح الربانی/بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام/حدیث: 10346]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25338»
وضاحت: فوائد: … جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک جزو کو خالی چھوڑ دیا، اسی کو حِجْرکہتے ہیں۔ ویسے حِجْرکے معنی ہیں وہ جگہ جس کے ارد گرد دیوار بنائی گئی ہو، اس جگہ کو حطیم بھی کہتے ہیں، حطیم کے معنی ہیں: جدا کیا گیا، کیونکہ اس حصے کو بیت اللہ سے جدا کیا گیا، بیت اللہ کی دیوار سے پانچ یا چھ یا سات ہاتھ تک بیت اللہ کا حصہ ہے، سارا حطیم بیت اللہ کا حصہ نہیں ہے، کیونکہ دیوار بناتے وقت کچھ بیرونی جگہ بھی شامل کر دی گئی، جو آدمی پانچ چھ ہاتھ کے احاطے کے اندر اندر نماز پڑھے، وہ یوں سمجھے کہ اس نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی، اسی طرح طواف کرنے والے کا چکر حطیم کے باہر سے ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں