الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ فِي ذِكْرِ مَنْ رَآهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ وَالْمِعْرَاجِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ وَآخَرِينَ مِنَ الكُفَّارِ وَالْمُدْيَبِينَ وَصِفَةِ بَعْضِهِمْ
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
حدیث نمبر: 10574
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (رَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَى فَإِنَّهُ جَسِيمٌ) ) قَالُوا لَهُ فَإِبْرَاهِيمُ قَالَ ( (انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ) ) يَعْنِي نَفْسَهُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عیسی علیہ السلام، موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، عیسی علیہ السلام کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے تھے اور وہ چوڑے سینے والے تھے، موسی علیہ السلام دراز قد تھے۔ لوگوں نے کہا: اور ابراہیم علیہ السلام؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ساتھی کو دیکھ لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد آپ کا اپنا نفس تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10574]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2697»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3438
حدیث نمبر: 10575
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي وَصَعَدْتُ قَدَمَيْ (وَفِي نُسْخَةٍ وَضَعْتُ قَدَمَيْ) حَيْثُ تُوضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَعُرِضَ عَلَيَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ قَالَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُرِضَ عَلَيَّ مُوسَى فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَعُرِضَ عَلَيَّ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَإِذَا هُوَ أَقْرَبُ النَّاسِ شَبَهًا بِصَاحِبِكُمْ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے بیت المقدس میں اپنا قدم وہاں رکھا، جہاں انبیاء کے قدم رکھے جاتے تھے، پس مجھ پر عیسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، پھر مجھ پر موسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ معتدل وجود کے آدمی تھے اور وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، بعد ازاں ابراہیم علیہ السلام کو مجھ پر پیش کیا گیا، وہ لوگوں میں تمہارے اپنے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10575]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10842»
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه مسلم: 172
حدیث نمبر: 10576
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے، یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10576]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12532»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِمبارکہ میں موسی علیہ السلام کی عالم برزخ کی ایک کیفیت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2375
حدیث نمبر: 10577
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ فَرَأَيْتُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10577]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14589)، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14643»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 167
حدیث نمبر: 10578
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ (قَالَ عُثْمَانُ فَوْقِي) فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحُومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْ لَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر والی سمت میں دیکھا، وہاں مجھے گرج، کڑک، چمک، کڑک دار بجلی نظر آئی، پھر میں کچھ لوگوں کے پاس آیا، ان کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے بڑے تھے، ان میں ایسے سانپ تھے، جو پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ سود خور ہیں، پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10578]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ماجه: 2273، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8625»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 10579
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا خُطَبَاءُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا، میں نے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ دنیا والوں کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10579]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 4069، والبيھقي في الشعب: 4965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12235»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10580
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَمَّا عَرَجَ بِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میرے ربّ نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ ان کے ذریعے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو متأثر کرتے تھے (یعنی چغلی اور غیبت کرتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10580]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4878، 4879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13373»
وضاحت: فوائد: … آخری دو احادیث میں متعلقہ لوگوں کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
35. بَابُ مَا وَرَدَ فِي أُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِالْإِسْرَاءِ والمعراج
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10581
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ وَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَ فَارْفَضَّ عَرَقًا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اسراء والی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایسا براق لایا گیا، جس پر زین کسی ہوئی تھی اور اس کو لگام ڈالی ہوئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہونے لگے تو وہ براق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشکل ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے اس سے کہا: کون سی چیز تجھے ایسا بننے پر آمادہ کر رہی ہے؟ اللہ کی قسم ہے، تجھ پر کبھی بھی ایسی ہستی سوار نہیں ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ عزت والی ہو، پھر شرمندگی کی وجہ سے اس کا پسینہ بہہ پڑا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10581]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3131، وانظر الحديث رقم (10321)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12701»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، انبیائے کرام میں سب سے زیادہ افضل اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10582
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَقَدَحِ خَمْرٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمَا فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات میرے پاس دودھ کا پیالہ اور شراب کا پیالہ لایا گیا، میں نے ان دونوںکو دیکھا اور پھر دودھ کو پکڑ لیا، جبریل علیہ السلام نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی، اگر آپ شراب پکڑ لیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت گمراہ ہو جاتی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10582]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3437، ومسلم: 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10655»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3437
حدیث نمبر: 10583
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ {إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى} [النجم: 16] قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء پر لے جایا گیا تو سدرۃ المنتہی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفر کی انتہا ہو گئی،یہ سدرۃ چھٹے آسمان میں ہے، جو کچھ زمین کی طرف سے چڑھتا ہے، اسی بیری پر اس کی انتہاء ہوتی ہے اور جو کچھ اوپر سے اترتا ہے، اس کی انتہاء بھی اسی درخت پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔(سورۂ نجم: ۱۶) اس سے مراد سونے کے پتنگے ہیں، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں،سورۂ بقرہ کا آخری حصہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے اس شخص کے کبیرہ گناہ بخش دیئے گئے، جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10583]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4011»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 173