🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَرْضِ أَبِي طَالِبٍ وَوَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ وَمَا وَرَدَ فِيهِ
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10544
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ فَقَالُوا إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا قَالَ مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ قَالَ يَا عَمِّ أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمُ الْجِزْيَةَ قَالَ مَا هِيَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَامُوا فَقَالُوا أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا قَالَ وَنَزَلَ {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: 1] فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: 5] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ثَنَا عِبَادٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ أَبِي قَالَ الْأَشْجَعِيُّ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب بیمار ہو گیا اور قریشی اس کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کی تیمار داری کرنے کے لیے پہنچ گئے، اس کے سر کے پاس ایک آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، اتنے میں ابو جہل کھڑا ہو اور اس جگہ پر بیٹھ گیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکوہ کرتے ہوئے کہا: ابو طالب! تیرایہ بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے، ابو طالب نے کہا: آپ کی قوم آپ کی شکایت کر رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے چچا جان! میں ان سے ایسا کلمہ پڑھوانا چاہتا ہوں کہ جس کے ذریعے عرب ان کے ماتحت ہو جائیں گے اور عجم ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ اس نے کہا: وہ کلمہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ یہ سن کر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: کیا اس نے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے؟ پھر یہ قرآن نازل ہوا: ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم! بلکہ کفار غرور و مخالفت میںپڑے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پہلے بھی بہت سی امتوں کو تباہ کر ڈالا، انھوں نے ہر چند چیخ و پکار کی، لیکن وہ وقت چھٹکارے کا نہ تھا، اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے والا آ گیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادو گر بہت جھوٹا ہے، کیا اس نے اتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا ہے، واقعییہ بہت ہی عجیب بات ہے۔(سورۂ ص: ۱ تا ۵) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10544]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يحييٰ بن عماره في عداد المجھولين، أخرجه الترمذي: 3232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2008 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2008»
وضاحت: فوائد: … ابو طالب کی وفات رجب یا رمضان ۱۰؁نبوتمیں ہوئی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10545
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} [القصص: 56] الآية
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچے سے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، میں قیامت کے روز اس کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ انھوں نے کہا: اگر قریشی مجھے عار دلاتے ہوئے یہ نہ کہتے کہ بے صبری نے ابو طالب کو یہ کلمہ پڑھنے پر آمادہ کیا ہے تو میں یہ کلمہ ادا کر کے تیری آنکھ کو ٹھنڈا کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی اتاری: بیشک تو اس کو ہدایت نہیں دیتا، جس کو تو پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10545]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9608»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 25
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10546
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ قَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ قَالَ اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي قَالَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ آتَيْتُهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِدَعْوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا قَالَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا اغْتَسَلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب ابو طالب فوت ہوا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جا کر اس کو دفنا دے اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس آجانا۔ پس میں نے اس کو دفن کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جا اور غسل کر اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس پہنچ جا۔ پس میں غسل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں ایسی ایسی دعائیں کیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ ان کی بجائے مجھے سرخ اور سیاہ اونٹ مل جائیں، اس کے بعد جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ میت کو غسل دیتے تو اس سے خود غسل کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10546]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه النسائي: 1/ 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1074»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10547
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَقَالَ إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا فَقَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي اغْتَسِلْ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ابو طالب مر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اس کو دفن کرو۔ انھوں نے کہا: وہ تو شرک کی حالت میں مرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اس کو دفن کرو۔ پس میں نے اس کو دفن کیا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غسل کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10547]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 759»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 759
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10548
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ابو طالب کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ بروز قیامت ابو طالب کو میری سفارش سے فائدہ ہو اور اس کو جہنم کی ٹخنوں تک آنے والی آگ میں ڈالا جائے، جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10548]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3885، 6564، ومسلم: 210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11490»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3885
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10549
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمُّكَ أَبُو طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْفَعُكَ قَالَ إِنَّهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ لَوْلَا أَنَا كَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا چچا ابو طالب آپ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ کو فائدہ پہنچاتا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی وجہ سے وہ ٹخنوں تک پہنچنے والی آگ میں ہو گا، اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میںہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6208، 6572، ومسلم: 209، 359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1763»
وضاحت: فوائد: … شریعت کا عام قانون یہی ہے کہ روزِ قیامت کسی کافر کے حق میں کوئی سفارش قبول نہیں ہو گی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے کہ ابو طالب کے حق میں ان کی سفارش قبول ہو گی، جس کی وجہ سے سخت عذاب کی بجائے ہلکا عذاب ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10550
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُتَنَعَّلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمی لوگوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہو گا، اس کو آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10550]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2636»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر آٹھ برس، دو مہینے اور دس دن ہوئی، آپ کے دادا عبد المطلب انتقال کر گئے، ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت کا بیڑا اٹھا لیا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والد کے سگے بھائی تھے، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص اور عرصۂ دراز کے لیے رحمت و شفقت برتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمانۂ اعلانِ نبوت یعنی چالیس سال کی عمر تک ان کے زیرِ سایہ رہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت و رسالت کا اعلان کیا تو ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے محافظ، بازو اور قلعہ ثابت ہوئے کہ مکہ کے بڑوں اور بیوقوفوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے اسلامی دعوت نے اس کے ہاں پناہ لیے رکھی، لیکن وہ خود اپنے باپ دادا کی ملت پر قائم رہے، اس لیے پورے طور پر کامیاب نہ ہو سکے، نبوت کے ابتدائی دس برسوں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا کا تعاون حاصل رہا، ابو طالب کی وفات ۱۰؁نبوی میں ہوئی۔
ابو طالب کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی اسی سال میں وفات پا گئیں تھیں، اس طرح یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے عام الحزن (غم کا سال) ثابت ہوا اور ان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مصائب کا تانتا بندھ گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخِ وَفَاةِ خَدِيجَةَ وَزَوَاجِهِ ﷺ بِعَائِشَةَ وَسَوْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہما سے شادی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10551
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے دو یا تین سال پہلے مجھ سے نکاح کیا تھا، اس وقت میری عمر سات برس تھی،یہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے دنوں کی بات ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10551]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البخاري: 3894، 5133، 5134، ومسلم: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26929»
وضاحت: فوائد: … سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دورِ جاہلیت میں طاہرہ کہا جاتا تھا، راجح قول کے مطابق سیدہ نے ماہِ رمضان ۱۰؁نبوی میں وفات پائی، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پچیس برس گزارے اور اس طرح عرصۂ دراز تک یہ عظیم خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سہارا بنی رہی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10552
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى قَالَ لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ مَنْ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ فَمَنِ الْبِكْرُ قَالَتْ ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَمَنْ ثَيِّبٌ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ قَالَ اذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَتْ انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَ وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ ارْجَعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ انْتَظِرِي وَخَرَجَ قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ قَدْ كَانَ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ وَعْدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ الْفَتَى فَقَالَتْ يَا ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ لَعَلَّكَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُهُ فِي دِينِكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ إِنْ تَزَوَّجَ إِلَيْكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَقَوْلَ هَذِهِ تَقُولُ قَالَ إِنَّهَا تَقُولُ ذَلِكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ وَدِدْتُ ادْخُلِي إِلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَاكَ لَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَهُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَ فَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ قَالَ كُفْءٌ كَرِيمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ قَالَتْ تُحِبُّ ذَاكَ قَالَ ادْعِيهَا إِلَيَّ فَدَعَيْتُهَا قَالَ أَيْ بُنَيَّةُ إِنَّ هَذِهِ تَزْعَمُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْءٌ كَرِيمٌ أَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ادْعِيهِ لِي فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَجَاءَهَا أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنَ الْحَجِّ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ لَعَمْرُكَ إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِيَ التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فِي السُّنْحِ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَنَا وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ فَجَاءَتْنِي أُمِّي وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ تَرْجَحُ بِي فَأَنْزَلَتْنِي مِنَ الْأُرْجُوحَةِ وَلِيَ جُمَيْمَةٌ فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ بِي عِنْدَ الْبَابِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَ سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَجْلَسَتْنِي فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَتْ هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهِمْ وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكَ فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِجَفْنَةٍ كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
۔ ابو سلمہ اور یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خولہ بنت ِ حکیم رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ شادی نہیںکریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کس سے؟ انھوں نے کہا: اگر آپ کنواری کو چاہتے ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے اور اگربیوہ چاہتے ہے تو وہ بھی مل سکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کنواری کون ہے؟ انھوں نے کہا: آپ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص کی بیٹی ہے، عائشہ بنت ابی بکر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بیوہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: سودہ بنت زمعہ، وہ آپ کے ساتھ ایمان لائی ہے اور آپ کے فرمان کے مطابق آپ کی پیروی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم جاؤ اور دونوں کو میرے بارے میں یہ پیغام دو۔ پس سیدہ خولہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئی اور کہا: اے ام رومان! اللہ تعالیٰ نے کیا خیر و برکت تمہارے گھر میں داخل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیا، سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: ابو بکر کے آنے کا انتظار کر، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آ گئے، سیدہ خولہ نے کہا: اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! انھوں نے کہا: وہ کیا، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں عائشہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عائشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جائز ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھتیجی ہے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان کو کہہ: میں تیرا اور تو میرا اسلامی بھائی ہے اور تیری بیٹی میرے لیے جائز ہے۔ پس وہ لوٹی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتلائی، اب کی بار انھوں نے کہا: تو پھر تو انتظار کر، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نکل پڑے، اُدھر سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے یہ تفصیل بتائی کہ مطعم بن عدی نے عائشہ کے لیے اپنے بیٹے کا ذکر کیا تھا، پس اللہ کی قسم ہے کہ کبھی ایسے نہیں ہوا کہ وہ وعدہ کرے اور پھر ابو بکر کے لیے اس کی پاسداری نہ کرے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے پاس پہنچ گئے، اس کی بیوی ام الفتی اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی، اس کی بیوی نے کہا: اے ابن ابی قحافہ! اگر ہمارا بندہ تیری طرف شادی کر لے تو ممکن ہو گا کہ تو اس کو بے دین بنا کر اپنے دین میں داخل کردے، یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے کہا: کیایہی بات ہے جو یہ کر رہی ہے؟ اس نے کہا: بس یہ تو یہی بات کہتی ہے، (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ مطعم اپنی بیوی سے اتفاق کر رہا ہے) لہٰذا وہ اس کے پاس سے نکل پڑے اور ان کے دل میں اس شخص کے وعدے کے بارے میں جو بات تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو ختم کر دیا، پس ابو بکر رضی اللہ عنہ واپس لوٹ آئے اور خولہ سے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا، پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر دیا، اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ برس تھی، پھر سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا وہاں سے نکلی اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا خیر و برکت نازل کر دی ہے! اس نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے منگنی کا پیغام دینے کے لیے مجھے بھیجا ہے، انھوں نے کہا: میں تو یہ چاہتی ہوں، لیکن تو میرے ابو کے پاس جا اور ان سے اس چیز کا ذکر وہ عمر رسیدہ بزرگ تھے اور ادھیڑ عمری کی وجہ سے حج سے پیچھے رہ گئے تھے، پس وہ ان کے پاس گئی اور ان کو جاہلیت والا سلام کہا، اس نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں خولہ بنت حکیم ہوں، اس نے کہا: توکیسے آئی ہے؟ اس نے کہا: محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا ہے، میں سودہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منگنی کا پیغام لے کر آئی ہوں، اس نے کہا: یہ تو بڑا بہترین کفو ہے، لیکن تیری سہیلی سودہ خود کیا چاہتی ہے؟ اس نے کہا: وہ تو اس چیز کو پسند کر رہی ہے، اس نے کہا: اس کو میری طرف بلا، پس میں اس کو بلا لائی، اس نے کہا: اے میری پیاری بیٹی! یہ خولہ بتا رہی ہے کہ محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منگنی کے لیے تجھے پیغام بھیجا ہے، یہ بڑا بہترین کفو ہے، تو کیا تو یہ پسند کرے گی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تیری شادی کر دوں؟ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا کر لے آ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور اس نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر دی، جب سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا اور اسے اس شادی کا علم ہوا تو اس نے اپنے سر پر مٹی پھینکنا شروع کر دی، لیکن اس نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد کہا تھا: تیری عمر کی قسم! جس دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سودہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی وجہ سے اپنے سر پر مٹی ڈالی تھی، اس دن میں بیوقوف تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پس ہم لوگ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے اور سُنْح مقام پر بنو حارث بن خزرج کے ہاں اترے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور انصاریوں کے خواتین و حضرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، میری ماںمیرے پاس آئی، جبکہ میں کھجور کے دو درختوں کے درمیان بندھے ہوئے پنگھوڑے میں تھی، انھوں نے مجھے پنگھوڑے سے اتارا، میرے سر کے بال کندھوں تک تھے، انھوں نے ان میں کنگھی کی اور میرےچہرے کو پانی سے دھویا اور پھروہ مجھے چلاتی ہوئی آگے بڑھیں،یہاں تک کہ دروازے پر کھڑی ہو گئیں، مجھے سانس چڑھا ہوا تھا، پھر جب میرا سانس تھما تو وہ مجھے لے کر گھر میں داخل ہوئیں وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چارپائی پر تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انصاری خواتین و حضرات بھی موجود تھے، میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بٹھا کر کہا: یہ آپ کے اہل ہیں، اللہ تعالیٰ ان میں آپ کے لیے اور آپ میں ان کے لیے برکت نازل فرمائے، پھر خواتین و حضرات اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے، وہیں ہمارے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ خلوت اختیار کی، میری شادی پر نہ اونٹ ذبح کیے گئے اور نہ بکریاں، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف کھانے کا ایک برتن بھیجا تھا، عام طور پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کے موقع پر اپنی بیوی سے خلوت اختیار کرتے تھے تو وہ یہ کھانا بھیجا کرتے تھے، اس وقت میری عمر نو برس تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10552]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 57، وأخرجه مختصرا ابوداود: 4937، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26288»
وضاحت: فوائد: … حکمت و دانائی والے لوگوں کی کتنی خوبصورت باتوں کا تذکرہ ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ خَدَيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا وَهِيَ أَوَّلُ نَفْسٍ آمَنَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَتُهُ
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10553
عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ مَعَهَا فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ ایک برتن میں سالن یا کھانا یا مشروب لے کر آ رہی ہیں، جب وہ آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو ان کے ربّ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہنا اور ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے ایسے گھر کی خوشخبری سنانا کہ اس میں شور و غل ہو گا نہ تعب و تکان۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10553]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3820، 7497، ومسلم: 2432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7156»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3820
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں