الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ خَدَيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا وَهِيَ أَوَّلُ نَفْسٍ آمَنَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَتُهُ
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی
حدیث نمبر: 10554
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایسے گھر کی خوشخبری سناؤں جو یاقوت والے موتیوں سے بنا ہوا ہے اور اس میں شور وغل ہے نہ تعب و تکان۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10554]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 3/ 185، وابويعلي: 6797، وابن حبان: 7005، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1758»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10555
عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ قَالَ يَعْلَى وَقَالَ مَرَّةً لَا صَخَبَ أَوْ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
۔ اسماعیل بن ابی خالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے صحابی ٔ رسول سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوشخبری دی تھی؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنت میںیاقوت کے موتیوں سے بنے ہوئے ایک گھر کی خوشخبری دی تھی، اس گھر میں شور ہو گا نہ تھکاوٹ، ایک روایت میں ہے: اس میں شور یا لغو بات نہیں ہو گی اور نہ تھکاوٹ۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10555]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1792، ومسلم: 2433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19356»
وضاحت: فوائد: … سیدہ خدیجہ کے جنت والے گھر کی صفات بھی بیان کر دی گئی ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1792
حدیث نمبر: 10556
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِي فِي خُلَّتِهَا مِنْهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کسی عورت پر اتنی غیرت نہیں کی، جتنی مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آئی، حالانکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میرے ساتھ شادی کرنے سے تین سال پہلے وفات پا گئی تھیں، اس غیرت کی وجہ یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے سنتی تھی اور ربّ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جنت میںیاقوت والے موتیوں کے گھر کی خوشخبری دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تھے تو اس میں کچھ حصہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو ارسال کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10556]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6004، 7484، ومسلم: 2435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24814»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم کی دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہنے والی، گھبراہٹوں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سہارا بننے والی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا سرمایا لٹا دینے والی آپ کی وفادار بیوی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کی قدر کی اور انھیں جنت میں گھر کی بشار ت سنوا دی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6004
حدیث نمبر: 10557
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10557]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 2722، والحاكم: 3/ 185، وابن حبان: 7010، والطبراني: 11928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2668»
وضاحت: فوائد: … سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 10558
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10558]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12418»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَسْبُکَ مِنْ نِسَاء ِ الْعَالَمِینَ مَرْیَمُ ابْنَۃُ عِمْرَانَ وَخَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ وَفَاطِمَۃُ ابْنَۃُ مُحَمَّدٍ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ۔)) … جہانوں کی خواتین میں چار عورتیں تجھے کافی ہیں: مریم بنت عمران، خدیجہ بنت ِ خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آسیہ، جو کہ فرعون کی بیوی تھیں۔
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹
کیا عظمت ہے ان چار عظیم خواتین کی،سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((کَمُلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِیرٌ وَلَمْ یَکْمُلْ مِنَ النِّسَاء ِ إِلَّا مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِیَۃُ امْرَأَۃُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَاء ِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ۔)) … مردوں میں تو بہت زیادہ نے کمال حاصل کیا، لیکن خواتین میں صرف سیدہ مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ علیہما السلام درجۂ کمال تک پہنچ سکیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت باقی خواتین پر اس طرح ہے، جیسے ثرید کی باقی کھانوں پر ہے۔ (صحیح بخاری: ۴۹۹۸، صحیح مسلم: ۴۴۵۹
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10559
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10559]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2432، 3815، ومسلم: 2430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 640»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2432
حدیث نمبر: 10560
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ قَالَتْ فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قَالَ مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف کرتے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی اور میں نے کہا: آپ اس سرخ باچھ والی بڑھیا کا اس قدر زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا بہترین متبادل عطا کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر متبادل نہیں دیا، خدیجہ تو وہ تھی جو اس وقت ایمان لائی، جو لوگ میرے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس نے اس وقت میری تصدیق کی، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے، اس نے اپنے مال کے ساتھ اس وقت میری ہمدردی کی، جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اس وقت اولاد عطا کی، جب وہ مجھے عورتوں کی اولاد سے محروم کر رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10560]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25376»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2437
حدیث نمبر: 10561
عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَطْنَبَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْهَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ لَقَدْ أَعْقَبَكَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشَّدْقَيْنِ قَالَتْ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا لَمْ أَرَهُ تَغَيَّرَ عِنْدَ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا عِنْدَ نُزُولِ الْوَحْيِ وَعِنْدَ الْمَخِيلَةِ حَتَّى يَعْلَمَ رَحْمَةٌ أَوْ عَذَابٌ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی، مجھ پر وہی غیرت غالب آ گئی، جو عورتوں پر غالب آ جاتی ہے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش کی اس سرخ باچھوں والی بڑھیا کا متبادل تو دے دیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اس قدر بدلا کہ میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا، ما سوائے نزولِ وحی کے وقت یا بادل کے نمودار ہوتے وقت، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چل جاتا کہ وہ رحمت ہے یا عذاب۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10561]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25725»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ کی سرخ باچھوں سے مراد یہ ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئی تھیں،یہاں تک کہ ان کے دانت گر گئے تھے اور اس وجہ سے منہ میں سفیدی ختم ہو گئی تھی اور بس مسوڑھوں کی سرخی باقی رہ گئی تھی، جواباً نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ کو بے مثال ام المؤمنین قرار دیتے ہوئے ان کے خصائلِ حمیدہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معیار سیدہ کے عظیم کارنامے تھے۔
علمائے کرام نے اس موقع پر ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے اور وہ یہ کہ خواتین کے ساتھ ان کی جلن اور غیرت کے معاملے میں نرمی برتی گئی ہے، کیونکہ عام خواتین کییہ فطرت ہے، ان کی برداشت اور عدم برداشت کا کوئی کلیہ ضابطہ نہیں ہے، ان کا مزاج بڑی سے بڑی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتا اور بڑی سے بڑی برائیوں کو معاف کردیتا ہے، صبح کو ایکخاتون کی تعریف کر رہی ہوں گی اور شام کو اسی کے خلاف محاذ آراہوں گی،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں ڈانٹا۔
بادل کے نمودار ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پریشانی کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہبادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ صرف ان کے گھر نظر آ رہے تھے، ہم مجرم قوم کو ایسا ہی بدلہ چکھاتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴،۲۵)
علمائے کرام نے اس موقع پر ایک بڑی خوبصورت بات کی ہے اور وہ یہ کہ خواتین کے ساتھ ان کی جلن اور غیرت کے معاملے میں نرمی برتی گئی ہے، کیونکہ عام خواتین کییہ فطرت ہے، ان کی برداشت اور عدم برداشت کا کوئی کلیہ ضابطہ نہیں ہے، ان کا مزاج بڑی سے بڑی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتا اور بڑی سے بڑی برائیوں کو معاف کردیتا ہے، صبح کو ایکخاتون کی تعریف کر رہی ہوں گی اور شام کو اسی کے خلاف محاذ آراہوں گی،یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں ڈانٹا۔
بادل کے نمودار ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پریشانی کی وجہ یہ ہوتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہبادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گا، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ صرف ان کے گھر نظر آ رہے تھے، ہم مجرم قوم کو ایسا ہی بدلہ چکھاتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴،۲۵)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25725
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَهَابِهِ ﷺ إِلَى الْطَائِفِ لَمَّا اشْتَدَّ عليه إيذاء قريش بَعْدَ مَوْتِ عَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ مسْتَنْجِدًا وَرَدَهُمْ عَلَيْهِ أَسْوَأَرَدٍ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ردّ کر دیا
حدیث نمبر: 10562
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْعَدْوَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرِقِ ثَقِيفٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ يَبْتَغِي عِنْدَهُمُ النَّصْرَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ} حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ فَوَعَيْتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَدَعَتْنِي ثَقِيفٌ فَقَالُوا مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ مَا يَقُولُ حَقًّا لَتَبِعْنَاهُ
۔ سیدنا خالد عدوانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو ثقیف کی مشرقی جانب میں دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے اور ان سے مدد طلب کرنے کے لیے آئے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ} والی سورت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو مکمل کیا، میں نے دورِ جاہلیت میں شرک کی حالت میں بھی یہ سورت یاد کی تھی، اور پھر مشرف باسلام ہو کر بھی اس کی تعلیم حاصل کی تھی، بنو ثقیف نے مجھے بلایا اور کہا: تو نے اس آدمی کو کیا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے جواباً ان کو سورۂ طارق سنائی، لیکن ان کے پاس موجود قریشی لوگوں نے کہا: ہم اپنے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ جانتے ہیں، اگر ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس کی بات حق ہے تو ہم ضرور اس کی پیروی کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10562]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن خالد العدواني، وتفرد به عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، وھو ضعيفيعتبر به في الشواھد والمتابعات، ولم يتابعه احد ھنا، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 3/ 138، وابن خزيمة: 1778، والطبراني في الكبير: 4126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19166»
وضاحت: فوائد: … ثقیف کا تعلق ہوازن قبیلہ سے تھا اور یہ بنو ثقیف قبیلے کا بڑا باپ تھا، ا س قبیلے کا مسکن طائف تھا، جب قریشیوں نے ابو طالب کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت اذیتیں پہنچائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے گفتگو کی اور اس کام میں دس دن گزار دیے، لیکن کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات نہ مانی، بلکہ یہ کہا کہ ہمارے شہر سے نکل جاؤ اور اپنے بچوں، اوباشوں اور غلاموں کو شہ دے دی، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی کا قصد فرمایا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوںجانب لائن لگا کر گالیاں دینی اور بدزبانی کرنی شروع کی، پھر پتھر برسانے لگے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑیاں اور پاؤں زخمی ہو گئے اور جوتے خون سے تر ہو گئے، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ آپ کو بچاتے رہے اور ان کے سر پر بھی کئی زخم آ گئے اور سفاکی کا یہ سلسلہ یہاں تک جاری رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عتبہ اور شیبہ فرزندانِ ربیعہ کے ایک باغ میں پناہ لینا پڑی، باقی اگلی حدیث کے فوائد میں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن خالد العدواني
حدیث نمبر: 10563
عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَ إِصْبَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَقَالَ جَعْفَرٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ حَجَرٌ فَدَمِيَتْ فَقَالَ ( (هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ) )
۔ سیدنا جندب بَجَلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلی کسی چیز اور ایک راوی کی روایت کے مطابق پتھر لگنے سے خون آلود ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انگلی سے فرمایا: تو ایک انگلی ہی ہے جو خون آلود ہوئی ہے اور اللہ کے راستے میں اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10563]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2802، ومسلم: 1796، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19004»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث میں سفرِ طائف کا ذکر ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: ہَلْ أَتٰی عَلَیْکَیَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ یَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ: ((لَقَدْ لَقِیتُ مِنْ قَوْمِکِ مَا لَقِیتُ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِیتُ مِنْہُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِی عَلَی ابْنِ عَبْدِ یَالِیلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ یُجِبْنِی إِلٰی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا
مَہْمُومٌ عَلٰی وَجْہِی فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِی فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ أَظَلَّتْنِی فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِیہَا جِبْرِیلُ فَنَادَانِی فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوا عَلَیْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہُ بِمَا شِئْتَ فِیہِمْ فَنَادَانِی مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! فَقَالَ ذٰلِکَ فِیمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَیْہِمُ الْأَخْشَبَیْنِ۔)) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَلْ أَرْجُو أَنْ یُخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلَابِہٖمْمَنْیَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا۔)) … کیایوم احد سے بھی سخت دن آپ پر آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کو پورا نہیں کیا، پھر میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب میں پہنچا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا، میں نے جو دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے، اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ایسے کافروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کہا، پھر کہا: اے محمد! یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے اگر آپ چاہیں تو میں أَخْشَبَیْنکو ان کافروں پر لا کر رکھ دو۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۳۱، صحیح مسلم: ۳۳۵۲)
أَخْشَبَیْن سے مراد مکہ کے دو پہاڑ ہیں: اباقبیس اور اس کے سامنے والا قعیقعان۔
اَبْوَابُ قِصَّۃُ الْاِسْرَائِ وَالْمِعْرَاجِ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسراء اور معراج کے قصے کے ابواب
اسراء و معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے، اہل ایمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ اس معجزہ سے متعلقہ جتنی احادیث ِ صحیحہ منقول ہیں، وہ ان کو تسلیم کریں،یہ معجزہ مکی دور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِ اطہر اور روحِ مقدس سمیت پیش آیا، اسرا سے مراد راتوں رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک اور معراج سے مراد بیت المقدس سے عالم بالا میں تشریف لے جانا ہے، مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک چالیس دنوں کا سفر ہے۔اسراء و معراج کا واقعہ پانچ سن نبوییا ستائیس رجب دس سن نبوییا سترہ رمضان بارہ سن نبوییا محرم یا سترہ ربیع الأول تیرہ سن نبوی کو پیش آیا۔
ہمارے ہاں واقعۂ اسرا و معراج کی مناسبت سے ہر سال ستائیس رجب کی رات کو مخصوص انداز میں گزارا جاتا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی حتمی بات نہیں کہ یہ معجزہ ستائیس رجب کو ہی عطا کیا گیا تھا، جیسا کہ مذکورہ بالا تاریخوں سے پتہ چل رہا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس مناسبت سے کوئی مخصوص عمل کرنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ جس پاک ہستی نے یہ معجزہ وصول کیا، اس نے اس دن کوئی مخصوص عمل پیش نہیں کیا، اب اس واقعہ سے متعلقہ طویل احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: ہَلْ أَتٰی عَلَیْکَیَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ یَوْمِ أُحُدٍ؟ قَالَ: ((لَقَدْ لَقِیتُ مِنْ قَوْمِکِ مَا لَقِیتُ وَکَانَ أَشَدَّ مَا لَقِیتُ مِنْہُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِی عَلَی ابْنِ عَبْدِ یَالِیلَ بْنِ عَبْدِ کُلَالٍ فَلَمْ یُجِبْنِی إِلٰی مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا
مَہْمُومٌ عَلٰی وَجْہِی فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِی فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ أَظَلَّتْنِی فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِیہَا جِبْرِیلُ فَنَادَانِی فَقَالَ: إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوا عَلَیْکَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہُ بِمَا شِئْتَ فِیہِمْ فَنَادَانِی مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! فَقَالَ ذٰلِکَ فِیمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَیْہِمُ الْأَخْشَبَیْنِ۔)) فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((بَلْ أَرْجُو أَنْ یُخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلَابِہٖمْمَنْیَعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا۔)) … کیایوم احد سے بھی سخت دن آپ پر آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی، جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کو پورا نہیں کیا، پھر میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرن الثعالب میں پہنچا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا، میں نے جو دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے، اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ایسے کافروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کہا، پھر کہا: اے محمد! یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے اگر آپ چاہیں تو میں أَخْشَبَیْنکو ان کافروں پر لا کر رکھ دو۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۳۲۳۱، صحیح مسلم: ۳۳۵۲)
أَخْشَبَیْن سے مراد مکہ کے دو پہاڑ ہیں: اباقبیس اور اس کے سامنے والا قعیقعان۔
اَبْوَابُ قِصَّۃُ الْاِسْرَائِ وَالْمِعْرَاجِ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسراء اور معراج کے قصے کے ابواب
اسراء و معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے، اہل ایمان کو یہی زیب دیتا ہے کہ اس معجزہ سے متعلقہ جتنی احادیث ِ صحیحہ منقول ہیں، وہ ان کو تسلیم کریں،یہ معجزہ مکی دور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد ِ اطہر اور روحِ مقدس سمیت پیش آیا، اسرا سے مراد راتوں رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک اور معراج سے مراد بیت المقدس سے عالم بالا میں تشریف لے جانا ہے، مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک چالیس دنوں کا سفر ہے۔اسراء و معراج کا واقعہ پانچ سن نبوییا ستائیس رجب دس سن نبوییا سترہ رمضان بارہ سن نبوییا محرم یا سترہ ربیع الأول تیرہ سن نبوی کو پیش آیا۔
ہمارے ہاں واقعۂ اسرا و معراج کی مناسبت سے ہر سال ستائیس رجب کی رات کو مخصوص انداز میں گزارا جاتا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی حتمی بات نہیں کہ یہ معجزہ ستائیس رجب کو ہی عطا کیا گیا تھا، جیسا کہ مذکورہ بالا تاریخوں سے پتہ چل رہا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس مناسبت سے کوئی مخصوص عمل کرنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ جس پاک ہستی نے یہ معجزہ وصول کیا، اس نے اس دن کوئی مخصوص عمل پیش نہیں کیا، اب اس واقعہ سے متعلقہ طویل احادیث کا ذکر کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2802