🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعَنُّتِ قُرَيْشٍ فِي طَلْبِ الْآيَاتِ وَاصْرَارِهِمْ عَلَى الْعِنَادِ وَتَأْمُرِهِمْ عَلَى قَتْلِ سَيِّدِ الْعِادِ ﷺ
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10534
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنُ بِكَ قَالَ وَتَفْعَلُونَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَدَعَا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ قَالَ بَلِ التَّوْبَةُ وَالرَّحْمَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ اپنے ربّ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم واقعی ایسے کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہاں، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک آپ کے ربّ نے آپ کو سلام کہا اور فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو صفا پہاڑی ان کے لیے سونا بن جائے گی، لیکن جس نے اس علامت کے بعد کفر کیا، اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب جہانوں میں کسی کو نہیں دیا اور اگر تم چاہتے ہو تو ان کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھلے رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توبہ اور رحمت کا دروازہ ٹھیک ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10534]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطبراني:12736، والبيھقي: 2/272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2166»
وضاحت: فوائد: … توبہ اور رحمت میں زیادہ وسعت اور گنجائش ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10535
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ فَأَقْبَلَتْ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ أَرِينِي وُضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمُ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا هَا هُوَ ذَا وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ وَعَقَرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَقَالَ شَاهَتِ الْوُجُوهُ ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریشی سردار حطیم میں جمع ہوئے اور اپنے بتوں لات، عزی، مناۃ، نائلہ اور اساف کی قسمیں اٹھا کر آپس میں معاہدہ کیا کہ اگر انھوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو وہ آپ پر یکبارگی حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کیے بغیر آپ سے جدا نہیں ہوں گے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس چیز کا علم ہوا تو وہ روتی ہوئی آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر کہا: یہ سردارانِ قریش یہ معاہدہ کر چکے ہیں کہ اگر انھوں نے آپ کو دیکھا تو آپ پر حملہ کر دیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے، ان میں سے ہر آدمی آپ کے خون میں سے اپنے حصے کو پہچان چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری پیاری بیٹی! وضو کا پانی لاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا، پھر مسجد ِ حرام میں ان کے پاس گئے، جب انھوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: اوہ، یہ وہ آ گیا ہے، پھر انھوں نے اپنی نگاہیں پست کر لیں، ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے جا لگیں اور وہ دہشت زدہ ہوکر بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے، نہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھنے کی جرأت ہوئی اور نہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اٹھ سکا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھری اور فرمایا: چہرے قبیح ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مٹھی ان کی طرف پھینک دی، پس جس آدمی کو ان کنکریوں میں سے کوئی کنکری لگی، وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں قتل ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10535]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 1/ 163، وابن حبان: 6502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2762»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ فِي تَخْصِيصِهِ ﷺ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِدَعْوَةٍ لِيُريهُمْ بَعْضَ الْآيَاتِ الدَّالَّةِ عَلَى نُبُونِهِ رَحْمَةً بِهِمْ لأَنَّهُمْ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات قبول نہیں کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10536
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِيهِمْ رَهْطٌ كُلُّهُمْ يَأْكُلُ الْجَذَعَةَ وَيَشْرَبُ الْفَرَقَ قَالَ فَصَنَعَ لَهُمْ مُدًّا مِنْ طَعَامٍ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَ الطَّعَامُ كَمَا هُوَ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ ثُمَّ دَعَا بِغُمَرٍ فَشَرِبُوا حَتَّى رَوُوا وَبَقِيَ الشَّرَابُ كَأَنَّهُ لَمْ يُمَسَّ أَوْ لَمْ يُشْرَبْ فَقَالَ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي بُعِثْتُ لَكُمْ خَاصَّةً وَإِلَى النَّاسِ بِعَامَّةٍ وَقَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَا رَأَيْتُمْ فَأَيُّكُمْ يُبَايِعُنِي عَلَى أَنْ يَكُونَ أَخِي وَصَاحِبِي قَالَ فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ قَالَ فَقَالَ اجْلِسْ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لِي اجْلِسْ حَتَّى كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِي
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد المطلب کو جمع کیایا ان کو دعوت دی، ان میں ایسے افراد بھی تھے کہ وہ (بسیار خوری کی وجہ سے) اچھا خاصہ جانور کھا جا تے تھے اور ایک فَرَق پانی پی جاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے صرف ایک مُد کا کھانا تیار کیا،پس انھوں نے کھایا،یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے، لیکن کھانا اُسی طرح باقی بچا پڑا تھا، یوں لگتا تھا کہ کسی نے اس کو چھوا تک نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چھوٹا پیالہ منگوایا اور سب نے اتنا مشروب پیا کہ وہ سیراب ہو گئے، لیکن وہ مشروب اس طرح باقی بچا پڑا تھا کہ گویا کہ اس کو چھوا ہی نہیں گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! مجھے تمہاری طرف خاص طور پر اور لوگوں کی طرف عام طور پر مبعوث کیا گیا ہے اور تم نے یہ نشانی بھی دیکھ لی ہے، اب تم میں سے کون ہے جو میرا بھائی اور ساتھی بننے کے لیے میری بیعت کرے؟ جواباً کوئی بھی کھڑا نہ ہوا، صرف میں (علی) کھڑا ہوا، جبکہ میں لوگوں سے سب سے کم سن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ دعوت پیش کی، لیکن صرف میں ہی کھڑا ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما دیتے کہ تو بیٹھ جا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مار کر مجھ سے بیعت لی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10536]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ربيعة بن ناجذ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1371»
وضاحت: فوائد: … فَرَق ایک پیمانہ ہے، جس میں سولہ رطل چیز آ جاتی ہے، یعنییہ تین حجازی صاع کے برابر ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قرابتداروں کو تبلیغ کرنے کا مخصوص اہتمام کیا تھا، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۵۱۱) والا باب۔
موجودہ وزن کے حساب سے تقریباً سوا چھ کلو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ربيعة بن ناجذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ فِي تَكْسِيرِهِ وَ الْأَصْنَامَ الَّتِي كَانَتْ لِقُرَيْشٍ عَلَى الْكَعْبَةِ مَعَ عَلَى وَ اِنْتِصَارًا لِلْحَقِّ وَإِزْهَاقًا لِلْبَاطِل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10537
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ قَالَ فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبِهِ قَالَ فَنَهَضَ بِي قَالَ فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صَفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْذِفْ بِهِ فَقَذَفْتُ بِهِ فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ ثُمَّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَسْتَبِقُ حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے، یہاں تک کہ ہم کعبہ کے پاس پہنچے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹھ جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھے پر چڑھے، پھر میں نے اٹھنا چاہا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں کمزور ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کندھے سے نیچے اتر گئے اور خود بیٹھ کر فرمانے لگے: علی! میرے کندھے پر چڑھ جا۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر چڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، مجھے یوں لگا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کے افق کو چھو لیتا، پس میں بیت اللہ کی عمارت پر چڑھ گیا، اس پر پیتلیا تانبے کا بنا ہوا مجسمہ تھا، میں نے اس کے دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے سے کوشش کی،یہاں تک کہ میں نے اس کو گرانے کی قدرت پا لی، اُدھر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھینک دے اس کو۔ پس میں نے اس کو پھینکا اور وہ اس طرح ٹوٹا جیسے شیشے ٹوٹتے ہیں، پھر میں وہاں سے اترا اور میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز چلنے لگے، یہاں تک کہ ہم گھروں کے ساتھ چپ گئے، ہمیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی بندے سے ملاقات ہو جائے (اور ہمارا یہ راز فاش ہو جائے)۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10537]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،نعيم بن حكيم وثقه العجلي وابن حبان، وقال النسائي: ليس بالقوي، وقال ابن سعد: لم يكن بذاك، واختلف قول ابن معين فيه، وابو مريم الثقفي مجھول، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 488، والبزار: 769، وابويعلي: 292، والحاكم: 2/ 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 644»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10538
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ عَلَى الْكَعْبَةِ أَصْنَامٌ فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَحَمَلَنِي فَجَعَلْتُ أَقْطَعُهَا وَلَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ السَّمَاءَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کعبہ پر بت تھے، پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اٹھانا چاہا تو مجھ میں اتنی طاقت نہیں تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اٹھایا اور میں نے ان کو توڑ دیا، اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10538]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم الثقفي، وضعفِ نعيم بن حكيم، وانظرالحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1302»
وضاحت: فوائد: … بتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر گرایا تھا، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دَخَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَکَّۃَ وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعُنُہَا بِعُودٍ فِییَدِہِ وَجَعَلَ یَقُولُ: {وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔} … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، جبکہ بیت اللہ کے آس پاس تین سو ساٹھ بت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ میںپکڑی ہوئی لکڑی سے انھیں کچوکے دے رہے تھے اور یہی آیت پڑھتے تھے: {وَقُلْ جَاء َ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔} … اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔ [سورۂ اسرائ: ۸۱] (صحیح بخاری: ۲۲۹۸)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي مريم الثقفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي هِجْرَةِ بَعض الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى الْحَبْشَةِ فِرَارًا بِدِيْنِهِمْ مِنَ الْفِتْنَةِ وَهِيَ أَوَّلُ هِجْرَةٍ فِي الْإِسْلَامِ
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10539
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ نَحْوُ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَجَعْفَرٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَأَبُو مُوسَى فَأَتَوْا النَّجَاشِيَّ وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَا لَهُ إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا قَالَ فَأَيْنَ هُمْ قَالُوا هُمْ فِي أَرْضِكَ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ فَقَالُوا لَهُ مَا لَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ قَالَ إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَمَا ذَلِكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ قَالَ مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ قَالُوا نَقُولُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا بَشَرٌ وَلَمْ يَفْرِضْهَا وَلَدٌ قَالَ فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ وَالْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا يَسْوَى هَذَا مَرْحَبًا بِكُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَإِنَّهُ الَّذِي نَجِدُ فِي الْإِنْجِيلِ وَإِنَّهُ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ وَاللَّهِ لَوْ لَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ وَأُوَضِّئُهُ وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرَيْنِ فَرُدَّتْ إِلَيْهِمَا ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نجاشی کی طرف بھیج دیا، ہم تقریباً اسی افراد تھے، ان میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا جعفر، سیدنا عبد اللہ بن عرفطہ، سیدنا عثمان بن مظعون اور سیدنا ابو موسیf شامل تھے، پس یہ لوگ نجاشیکی مملکت میں پہنچ گئے، اُدھر قریش نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ساتھ روانہ کر دیا، جب یہ دوافراد نجاشی کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کو سجدہ کیا اور پھر جلدی جلدی ایک اس کی دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا، پھر ان دونوں نے کہا: ہمارے چچے کے بیٹوں کا ایک گروہ آپ کے علاقے میں آیا ہوا ہے، انھوں نے ہم سے اور ہمارے دین سے بے رغبتی اختیار کر رکھی ہے۔ بادشاہ نے کہا: وہ اس وقت کہاں ہیں؟ انھوں نے کہا: وہ آپ کے علاقے میں ہیں، آپ ان کو پیغام بھیجیں، پس اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: آج میں تمہاری طرف سے خطاب کروں گا، سب نے ان کی بات مان لی، پس انھوں نے نجاشی کو سلام کہا اور سجدہ نہیں کیا، لوگوں نے کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے، تو بادشاہ کو سجدہ نہیں کر رہا؟ انھوں نے کہا: ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں، اس نے کہا: کیا معاملہ ہے؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا ایک رسول بھیجا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں، نیز ہمیں نماز اور زکوۃ کا بھی حکم دیا ہے، عمرو بن عاص نے کہا: بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے معاملے میں آپ کے مخالف ہیں، پس بادشاہ نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم اور ان کی ماں کے بارے میںکیا نظریہ رکھتے ہو؟ صحابہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، اس نے ان کو کنواری بتول کی طرف ڈالا، جس کنواری کو نہ کسی بشر نے چھوا اور جس پر (عیسی علیہ السلام سے پہلے) کسی بچے کا نشان نہیں تھا۔ یہ تبصرہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: اے حبشیو! پادریو اور راہبو! اللہ کی قسم ہے، جو کچھ ہم کہتے ہیں، ان مسلمانوں نے اس سے اس لکڑی کے برابر بھی ہمارے نظریے سے زیادہ بات نہیں کی ہے، اے مسلمانو! خوش آمدید تم کو اور اس کو جس کے پاس سے تم آئے ہو، میں شہادت دیتا ہوں کہ وہ واقعی اللہ کا رسول ہے، بلکہ یہ وہی ہے، جس کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی رسول ہے کہ جس کی بشارت عیسی بن مریم علیہ السلام نے دی تھی، میرے ملک میں جہاں چاہو، رہ سکتے ہو، اللہ کی قسم! اگر میں اس بادشاہت میں مبتلا نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتے اٹھاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرواتا، پھر نجاشی نے حکم دیا کہ قریشیوں کے تحائف ان کو واپس کر دیئے جائیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف لوٹ آئے اور غزوۂ بدر میں شریک ہوئے، نیز انھوں نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نجاشی کی وفات کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بخشش طلب کی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10539]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حديج بن معاوية، قال ابن معين: ليس بشيئ، وقال ابو حاتم: محله الصدق، وليس مثل اخويه، في بعض حديثه ضعف، وقال ابن حبان: منكر الحديث كثير الوھم علي قلة روايته، أخرجه الطيالسي: 346، والبيھقي في الدلائل: 2/ 298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4400»
وضاحت: فوائد: … بتول ایسی خاتون کو کہتے ہیں جو مردوں سے الگ تھلگ رہنے والی ہو اور جس کو مردوں کے ساتھ کوئی رغبت اور شہوت نہ ہو۔
بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۵ نبوی میں مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی تھی، حبشہ کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی انصاف پسند حکمران تھا، اس ہدایت کے مطابق بارہ مرد اور چار عورتوں نے ہجرت کی، ان کے سردار سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے اور ان کی بیوی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی شریک ِ ہجرت تھیں،یہ ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے بعد پہلا گھرانہ تھا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میںہجرت کی تھی۔
جب مسلمانوں پر قریش کی سختیاں اور بڑھ گئیں اور نجاشی نے مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک والا رویہ اختیار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دوسری بار حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا، چنانچہ اب کی بار (۸۲یا۸۳) مردوں اور (۱۸) عورتوں نے ہجرت کی، قریشیوں نے اس دفعہ بھی اپنی چالیں چلیں، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن ناکام رہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10540
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ابْنَةِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ جَاوَرْنَا بِهَا خَيْرَ جَارٍ النَّجَاشِيِّ أَمِنَّا عَلَى دِينِنَا وَعَبَدْنَا اللَّهَ لَا نُؤْذَى وَلَا نَسْمَعُ شَيْئًا نَكْرَهُهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا ائْتَمَرُوا أَنْ يَبْعَثُوا إِلَى النَّجَاشِيِّ فِينَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ وَأَنْ يُهْدُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَا مِمَّا يُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَعْجَبِ مَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلَيْهِ الْأَدَمُ فَجَمَعُوا لَهُ أَدَمًا كَثِيرًا وَلَمْ يَتْرُكُوا مِنْ بَطَارِقَتِهِ بَطْرِيقًا إِلَّا أَهْدَوْا لَهُ هَدِيَّةً ثُمَّ بَعَثُوا بِذَلِكَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ وَعَمْرَو بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ وَأَمَرُوهُمَا أَمْرَهُمْ وَقَالُوا لَهُمَا ادْفَعُوا إِلَى كُلِّ بَطْرِيقٍ هَدِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمُوا النَّجَاشِيَّ فِيهِمْ ثُمَّ قَدِّمُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَاهُ ثُمَّ سَلُوهُ أَنْ يُسْلِمَهُمْ إِلَيْكُمْ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَهُمْ قَالَتْ فَخَرَجْنَا فَقَدِمْنَا عَلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ عِنْدَهُ بِخَيْرِ دَارٍ وَعِنْدَ خَيْرِ جَارٍ فَلَمْ يَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِهِ بَطْرِيقٌ إِلَّا دَفَعَا إِلَيْهِ هَدِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَا النَّجَاشِيَّ ثُمَّ قَالَا لِكُلِّ بَطْرِيقٍ مِنْهُمْ إِنَّهُ قَدْ صَبَا إِلَى بَلَدِ الْمَلِكِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَهَاءُ وَفَارَقُوا دِينَ قَوْمِهِمْ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِي دِينِكُمْ وَجَاءُوا بِدِينٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ وَقَدْ بَعَثَنَا إِلَى الْمَلِكِ فِيهِمْ أَشْرَافُ قَوْمِهِمْ لِيَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ فَإِذَا كَلَّمْنَا الْمَلِكَ فِيهِمْ فَتُشِيرُوا عَلَيْهِ بِأَنْ يُسْلِمَهُمْ إِلَيْنَا وَلَا يُكَلِّمَهُمْ فَإِنَّ قَوْمَهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهُمَا نَعَمْ ثُمَّ إِنَّهُمَا قَرَّبَا هَدَايَاهُمَا إِلَى النَّجَاشِيِّ فَقَبِلَهَا مِنْهُمَا ثُمَّ كَلَّمَاهُ فَقَالَا لَهُ أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنَّهُ قَدْ صَبَا إِلَى بَلَدِكَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَهَاءُ فَارَقُوا دِينَ قَوْمِهِمْ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِي دِينِكَ وَجَاءُوا بِدِينٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ وَقَدْ بَعَثَنَا إِلَيْكَ فِيهِمْ أَشْرَافُ قَوْمِهِمْ حَتَّى آبَاؤُهُمْ وَأَعْمَامُهُمْ وَعَشَائِرُهُمْ لِتَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ فَهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ وَعَاتَبُوهُمْ فِيهِ قَالَتْ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَمْرَو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ يَسْمَعَ النَّجَاشِيُّ كَلَامَهُمْ فَقَالَتْ بَطَارِقَتُهُ حَوْلَهُ صَدَقُوا أَيُّهَا الْمَلِكُ قَوْمُهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ فَأَسْلِمْهُمْ إِلَيْهِمَا فَلْيَرُدَّاهُمْ إِلَى بِلَادِهِمْ وَقَوْمِهِمْ قَالَ فَغَضِبَ النَّجَاشِيُّ ثُمَّ قَالَ لَا هَا اللَّهِ أَيْمُ اللَّهِ إِذًا لَا أُسْلِمُهُمْ إِلَيْهِمَا وَلَا أَكَادُ قَوْمًا جَاوَرُونِي وَنَزَلُوا بِلَادِي اخْتَارُونِي عَلَى مَنْ سِوَايَ حَتَّى أَدْعُوَهُمْ فَأَسْأَلَهُمْ مَا يَقُولُ هَذَانِ فِي أَمْرِهِمْ فَإِنْ كَانُوا كَمَا يَقُولُونَ أَسْلَمْتُهُمْ إِلَيْهِمَا وَرَدَدْتُهُمْ إِلَى قَوْمِهِمْ وَإِنْ كَانُوا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ مَنَعْتُهُمْ مِنْهُمَا وَأَحْسَنْتُ جِوَارَهُمْ مَا جَاوَرُونِي قَالَتْ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُمْ فَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُهُ اجْتَمَعُوا ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَا تَقُولُونَ لِلرَّجُلِ إِذَا جِئْتُمُوهُ قَالُوا نَقُولُ وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا وَمَا أَمَرَنَا بِهِ نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَائِنًا فِي ذَلِكَ مَا هُوَ كَائِنٌ فَلَمَّا جَاءُوهُ وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِيُّ أَسَاقِفَتَهُ فَنَشَرُوا مَصَاحِفَهُمْ حَوْلَهُ سَأَلَهُمْ فَقَالَ مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي فَارَقْتُمْ فِيهِ قَوْمَكُمْ وَلَمْ تَدْخُلُوا فِي دِينِي وَلَا فِي دِينِ أَحَدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ قَالَتْ فَكَانَ الَّذِي كَلَّمَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ أَيُّهَا الْمَلِكُ كُنَّا قَوْمًا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ وَنَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَنَأْتِي الْفَوَاحِشَ وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ وَنُسِيءُ الْجِوَارَ يَأْكُلُ الْقَوِيُّ مِنَّا الضَّعِيفَ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنَّا نَعْرِفُ نَسَبَهُ وَصِدْقَهُ وَأَمَانَتَهُ وَعِفَّتَهُ فَدَعَانَا إِلَى اللَّهِ لِنُوَحِّدَهُ وَنَعْبُدَهُ وَنَخْلَعَ مَا كُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُونِهِ مِنَ الْحِجَارَةِ وَالْأَوْثَانِ وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدِيثِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْكَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ وَنَهَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّورِ وَأَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَةِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ قَالَ فَعَدَّدَ عَلَيْهِ أُمُورَ الْإِسْلَامِ فَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ عَلَى مَا جَاءَ بِهِ وَعَبَدْنَا اللَّهَ وَحْدَهُ فَلَمْ نُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا وَأَحْلَلْنَا مَا أَحَلَّ لَنَا فَعَدَا عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَعَذَّبُونَا وَفَتَنُونَا عَنْ دِينِنَا لِيَرُدُّونَا إِلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا كُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ فَلَمَّا قَهَرُونَا وَظَلَمُونَا وَشَقُّوا عَلَيْنَا وَحَالُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ دِينِنَا خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ وَرَغِبْنَا فِي جِوَارِكَ وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ قَالَتْ فَقَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ هَلْ مَعَكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ عَنِ اللَّهِ شَيْءٌ قَالَتْ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ فَاقْرَأْهُ عَلَيَّ فَقَرَأَ عَلَيْهِ صَدْرًا مِنْ كَهَيْعَصَ قَالَتْ فَبَكَى وَاللَّهِ النَّجَاشِيُّ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ وَبَكَتْ أَسَاقِفَتُهُ حَتَّى أَخْضَلُوا مَصَاحِفَهُمْ حِينَ سَمِعُوا مَا تَلَاهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ النَّجَاشِيُّ إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ وَالَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى لَيَخْرُجُ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ انْطَلِقَا فَوَاللَّهِ لَا أُسْلِمُهُمْ إِلَيْكُمْ أَبَدًا وَلَا أَكَادُ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَاللَّهِ لَأُنَبِّئَنَّهُمْ غَدًا عَيْبَهُمْ عِنْدَهُمْ ثُمَّ أَسْتَأْصِلُ بِهِ خَضْرَاءَهُمْ قَالَتْ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَكَانَ أَتْقَى الرَّجُلَيْنِ فِينَا لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لَهُمْ أَرْحَامًا وَإِنْ كَانُوا قَدْ خَالَفُونَا قَالَ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَبْدٌ قَالَتْ غَدَا عَلَيْهِ الْغَدَ فَقَالَ أَيُّهَا الْمَلِكُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ قَوْلًا عَظِيمًا فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَاسْأَلْهُمْ عَمَّا يَقُولُونَ فِيهِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ قَالَتْ وَلَمْ يَنْزِلْ بِنَا مِثْلُهُ فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَاذَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى إِذَا سَأَلَكُمْ عَنْهُ قَالُوا نَقُولُ وَاللَّهِ فِيهِ مَا قَالَ اللَّهُ وَمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَائِنًا فِي ذَلِكَ مَا هُوَ كَائِنٌ فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالَ لَهُمْ مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ نَقُولُ فِيهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَرُوحُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ قَالَتْ فَضَرَبَ النَّجَاشِيُّ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ مِنْهَا عُودًا ثُمَّ قَالَ مَا عَدَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا قُلْتَ هَذَا الْعُودَ فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقَتُهُ حَوْلَهُ حِينَ قَالَ مَا قَالَ فَقَالَ وَإِنْ نَخَرْتُمْ وَاللَّهِ اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سَيُومٌ بِأَرْضِي وَالسَّيُومُ الْآمِنُونَ مَنْ سَبَّكُمْ غُرِّمَ ثُمَّ مَنْ سَبَّكُمْ غُرِّمَ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دَبْرًا ذَهَبًا وَأَنِّي آذَيْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ (وَالدَّبَرُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْجَبَلُ) رُدُّوا عَلَيْهِمَا هَدَايَاهُمَا فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهَا فَوَاللَّهِ مَا أَخَذَ اللَّهُ مِنِّي الرِّشْوَةَ حِينَ رَدَّ عَلَيَّ مُلْكِي فَآخُذُ الرِّشْوَةَ فِيهِ وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِيَّ فَأُطِيعَهُمْ فِيهِ قَالَتْ فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ مَقْبُوحَيْنِ مَرْدُودًا عَلَيْهِمَا مَا جَاءَا بِهِ وَأَقَمْنَا عِنْدَهُ بِخَيْرِ دَارٍ مَعَ خَيْرِ جَارٍ قَالَتْ فَوَاللَّهِ إِنِّي عَلَى ذَلِكَ إِذْ نَزَلَ بِهِ يَعْنِي مَنْ يُنَازِعُهُ فِي مُلْكِهِ قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ كَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاهُ عِنْدَ ذَلِكَ تَخَوُّفًا أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ عَلَى النَّجَاشِيِّ فَيَأْتِيَ رَجُلٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا كَانَ النَّجَاشِيُّ يَعْرِفُ مِنْهُ قَالَتْ وَسَارَ النَّجَاشِيُّ وَبَيْنَهُمَا عَرْضُ النِّيلِ قَالَتْ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَتَّى يَحْضُرَ وَقْعَةَ الْقَوْمِ يَأْتِينَا بِالْخَبَرِ قَالَتْ فَقَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ أَنَا قَالَتْ وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا قَالَتْ فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً فَجَعَلَهَا فِي صَدْرِهِ ثُمَّ سَبَحَ عَلَيْهَا حَتَّى خَرَجَ إِلَى نَاحِيَةِ النِّيلِ الَّتِي بِهَا مُلْتَقَى الْقَوْمِ ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى حَضَرَهُمْ قَالَتْ وَدَعَوْنَا اللَّهَ لِلنَّجَاشِيِّ بِالظُّهُورِ عَلَى عَدُوِّهِ وَالتَّمْكِينِ لَهُ فِي بِلَادِهِ وَاسْتَوْسَقَ عَلَيْهِ أَمْرُ الْحَبَشَةِ فَكُنَّا عِنْدَهُ فِي خَيْرِ مَنْزِلٍ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمَكَّةَ (مسند أحمد: 1740)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حبشہ کی سرزمین میں اترے اور نجاشی کو بہترین پڑوسی پایا، ہم اپنے دین پر پر امن ہو گئے اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ہمیں نہ کوئی تکلیف دی جاتی تھی اور نہ ہم کوئی ناپسند بات سنتے تھے، جب قریشیوں کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں نے مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ دو قوی افراد کو نجاشی کے پاس بھیجا جائے اور نجاشی کے لیے ایسے تحائف کا انتخاب کیا جائے، جن کو مکہ کا عمدہ مال سمجھا جاتا ہے اور مکہ سے سب سے پسندیدہ چیز سالن تھی، لہٰذا انھوں بڑی مقدار میں سالن جمع کیا اور انھوں نے حبشہ کے ہر بڑے پادری کے لیے تحفہ ارسال کرنے کا فیصلہ کیا، پھر انھوں عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی اور عمرو بن عاص بن وائل سہمی کو تحائف دے کر بھیجا اور ان کو ساری باتیں سمجھا دیں، انھوں نے اِن دو افراد سے کہا: نجاشی سے بات کرنے سے پہلے ہر بڑے پادری کو اس کا حصہ دو اور پھر نجاشی کے سامنے اس کے تحائف پیش کر دو اور اس سے مطالبہ کرو کہ وہ ان افراد کو تمہارے سپرد کر دے اور اس کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہ دو۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم لوگ نکلے، نجاشی کے پاس پہنچے اور ہم اس کے پاس بہترین گھر میں اور بہترین پڑوسی کے پڑوس میں تھے۔ اتنے میں اِدھر سے قریشیوں کا وفد پہنچ گیا، انھوں نے نجاشی سے بات کرنے سے پہلے کوئی بڑا پادری نہیں چھوڑا، مگر اس کو اس کا تحفہ پیش کیا، پھر انھوں نے ہر بڑے پادری سے کہا: ہماری قوم کے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر نجاشی بادشاہ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور وہ تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین گھڑ لیا ہے، اس دین کو ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو، ہماری قوم کے اشراف نے ہمیں اس بادشاہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ وہ ان کو واپس کر دے، لہٰذا جب ہم بادشاہ سے بات کریں تو تم نے یہی مشورہ دینا ہے کہ وہ ان کو ہمارے سپرد کر دیں اور بادشاہ کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دینا، پس بیشک ان لوگوں کی قوم کے لوگ ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، پادریوں نے کہا: بالکل ٹھیک ہے، بعد ازاں قریشیوں کے ان دو قاصدوں نے نجاشی کو تحائف پیش کیے اور اس نے ان سے قبول کیے، پھر انھوں نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہمارے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر آپ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور انھوں نے تم لوگوں کا دین بھی اختیار نہیں کیا، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین ایجاد کر لیا ہے، نہ ہم اس کو جانتے ہیں اور نہ تم، ان کی قوم کے اشراف،یہاں تک کہ ان کے آبائ، چچوں اور قبیلوں کے دوسرے افراد نے ہمیں آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ ان کو ہماری طرف لوٹا دیں، ہم ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں اور کس چیز کی وجہ سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، عبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بات یہ تھی کہ نجاشی اُن صحابہ کی بات سنے، اتنے میں اس کے ارد گرد والے پادریوں نے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں، ان کی ہی بہتر انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتی ہے اور جان سکتی ہے کہ یہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، لہٰذا آپ اِن لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دو افراد اِن کو اپنے وطن اور قوم کی طرف واپس لے جائیں،یہ بات سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا اور اس نے کہا: مخلوق کے خالق کی قسم! اللہ کی قسم! میں اِن کو اُن کے سپرد نہیں کروں گا اور قریب نہیں ہے کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے، اِن لوگوں نے میرا پڑوس اختیار کیا ہے، میرے ملک میں آئے ہیں اور مجھے دوسرے بادشاہوں پر ترجیح دی ہے، لہٰذا میں ان کو بلا کر اس بارے میں ان سے پوچھوں گا کہ یہ دو آدمی کیا کہتے ہیں، اگر تو معاملہ ایسے ہی ہوا، جیسےیہ کہہ رہے ہیں تو میں اِن کے سپرد کر دوں گا اور اُن کو اُن کی قوم کی طرف لوٹا دوں گا، لیکن اگر کوئی اور معاملہ ہوا تو اُن کو روک لوں گا اور انھوں نے جو پڑوس اختیار کیا ہے، میں اس کو اچھا ثابت کروں گا۔ پھر نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلایا، جب اس کا قاصد آیا تو وہ جمع ہو گئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: جب تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے تو کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے جو ہمیں علم ہے اور جو کچھ ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے، اس کی وجہ سے جو کچھ ہونا ہے، وہ ہو جائے (ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں)، جب وہ صحابہ اس کے پاس پہنچ گئے اور اس نجاشی نے پادریوں کو بلایا، وہ اس کے ارد گرد مصاحف کھول کر بیٹھ گئے، نجاشی نے کہا: اس دین کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر تم اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو اور میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے، بلکہ تم نے موجودہ امتوں میں سے کسی امت کے دین کو نہیں اپنایا؟ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، برے کام کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے اور ہمارا قوی آدمی ضعیف کو کھا رہا تھا، ہمارے یہی حالات تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، ہم اس کے نسب، صدق، امانت اور پاکدامنی کو جانتے تھے، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی کہ اس کو ایک تسلیم کریں، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور بتوں سے باز آ جائیں کہ جن کی ہم اور ہمارے آباء عبادت کرتے تھے، نیز اس نبی نے ہمیں سچی بات، ادائے امانت، صلہ رحمی اور بہترین پڑوس اختیار کرنے کا اور حرام کاموں سے اور قتل سے رکنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں برے امور، جھوٹ بات، یتیم کا مال کھانے سے اور پاکدامن خاتون پر تہمت لگانے سے منع کیا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز اور زکاۃ ادا کریں اور روزے رکھیں، اس طرح سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے نجاشی کے سامنے امورِ اسلام کا ذکر کیا اور پھر کہا: پس ہم نے اس رسول کی تصدیق کی، اس کے ساتھ ایمان لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر حرام قرار دیا، ہم نے اس کو حرام سمجھا اور جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے حلال قرار دیا، ہم نے اس کو حلال سمجھا۔ ان وجوہات کی بنا پر ہماری قوم نے ہم پر زیادتی کی، ہمیں ایذا پہنچائی، ہمارے دین کے بارے میں ہمیں فتنے میں ڈالا تاکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں اور ان خبیث چیزوں کو حلال سمجھیں، جن کو ہم جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے، پھر جب ان لوگوں نے ہم پر سختی کی، ہم پر ظلم کیا، ہمیں مشقت میں ڈالا اور ہمارے اور ہمارے دین کے مابین حائل ہونا چاہا تو ہم آپ کے ملک کی طرف آ گئے، آپ کو دوسروں پر ترجیح دی، ہمیں آپ کے پڑوس میں رہنے کی ترغیب ہوئی اور ہمیں امید تھی کہ اے بادشاہ سلامت! آپ کے ہاں ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا: تمہارے نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز لائے ہیں، کیا اس کا کوئی حصہ تیرے پاس ہے؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، نجاشی نے کہا: تو پھر اس کی تلاوت کر کے مجھے سناؤ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کے ابتدائی حصے کی تلاوت کی، اللہ کی قسم! نجاشی نے رونا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور پادریوں نے بھی یہ تلاوت سن کر رونا شروع کر دیا، حتی کہ ان کے سامنے پڑے ہوئے مصاحف تر ہو گئے، پھر نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک اس کلام کا اور موسی علیہ السلام کے لائے ہوئے کلام کا سرچشمہ ایک ہے، تم دونوں چلے جاؤ یہاں سے، اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو کبھی بھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! کل میں نجاشی اور اس کے ماتحت لوگوں کو اِن کا ایک عیب بتاؤں گا اور اس کے ذریعے ان کی اصل کو جڑ سے مٹا دوں گا۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ، جو کہ ان دو افراد میں اچھا تھا، نے اس سے کہا: اس طرح نہ کر، آخر یہ ہمارے ہی رشتہ دار ہیں، اگرچہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں، لیکن عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کو ضرور ضرور بتاؤں گا کہ یہ لوگ عیسی بن مریم کو بندہ کہتے ہیں، پس وہ دوسرے دن بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: اے بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں بڑی عجیب بات کرتے ہیں، پس آپ ان کو دوبارہ بلائیں اور اس بارے میں ان سے پوچھیں، پس اس نے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے ان کو بلا بھیجا،یہ ہمارے حق میں سب سے بڑی مصیبت تھی، پس صحابہ جمع ہو گئے اورایک دوسرے سے کہنے لگے: جب وہ تم سے سوال کرے گا تو تم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہو گے؟ بعض نے جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اور ہمارے نبی کی لائی ہوئی شریعت نے کہا ہے، جس چیز نے ہونا ہے، وہ ہوجائے، جب وہ داخل ہوئے تو نجاشی نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ سیدنا جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے، رسول، روح اور کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کنواری مریم بتول کی طرف ڈالا،یہ سن کر نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، وہاں سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: تو نے عیسی بن مریم کے بارے میں جو کچھ کہا، ان کی حیثیت اس لکڑی کے بقدر بھی اس سے زیادہ نہیں ہے، نجاشی کا یہ تبصرہ سن کر پادریوں نے (غصے کے ساتھ) باتیں کی، لیکن نجاشی نے کہا: بیشک تم غصے سے باتیں کرو، اللہ کی قسم! صحابہ! تم جاؤ، تم میری زمین میں امن والے ہو، جس نے تم کو برا بھلا کہا، اس کو چٹی پڑے گی، پھر جس نے تم کو گالی گلوچ کیا، اس کو چٹی پڑے گی، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم میں سے کسی بندے کو تکلیف دوں اور مجھے پہاڑ کے برابر سونا دیا جائے، حبشہ کی زبان میں پہاڑ کو دَبَر کہتے ہیں، پھر نجاشی نے کہا: قریش کے ان دو افراد کے تحائف ان کو واپس کر دو، ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے میری بادشاہت مجھے عطا کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی، تو پھر میں اس معاملے میں رشوت کیوں لوں، لوگوں نے جب تک میری اطاعت کی، میں بھی ان کی اطاعت کروں گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اب یہ دو قریشی بدنما اور معیوب ہو کر وہاں سے نکلے، ان کے لائے ہوئے ہدیے ان کو واپس کر دیئے گئے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اس طرح رہے، جیسے ہم بہترین پڑوسی کے پاس بہترین گھر میں ہیں۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم وہیں مقیم تھے کہ نجاشی سے ایسے لوگوں نے مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو اس سے یہ بادشاہت چھیننا چاہتے تھے، اللہ کی قسم! اس وقت جو شدید غم ہمیں لاحق ہوا تھا، ہم نہیں جانتے کہ اس سے بڑا بھی غم ہوتا ہے، ہمیںیہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نجاشی پر ایسا بادشاہ غالب آ جائے کہ جس کو ہمارے حق کی اس طرح معرفت نہ ہو، جیسے نجاشی کو تھی، نجاشی بھی مقابلے کے لیے چل پڑا، جبکہ دونوں کے درمیان نیل حائل تھا، یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا: کون آدمی ہے، جو لوگوں کے میدان جنگ کی طرف جائے اور ہمیں صورتحال سے آگاہ کرے؟ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جاتا ہوں، اس جماعت میں نئی عمر والے یہی تھے، بہرحال لوگوں نے ایک مشکیزے میں ہوا بھر کر اس کو ان کے سینے میں ڈالا اور انھوں نے اس پر تیرنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ نیل کی اس طرف نکل گئے، جہاں دونوںلشکروں کا مقابلہ ہونا تھا، پس وہ چلتے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ نجاشی اپنے دشمن پر غالب آجائے اور اللہ تعالیٰ اسی کو اس کے علاقے میں برقرار رکھے اور یوں ہی ہوا کہ حبشیوںکا معاملہ نجاشی سے متفق ہو گیا، اس طرح ہم اس کے پاس بہترین انداز میں رہے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10540]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي في دلائل النبوة: 2/ 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1740»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِسْلَامِ عُمْرَ بْنِ الْخَطَابِ رَضِيَ اللهُ عَنْه
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10541
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10541]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3681، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5696»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ دعا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول ہوئی اور پھر واقعی ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ ملا۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10542
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجْتُ أَتَعَرَّضُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْحَاقَّةِ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا وَاللَّهِ شَاعِرٌ كَمَا قَالَتْ قُرَيْشٌ قَالَ فَقَرَأَ {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ} [الحاقة: 40-41] قَالَ قُلْتُ كَاهِنٌ قَالَ {وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ} [الحاقة: 42-47] الْخَ السورة قَالَ فَوَقَعَ الْإِسْلَامُ فِي قَلْبِي كُلَّ مَوْقِعٍ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قبولیتِ اسلام سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوتا تھا، ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میںپایا کہ آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ حاقہ کیتلاوت شروع کی، مجھے قرآن مجید کی تالیف و ترتیب سے بڑا تعجب ہونے لگا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو قریش کے کہنے کے مطابق شاعر لگتا ہے، میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر دی: {اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَاتُؤْمِنُوْنَ} … بیشک یہ عزت والے قاصد کی بات ہے، یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، مگر کم ہی تم ایمان لاتے ہو۔ میں نے کہا: یہ نبی تو نجومی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: {وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ قَلَیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ، تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ، فَمَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنِ} … اور نہ یہ قرآن کسی کاہن اور نجومی کا قول ہے، افسوس بہت کم نصیحت لے رہے ہو، یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا تو البتہ ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی بھی اس سے روکنے والے نہ ہوتے، یقینایہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے، ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں، بیشک یہ جھٹلانا کافروں پر حسرت ہے، اور بے شک و شبہ یہیقینی حق ہے، پس تو اپنے ربّ عظیم کی پاکی بیان کر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (پس قرآن کا یہ حصہ سننا تھا کہ) اسلام میرے دل میں گھر کر گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10542]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يُدرك عمر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 107»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے تین ہی دن بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے، یہ اسلام لانے سے پہلے جس قدر مسلمانوں کے خلاف سخت گیر تھے، اتنا ہی ان کی وجہ سے عزت ِ اسلام میں اضافہ ہوا، تقریبا۶یا۷ سنہ نبوت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قبولیت ِ اسلام کا شرف حاصل ہوا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَاب مَا جَاءَ فِي تَحَالُفِ كِنَانَةَ وَقُرَيْشٍ عَلَى بَنِي هاشِمٍ وَبَنِى عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِ هُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَحَصْرِهِمْ إِيَّاهُمْ فِي شِعْبِ أَبِي طَالِبٍ
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10543
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ يَعْنِي الْمُحَصَّبَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ وَلَا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الوداع) کے موقع پر فرمایا: ہم کل ان شاء اللہ بنوکنانہ کی وادی یعنی وادیٔ محصب میں اتریں گے، یہاں قریش نے کفر پر قسم اٹھائی تھی اور اس مقام پر بنو کنانہ نے قریش کے ساتھ مل کر بنو ہاشم کی مخالفت میں یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان سے نکاح والا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت والا اور نہ ان کوجگہ دیں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا۔ امام زہری کہتے ہیں: خیف وادی کو کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10543]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يُدرك عمر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22109»
وضاحت: فوائد: … جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ ذوالحجہ کو جمروںکو کنکریاں مارنے سے فارغ ہو کر مکہ مکرمہ کی طرف واپس پلٹنا تھا تو خیف وادی میںپڑاؤ ڈالنے کا عزم کیا، اس وادی کو مُحَصّب، ابطح اور بطحاء بھی کہتے ہیں۔
فوائد: … وادیٔ خیف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پڑاؤ ڈالنا محض اتفاقاً نہیں تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالارادہ یہ قیام کیا، جیسا کہ حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (زاد المعاد) میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مقام پر اسلام کے شعائر کا اظہار کیا جائے، جہاں کافروں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کفر کے شعائر کا اظہار کیا تھا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفر و شرک کے مقامات پر توحید کے شعائر کا قیام عمل میں لاتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد ِ طائف، لات و عزی کے مقام پر تعمیر کی جائے۔
رہا مسئلہ صحیح مسلم کی اس روایت کا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وادی ٔ ابطح (وادیٔ محصّب) میں اترنا سنت نہیں ہے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پڑاؤ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
محققین نے اِ ن روایات کے دو جوابات دیے ہیں: (۱) مثبت کو منفی پر مقدّم کیا جاتا ہے، (۲) سرے سے ان دو میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، کیونکہ نفی کرنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام پر اترنا حج کے مناسک میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترک کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم آئے اور ثابت کرنے والوں نے چاہا ہے کہ تمام افعال میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی جائے، وہ بھی اس چیز کو لازم نہیں قرار دیتے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں