الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ مَا وَرَدَ فِي أُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِالْإِسْرَاءِ والمعراج
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
حدیث نمبر: 10584
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنے سے دو نہریں ظاہری اور دو نہریں مخفی نکل رہی تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ دو چیزیں کیا ہیں؟ اس نے کہا: دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10584]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الحاكم: 1/ 81، وابوعوانة: 5/ 323، وانظر الحديث رقم: (10321)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12702»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سدرۃ المنتہی کی جڑوں اور تنے کا آغاز چھٹے آسمان سے ہوتا ہو اور اس کی شاخین ساتویں آسمان میں ہوں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں، اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں، اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 10585
عَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ الْجِرَارِ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيلَةِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں سدرہ تک پہنچا تو دیکھا کہ اس کا پھل مٹکوں کی طرح کا تھا اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح کے تھے، جب اللہ تعالیٰ کے حکم نے اس کو ڈھانپا تو وہ یاقوتیا زمرد یا اس قسم کے موتیوں میں تبدیل ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10585]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، وانظر الحديث رقم (10321)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12326»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
36. بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 10586
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَقَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي أَمْلَى عَلَيَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث سنی تھی، انھوں نے کسی اور مقام پر یہ حدیث مجھے لکھوائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10586]
تخریج الحدیث: «ضعيف، حماد بن سلمة، الاحتياط ان لا يحتج به فيمايخالف الثقات، أخرجه البيھقي في الاسماء والصفات: ص 444، وعبد الله بن احمد في السنة: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2580»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ، قُلْتُ: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: { لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ}؟ قَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ إِذَا تَجَلّٰی بِنُورِہِ الَّذِی ہُوَ نُورُہُ، وَقَالَ أُرِیَہُ مَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے، میں عکرمہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا: آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ آنکھوں کا ادرک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس آیت کا تعلق اس صورت سے ہے جب وہ اپنے نور سمیت تجلی فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دو بار دیدار ہوا ہے۔ (ترمذی: ۳۲۹، شیخ البانی نے اس موقوف روایت کو ضعیف قرار دیا ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأٰی} کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: رَأیٰ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗعَزَّوَجَلَّبِقَلْبِہٖمَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دل سے ربّ تعالیٰ کو دو بار دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶، واللفظ لاحمد۱۹۵۶)
لیکن حدیث نمبر (۱۰۵۹۰) سے معلوم ہوا کہ سورۂ نجم کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔
البتہ حدیث نمبر (۸۹۷۸، ۸۹۷۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ، قُلْتُ: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: { لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ}؟ قَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ إِذَا تَجَلّٰی بِنُورِہِ الَّذِی ہُوَ نُورُہُ، وَقَالَ أُرِیَہُ مَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے، میں عکرمہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا: آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ آنکھوں کا ادرک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس آیت کا تعلق اس صورت سے ہے جب وہ اپنے نور سمیت تجلی فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دو بار دیدار ہوا ہے۔ (ترمذی: ۳۲۹، شیخ البانی نے اس موقوف روایت کو ضعیف قرار دیا ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأٰی} کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: رَأیٰ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗعَزَّوَجَلَّبِقَلْبِہٖمَرَّتَیْنِ۔ … محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دل سے ربّ تعالیٰ کو دو بار دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶، واللفظ لاحمد۱۹۵۶)
لیکن حدیث نمبر (۱۰۵۹۰) سے معلوم ہوا کہ سورۂ نجم کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔
البتہ حدیث نمبر (۸۹۷۸، ۸۹۷۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 10587
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ قَالَ وَمَا كُنْتَ تَسْأَلُهُ قَالَ كُنْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ نُورًا أَنَّى أَرَاهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال کرتا، انھوں نے کہا: تو کون سا سوال کرتا؟ میں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو نور پایا ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10587]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21638»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 178
حدیث نمبر: 10588
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ ثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ قَالَ عَنْ أَيِّ شَيْءٍ قُلْتُ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ قَالَ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ يَعْنِي عَلَى طَرِيقِ الْإِيجَابِ
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہوتا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال کرنا تھا، انھوں نے کہا: کس چیز کے بارے میں؟ میں نے کہا: یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔یعنی مثبت جواب دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10588]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21720»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخر میں موجود الفاظ عَلَی طَرِیْقِ الْأِیْجَابِ امام احمد کے ہیںیا ان کے بیٹے کے۔ ان الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ اس حدیث کے الفاظ نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کو اس طرح پڑھا جائے: نُوْر انِّیْ اَرَاہ (میں اس اللہ کو نورانی دیکھتا ہوں)۔
قاضی عیاض نے کہا: لیکنیہ الفاظ نہ ہم تک پہنچے ہیں اور نہ میں نے ان کو اصول میں دیکھا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: یہ تصحیف ہیں۔
راجح بات یہ ہے کہ یہ حدیث دو جملوں پر مشتمل ہے، ایک نُوْرٌ اور دوسرا أَنّٰی اَرَاہ، امام نووی نے (شرح صحیح مسلم: ۳/ ۱۲) میں کہا: تمام رواۃ نے تمام اصول اور روایات میں اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ہے اور اس کا معنییہ بنتا ہے کہ اس کا پردہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
یہ معنی درج ذیل حدیث کی روشنی میں کیا گیا ہے:
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حِجَابُہُ النُّورُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ مَا انْتَہٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ۔)) … اس اللہ کا پردہ نور ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ساری مخلوقات کو جلا دیں، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹)
مازری نے کہا: اَرَاہُ میں ہ ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا معنییہ ہے کہ نور نے مجھے اللہ کی رؤیت سے روک دیا، جیسا کہ عام عادت بھییہی ہے کہ نور آنکھوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور دیکھنے والے اور دوسری چیز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
ابن قیم نے ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کا معنییہ ہے کہ وہاں نور تھا، جو رؤیت کے سامنے حائل ہو گیا، پس میں اس کو کیسے دیکھ سکتا، اس معنی پر دلالت کرنے والے بعض روایات کے الفاظ بھی موجود ہیں، مثلا ایک روایت میں ہے: ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ (کیا آپ نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا فرمایا: ((رَاَیْتُ نُوْرًا)) … میں نے تو نور دیکھا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ نے بہت سارے لوگوں کو پریشان کر دیا، اس لیے انھوں نے ان الفاظ کی تصحیف کرتے ہوئے ان کو نُوْرانِّیْ اَرَاہ پڑھ دیا اور اس حدیث کی عبارت کو ایک جملہ بنا دیا، جبکہ یہ لفظی طور پر بھی غلطی ہے اور معنوی طور پر بھی۔ مزید آپ زاد المعاد: ۳/ ۳۷ اور مجموع الفتاوی: ۳/ ۳۸۶۔ ۳۸۹ کا مطالعہ کریں۔
قاضی عیاض نے کہا: لیکنیہ الفاظ نہ ہم تک پہنچے ہیں اور نہ میں نے ان کو اصول میں دیکھا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: یہ تصحیف ہیں۔
راجح بات یہ ہے کہ یہ حدیث دو جملوں پر مشتمل ہے، ایک نُوْرٌ اور دوسرا أَنّٰی اَرَاہ، امام نووی نے (شرح صحیح مسلم: ۳/ ۱۲) میں کہا: تمام رواۃ نے تمام اصول اور روایات میں اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ہے اور اس کا معنییہ بنتا ہے کہ اس کا پردہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
یہ معنی درج ذیل حدیث کی روشنی میں کیا گیا ہے:
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حِجَابُہُ النُّورُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ مَا انْتَہٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ۔)) … اس اللہ کا پردہ نور ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ساری مخلوقات کو جلا دیں، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹)
مازری نے کہا: اَرَاہُ میں ہ ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا معنییہ ہے کہ نور نے مجھے اللہ کی رؤیت سے روک دیا، جیسا کہ عام عادت بھییہی ہے کہ نور آنکھوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور دیکھنے والے اور دوسری چیز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
ابن قیم نے ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کا معنییہ ہے کہ وہاں نور تھا، جو رؤیت کے سامنے حائل ہو گیا، پس میں اس کو کیسے دیکھ سکتا، اس معنی پر دلالت کرنے والے بعض روایات کے الفاظ بھی موجود ہیں، مثلا ایک روایت میں ہے: ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ (کیا آپ نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا فرمایا: ((رَاَیْتُ نُوْرًا)) … میں نے تو نور دیکھا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ نے بہت سارے لوگوں کو پریشان کر دیا، اس لیے انھوں نے ان الفاظ کی تصحیف کرتے ہوئے ان کو نُوْرانِّیْ اَرَاہ پڑھ دیا اور اس حدیث کی عبارت کو ایک جملہ بنا دیا، جبکہ یہ لفظی طور پر بھی غلطی ہے اور معنوی طور پر بھی۔ مزید آپ زاد المعاد: ۳/ ۳۷ اور مجموع الفتاوی: ۳/ ۳۸۶۔ ۳۸۹ کا مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21720
حدیث نمبر: 10589
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ ثَنَا عَامِرٌ قَالَ أَتَى مَسْرُوقٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ قَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعْرِي لِمَا قُلْتَ أَيْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَكَهُنَّ فَقَدْ كَذَبَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} [الأنعام: 103] {وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الشورى: 51] وَمَنْ أَخْبَرَكَ بِمَا فِي غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ} [لقمان: 34] وَمَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ} [المائدة: 67] وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ مَرَّتَيْنِ
۔ عامر بیان کرتے ہیں کہ مسروق، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے ام المؤمنین! کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، تیری بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تجھے کوئی پتہ نہیں ان تین چیزوں کا کہ جو آدمی ان کو بیانکرے گا، وہ جھوٹا ہو گا، (۱)جو آدمی تجھے یہ بیان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا، پس اس نے جھوٹ بولا، پھر سیدہ نے یہ آیات پڑھیں: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی، اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ (سورہ انعام: ۱۰۳) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۱) (۲) جو آدمی تجھے کل کی بات بتلائے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر سیدہ نے یہ آیت پڑھی: بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے اور اس چیز کو جانتا ہے، جو رحموں کے اندر ہوتی ہے۔ اور (۳) جو آدمی تجھے یہ بات بتلائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ چھپا لیا ہے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اے رسول! جو کچھ تیرے ربّ کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اس کو آگے پہنچا دے۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوبار دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10589]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 4612، 4855، 7380، 7531، ومسلم: 177، 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24731»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۔ فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہِ مَآ اَوْحٰی۔} … پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب۔ پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ (سورۂ نجم: ۸، ۹، ۱۰)؟ سیدہ نے کہا: اس میں تو جبریل علیہ السلام کا ذکر ہے، وہ مردوں کی صورت میں آتے رہتے تھے، اس بار وہ اپنی اصل شکل میں آئے اور آسمان کے افق کو بھر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 4612
حدیث نمبر: 10590
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوقٍ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ قَالَ ذَلِكَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10590]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26521»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت اس اعتبار سے واضح ہے کہ سورۂ نجم کی آیات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رؤیت سے نہیں ہے، ان آیات کے مصداق جبریل علیہ السلام ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26521
حدیث نمبر: 10591
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ ادْعُ رَبَّكَ قَالَ فَدَعَا رَبَّهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ قَالَ فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِقَ فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَيْهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ ان کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا: اپنے ربّ سے دعا کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے دعا کی، پس مشرق کی طرف سے سیاہ رنگ کا ایک وجود اٹھا، پھر وہ بلند ہونے اور پھیلنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیہوش ہو گئے، جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشۂ دہن سے لعاب کو صاف کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10591]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ادريس بن منبه، وھو ادريس بن سنان اليماني، قال ابن عدي: ھو من الضعفاء الذينيكتب حديثھم، وقال الدار قطني: متروك، أخرجه الطبراني: 11033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2965»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10592
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ حِجَابُهُ النَّارُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ {نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [النمل: 8]
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازو کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸) [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10592]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19816»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں مخلوق کے لیے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی احادیث بھی عدم رؤیت پر دلالت کرتی ہیں۔
ابو عبیدہ راوی نے جو آیت تلاوت کی، وہ پورا مضمون یوں ہے:
{اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓاِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ فَلَمَّا جَاء َہَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آؤں گا، تاکہ تم تاپ لو۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے
ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے موسیٰ! بے شک حقیقتیہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ نمل: ۷، ۸، ۹)
یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب موسی علیہ السلام مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آ رہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کی بھی ضرورت تھی، جس چیز کو موسی علیہ السلام نے آگ محسوس کیا،یہ کوہ طور کا مقام تھا، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سر سبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ تعالیٰ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی۔
جو آگ میں ہے، اس کو برکت دی گئی اس سے مراد اللہ تعالیٰ تھا، آگ سے مراد اس کانور تھا اور اس کے ارد گرد سے مراد موسی علیہ السلام خود اور فرشتے تھے۔
ابو عبیدہ راوی نے یہ آیت پڑھ کر حدیث ِ مبارکہ کے مضمون کو واضح کیا، کیونکہ آیت مقدسہ کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان نور حائل تھا۔
ابو عبیدہ راوی نے جو آیت تلاوت کی، وہ پورا مضمون یوں ہے:
{اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓاِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ فَلَمَّا جَاء َہَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آؤں گا، تاکہ تم تاپ لو۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے
ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے موسیٰ! بے شک حقیقتیہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ نمل: ۷، ۸، ۹)
یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب موسی علیہ السلام مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آ رہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کی بھی ضرورت تھی، جس چیز کو موسی علیہ السلام نے آگ محسوس کیا،یہ کوہ طور کا مقام تھا، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سر سبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ تعالیٰ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی۔
جو آگ میں ہے، اس کو برکت دی گئی اس سے مراد اللہ تعالیٰ تھا، آگ سے مراد اس کانور تھا اور اس کے ارد گرد سے مراد موسی علیہ السلام خود اور فرشتے تھے۔
ابو عبیدہ راوی نے یہ آیت پڑھ کر حدیث ِ مبارکہ کے مضمون کو واضح کیا، کیونکہ آیت مقدسہ کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان نور حائل تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 179
37. بَابُ رَجُوْعِهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الْإِسْرَاءِ وَالْمِعْرَاجِ إِلَى مَكَّةَ وَاخبَارِ قُرَيْشٍ بِمَا رَأَى وَتَكْذِيبِهِمْ إِيَّاهُ
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا¤اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلا دینا
حدیث نمبر: 10593
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي وَأَصْبَحْتُ بِمَكَّةَ فَظِعْتُ بِأَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ فَقَعَدَ مُعْتَزِلًا حَزِينًا قَالَ فَمَرَّ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ هَلْ كَانَ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ مَا هُوَ قَالَ إِنَّهُ أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالَ إِلَى أَيْنَ قَالَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدَسِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا قَالَ نَعَمْ فَلَمْ يَرَ أَنَّهُ يُكَذِّبُهُ مَخَافَةَ أَنْ يَجْحَدَهُ الْحَدِيثَ إِذَا دَعَا قَوْمَهُ إِلَيْهِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَكَ تُحَدِّثُهُمْ مَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَقَالَ هَيَّا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ فَانْتَفَضَتْ إِلَيْهِ الْمَجَالِسُ وَجَاءُوا حَتَّى جَلَسُوا إِلَيْهِمَا قَالَ حَدِّثْ قَوْمَكَ بِمَا حَدَّثْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُسْرِيَ بِي اللَّيْلَةَ قَالُوا إِلَى أَيْنَ قَالَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدَسِ قَالُوا ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمِنْ بَيْنِ مُصَفِّقٍ وَمِنْ بَيْنِ وَاضِعٍ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مُتَعَجِّبًا لِلْكَذِبِ زَعَمَ قَالُوا وَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ وَفِي الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلَى ذَلِكَ الْبَلَدِ وَرَأَى الْمَسْجِدَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ أَنْعَتُ فَمَا زِلْتُ أَنْعَتُ حَتَّى الْتَبَسَ عَلَيَّ بَعْضُ النَّعْتِ قَالَ فَجِيءَ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتَّى وُضِعَ دُونَ دَارِ عِقَالٍ أَوْ عَقِيلٍ فَنَعَتُّهُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ وَكَانَ مَعَ هَذَا نَعَتٌ لَمْ أَحْفَظْهُ قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ أَمَّا النَّعْتُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَصَابَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے اسرا کرایا گیا اور میں صبح کو مکہ میں پہنچ گیا، میں گھبرا گیا اور مجھے علم ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے، سو آپ خلوت میں غمزدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ اللہ کا دشمن ابوجہل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، وہ آیا اور آپ کے پاس بیٹھ گیا اور مذاق کرتے ہوئے کہا: کیا کچھ ہوا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے اسرا کرایا گیا ہے۔ اس نے کہا: کہاں تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک۔ اس نے کہا: پھر صبح کو آپ ہمارے پاس بھی پہنچ گئے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ ابوجہل نے سوچا کہ ابھی اس کو نہیں جھٹلاتا، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنی قوم کو بلاؤں اور یہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بات بیان کرنے سے انکا ردے۔ اس لئے ابوجہل نے کہا: اگر میں تیری قوم کو بلاؤں تو تو ان کے سامنے یہی گفتگو بیان کرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: بنو کعب بن لؤی کی جماعت ادھر آؤ۔ ساری کی ساری مجلسیں اس کی طرف ٹوٹ پڑیں، وہ سب کے سب آ گئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے کہا: (اے محمد!) جو بات مجھے بیان کی تھی، ان کوبھی بیان کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے اِسراء کرایا گیا۔ انھوںنے کہا: کہاں تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک۔ انھوں نے کہا: پھر صبح کو یہاں بھی پہنچ گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (یہ سن کر) کوئی تالی بجانے لگ گیا اور کوئی (بزعمِ خود) اس جھوٹ پرمتعجب ہو کر اپنے سر کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔ پھر انھوں نے کہا: کیا مسجد اقصی کی علامات بیان کرسکتے ہو؟ ان میں سے بعض لوگوں نے اس علاقے کا سفر بھی کیا ہوا تھا اور مسجد اقصی دیکھی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کی علامتیں بیان کرنا شروع کر دیں، لیکن بعض نشانیوں کے بارے میں اشتباہ و التباس سا ہونے لگا۔ آپ نے فرمایا: مسجد اقصی کی (تمثیل کو) کو لایا گیا اور عقال یا عقیل کے گھر سے بھی قریب رکھ دیا گیا، میں نے اسے دیکھ کر نشانیاں بیان کر دیں، اس کے باوجود مجھے کچھ نشانیاںیاد نہ رہیں۔ لوگوں نے کہا: رہا مسئلہ علامات کا، تو وہ تو اللہ کی قسم! آپ نے درست بیان کر دیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10593]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 56، والنسائي في الكبري: 11285، وابن ابي شيبة: 11/ 461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2819»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اسراء و معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک معجزہ عطا کر دیا کہ بیت المقدس کی تمثیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں علامتیں بیان کیں کہ تعجب کرنے والوں اور استہزاء کرنے والوں کی بولتی بند ہو گئی۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح ہی ہیں،
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح ہی ہیں،
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين