الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ ذِكْر أَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ ﷺ قَبْلَ إِظْهَارِ الدَّعْوَةِ
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
حدیث نمبر: 10504
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى وَفِي لَفْظٍ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنایزید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،انھوں نے کہا: سب سے پہلے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی یا اسلام قبول کیا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، عمرو راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم راوی کو بتلائی تو انھوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے مسلمان ہونے والے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10504]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه الطيالسي: 678، والنسائي في الكبري: 8391م، والطبراني في الكبير: 5002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19499»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10505
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِيَاسِ بْنِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْهُ بَعْضَ التِّجَارَةِ وَكَانَ امْرَأً تَاجِرًا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعِنْدَهُ بِمِنًى إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَاءٍ قَرِيبٍ مِنْهُ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ يَعْنِي قَامَ يُصَلِّي قَالَ ثُمَّ خَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ رَاهَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ فَقَامَ مَعَهُ يُصَلِّي قَالَ فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ مَنْ هَذَا يَا عَبَّاسُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ قَالَ هَذِهِ امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الْفَتَى قَالَ هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ابْنُ عَمِّهِ قَالَ فَقُلْتُ فَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ قَالَ يُصَلِّي وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَابْنُ عَمِّهِ هَذَا الْفَتَى وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ قَالَ فَكَانَ عَفِيفٌ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ يَقُولُ وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ لَوْ كَانَ اللَّهُ رَزَقَنِيَ الْإِسْلَامَ يَوْمَئِذٍ فَأَكُونَ ثَالِثًا مَعَ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ
۔ سیدنا عفیف کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تاجر تھا، میں حج کے موقع پر آیا اور کچھ سامانِ تجارت خریدنے کے لیے سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو ملا، وہ بھی تاجر تھے، اللہ کی قسم ہے، میں اس کے پاس مِنٰی میں تھا کہ ایک آدمی قریبی خیمہ سے نکلا اور اس نے سورج کودیکھا، جب اس نے خیال کیا کہ سورج ڈھل چکا ہے تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر اسی خیمے سے ایک خاتون نکلی اور وہ اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی، پھر اسی خیمہ سے قریب البلوغت ایک لڑکا نکلا اور نماز ادا کرنے کے لیے اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو گیا،میں نے عباس سے کہا: اے عباس! یہ کون آدمی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، میں نے کہا: یہ خاتون کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے، میں نے کہا: یہ لڑکا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا زاد علی بن ابی طالب ہے۔ میں نے کہا: یہ کر کیا رہا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ نبی ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں اس کی پیروی کرنے والے اس کی بیوی اور اس کا یہ چچا زاد لڑکا ہے، اس کا خیال ہے کہ وہ کسری اور قیصر کے خزانوں کو فتح کرے گا۔ یہ عفیف، اشعث بن قیس کا چچا زاد تھا، بعد ازاں یہ مسلمان ہو گئے تھے اور ان کے اسلام میں حسن پیدا ہو گیا تھا، بعد میں وہ کہا کرتے تھے: کاش اللہ تعالیٰ نے اس وقت مجھے اسلام عنایت کیا ہوتا اور میں ابن ابی طالب کے ساتھ تیسرا بندہ مسلمان ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10505]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، يحييٰ بن الاشعث في عداد المجھولين، واسماعيل بن اياس، قال البخاري: في حديثه نظر، وابوه اياس بن عفيف، قال البخاري: فيه نظر، أخرجه الحاكم: 3/ 183، والطبراني: 18/ 181، والحاكم: 3/ 183، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1787»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10506]
حدیث نمبر: 10507
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً أَسْلَمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10507]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو بلج يقبل حديثه فيما لا ينفرد به، أخرجه الطيالسي في مسنده: 2753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3542»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 10508
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَصُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا إِلَّا بِلَالٌ فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمار بن یاسر، ان کی ماں سیدہ سمیہ، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقدادf، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم کے ذریعے تحفظ دیا، باقی سارے افراد کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور ان کو آہنی لباس پہنا دیئے اور دھوپ میں کھڑا کر کے ان کو عذاب دیا، ہر آدمی ان کے ارادے کے مطابق ان کی موافقت کر جاتا، ما سوائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو حقیر سمجھ لیا تھا، اُدھر ان کی قوم نے بھی ان کو کم اہمیت سمجھ کر بچوں کو پکڑا یا وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں چکر لگاتے، لیکن سیدنا بلال یہ کہہ رہے ہوتے: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10508]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3832»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 10509
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ قَالَ ( (حُرٌّ وَعَبْدٌ) ) وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ ( (ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يُمَكِّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ) ) قَالَ وَكَانَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَرُبُعُ الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس دین پر آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ اس وقت سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن عبسہ سے فرمایا: تم اپنیقوم کی طرف لوٹ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو قوی کر دے۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: میں نے اپنے آپ کو اسلام کا چوتھائی حصہ دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10509]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17153»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 10510
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ وَالْمُشْرِكُونَ يَسْتَمِعُونَ {فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ}
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلاوت کر رہے ہوتے اور حجراسود کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، ابھی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا اعلان نہیں کیا تھا، جس کا آپ کو حکم دیا جاتا تھا، اور مشرک یہ آیت سنتے تھے: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ}۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10510]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،يحييٰ بن اسحاق وان كان من قدماء اصحاب ابن لھيعة، الا ابن لھيعة انفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27495»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعوت و تبلیغ شروع کی تو کئی خوش قسمت لوگوں نے اسے لپک کر قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔ ان میں سب سے پہلا نام سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلند اخلاق اور اعلی کردار کو سب سے اچھی طرح جانتی تھیں۔
اِدھر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات اترتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جگر دوست سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے
اور انھیں اپنی نبوت و رسالت سے آگاہ کرتے ہوئے ایمان لانے کی دعوت دی، انھوں نے بے کھٹک ایمان قبول کیا اور فوراً تصدیق کرتے ہوئے حق کی شہادت دی۔ پہلے پہل ایمان لانے والوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِ کفالت تھے، اسی طرح پہلے سعادت مندوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متبنی بنا رکھا تھا۔
اس کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تبلیغ میں سر گرم ہو گئے اور حق رسالت ادا کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں بازو بن گئے اور ان کے ذریعے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ جیسے لوگ مشرف باسلام ہونے لگے۔
اِدھر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات اترتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جگر دوست سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے
اور انھیں اپنی نبوت و رسالت سے آگاہ کرتے ہوئے ایمان لانے کی دعوت دی، انھوں نے بے کھٹک ایمان قبول کیا اور فوراً تصدیق کرتے ہوئے حق کی شہادت دی۔ پہلے پہل ایمان لانے والوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیرِ کفالت تھے، اسی طرح پہلے سعادت مندوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متبنی بنا رکھا تھا۔
اس کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تبلیغ میں سر گرم ہو گئے اور حق رسالت ادا کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں بازو بن گئے اور ان کے ذریعے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ جیسے لوگ مشرف باسلام ہونے لگے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
14. بَابُ فِي أَمْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ نَيَّهُ الله بِاظْهَارِ الدَّعْوَةِ والصدع بها وَمَا لَا قَاهُ مِنْ إِبْدَاءِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ لَهُ وتعديهم المُسْتَضْعَفِينَ مِمَّنْ أَسْلَمُوا مَعَهُ
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
حدیث نمبر: 10511
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَعَمَّ وَخَصَّ وَفِي رِوَايَةٍ جَعَلَ يَدْعُو بُطُونَ قُرَيْشٍ بَطْنًا بَطْنًا فَقَالَ ( (يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِلَّا أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو بلایا، عام آواز بھی دی اور خاص ندا بھی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کو خاص کر کے پکارا اور فرمایا: اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو کعب بن لؤی کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد مناف کی جماعت! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے بنو ہاشم کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد المطلب! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفس کو آگ سے بچا لے، پس اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے کہ تمہاری قرابتداری ہے، اس کو میں تر رکھوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10511]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2753، 4771، ومسلم: 204، 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8711»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے قرابتداروں کو اسلام کی دعوت دینا،یہ معاملہ تو واضح ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک قبیلے کو متوجہ کر کے یہ دعوت پیش کی، لیکن اس نقطے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو رشتہ دار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلہ رحمی کرتے ہوئے ان کی رشتہ داری کا حق ادا کیا، لیکن آج ہم سب مسلمان ہونے کے باوجود صلہ رحمی کے بجائے قطع رحمی میں پڑے ہوئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2753
حدیث نمبر: 10512
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا فَصَعِدَ عَلَيْهِ ثُمَّ نَادَى يَا صَبَاحَاهْ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي لُؤَيٍّ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ صَدَّقْتُمُونِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ) ) فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ}
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: بقیہ دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10512]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 4971، ومسلم: 208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2801»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی مجرّب تھی، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بھلے کی بات کی تو ان کی ہٹ دھرمی ان پر غالب آ گئی۔
ابو لہب اور اس کی بیوی، دونوں بد نصیب تھے، سورۂ لہب میں ان کی ہلاکت بیان کی گئی ہے۔
ابولہب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بدترین دشمن تھا، ہر وقت ایذاء دہی تکلیف رسائی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا، اگلا باب ملاحظہ فرمائیں۔
دنیا میں اس بد بخت کی ہلاکت یوں ہوئی کہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کو موت واقع ہو گئی، تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتی کہ سخت
بدبودار ہو گئی، بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔
ابو لہب اور اس کی بیوی، دونوں بد نصیب تھے، سورۂ لہب میں ان کی ہلاکت بیان کی گئی ہے۔
ابولہب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بدترین دشمن تھا، ہر وقت ایذاء دہی تکلیف رسائی اور نقصان پہنچانے کے درپے رہا کرتا تھا، اگلا باب ملاحظہ فرمائیں۔
دنیا میں اس بد بخت کی ہلاکت یوں ہوئی کہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کو موت واقع ہو گئی، تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتی کہ سخت
بدبودار ہو گئی، بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 4971
حدیث نمبر: 10513
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، اے صفیہ! اللہ کے رسول کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے آزاد کروا لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تم سے کچھ بھی کفایتنہیں کر سکوں گا، البتہ میرے مال سے جو چاہو سوال کر سکتی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 10513]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3527، ومسلم: 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9792»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی دنیوی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3527