🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاوَاةِ الْيَهُودِ وَمُنَافِقِي الْمَدِينَةِ للنبي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10682
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ قَالَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَالَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُونَهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَاكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے، اس پر کاٹھی اور اس کے نیچے فد کی کپڑا یعنی فدک مقام کا تیار شدہ کپڑا رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو گدھے پر اپنے پیچھے سوار کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ غزوۂ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے چلتے ایک ایسی محفل کے پاس سے گذرے جس میں مسلمان، مشرکین، بتوں کے پجاری اور یہودی ملے جلے بیٹھے تھے۔ ان میں عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ بن رواحہ بھی تھے، گدھے کے چلنے کی وجہ سے اڑنے والا غبار محفل پر پہنچا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر سے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا اور بولا ہم پر غبار نہ اڑاؤ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو سلام کہا اور رک کر نیچے اتر آئے اور ان لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، عبداللہ بن ابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ کی بات سے بہتر کوئی بات نہیں، اگر آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری محافل میں آکر ہمیں تنگ نہ کیا کریں، آپ اپنے گھر جائیں ہم میں سے جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری محافل میں تشریف لایا کریں، ہم پسند کرتے ہیں۔ یا سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ابی سے مخاطب ہو کر کہا:تم اپنی محافل میں آنے سے ہمیں روک رہے ہو، تاہم ہم تمہیں اپنی محافل میں آنے کی دعوت دیتے ہیں، تم ہماری محافل میں آیا کر و ہم اسے پسند کرتے ہیں، ان باتوں سے مسلمانوں، مشرکین اور یہود میں تو تُکار شروع ہو گئی،یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں خاموش کراتے رہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر نزول فرما ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم نے ابو حباب یعنی عبداللہ بن ابی کی بات سنی ہے؟ اس نے یوںیوں کہا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے جانے دیں اور درگزر کریں، اللہ کی قسم! اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عزت دینی تھی، وہ دے رکھی ہے اس بستییعنی مدینہ منورہ کے لوگ اس کی تاج پوشی اور دستار بندی کر کے اسے سردار بنانے والے تھے، جب اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کئے ہوئے حق کے ذریعے اسے ناکام ونامراد کیا تو وہ آپ سے حسد کرنے لگا ہے۔ اس نے آپ کے ساتھ جو کچھ کیایہ اسی کا نتیجہ ہے،سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10682]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6254، ومسلم: 1798، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22110»
وضاحت: فوائد: … عبد اللہ بن ابی منافق تھا، لیکن اس نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے ابتدائی دور میں ان منافقوں کو برداشت کیا،یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال حکمت کا نتیجہ تھا، جوں جوں اہل اسلام بڑھتے گئے، ایک ایک کر کے دشمنوں کو ختم کر دیا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي عِدَّتِ غَزَوَاتِهِ وَشَيْءٍ مِنْ آدَابِ الْعَزْمِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات کی تعداد اور جنگ وقتال کے بعض آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10683
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پندرہ غزوے کئے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10683]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الجراح الرؤاسي مختلف فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18758»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10684
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ ثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَأَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِدَةٌ
۔(دوسری سند) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں شرکت کی، میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہم عمر ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10684]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18787»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10685
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور میں نے آپ کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو غزووں میں مجھ سے سبقت لے گئے تھے، (سو میں ان میں شرکت نہ کر سکا تھا)۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10685]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4471، ومسلم: 1254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19531»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10686
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً
سیدنا بریدہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10686]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4473، ومسلم: 1814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23341»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10686M
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ
سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینوں میں قتال نہیں کیا کرتے تھے، سوائے اس صورت کے کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چڑھائی کر دیتا، اگر کوئی ایسی صورت پیش آ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حرمت والے مہینے کے گزرنے تک رک جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10686M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14637»
وضاحت: فوائد: … حرمت والے مہینے چار ہیں: محرم، رجب، ذو القعدہ، ذوالحجہ۔ جنگ و جدل کے معاملے میں ان چار مہینوں کا ادب یہ ہے کہ اہل اسلام کسی سے جنگ شروع نہ کریں، ہاں اگر دشمن یورش کر دے تو جوابی کاروائی کرتے ہوئے ان سے جہاد کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10687
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَأَنْتَ نَصِيرِي وَبِكَ أُقَاتِلُ
سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دشمن سے قتال کرتے تو یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ عَضُدِی وَاَنْتَ نصِیری وَبِکَ اُقَاتِلُ۔ (یا اللہ! تو ہی میرا دست وبازو اور مدد گار ہے اور میں تیرے ہی سہارے دشمن سے قتال کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10687]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2632، والترمذي: 3584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12909/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12940»
وضاحت: فوائد: … غزوات کی تعداد کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے، درج بالا روایات میں ہر صحابی نے اپنے علم کی روشنی میںیا اپنے ذاتی غزووں کے بارے میں بات کی ہے، ابن سعد وغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزوات کو مفصل اور مرتب بیان کیا ہے اور انھوں نے کل ستائیس غزوے اور چھپن سریّےشمار کیے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. غَزْوَةُ الْعُشَيْرَةِ
غزوۂ عشیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10688
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ لِمَا يُرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ
سیدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۃ العشیرۃ میں میں اور علی رضی اللہ عنہ اکٹھے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں نزول فرما ہوئے تو ہم نے وہاں بنو مدلج کے لوگوں کو ایک نخلستان میں ایک چشمے پر کام کرتے دیکھا تو علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا ابو الیقظان!کیا خیال ہے ہم ان کے پاس جا کر دیکھیںیہ کس طرح کام کرتے ہیں؟ ہم ان کے پاس گئے اور ہم نے کچھ دیر ان کا کام دیکھا۔ پھر ہمیں نیند نے آلیا۔ تو میں اور علی چل کر کھجوروں کے ایک جھنڈ میں مٹی پر ہی لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی اپنے پاؤں سے حرکت دے کر ہمیں بیدار کیا۔ ہم دونوں مٹی کے ساتھ لتھڑے ہوئے تھے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10688]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 3/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمادی الاولیٰیا جمادی الاخری۲ ہجری میں (۱۵۰یا۲۵۰) مہاجرین کے ساتھ ذوالعشیرہ تک تشریف لے گئے، مقصود قریش کے ایک قافلے کو روکنا تھا، جو شام جا رہا تھا، لیکن وہ آپ کے پہنچنے سے چند دن پہلے ہی جا چکا تھا، اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مدلج کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی طرف بھیجا گیا،یہ ایک نافرمان قوم تھی، انھوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ وہ پتھر کی چٹان سے اس طرح ایک اونٹنی نکال کر دکھائے کہ وہ بھی دیکھ رہے ہوں۔ صالح نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد بھی اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کر دیے جائیںگے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کا اظہار کر دیا، لیکن باغیوں کا ایمان لانا تو درکنار، انھوں نے تو سرے سے اونٹنی کا قصہ ہی تمام کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت میں مبتلا ہو گئے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰہَا اِِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰہَا فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰہَا۔} (سورۂ شمس: ۱۲ تا ۱۴) … قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلا دیا۔ جب ان کا بڑا بد بخت کھڑا ہوا۔ انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاظت کرو)۔ ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعث ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو (نیست و نابود کر کے) برابر کر دیا۔
اکثر مفسرین کے نزدیک اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کا نام قدار بن سالف تھا، وہ اس بغا وت کی وجہ سے رئیس الاشقیاء (سب سے بڑا بدبخت) بن گیا۔ چونکہ اس شرارت میں پوری قوم شریک تھی، اس لیے اس آیت میں اس جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا، وگرنہ عملی طور پر ایک شخص نے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔
جنگ نہروان میں خوارج کے صرف نو آدمی بچ گئے تھے، یہ صدارت و امامت کی حیثیت رکھتے تھے، انھوں نے فارس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوتیں اور سازشیں کیں، لیکن ناکام رہے۔ بالآخر عبد الرحمن بن ملجم مراوی، برک بن عبد اللہ تمیمی اور عمرو بن بکر تمیمی مکہ مکرمہ میںجمع ہوئے اور تینوں اس رائے پر متفق ہو گئے کہ سیدناعلی، سیدنا امیر معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص کو قتل کر دیا جائے، انھوں نے اس ناپاک عزم کی تکمیل کے لیے۱۶ رمضان ۴۰؁ھجمعہکےدنفجرکی نماز کا تقرر کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی ذمہ داری عبد الرحمن بن ملجم نے سنبھالی اور کوفہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچ کر اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کیں، اس کے ہم خیالوں نے وردان نامی شخص کو ابن ملجم کی مدد کرنے کے لیے مقرر کیا، شبیب بن شجرہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ یہ تینوں پچھلی رات مسجد کوفہ میں پہنچ گئے اور دروازے کے قریبچھپ کر بیٹھ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حسب ِ عادت لوگوں کو نماز کے لیے آوازیں دیتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے وردان نے آگے بڑھ کر تلوار کا وار کیا، مگر اس کی تلوار دروازے کی چوکھٹ یا دیوار پر پڑی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ ابن ملجم فوراً لپکا اور آپ کی پیشانی پر تلوار کا ہاتھ مارا، جو بہت کاری پڑا۔ اس زخم کے صدمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ۱۷ رمضان ۴۰ھ کوشہید ہو گئے۔ بعد میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن ملجم کو قصاصاً ایک ہی وار سے قتل کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَاب مَا جَاءَ فِي سَرِيَّةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ وَهُوَ أَوَّلُ أَمِيرِ أَمْرَ فِي الْإِسلام
سر یہ عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ یہ عہدِ اسلام میں بنائے جانے والے اولین امیرِ لشکرہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10689
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَاءَتْهُ جُهَيْنَةُ فَقَالُوا إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا حَتَّى نَأْتِيَكَ وَتُؤْمِنَّا فَأَوْثَقَ لَهُمْ فَأَسْلَمُوا قَالَ فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ وَلَا نَكُونُ مِائَةً وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِيرَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ إِلَى جَنْبِ جُهَيْنَةَ فَأَغَرْنَا عَلَيْهِمْ وَكَانُوا كَثِيرًا فَلَجَأْنَا إِلَى جُهَيْنَةَ فَمَنَعُونَا وَقَالُوا لِمَ تُقَاتِلُونَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَقُلْنَا إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ مَا تَرَوْنَ فَقَالَ بَعْضُنَا نَأْتِي نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُخْبِرُهُ وَقَالَ قَوْمٌ لَا بَلْ نُقِيمُ هَاهُنَا وَقُلْتُ أَنَا فِي أُنَاسٍ مَعِي لَا بَلْ نَأْتِي عِيرَ قُرَيْشٍ فَنَقْطَعُهَا فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَامَ غَضْبَانًا مُحْمَرَّ الْوَجْهِ فَقَالَ أَذْهَبْتُمْ مِنْ عِنْدِي جَمِيعًا وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْفُرْقَةُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا لَيْسَ بِخَيْرِكُمْ أَصْبَرَكُمْ عَلَى الْجُوعِ وَالْعَطَشِ فَبَعَثَ عَلَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ أَوَّلَ أَمِيرٍ أُمِّرَ فِي الْإِسْلَامِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ کے لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا آپ ہمارے درمیان تشریف لا چکے ہیں، آپ ہمارے ساتھ مضبوط تعلق قائم کریں تاکہ ہم آپ کی خدمت میں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری قیادت بھی فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پختہ عہدوپیمان کیا، وہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہ رجب میں روانہ کیا، ہماری تعداد ایک سو بھی نہ تھی، آپ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قبیلہ جہینہ کے قریب آباد بنو کنانہ کی ایک شاخ پر حملہ کریں، ہم نے ان پر حملہ کر دیا، وہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ تھے، ہم قبیلہ جہینہ میں جا کر پناہ گزیں ہو گئے اورانہوں نے ہمیں پناہ دے دی اور یہ بھی کہا کہ آپ لوگ حرمت والے مہینے میں قتال کیوں کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہم ان لوگوں سے قتال کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں بلد حرام یعنی حرمت والے شہر سے حرمت والے مہینے میں نکال باہر کیا،یہ باتیں سن کر ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: اب تمہارا کیا خیال ہے؟ بعض نے کہا:ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر صورتِ حال کی خبر کریں، لیکن کچھ لوگوں نے کہا: نہیں نہیں، ہمیں یہیں ٹھہرنا چاہیے۔اور میں نے چند مزید لوگوں کو ساتھ ملا کر کہا کہ ہمیں قریش کے قافلہ کا رخ کر کے اس کو لوٹ لینا چاہیے، چنانچہ ہم قافلہ کی طرف چل پڑے، ان دنوں دستور تھا کہ مال پر جو آدمی قابض ہو جاتا وہ اسی کا ہوتا،ہم قافلہ کی طرف چل دئیے، اور ہمارے کچھ ساتھیوں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارے حالات کی اطلاع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضب ناک ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم میرے ہاں سے اکٹھے ہو کر گئے تھے اور تم الگ الگ ہو کر واپس آ رہے ہو، تم سے پہلے لوگوں کو بھی اسی اختلاف نے ہلاک کیا تھا، میں تمہارے اوپر ایک ایسے آدمی کو امیر بنا کر بھیجوں گا جو تم سے بہتر یا افضل نہیں، البتہ تمہاری نسبت وہ بھوک پیاس کو زیادہ برداشت کر سکتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش اسدی رضی اللہ عنہ کو ہمارے اوپر امیر بنا کر روانہ فرمایا،یہ پہلا شخص تھا جسے دورِ اسلام میں سب سے پہلے امیر بنایا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10689]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المجالد بن سعيد ضعيف، وزياد بن علاقة لم يسمع من سعد، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 123، والبزار: 1757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1539»
وضاحت: فوائد: … رجب ۲ سن ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن جحش اسدی رضی اللہ عنہ کو بارہ مہاجرین کے ہمراہ، مکہ اور طائف کے درمیان مقام نخلہ کے لیے روانہ کیا، مقصود یہ تھا کہ وہ قریش کے ایک قافلے کی خبر لائیں، مگر ان لوگوں نے قافلہ پر حملہ کر کے ایک آدمی کو قتل اور دو کو قید کر لیا اور قافلہ کو ہانک لائے، اس حرکت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوئے، چنانچہ قیدیوں کو چھوڑ دیا اور مقتول کا خون بہا ادا کیا۔ یہ واقعہ رجب کی آخری تاریخ کو پیش آیا تھا، اس لیے مشرکین نے شور مچایا کہ مسلمانوں نے حرام مہینے کی حرمت پامال کر ڈالی، اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا:
{یَسْــَـلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌ بِہٖوَالْمَسْجِدِالْحَرَامِٓوَاِخْرَاجُاَھْلِہٖمِنْہُاَکْبَرُعِنْدَاللّٰہِوَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} … وہ تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے (روکنا) اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ بڑا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۱۷)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. مَا جَاءَ فِي تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ إِلَى الْكَعْبَةِ فِي السَّنَةِ الثانية مِنَ الْهَجْرَةِ
ہجرت کے دوسرے سال میں تحویل کعبہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10690
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ أَوْ أَخْوَالِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ فَقَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ قَالَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُحَوَّلَ قِبَلَ الْبَيْتِ وَكَانَ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ابتدائی طور پر اپنے انصاری اجداد یا ماموؤں کے ہاں اترے اور وہیں قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں آکر سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا فرمائیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلی پسند یہتھی کہ آپ کاقبلہ خانہ کعبہ ہو۔ (تحویل قبلہ کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلی نماز عصر(خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے) ادا فرمائی۔ لوگوں نے بھی آپ کی معیت میں نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے والے لوگوں میں سے ایک آدمی وہاں سے روانہ ہوا، تو اس کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا، جو مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے اور وہ رکوع کی حالت میں تھے، اس شخص نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر شہادت دیتا ہوں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر کے آیا ہوں۔ وہ لوگ نماز کے دوران ہی کعبہ کی طرف مڑ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی دلی پسند یہی تھی کہ آپ کا رخ کعبہ (بیت اللہ) کی طرف کر دیا جائے اور یہودیوں کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ آپ بیت المقدس کی طرف اور اہل کتاب کے قبلہ کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیا کرتے تھے، جب آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف کر دیا گیا تو انہیںیہ بات اچھی نہ لگی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10690]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 40، 4486، ومسلم: 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18690»
وضاحت: فوائد: … تحویل قبلہ کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۴۴۹) والا باب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں