🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10721
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا جَهْلٍ قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ اللَّهُمَّ أَقْطَعَنَا الرَّحِمَ وَأَتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُهُ فَأَحِنْهُ الْغَدَاةَ فَكَانَ الْمُسْتَفْتِحُ
سیدناعبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب کفار اور مسلمان ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئے تو ابو جہل نے کہا: یا اللہ! ہم میں سے جس نے قطع رحمی کی اور ہمارے پاس ایسی چیز لایا جسے ہم پہنچانتے نہیں تو اسے کل صبح رسوا کر، چنانچہ اس کییہی دعا مسلمانوں کی فتح کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10721]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 359، والحاكم: 2/ 328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24061»
وضاحت: فوائد: … ابو جہل کی اس دعا کا مصداق وہ خود ٹھہرا، کیونکہ اسی نے قطع رحمی کی تھی اور وہ بتوںکی پوجا پاٹ کی صورت ایسا عمل کرتا تھا، جو انتہائی غیر معروف تھا، پس اس کے حق میں اس کی دعا قبول ہوئی اور وہ بری طرح رسوا ہوا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے تھے اور اس توحید کی تعلیم دینے والے تھے، جو جن و انس کی تخلیق کا مقصد ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي زِوَاجِ عَلِيٌّ بِفَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ رضي الله عنهما
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی سیّدہ فاطمۃ الزاہرا رضی اللہ عنہ سے شادی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10722
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ فَقُلْتُ مَا لِي مِنْ شَيْءٍ فَكَيْفَ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحَطْمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ هِيَ عِنْدِي قَالَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ارادہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے بارے میں پیغام بھیجوں، لیکن پھر میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے، سو میں کیا کروں، پھر مجھے یاد آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں اور بار بار ہمارے گھر آتے جاتے رہتے ہیں، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حطمی زرہ کہاں ہے، جو میں نے تجھے فلاں دن دی تھی؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی فاطمہ کو دے دو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10722]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه بنحوه النسائي: 3377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 603»
وضاحت: فوائد: … امام نسائی نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: نِحْلَۃُ الْخَلْوَۃِ (شب ِ زفاف کے موقع پر تحفہ دینے کا بیان)۔ امام نسائی کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مذکورہ زرہ کو مہر سے الگ سمجھ رہے ہیں اور اسے رخصتی اور خلوت کا خصوص تحفہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بہت سے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ مہر ہی ہے، جو نکاح کی بجائے رخصتی کے موقع پر دیا گیا۔ واللہ اعلم۔
حطمی زرہ کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حطم کی طرف منسوب ہے، جس کے معانی توڑنے کے ہیں، کیونکہیہ زرہ تلواروں کو توڑ دیتی تھی،یعنی جو تلوار اس پر لگتی، وہ ٹوٹ جاتی،یا (۲) یہ عبد القیس کے ایک قبیلے حطمہ بن محارب کی طرف منسوب ہے، کیونکہوہ لوگ یہ تلواریں بناتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10723
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَعَثَ مَعَهُ بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَفِي لَفْظٍ لِيفُ الْإِذْخِرِ وَرَحْيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى لَقَدِ اشْتَكَيْتُ صَدْرِي قَالَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ أَبَاكِ بِسَبْيٍ فَاذْهَبِي فَاسْتَخْدِمِيهِ فَقَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَيَّ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكِ أَيْ بُنَيَّةَ قَالَتْ جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَيْكَ وَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ وَرَجَعَتْ فَقَالَ مَا فَعَلْتِ قَالَتْ اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَتَيْنَا جَمِيعًا فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ سَنَوْتُ حَتَّى اشْتَكَيْتُ صَدْرِي وَقَالَتْ فَاطِمَةُ قَدْ طَحَنْتُ حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ وَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِسَبْيٍ وَسِعَةٍ فَأَخْدِمْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَى بُطُونُهُمْ لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ فَرَجَعَا فَأَتَاهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَخَلَا فِي قَطِيفَتِهِمَا إِذَا غَطَّتْ رُءُوسَهُمَا تَكَشَّفَتْ أَقْدَامُهُمَا وَإِذَا غَطَّيَا أَقْدَامَهُمَا تَكَشَّفَتْ رُءُوسُهُمَا فَثَارَا فَقَالَ مَكَانَكُمَا ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي قَالَا بَلَى فَقَالَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا وَإِذَا آوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَقَالَ قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ نَعَمْ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو آپ نے ان کے ہمراہ ایک اونی چادر، چمڑے کا ایک تکیہ، جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں، ایک مشک اور دو مٹکے بھیجے، ایک دن سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ باہر سے پانی لالا کر اب تو میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے والد کے پاس کچھ قیدی بھیج دئیے ہیں، تم جا کر ان سے ایک خادم طلب کر لو، انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میرا بھی اب تو یہ حال ہو چکا ہے کہ آٹا پیسنے کے لیے چکی چلا چلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیں یعنی ہاتھ بہت سخت ہو گئے ہیں۔ چنانچہ سیّدہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: بیٹی! کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا میں تو محض سلام کہنے کی غرض سے آئی ہوں، اور کوئی چیز طلب کرنے سے جھجک گئیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا بنا؟ انہوں نے بتلایا:میں تو شرم کے مارے آپ سے کچھ نہیں مانگ سکی، پھر ہم دونوں آپ کی خدمت میں گئے، اس بار سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! باہر سے پانی لالا کر میرا سینہ دکھنے لگا ہے، اور سیّدہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ چکی چلاچلا کر میرے ہاتھوں پر گٹے پڑ گئے ہیں، اب اللہ نے آپ کے پاس قیدی بھیجے ہیں اور آپ کو مالی طور پر خوش حال کر دیا ہے، پس آپ ہمیں ایک خادم عنایت کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں خادم نہیں دے سکتا، جب کہ اہلِ صفہ کا حال یہ ہے کہ بھوک کے مارے ان کے پیٹ بل کھاتے ہیں اور میرے پاس اس قدر گنجائش نہیں کہ ان پر کچھ خرچ کر سکوں، یہ جو قیدی آئے ہیں، میں انہیں فروخت کر کے ان سے حاصل ہونے والی رقم اصحاب صفہ پر خرچ کروں گا۔ یہ سن کر وہ دونوں لوٹ آئے، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں ایسے وقت تشریف لے گئے، جب وہ اپنی چادر میں داخل ہو چکے تھے، اور اس چادر کا بھی یہ حال تھا کہ وہ چادر ان کے سروں کو ڈھانپتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب وہ دونوں اپنے کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کے سر ننگے رہ جاتے، وہ اٹھ کر بیٹھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، تم اپنی جگہ پرہی رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ لوگوں نے مجھ سے جو کچھ طلب کیا تھا، اب کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتلاؤں؟ دونوں نے کہا: ضرور، ضرور، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ چند کلمات ہیں جو جبریل علیہ السلام نے مجھے سکھائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحانَ اللّٰہ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ، اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو اور جب تم سونے کے لیے بستر پر آؤ تو ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہہ لیا کرو۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے ہیں، میں نے انہیں ترک نہیں کیا۔ یہ سن کر عبداللہ بن کواء نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے جنگ صفین والی رات کو بھی انہیں ترک نہیں کیا تھا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اہل ِ عراق! اللہ تمہیں ہلاک کرے، ہاں صفین کی شب کو بھی میں نے اس عمل کو ترک نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10723]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 4152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 838»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہیز میں حاجت و ضرورت کے مطابق کچھ چیزیں دی جا سکتی ہے، لیکن اس میں تکلّف اور وسعت اختیارکرنا ہر لحاظ سے انتہائی ناپسندیدہ ہے، جیسا کہ دورِ حاضر میں ہو رہا ہے، امیر لوگ اس سلسلے میں فخر و مباہات میں پڑے ہوئے ہیں،غریب لوگ انتہائی پریشانی میں بھیک مانگ کر بچی کی شادی کی تیاری کر رہے ہیں اور درمیانی قسم کے لوگ مقروض ہو کر اپنی زندگیوں کا سکون غارت کر رہے ہیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) … ایک بستر مرد کے لیے ہوتا ہے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۳۸۸۶)
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ ان احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ دورِ حاضر کے پر تکلف جہیز، پر اہتمام باراتیں اور رسمیں اور بڑے بڑے ولیمے ایسی ایسی صورتیں اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد نمود و نمائش اور فخر و مباہات کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان امور کی بنیاد سنت ِ رسول نہیں ہے، انتہائی کنجوس اور بخیل لوگوں کو ان موقعوں پر کھلے دل سے خرچ کرتے ہوئے پایا گیا ہے، بھلا کیوں؟ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک آدمی نے اپنے ولیمہ پر پندرہ سو افراد کو دعوت دی اور مٹن اور چکن سمیت تین قسم کی ڈشیں تیار کروائیں اور تین چار دن شادی کا یہ سلسلہ جاری ہے، اس آدمی نے اپنے ایک انتہائی غریب اور معذور رشتہ دار سے پچیس ہزار روپے کا قرض لینا تھا، جونہی وہ شادی سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے اس رشتہ دار کے گھر پہنچ کر اپنے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا، اس بیچارے نے ضرورت کی گندم بیچ کر اور کچھ رقم ادھار پر لے کر اس کا قرض اتارا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر باراتوں اور ولیموں پر لاکھوں روپے لٹانا سنت ہے تو کسی محتاج رشتہ دار کو چند ہزار روپے معاف کیوں نہیں کیے جا سکتے یا اس کو چند ماہ کی مزید رخصت کیوں نہیں دی جاتی؟ کون سمجھے روحِ اسلام کو اور پھر کہاں سے لائے جواب؟ یہی معاملہ جہیزکا ہے، ایسی بے غیرتی رقص کناں ہیں کہ لڑکے کی طرف سے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ شریعت کی نگاہ میں مذموم بھکاری بنتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10724
أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میںمجھے مالِ غنیمت میں سے ایک اونٹ ملا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹ عطا فرمایا تھا، میں نے ایک دن دونوں اونٹوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس بٹھایا۔ میں اذخرگھاس کاٹ کر ان پر لاد کر لے جا کر بیچنا چاہتا تھا۔ میرے ہمراہ بنو قینقاع کا ایک صراف شخص بھی تھا، میں اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ پرخرچ کرنا چاہتا تھا۔ انصاری کے اس گھر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے کہ اچانک وہ تلوار لے کر اُٹھے اور اونٹوں کی طرف لپک کر ان کے کوہاں کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں چاک کر دیں اور ان کے جگر نکال کر چلتے بنے۔ ابن جریج راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ زہری سے دریافت کیا کہ کوہاںوں کا کیا بنا؟ انہوں نے کہا: انہیں بھی وہ کاٹ کر ساتھ لے گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ منظر دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا اور گھبرا گیا، میں اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، اس وقت سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو کر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ناراضگی کا اظہار فرمایا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی نظروں کو گھمایا اور کہنے لگے: تم لوگ تو میرے باپ کے غلام ہو۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کییہ بات سن کر رسول اللہ رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں واپس ہو کر واپس لوٹ آئے۔ یہ واقعہ شراب کی حرمت سے پہلے کاہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10724]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2089، 2375، 3091، ومسلم: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1201»
وضاحت: فوائد: … الٹے پاؤں لوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نشے میں تھے اور ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچا دینا ممکن تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر نظر رکھی اور پیچھے کو ہٹ گئے۔ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے باپ عبد المطلب تھے، جبکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دادے تھے اور دادا کو سید اور آقا بھی کہا جاتا ہے، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ رشتے اور نسب میں عبد المطلب کے زیادہ قریب ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. مَا جَاءَ فِي قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْاشْرَفِ
کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10725
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ثُمَّ وَجَّهَهُمْ وَقَالَ انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرفد میں تشریف لے گئے اور صحابہ کرام کو ان کے مشن کے لیے روانہ کرتے ہوئے فرمایا: تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اور یہ دعا فرمائی: یا اللہ ان کی مدد فرمانا۔ (یہ وہ گروہ تھا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف روانہ کیا تھا۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10725]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11554، والبزار: 1801، والحاكم: 2/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2391»
وضاحت: فوائد: … یہ واقعہ صحیح بخاری، سیرت ابن اسحاق اور سیرت موسیٰ بن عقبہ میں بیان ہوا ہے، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میںہجرت کے تیسرے سال کے واقعات کے ضمن میں اسے ذکر کیا ے، ابن اسحاق کا بیان ہے کہ کعب بن اشرف قبیلہ بنو نبہان کی ایک شاخ بنو طیٔکا فرد تھا اور اس کی ماں قبیلہ بنو نضیر سے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بدر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح دے کر عزت سے سرفراز فرمایا تو کعب حسد کی آگ میں جلنے لگا اور اس کے کینہ وبغض میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس نے مکہ جا کر قریش سے اظہار ہمدردی کیا، ان کے مقتولین کے مرثیے کہے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف اکسایا، پھر مدینہ منورہ میں آکر اپنے قصیدوں میں مسلم خواتین کا انتہائی بے ہودگی کے ساتھ ذکر کرنے لگا اس کے رویہ کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے جو کعب سے اس کی ان سرگرمیوں کا انتقام لے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت ایذا پہنچائی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کے پاس جا کر کچھ ایسی باتیں کر سکوں جن سے وہ خوش ہو جائے اور کسی حد تک میں آپ کے خلاف بھی بات کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر جو چاہو کہہ سکتے ہو۔ اس کے بعد سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے سوچ بچار اور منصوبہ بندی کرتے رہے، اس سلسلہ میں وہ کعب بن اشرف کے رضاعی بھائی ابو نائلہ سلکان بن سلامہ بن وقش، عباد بن بشربن وقش، حارث بن اوس بن معاذ اور ابو عیسیٰ بن جبر کے پاس گئے اور کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے ہوئے اپنے وعدے کا ان حضرات سے ذکر کیا۔ سب نے ان سے موافقت کی اور کہا ہم سب اس کام کے لیے حاضر ہیں،یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس جا کرہمیں کچھ ناروا باتیں کرنا پڑیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جو چاہو کہہ لو، وہ تمہیں معاف ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ روانہ ہو کر کعب بن اشرف کے قلعہ پر پہنچے، انہوں نے سب سے پہلے ابو نائلہ سلکا ن بن سلمہ کو آگے بھیجا، اس نے وہاں جا کر اللہ کے دشمن کعب بن اشرف سے کچھ دیر گفتگو کی۔ آپس میں شعروں کا تبادلہ کیا۔ ابو نائلہ بھی شعرو شاعری کرتے تھے، باتوں باتوں میں انہوں نے کعب سے کہا: ابن اشرف! میں تو آپ کے پاس ایک کام کی غرض سے آیا ہوں۔ میں آپ سے اس کا ذکر کرتا ہوں، براہ مہربانی آپ کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔ کعب نے کہا ٹھیک ہے۔تم اپنی بات کہو، انہوں نے کہا کہ اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہاں آمد تو ہمارے لیے مصیبت بن گئی ہے۔ سب عرب ہمارے دشمن ہو گئے ہیں، اور ہمیں ایسے الگ کر دیا ہے جیسے کمان سے تیر کو الگ اور لا تعلق کر دیا جاتا ہے۔ ہم ہر طرح سے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ راستے پر خطر ہیں، اہل وعیال مشکلات کا شکار ہیں اور ہم سب پریشانیوںمیں مبتلا ہیں کعب بولا، میں اشرف کا بیٹا ہوں، اللہ کی قسم! ابن سلامہ! میں تم سے کہا کرتا تھا کہ صورت حال اسی طرح ہو جائے گی، جیسے میں کہتا ہوں، سلکان بولے میں چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں طعام دیں اور ہم اپنی کوئی چیز آپ کے پاس گروی رکھ دیں۔ ہم آپ سے پختہ وعدہ کریں اور آپ اس مشکل میں ہمارے کام آئیں گے۔ کعب نے کہا: تم لوگ اپنے بیٹوں کو میرے پاس گروی رکھ دو، سلکان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اس طرح آپ ہمیں سب لوگوں میں رسوا کرنا چاہتے ہیں؟ میرے ساتھ اور بھی کچھ لوگ ہیں ان کے خیالات بھی میری طرح ہی ہیں، میں انہیں بھی آپ کے پاس لانا چاہتا ہوں، آپ انہیں بھی کھانا دیں اور اچھا برتاؤ کریں۔ ہم آپ کے پاس ہتھیار گروی رکھ دیں گے۔سلکان رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ جب ہم لوگ ہتھیار لے کر اس کے پاس آئیں تو وہ اس صورت حال سے کچھ اور نہ سمجھ لے، کعب نے کہا: ٹھیک ہے ہتھیاروں کے عوض میں اپنی بات پوری کر دوں گا، اس کے بعد سلکان رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے پاس آئے اور ساری بات ان کو سنائی، اور ان سے کہا کہ وہ اپنے ہتھیار جمع کر لیں، پھر اکٹھے اس کے پاس جائیں گے، اس کے پاس جانے سے پہلے، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہمراہ بقیع الغرقد تک تشریف لے گئے، اس کے بعد آپ اپنے گھر کو واپس چلے گئے، وہ ایک چاندنی رات تھی،یہ لوگ کعب کے قلعہ کے قریب پہنچے، کعب اپنی بیوی کے پاس تھا کہ ابو نائلہ نے اسے باہر سے آواز دی۔ ابو نائلہ رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر کعب چادر سمیت جلدی سے اُٹھا، اس کی بیوی نے اس کی چادر کا کونا پکڑا کر کہا آپ کے بہت سے لوگ مخالف ہیں، ایسے لوگ ایسے وقت حفاظتی انتظام کے بغیریوں ہی نہیں جایا کرتے، کعب نے کہا ایسی کوئی بات نہیں،یہ ابو نائلہ ہے اگر میں سو یا ہوا ہوتا تو وہ مجھے نہ جگاتا اس کی بیوی نے کہا مجھے تو اس کی آواز سے خوف محسوس ہو رہا ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ ہیں کہ مجھے تو اس کی آواز سے خون کی بو آرہی ہے کعب نے کہا نہیں نہیں وہ تو میرا رضاعی بھائی ابو نائلہ محمد بن مسلمہ ہے کسی شریف آدمی کو رات کے وقت اگر نیزے مارنے کے لیے بھی بلایا جائے تو وہ ایسی پکار کا انکار نہیں کرتا۔ وہ چادر لپیٹے اسی حالت میں ان کی طرف گیا، اس سے خوشبو کے بھبھوکے آرہے تھے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے آج تک ایسی عمدہ خوشبو نہیں دیکھییہ سن کر وہ پھولا نہ سمایا اور فخر سے کہنے لگا میری ایک بیوی تمام اہلِ عرب سے بڑھ کر عمدہ خوشبو تیار کرتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا اجازت ہو تو میں آپ کا سر سونگھ سکتا ہوں؟ کعب نے کہا ہاں ہاں کوئی بات نہیں پھر باقی لوگوں نے بھی باری باری اسے سونگھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر کہا اجازت ہو تو میں ایک بار پھر سونگھ لوں؟ کعب نے کہا ہاں ہاں کوئی بات نہیں اس بہانے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسے اچھی طرح قابو کر لیا اور ساتھیوں سے کہا اس پر ٹوٹ پڑو، اور سب نے اسے قتل کر دیا۔ ابن اسحاق اور بغوی وغیرہ کی روایات میں ہے کہ ان میں سے ایک کی تلوار سے حارث بن اوس رضی اللہ عنہ کے سر پر زخم آگیا۔یہ لوگ اپنی کاروائی سے فارغ ہو کر وہاں سے نکل بھاگے حارث بن اوس رضی اللہ عنہ پیچھے رہ گئے ان کے سر سے خون جاری تھا، یہ آگے جا کر اس کی انتظار میں رک گئے، حارث رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے پیچھے آگئے۔ یہ لوگ اسے اُٹھا کر رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نماز ادا فرما رہے تھے، انہوں نے جا کر سلام عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریفلائے۔ اور انہوں نے کعب کے قتل کی خبر آپ کو دی اور اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث رضی اللہ عنہ کے زخم پر اپنا لعاب مبارک لگایا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں