الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. مَا جَاءَ فِي تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ إِلَى الْكَعْبَةِ فِي السَّنَةِ الثانية مِنَ الْهَجْرَةِ
ہجرت کے دوسرے سال میں تحویل کعبہ کا بیان
حدیث نمبر: 10691
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّهُمْ يَعْنِي الْيَهُودَ لَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا وَعَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هَدَانَا اللَّهُ لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہودی ہمارے اوپر اور کسی چیز کا اتنا حسد نہیں کرتے جتنا وہ جمعہ کے دن پر حسد کرتے ہیں، جبکہ اللہ نے یہ دن ہمیں دیا اور وہ اس سے محروم رہے، وہ ہمارے قبلہ پر بھی حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں یہقبلہ دیا اور وہ اس سے محروم رہے اور وہ امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر بھی حسد کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10691]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه مختصرا بذكر حسد اليھود: 856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25543»
وضاحت: فوائد: … سلام اور آمین کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۸۴)
جب امت مسلمہ کے لیے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا تو یہودیوں کو اس سے خاصی تکلیف ہوئی، کیونکہ بیت المقدس ان کا قبلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سولہ سترہ مہینے اِسی کو ہی قبلہ قرار دیئے رکھا، اس لیےیہودیوں نے اعتراضات شروع کر دیئے اور کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اب اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف لوٹ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب کے لیے درج ذیل آیت نازل فرمائی:
{وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ} … اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا، مقرر نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے، اس سے جو اپنی دونوں ایڑیوں پر پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بات یقینا بہت بڑی تھی مگر ان لوگوں پر جنھیں اللہ نے ہدایت دی۔ (سورۂ بقرہ: ۱۴۳)
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۹۳)
جب امت مسلمہ کے لیے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا تو یہودیوں کو اس سے خاصی تکلیف ہوئی، کیونکہ بیت المقدس ان کا قبلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سولہ سترہ مہینے اِسی کو ہی قبلہ قرار دیئے رکھا، اس لیےیہودیوں نے اعتراضات شروع کر دیئے اور کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو اب اپنے آباء و اجداد کے دین کی طرف لوٹ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب کے لیے درج ذیل آیت نازل فرمائی:
{وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ} … اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا، مقرر نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے، اس سے جو اپنی دونوں ایڑیوں پر پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بات یقینا بہت بڑی تھی مگر ان لوگوں پر جنھیں اللہ نے ہدایت دی۔ (سورۂ بقرہ: ۱۴۳)
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۹۳)
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَرِيضَةِ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي الثَّانِيَةِ أَيْضًا قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ
ہجرت کے دوسرے سال ہی غزوۂ بدر سے قبل رمضان کے روزہ کی فرضیت کا بیان
حدیث نمبر: 10692
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: 183-184] قَالَ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: 185] فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَالَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهَدَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ مَالِي أَرَاكَ قَدْ جَهَدْتَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنَ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ} [البقرة: 187]
سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، … (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔)نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشا کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا(اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوییا لونڈی سے ہم بستریکر لی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إلَی نِسَائِکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوںمیں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔) [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10692]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح، اخرجه ابوداود: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22475»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں پر جو روزے فرض ہیں، ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے: سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان کے روزے فرض ہے، روزے کا دورانیہ طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک ہے، روزہ نہ رکھ سکنے والا مستقل مریض اور کمزور بزرگ ایک روزہ ترک کرنے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کے لیےیہ حکم ہے کہ اگر وہ اس سفر اور بیماری کے دوران روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضائی دے دیں۔
لیکن روزوں کو درج بالا صورت دینے سے پہلے بالترتیب درج ذیل مراحل سے گزارا گیا:
۱۔ ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، انیس مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
۲۔ رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
۳۔ مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، … یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔
بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔
غَزْوَۃُ بَدْرِ الْکُبْرٰی فِیْ رَمَضَان
ماہِ رمضان میں غزوۂ بدرِکبری کا پیش آنا
یہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان پہلا فیصلہ کن معرکہ ہے، اس کا سبب یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس قافلے کے لیے ذو العشیرہ تشریف لے گئے تھے اور جو بچ کر شام چلا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تاک میں تھے اور اس کی خبر لانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کے مقام حوراء تک دو آدمی بھیجےتھے، چنانچہ جیسے ہییہ قافلہ وہان سے گزرا، انہوں نے جلدی سے مدینہ خبر پہنچائی اور خبر ملتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو نکلنے کی دعوت دی، لیکن نکلنا ضروری نہیں قرار دیا، چنانچہ اس دعوت پر ۳۱۳، یا۳۱۴، یا۳۱۷، آدمیوں نے لبیک کہا، جس میں۸۲یا۸۳یا۸۶ مہاجرین تھے اور ۶۱ قبیلہ اوس کے اور ۱۷۰ قبیلہ خزرج کے انصار تھے، انہوں نے مکمل تیاری بھی نہیں کی تھی، سواری میں صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک سفید جھنڈا باندھا اور اسے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، اس کے علاوہ ایک جھنڈا مہاجرین کا تھا، جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیے ہوئے تھے اور ایک جھنڈا انصار کا تھا، جسے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اٹھا رکھا تھا، مدینہ کا انتظام سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، لیکن روحاء پہنچ کر ان کی جگہ ابو لبابہ عبد المنذر کو روانہ فرمایا،۱۷ رمضان سنہ ۲ہجری کی صبح کو دونوں فوجوں کاآمنا سامنا ہوا، باقی تفصیل اگلی روایات میں آ رہی ہے، تاریخ کی کسی کتاب سے اس غزوہ کی تفصیلات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن روزوں کو درج بالا صورت دینے سے پہلے بالترتیب درج ذیل مراحل سے گزارا گیا:
۱۔ ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، انیس مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
۲۔ رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
۳۔ مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، … یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔
بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔
غَزْوَۃُ بَدْرِ الْکُبْرٰی فِیْ رَمَضَان
ماہِ رمضان میں غزوۂ بدرِکبری کا پیش آنا
یہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان پہلا فیصلہ کن معرکہ ہے، اس کا سبب یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس قافلے کے لیے ذو العشیرہ تشریف لے گئے تھے اور جو بچ کر شام چلا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تاک میں تھے اور اس کی خبر لانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کے مقام حوراء تک دو آدمی بھیجےتھے، چنانچہ جیسے ہییہ قافلہ وہان سے گزرا، انہوں نے جلدی سے مدینہ خبر پہنچائی اور خبر ملتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو نکلنے کی دعوت دی، لیکن نکلنا ضروری نہیں قرار دیا، چنانچہ اس دعوت پر ۳۱۳، یا۳۱۴، یا۳۱۷، آدمیوں نے لبیک کہا، جس میں۸۲یا۸۳یا۸۶ مہاجرین تھے اور ۶۱ قبیلہ اوس کے اور ۱۷۰ قبیلہ خزرج کے انصار تھے، انہوں نے مکمل تیاری بھی نہیں کی تھی، سواری میں صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک سفید جھنڈا باندھا اور اسے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، اس کے علاوہ ایک جھنڈا مہاجرین کا تھا، جسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیے ہوئے تھے اور ایک جھنڈا انصار کا تھا، جسے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اٹھا رکھا تھا، مدینہ کا انتظام سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، لیکن روحاء پہنچ کر ان کی جگہ ابو لبابہ عبد المنذر کو روانہ فرمایا،۱۷ رمضان سنہ ۲ہجری کی صبح کو دونوں فوجوں کاآمنا سامنا ہوا، باقی تفصیل اگلی روایات میں آ رہی ہے، تاریخ کی کسی کتاب سے اس غزوہ کی تفصیلات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِشَارَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ بِشَأْنِهَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابہ کرام سے غزوۂ بدر کے بارے میں مشاورت
حدیث نمبر: 10693
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24] وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10693]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 2874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12045»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ بدر کو بدر عظمی، بدر ثانیہ، بدر قتال اور بدر فرقان بھی کہا جاتا ہے،مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان بدر ایک گاؤںکا نام ہے اور یہ مدینہ سے چار مراحل (۱۵۵ کلو میٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰیقَوْمِ ادْخُلُواالْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی
اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْھَاقَوْمًاجَبَّارِیْنَ وَاِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَاحَتّٰییَخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنْ یَّخْرُجُوْامِنْھَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَآاَبَدًا مَّا دَامُوْافِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا ٓ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَا ٓاَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃ’‘ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃًیَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔} … اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اس نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جاؤ، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہو جاؤ، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جاؤ، پس دونوں لڑو، بے شک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔ فرمایا پھر بے شک وہ ان پر چالیس سال حرام کی ہوئی ہے، زمین میں سر مارتے پھریں گے، پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔ (سورۂ مائدہ: ۲۱۔ ۲۶)
بنو اسرائیل کے مورثِ اعلییعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا، لیکنیوسف علیہ السلام کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہو گئے تھے اور پھر تب سے مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسی علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر مصر سے نکال نہیں لے گئے، اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی، جو ایک بہاد ر قوم تھی۔ جب موسی علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لیے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا، چنانچہ موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت ِ الہی کی بشارت بھی سنائی، لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اور پہلے مرحلے میں ہی ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے دست بردار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی کوئی پرواہ نہ کی اور بدترین بزدلی، سوئے ادبی اور تمرد سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اے موسی! تو اور تیرا ربّ جا کر لڑو۔
اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام سے مشورہ کیا تو انھوں نے قلت ِ تعداد اور قلت ِ وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کا بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
برک الغماد ایک مقام کانام ہے، ایک قول کے مطابق یہ مکہ مکرمہ سے آگے پانچ دنوں کی مسافت پر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً پندرہ دنوں کی مسافت پر پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہجر کے اُس پار یا حبشہ میں ایک شہر کا نام ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰیقَوْمِ ادْخُلُواالْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی
اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْھَاقَوْمًاجَبَّارِیْنَ وَاِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَاحَتّٰییَخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنْ یَّخْرُجُوْامِنْھَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔ قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَیَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ قَالُوْا ٰیمُوْسٰٓی اِنَّالَنْ نَّدْخُلَھَآاَبَدًا مَّا دَامُوْافِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا ٓ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ۔ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَا ٓاَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃ’‘ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃًیَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔} … اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اس نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جاؤ، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہو جاؤ، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔ انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک ہم ہرگز اس میں کبھی داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں موجود ہیں، سو تو اور تیرا رب جاؤ، پس دونوں لڑو، بے شک ہم یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔ فرمایا پھر بے شک وہ ان پر چالیس سال حرام کی ہوئی ہے، زمین میں سر مارتے پھریں گے، پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کر۔ (سورۂ مائدہ: ۲۱۔ ۲۶)
بنو اسرائیل کے مورثِ اعلییعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا، لیکنیوسف علیہ السلام کے امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جا کر آباد ہو گئے تھے اور پھر تب سے مصر ہی میں رہے، جب تک کہ موسی علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر مصر سے نکال نہیں لے گئے، اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی، جو ایک بہاد ر قوم تھی۔ جب موسی علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد ہونے کا عزم کیا تو اس کے لیے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا، چنانچہ موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت ِ الہی کی بشارت بھی سنائی، لیکن اس کے باوجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اور پہلے مرحلے میں ہی ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے دست بردار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کی کوئی پرواہ نہ کی اور بدترین بزدلی، سوئے ادبی اور تمرد سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اے موسی! تو اور تیرا ربّ جا کر لڑو۔
اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابۂ کرام سے مشورہ کیا تو انھوں نے قلت ِ تعداد اور قلت ِ وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کا بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
برک الغماد ایک مقام کانام ہے، ایک قول کے مطابق یہ مکہ مکرمہ سے آگے پانچ دنوں کی مسافت پر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً پندرہ دنوں کی مسافت پر پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہجر کے اُس پار یا حبشہ میں ایک شہر کا نام ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِرْسَالِهِ صلى الله عليه وسلم بَسَيْسَةَ عَيْنًا يَنظُرُ مَا فَعَلَتْ غَيْرُ أَبِي سُفْيَانَ ثُمَّ الْإِذْنُ بِالْقِتَالِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بسیسہ نامی شخص کو جاسوس بنا کر بھیجنا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے اور بعدازاں قتال کی اجازت کا بیان
حدیث نمبر: 10694
عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا فَعَلَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَى بَعْضَ نِسَائِهِ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْكَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظَهْرٍ لَهُمْ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ قَالَ لَا إِلَّا مَنْ كَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَى شَيْءٍ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُؤْذِنُهُ فَدَنَا الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ بَخٍ بَخٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ بَخٍ بَخٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ ثُمَّ رَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بسیسہ رضی اللہ عنہ کو جاسوس کی حیثیت سے روانہ فرمایا تاکہ وہ ابو سفیان کے قافلہ پر نظر رکھے، ایک دفعہ جب کہ گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا اور کوئی نہ تھا وہ آئے، ثابت راوی کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے امہات المؤمنین میں سے کسی کا استثناء کیا تھا یا نہیں، اور سیدنا بسیسہ رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک قافلے پر ہماری نظر ہے، جس آدمی کے پاس سواری ہو، وہ سوار ہو کر ہمارے ساتھ چلے۔ بعض لوگوں نے یہ اجازت چاہی کہ ان کی سواریاں مدینہ منورہ کے بالائی علاقہ میں ہیں، وہ جا کر سواریاں لے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ چلیں جن کی سواریاں اس وقت موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے پہلے بدر کے مقام پر جا پہنچے، مشرکین بھی آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک میں اجازت نہ دوں کوئی آدمی پیش قدمی نہ کرے۔ جب مشرکین مسلمانوں کے قریب آپہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب بڑھو اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تو وہ کہنے لگے: واہ، واہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ واہ واہ کیوں کہہ رہے ہو؟ انہوں نے:کہا اللہ کے رسول! میں یہ الفاظ اس امید پر کہہ رہا ہوں کہ اللہ مجھے اہلِ جنت میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جنتی ہو، اس کے بعد اس نے اپنی تھیلی سے کچھ کھجوریں نکالیں اور کھانے لگا، اتنے میں اس نے کہا: اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں، تو یہ تو بڑی طویل زندگی ہے، چنانچہ اس کے پاس جو کھجوریں تھیں، اس نے ان کو پھینک دیا اور مشرکین سے قتال کیایہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10694]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12425»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر کے بارے میں اپنے صحابہ کو پوری اطلاعات سے آگاہ نہیں کیا تھا، ایمر جنسی نافذ کی گئی اور جتنے لوگ اور جو ساز و سامان موقع پر موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کچھ لے کر روانہ ہو گئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. مَا جَاءَ فِي سِيَاقِ القِصَّةِ وَالتَّحْرِيضِ عَلَى القِتالِ
واقعہ کی تفصیل اور دشمن کے خلاف قتال کی ترغیب
حدیث نمبر: 10695
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا فَاجْتَوَيْنَاهَا وَأَصَابَنَا بِهَا وَعْكٌ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ وَبَدْرٌ بِئْرٌ فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ كَمِ الْقَوْمُ فَيَقُولُ هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذْ قَالَ ذَلِكَ يَضْرِبُوهُ حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ كَمِ الْقَوْمُ قَالَ هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ فَجَهَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُ كَمْ هُمْ فَأَبَى ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ فَقَالَ عَشْرًا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَوْمُ أَلْفٌ كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَتَبِعَهَا ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا مِنَ اللَّيْلِ طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ قَالَ فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَرَّضَ عَلَى الْقِتَالِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلَعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ مِنَّا وَصَفَفْنَاهُمْ إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ نَادِ لِي حَمْزَةَ وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ وَيَقُولُ لَهُمْ يَا قَوْمُ إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ يَا قَوْمُ اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي وَقُولُوا جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ فَسَمِعَ ذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَنْتَ تَقُولُ هَذَا وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ هَذَا لَأَعْضَضْتُهُ قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا فَقَالَ عُتْبَةُ إِيَّايَ تُعَيِّرُ يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ قَالَ فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ شَيْبَةُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً فَقَالُوا مَنْ يُبَارِزُ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ فَقَالَ عُتْبَةُ لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُمْ يَا عَلِيُّ وَقُمْ يَا حَمْزَةُ وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَتَلَ اللَّهُ تَعَالَى عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي لَقَدْ أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أَرَاهُ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اسْكُتْ فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَلَكٍ كَرِيمٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وَعَقِيلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ
سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو وہاں کی آب وہوا ہمیں راس نہ آئی اور ہمیں شدید بخار نے آلیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے متعلق حالات و واقعات معلوم کرتے رہتے تھے، جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے نکل پڑے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے، بدر ایک کنوئیں کا نام ہے مشرکین ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے، ہمیں وہاں دو مشرک ملے، ان میں سے ایک قریشی تھا اور دوسرا عقبہ بن ابی معیط کا غلام تھا، قریشی تو وہاں سے بھاگ نکلا البتہ عقبہ کے غلام کو ہم نے پکڑ لیا۔ہم اس سے پوچھنے لگے کہ قریشیوں کی تعداد کتنی ہے؟ وہ کہتا اللہ کی قسم وہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور سازوسامان کے لحاظ سے بھی وہ مضبوط ہیں، اس نے جب یہ کہا تو مسلمانوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آئے۔ آپ نے بھی اس سے دریافت کیا کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ تو اس نے پھر وہی کہا کہ اللہ کی قسم! ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور سازوسامان بھی ان کے پاس کافی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا زور لگایا تاکہ وہ بتلادئے کہ ان کی تعداد کس قدر ہے؟ مگر اس نے کچھ نہ بتلایا۔ بعدازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ وہ روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں؟ اس نے بتلایا کہ روزانہ دس اونٹ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی تعداد ایک ہزار ہے ایک سو کے لگ بھگ افراد کے لیے ایک اونٹ ہوتا ہے۔ بعدازاں رات کو بوندا باندی ہو گئی ہم نے بارش سے بچاؤ کے لیے درختوں اور ڈھالوں کی پناہ لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ رہے تھے یا اللہ! اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کوہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ صبح صادق ہو ئی تو آپ نے آواز دی، لوگو! نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ لوگ درختوں اور ڈھالوں کے نیچے سے نکل آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دشمن کے خلاف لڑنے کی ترغیب دلائی، پھر آپ نے فرمایا کہ قریش کیجماعت اس ٹیڑھے سرخ پہاڑ کے نیچے ہو گی جب دشمن ہمارے قریب آئے اور ہم بھی ان کے بالمقابل صف آراء ہوئے تو ان میں سے ایک آدمی اپنے سرخ اونٹ پر سوار دشمن کی فوج میں چکر لگا رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر فرمایا حمزہ رضی اللہ عنہ کومیری طرف بلاؤ وہ مشرکین کا سب سے قریبی رشتہ دار تھا، آپ نے پوچھا یہ سرخ اونٹ والا آدمی کون ہے؟ اور وہ ان سے کیا کہہ رہا ہے؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر ان لوگوں میں کوئی بھلامانس ان کو اچھی بات کہنے والا ہوا تو وہ یہی سرخ اونٹ والا ہی ہو گا۔حمزہ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے بتلایا کہ یہ عتبہ بن ربیعہ ہے جو انہیں قتال سے منع کر رہا ہے اور ان سے کہہ رہا ہے لوگو! میں ایسے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو مرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور تم ان تک نہیں پہنچ سکو گے۔ اسی میں تمہاری خیر ہے، لوگو! تم لڑائی سے پیچھے ہٹنے کی عار میرے سر پر باندھو، اور کہہ دوکہ عتبہ بن ربیعہ نے بزدلی دکھائی، تم جانتے ہو کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں، ابو جہل نے اس کی باتیں سنیں تو کہا ارے تم ایسی باتیںکہہ رہے ہو؟ کوئی دوسرا کہتا تو میں اس سے کہتا جا کر اپنے باپ کی شرم گاہ کوکاٹ کھاؤ، تمہارے دل میں تو خوف بھر گیا ہے۔ تو عتبہ نے کہا ارے اپنی دبر کو زعفران سے رنگنے والے کیا تو مجھے عار دلاتا ہے؟ آج تجھے پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے بزدل کون ہے؟ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں چنانچہ عتبہ اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید قومی حمیت وغیرت کے جذبہ سے مقابلے میں نکلے اور عتبہ نے پکارا، کون آئے گا ہمارے مقابلہ میں؟ تو چھ انصاری اس کے جواب میں سامنے آئے۔ تو عتبہ نے کہا ہم ان سے لڑنا نہیں چاہتے، ہم تو اپنے عم زاد بنو عبدالمطلب کو مقابلے کی دعوت دیتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ! تم اٹھو، حمزہ رضی اللہ عنہ اٹھو اور عبیدہ بن حارث بن مطلب رضی اللہ عنہ تم اُٹھو، تو اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو قتل کر دیا اور مسلمانوں میں سے عبیدہ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے۔ مسلمانوں نے ستر کا فروں کو قید اور ستر کو قتل کیا، ایک پست قد انصاری صحابی رضی اللہ عنہ عباس بن عبدالمطلب کو گرفتار کر لائے، تو عباس نے کہا اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی قسم مجھے اس نے نہیں بلکہ مجھے ایک ایسے آدمی نے گرفتار کیا ہے جس کے سر کے دونوں پہلوؤں پربال نہیں تھے۔ جو انتہائی حسین وجمیل تھا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رانوں تک سفید تھیں۔ وہ آدمی مجھے آپ لوگوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ تو انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول! اسے میں نے ہی گرفتار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری نصرت کی تھی۔ علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے بہت سے کافروں کو اور بنو عبدالمطلب میں سے عباس، عقیل اور نوفل بن حارث کو گرفتار کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10695]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 948»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10696
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَنَيِّفٌ وَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَإِذَا هُمْ أَلْفٌ وَزِيَادَةٌ فَاسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ رِدَاؤُهُ وَإِزَارُهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَيْنَ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَلَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَ يَسْتَغِيثُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُوهُ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَرَدَّاهُ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ} [الأنفال: 9] فَلَمَّا كَانَ يَوْمَئِذٍ وَالْتَقَوْا فَهَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِكِينَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَعَلِيًّا وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ وَالْإِخْوَانُ فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ الْفِدْيَةَ فَيَكُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ فَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى مَا رَأَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ قَرِيبٍ لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ حَمْزَةَ مِنْ فُلَانٍ أَخِيهِ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّهُ لَيْسَتْ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ فَهَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَإِذَا هُمَا يَبْكِيَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا يُبْكِيكَ أَنْتَ وَصَاحِبَكَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنَ الْفِدَاءِ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِشَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ} [الأنفال: 67-68] مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أُحِلَّ لَهُمُ الْغَنَائِمُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ وَسَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا} [آل عمران: 165] الْآيَةَ بِأَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیریعبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمایا: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔} … اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں کے اندر مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیمراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓاَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْز’‘ حَکِیْم’‘۔ لَوْ لَا کِتٰب’‘ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھاگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت شہید کر دئیے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10696]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 208»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد (۳۱۳، یا۳۱۴، یا۳۱۷)تھی اور کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی، پھر مسلمان نہتے اور بے سرو سامان تھے، جبکہ کافروں کے پاس اسلحہ کی بھی فراوانی تھی، ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی، جس سے وہ گڑگڑا کر مدد کی فریادیں کر رہے تھے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح و زاری سے مصروفِ دعا تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لیے آ گئے۔
بدر کے قیدیوں کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ دیا تھا، وہی اللہ تعالیٰ کو پسند تھا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نرم فیصلہ کرنے کی وجہ سے عتاب نازل ہوا۔
آخری آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر احد کے دن ستر صحابہ شہید ہو گئے تو تم اس سے پہلے بدر والے معرکے میں ستر کافر قتل کر چکے ہو اور ستر قیدی بند چکے ہے، جبکہ غزوۂ احد کی شکست کی وجہ تم خود ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاکیدی حکم کے باوجود تم نے پہاڑی موچہ چھوڑ دیا اور کافروں کو اسی درّے سے دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔
بدر کے قیدیوں کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ دیا تھا، وہی اللہ تعالیٰ کو پسند تھا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نرم فیصلہ کرنے کی وجہ سے عتاب نازل ہوا۔
آخری آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر احد کے دن ستر صحابہ شہید ہو گئے تو تم اس سے پہلے بدر والے معرکے میں ستر کافر قتل کر چکے ہو اور ستر قیدی بند چکے ہے، جبکہ غزوۂ احد کی شکست کی وجہ تم خود ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاکیدی حکم کے باوجود تم نے پہاڑی موچہ چھوڑ دیا اور کافروں کو اسی درّے سے دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10697
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ النَّاسَ يَوْمَ بَدْرٍ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِيَّانَا تُرِيدُ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ فَعَلْنَا فَشَأْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى نَزَلَ بَدْرًا وَجَاءَتْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ أَمَّا أَبُو سُفْيَانَ فَلَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ وَأَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَاءَتْ فَيَضْرِبُونَهُ فَإِذَا ضَرَبُوهُ قَالَ نَعَمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَانْصَرَفَ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا فَقَالَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَالْتَقَوْا فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ كَفَّيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ يَا أَبَا جَهْلٍ يَا عُتْبَةُ يَا شَيْبَةُ يَا أُمَيَّةُ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ جَوَابًا فَأَمَرَ بِهِمْ فَجُرُّوا بِأَرْجُلِهِمْ فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن لوگوں سے مشاورت کی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات کی تو آپ نے منہ دوسری طرف موڑ لیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بات کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف سے بھی منہ موڑ لیا، تو انصار نے کہا اللہ کے رسول! آپ ہماری بات کے منتظر ہیں؟ تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا(دوسری روایت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا نام ہے) اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ اگر ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کود جائیں اور اگر آپ ہمیں برک الغماد تک اپنی سواریاں دوڑانے کا حکم دیں تو ہم اس کے لیے بھی حاضر ہیں۔ اللہ کے رسول! جو مقصد پیشِ نظر ہے اس کے لیے چلیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو روانگی کا حکم دیا۔ آپ روانہ ہو کر بدر کے مقام پر نزول فرما ہوئے، قریش کے پانی لانے والے اونٹ پر آدمی آئے۔ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکڑ لیا۔ مسلمانوں نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا ابو سفیان کے متعلق تو میں کچھ نہیں جانتا۔ البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف وغیرہیہاں آئے ہوئے ہیں مسلمان اس کی بات سن کر اسے مارنے لگے مسلمانوں نے جب اسے مارا تو اس نے کہا ہاں ہاں ابو سفیان وہاں ہے، جب اسے مارنا چھوڑ کر اس سے ابو سفیان کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا مجھے تو ابوسفیان کے متعلق کچھ علم نہیں، البتہ قریشیہاں آئے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ آپ نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا، وہ سچ کہتا ہے تو اسے مارتے ہو جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ جگہوں پر ہاتھ رکھ رکھ کر فرمایا، ان شاء اللہ کل فلاں آدمییہاں مر کر گرے گا اور فلاں آدمییہاں گرے گا۔ مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست دی، اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیوں والی جگہوں سے کوئی بھی آدمی ادھر اُدھر نہ گرا۔ تین دن بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان مردہ کافروں کی طرف گئے۔ ان کی لاشوں میںبدبو پڑ چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو جہل! اے عتبہ! اے شیبہ! اے امیہ! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا تم اسے سچ پا چکے ہو۔ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے اسے سچا پایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو مرے ہوئے تین دن گزر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ہم کلام ہو رہے ہیں؟ جب کہ ان کے لاشوں میں بدبو پڑ چکی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ یہ جواب دینے کی استطاعت نہیں رکھتے، چنانچہ آپ نے ان مردوں کے متعلق حکم صادر فرمایا، انہیں ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10697]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 2874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13329»
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ النَّبِيِّ ا صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِوَقْعَةِ بَدْرٍ وَاسْتِعَانَتِهِ بِاللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَنُزُولِهِ مَعْمَعَةَ الْقِتَالِ بِنَفْسِهِ وَشُجَاعَتِهِ وَاتْقَاءِ الْمُحَارِبِينَ بِهِ وَتَابِيْدِ اللَّهِ بِالْمَلائِكَةِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 10698
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ {سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ} [القمر: 45]
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قبہ کے اندر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! میں تجھے تیرا کیا ہوا وعدہ یا د دلاتا ہوں، یا اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے(تو ہمارے مخالفین کو ہم پر غلبہ دے اور ہمیں ان کے ہاتھوں قتل کرا دے۔) اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھام لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے رب سے خوب خوب دعائیں کر لی ہیں اور یہی کافی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قمیض میں خوشی سے اچھلتے ہوئے فرما رہے تھے {سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ} … عنقریب مسلمانوں کی دشمن جماعتیں ہزیمت سے دو چار ہوں گی، اور وہ پیٹھ دے کر بھاگ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10698]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2915، 3953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3042»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10699
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا إِلَّا نَائِمٌ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم مسلمانوں میں مقداد رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی گھڑ سوار نہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا ہم میں سے ہر ایک کو نیند آگئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے تھے اور صبح تک اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ زاری کرتے رہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10699]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6778، ومسلم: 1707، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1023»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 10700
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ الْتَقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ مَا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن جب لڑائی شروع ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جاملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت بہادر تھے اور ہم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر مشرکین کے قریب تر اور کوئی نہ تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10700]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابويعلي: 412، وابن ابي شيبة: 14/ 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1042»
الحكم على الحديث: صحیح