🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَصَارِعِ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ قَبْلَ مَوْتِهِمْ وَرَمْي جُنَيْهِم فِي بِشْرٍ ثُمَّ نِدَائِهِ إِيَّاهُمْ بِالتَّقْرِيعِ وَالتَّوْبِيخِ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی¤جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ¤کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10711
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُحِدِّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طَوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ قَالَ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ قَالَ فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطَّوَى قَالَ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنِقْمَةً
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کو بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس سے زائد قریشی سرداروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں بدر کے کنوؤں میں سے ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ وہ کنواں بڑا خبیث اور گندا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم پر فتح پاتے تو وہاں تین رات قیام فرماتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بدر میں فتح یاب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں بھی تین رات قیام فرمایا، جب تیسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو تیار کرنے کا حکم فرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہو ئے، صحابہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم سب نے سمجھا کہ آپ اپنی کسی ضروری حاجت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔ چلتے چلتے آپ اس کنوئیں کے کنارے پر جا رکے اور ان مقتول کفار قریش کو ان کے ناموں اور ان کے آباء کے ناموں کا ذکر کر کے ان کو پکارا اور یوں فرمایا: اے فلاں بن فلاں! کیا اب تمہیںیہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے؟ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پالیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا آپ ایسے اجسام سے ہم کلام ہو رہے ہیں، جن میں روحیں ہی نہیں ہیں؟ قتادہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ، رسوائی اور اظہار ناراضگی کے لیے ان کفار کو زندہ کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، ومسلم: 2875 عن انس بن مالك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12498»
وضاحت: فوائد: … دراصل اللہ تعالیٰ نے ان لاشوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سننے کا ادراک پیدا کر دیا تھا، جس سے ان کی حسرت میں اضافہ ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10712
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ فَأُلْقُوا فِي الطَّوَى عُتْبَةُ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ جَزَاكُمُ اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان مقتول سردارانِ قریش عتبہ، ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے پاس سے گزرے، جنہیں کنوئیں میں پھینک دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں رک گئے اور فرمایا: تم ایک نبی کی ایسی قوم ہو، جو اس کے شدید مخالف اور بہت زیادہ تکذیب کرنے والے تھے، اللہ نے تمہیں بہت بُرا بدلہ دیا، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو مر چکے ہیں (لاشیں بن چکے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی نسبت میری بات کو زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہ تمہاری بہ نسبت میری بات کو زیادہ سمجھ رہے ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10712]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابراهيم بن يزيد النخعي لم يسمع من عائشة، ورواية مغيرة بن مقسم عنه ضعيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25886»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10713
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ فَتَزَايَلَ فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى فَقَالَ لَهُمْ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتُ لَهُمْ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ عَلِمُوا
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتولینِ بدر کو کنوئیں میں پھینک دئیے جانے کا حکم صادر فرمایا، پس ان کو اس میں پھینک دیا گیا۔ البتہ امیہ بن خلف اپنی زرہ کے اندر اس قدر پھول چکا تھا اور اس کے اندر پھنس گیا، جب صحابہ کرام نے اسے کھینچا تو اس کے اعضاء الگ ہو گئے، سو انھوں نے اسے ویسے ہی رہنے دیا اور اس پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا، جب ان مقتولین کو کنوئیں میں ڈالا جا چکا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اوپر جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو سچا پا لیاہے؟ میرے رب نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے سچا پالیا ہے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مردوں سے کلام کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے جو وعدہ کیا تھا یعنی ان سے جو کچھ کہا تھا وہ حق تھا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا کہ لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان مقتولین نے آپ کی باتیں سن لی تھیں، میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا کہ یہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10713]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن حبان: 7088، والحاكم: 3/ 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26893»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۳۳۵۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَصْرَعَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلْفٍ فِي وَقْعَةِ بَدْرٍ وَتَبْلِيغِهِ ذَلِكَ قَبْلَ حُصُولِهِ وَلِذَلِكَ قِصَّةٌ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امیہ بن خلف قتل ہو کر گرے گااور اس کی اطلاع اسے مل گئی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10714
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مُعْتَمِرًا فَنَزَلَ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتَ فَطُفْتَ فَبَيْنَمَا سَعْدٌ يَطُوفُ إِذْ أَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا قَالَ سَعْدٌ أَنَا سَعْدٌ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَتَلَاحَيَا فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ وَاللَّهِ إِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَأَقْطَعَنَّ إِلَيْكَ مَتْجَرَكَ إِلَى الشَّامِ فَجَعَلَ أُمَيَّةُ يَقُولُ لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ وَجَعَلَ يُمْسِكُهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ قَالَ إِيَّايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ فَلَمَّا خَرَجُوا رَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ لِيَ الْيَثْرِبِيُّ فَأَخْبَرَهَا فَلَمَّا جَاءَ الصَّرِيخُ وَخَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ أَمَا تَذْكُرُ مَا قَالَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي فَسِرْ مَعَنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی غرض سے تشریف لے گئے، صفوان بن امیہ بن خلف کے ہاں مہمان ٹھہرے، امیہ بھی مکہ سے شام کی طرف جاتے ہوئے مدینہ منورہ سے گزرتے ہوئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں قیام کیا کرتا تھا، امیہ نے سعد سے کہا: تم ابھیانتظار کرو، جب دوپہر ہو گی اور لوگ تھک جائیں گے تب جا کر طواف کر لینا، سیدنا سعد طواف کر رہے تھے کہ ابو جہل ان کے پاس آگیا اور بولا یہ کون ہے، جو بڑے امن اور سکون کے ساتھ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟ سعد نے کہا: میں سعد ہوں۔ ابوجہل نے کہا: تو بڑے سکون سے طواف کر رہا ہے حالانکہ تم لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پناہ دے رکھی ہے۔ دونوں میں تو تکار ہو گئی، تو امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ابو الحکم (یعنی ابوجہل) کے مقابلے میں آواز بلند نہ کریں،یہ یہاں کا سردار ہے۔ لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے روکا تو میں شام کی طرف تمہارا تجارتی راستہ بند کر دوں گا۔ امیہ پھر سعد رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا اور اسے پکڑ کر روکنے لگا کہ ابو الحکم (یعنی ابوجہل) کے سامنے آواز بلند نہ کرو، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا، وہ بولے مجھے چھوڑ دو، میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ تجھے قتل کر کے رہیں گے، امیہ نے کہا: کیا مجھے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، ہاں، امیہ نے کہا: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات غلط نہیں ہو سکتی، جب لوگ چلے گئے تو وہ اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا: کیا تیرے علم میں وہ بات آئی جو یثربی مہمان نے کہی ہے؟ اور پھر اسے ساری بات بتلائی، جب لڑائی کا اعلان ہوا اور لوگ بدر کی طرف جانے لگے تو امیہ کی بیوی نے اس سے کہا: کیا تمہیں وہ بات یاد نہیں ہے جو تمہارے یثربی بھائی نے کہی تھی؟ اس نے ایک دفعہ تو ارادہ کیا کہ لڑائی کے لیے نہ جائے، لیکن ابوجہل نے اس سے کہا تم یہاں کے سرداروں میں سے ہو، سو ہمارے ساتھ ایک دو دن کے لیے ضرور چلو، پس وہ ان کے ساتھ چل پڑا اور اللہ تعالیٰ نے اسے (بدر میں) ہلاکت سے دو چار کر دیا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10714]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3632، 3950، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3794»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ بدر سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں کسی موقع پر یہ پیشین گوئی کر دی تھی کہ امیہ بن خلف قتل ہو گا اور پھر ایسے ہی ہوا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَعَدَدِ رِجَالِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَ وَأُمُورٍ مُتَفَرِّقَةٍ تَتَعَلَّقُ بِهَا
غزوۂ بدر کی تاریخ، اس غزوہ میں مہاجرین وانصار کی تعداد اور اس غزوہ سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10715
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل بدر کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں سے چھہتر(۷۶) مہاجرین تھے، کفار سترہ رمضان کو جمعہ کے دن ہزیمت سے دو چار ہو ئے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج، أخرجه البزار: 1783، والطبراني: 12083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2232»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10716
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ لَا يَصْلُحُ قَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لیں، اب کوئی آپ کی مزاحمت نہیں کر سکے گا، لیکن عباس جو کہ اس وقت اسیر تھے اور بندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اب ابو سفیان کا پیچھا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کو ایک گروہ پر غلبہ دے دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10716]
تخریج الحدیث: «رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب، أخرجه الترمذي: 3080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2873»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ إِحْدَی الطَّائِفَتِیْنِ أَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیدُ اللّٰہُ أَن یُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِینَ۔} … اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہوگا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھارے لیے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ (سورۂ انفال: ۷)
ایک گروہ سے مراد تجارتی قافلہ ہے کہ وہ لڑائی کے بغیر مسلمانوںکو مل جائے گا اور اس میں وافر مال و اسباب بھی ہوں گے۔
دوسرے گروہ سے مراد لشکرِ قریش ہے کہ اس کے ساتھ صحابہ کا مقابلہ ہو گا، جس میں مسلمان غالب آ جائیں گے اور ان کو مال غنیمت ملے گا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10717
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ يَعْنِي غَشُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَأُرَاهُ قَالَ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب ہماری اور کفار کی مڈبھیڑ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئے یعنی بالکل قریب آجائے تو تب تم ان پر تیر چلانا۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اندھا دھند تیر اندازی کرنے کی بجائے احتیاط سے تیر چلانا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10717]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3984، 3985، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16157»
وضاحت: فوائد: … لشکر ِ اسلام میں اسلحہ کی قلت بھی تھی اور دور سے تیر فائر کر دینے سے تیر ضائع بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ دوری کی وجہ سے نشانے پر نہ لگے یا دشمن کو اس سے بچنے کا موقع مل جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10718
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَفَفْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَنَدَرَتْ مِنَّا نَادِرَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ) أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ مَعِي مَعِي
سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن ہم نے صف بندی کی تو ہم میں سے بعض جلد بازوں نے جلدی کی اور صف سے آگے نکل گئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ ساتھ رہو۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10718]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطبراني: 4056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23965»
وضاحت: فوائد: … جنگ میں حسن نظام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی قیادت بھی کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10719
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ
سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بدر کے دن ہم میدان جنگ میں تھے کہ ہمیں اونگھ نے آلیا، وہ کہتے ہیں کہ میں بھی اس دن انہی لوگوں میں شامل تھا،جن کو اونگھ آگئی تھی، میری تلوار بار بار میرے ہاتھ سے چھوٹ کر جاتی تھی اور میں اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10719]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16470»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت پر دلوں کا مطمئن ہونا اور اس کی ذات پر مکمل توکل اور بھروسہ کرنا، اس چیز کا نتیجہ تھا کہ دشمن سامنے ہونے کے باوجود لشکر ِ اسلام کییہ کیفیت تھی اور ان کو دشمن کا کوئی خوف و خطر نہیں تھا، حالانکہ ان کی تعداد بھی کم تھی اور جنگی ساز و سامان بھی کم تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10720
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَصْغَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَرُدِدْنَا يَوْمَ بَدْرٍ
سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کم عمر قرار دے کر ہمیں لڑائی سے واپس بھیج دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18836»
وضاحت: فوائد: … جنگ میں جنگجو کی قوت و طاقت، عزم و عزیمت اور عقل و رشد کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جبکہ کم سن افراد ان صفات سے متصف نہیں ہوتے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں