🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي اهْتِمَامِ النَّبِيِّ ا صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِوَقْعَةِ بَدْرٍ وَاسْتِعَانَتِهِ بِاللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَنُزُولِهِ مَعْمَعَةَ الْقِتَالِ بِنَفْسِهِ وَشُجَاعَتِهِ وَاتْقَاءِ الْمُحَارِبِينَ بِهِ وَتَابِيْدِ اللَّهِ بِالْمَلائِكَةِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10701
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا
۔(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بدر کے دن دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پناہ ڈھونڈتے تھے اور ہم سب کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کے انتہائی قریب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10701]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 654»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10702
عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قِيلَ لِعَلِيٍّ وَلِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ قَالَ يَشْهَدُ الصَّفَّ
ابو صالح حنفی سے مروی ہے کہ بدر کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ تم میں سے ایک کے ساتھ جبریل اور دوسرے کے ساتھ میکائل اور اسرافیل بھی،یہ بہت بڑا فرشتہ ہے، جو لڑائی میں یا لڑائی کے وقت صف میں حاضر ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10702]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 729، وابويعلي: 340، والحاكم: 3/ 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1257»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10703
عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ إِنِّي لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِأَضْرِبَهُ إِذَا وَقَعَ رَأْسُهُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ سَيْفِي فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ غَيْرِي
سیدنا ابو داؤد مازنی رضی اللہ عنہ،جو غزوۂ بدر میں شریک تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک مشرک کو قتل کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اچانک میری تلوار اس تک نہ پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر کٹ کر دور جا گرا، میں جان گیا کہ اسے میرے سوا کسی دوسرے نے قتل کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10703]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الواسطة بين اسحاق بن يسار وبين ابي داود اليماني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24186»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَقْتَلِ اللَّعِيْنِ أَبِي جَهْلٍ فِرْعَوْنِ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَ فَرِحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ
اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10704
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَوَاقِفٌ يَوْمَ بَدْرٍ فِي الصَّفِّ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَمَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّهُ سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُهُ لَمْ يُفَارِقْ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا قَالَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ قَالَ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ لَهُمَا أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبَكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ فَابْتَدَرَاهُ فَاسْتَقْبَلَاهُ فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّكُمَا قَتَلَهُ فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ قَالَ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا قَالَا لَا فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ كِلَاكُمَا قَتَلَهُ وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَهُمَا مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو میں نے اپنے آپ کو دو نو عمر انصاری بچوں کے درمیان کھڑا ہوا پایا، میں نے سو چا کہ کاش میرے قریب ان نو عمر بچوں کی بجائے کوئی طاقت ور آدمی ہوتا، اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے متوجہ کر کے پوچھا چچا جان!کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں! لیکن بھتیجے! یہ تو بتلاؤ تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ وہ بولا: میں نے سنا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی ہوئی ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس سے اس وقت تک جدانہ ہوں گا، جب تک کہ ہم میں سے جس نے پہلے مرنا ہے وہ مرنہ جائے، اس کے ساتھ ہی دوسرے نوجوان لڑکے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، اس نے بھی مجھ سے ویسی ہی بات کی، مجھے ان دونوں کی باتوں پر تعجب ہوا۔ اتنے میں میں نے ابوجہل کو دیکھا، وہ کافر لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا، میں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ یہی وہ آدمی ہے جس کی بابت تم دریافت کر رہے ہو، وہ یہ سنتے ہی اس کی طرف لپکے، ابوجہل کا ان دونوں سے سامنا ہوا تو انہوں نے وار کر کے اسے قتل کر ڈالا، اور اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ اسی نے قتل کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا تو فرمایا: تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کا حاصل شدہ سامان کا فیصلہ سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا، ان دونوں نوجوانوں کے نام سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10704]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3141، 3964، ومسلم: 1752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1673»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو جہل پر حملہ کرنے والے سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ ہیں، جبکہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا معوذ رضی اللہ عنہ نے یہ کارنامہ سر انجام دیا۔
ابن اسحاق جمع و تطبیق کییہ صورت پیش کی ہے: عفراء کا بیٹا معوّذ اور اس کا بھائی معاذ، ممکن ہے کہ سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ابو جہل پر حملہ کیا ہو، ان کے بعد سیدنا معوّذ بن عفرا رضی اللہ عنہ نے اس کو کوئی ضرب لگائی ہو اور پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر کاٹ کر اسے جہنم رسید کر دیا ہو، اس طرح سے سارے اقوال اور روایات کے درمیان تنطبیق ہو جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10705
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَدَ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى بَرَكَ) فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ أَهْلُهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: کون ہے جو جا کر دیکھے کہ ابوجہل کیا کر رہا ہے؟ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دو بیٹوں نے ابوجہل کو مار گرایا ہوا ہے تاآنکہ وہ ٹھنڈا ہونے یعنی مرنے کے قریب تھا، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے اس کی ڈاڑھی سے پکڑ کر کہا: تو ہی ابوجہل ہے؟ ابوجہل نے کہا: تم نے جن جن لوگوں کو قتل کیا، کیا مجھ سے بڑھ کر بھی ان میں سے کوئی ہے؟ یایوں کہا: کیا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی آدمی ایسا ہے، جسے اس کے خاندان والوں نے قتل کیا ہو؟ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10705]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3962، ومسلم: 1800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12167»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10706
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ وَهُوَ صَرِيعٌ وَهُوَ يَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ بِسَيْفٍ لَهُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ فَقَالَ هَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَتَلَهُ قَوْمُهُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ بِسَيْفِي غَيْرَ طَائِلٍ فَأَصَبْتُ يَدَهُ فَنَدَرَ سَيْفُهُ فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى قَتَلْتُهُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا أُقَلُّ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا قَالَ قُلْتُ آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ فَخَرَجَ يَمْشِي مَعِي حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهِ أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَنَفَّلَنِي سَيْفَهُ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس پہنچا، اس کی ٹانگ پر ضرب آئی ہوئی تھی اور وہ گرا پڑا تھا اور اس حال میں بھی اپنی تلوار سے لوگوں کو اپنے آپ سے دور بھگا رہا تھا، میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! اُس اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے رسوا کیا، وہ بولا: میں وہی ہوں جسے اس کی اپنی قوم نے قتل کیا ہے۔سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کی اس بات پر میں نے بلاتا خیر اپنی تلوار چلا کر اس کے ہاتھ پر ماری اور اس کی تلوار گر گئی۔ پھر میں نے اسے اچھی طرح پکڑ کر اسے مارا اور قتل کر ڈالا۔ پھر میں گرمی میں، خوشی خوشی چلتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، خوشی کے مارے میرے پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے تھے، میں نے آپ کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیا واقعی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات کو تین بار دہرایا، میں نے عرض کیا: واقعی، اُس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ اس کی میت پر جا کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن! اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے ذلیل ورسوا کیا،یہ اس امت کا فرعون تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کی تلوار مجھے عنایت فرمائی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10706]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 373، والطبراني في المعجم الكبير: 8472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4246»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10707
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ وَقَالَ مَرَّةً يَعْنِي أُمَيَّةَ صَدَقَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ وَفِي لَفْظٍ آخَرَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
۔(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو ہلاک کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت دی۔ امیہ بن خالد راوی کے الفاظ یہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اپنے بندے کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے دین کو عزت دی۔ ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پوراکیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست دی۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10707]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3856»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ إِخْبَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَصَارِعِ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ قَبْلَ مَوْتِهِمْ وَرَمْي جُنَيْهِم فِي بِشْرٍ ثُمَّ نِدَائِهِ إِيَّاهُمْ بِالتَّقْرِيعِ وَالتَّوْبِيخِ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سردارانِ قریش کی موت سے پہلے ہی ان کے گرنے کی¤جگہوں کے متعلق بتلا دیا تھا، نیز ان کی لاشوں کو کنوئیں میں پھینکنے اور پھر ان کو زجروتوبیخ¤کرتے ہوئے ان سے ہم کلام ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10708
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى قَالَ فَجَعَلُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأُوا تِلْكَ كَانُوا يُصْرَعُونَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَطُرِحُوا فِي بِئْرٍ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانُ يَا فُلَانُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمُ اللَّهُ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَلِّمُ قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہلِ بدر کے متعلق مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے ہمیں سردارانِ قریش کے گرنے اور پچھڑنے کے مقامات دکھا رہے تھے، اور فرماتے تھے: کل ان شاء اللہ فلاں کافر یہاں قتل ہو کر گرے گا، اور فلاں آدمی قتل ہو کر یہاں گرے گا، ان شاء اللہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واقعی وہ لوگ انہی جگہوں پر گرے۔ میں (عمر) رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ ان مقامات سے بالکل اِدھر اُدھر نہیں گرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی لاشوں کے متعلق حکم دیا تو انہیں گھسیٹ کر کنوئیں میں پھینک دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کفار کی لاشوں کی طرف گئے اور فرمایا: اے فلاں! اے فلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے، میرے ساتھ تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے تو اسے پورا پالیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے، لیکن وہ ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10708]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2873، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 182»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی کی روشنی میں کفر کے سرداروں کے قتل کے بارے میں جیسے پیشین گوئی کی تھی، ایسے ہی ہوا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10709
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُنَادِي عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا
سیدناانس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب صحابۂ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بدر کے کنوئیں پر یوں کلام کرتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! اے امیہ بن خلف! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے پورا پا لیا ہے؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ ایسے لوگوں سے ہم کلام ہیں جو مردہ ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان سے جو کہہ رہا ہوں، تم ان کی بہ نسبت زیادہ نہیں سن رہے ہو؟ لیکن وہ جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10709]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 4/ 109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12043»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10710
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ يَا فُلَانُ يَا فُلَانُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَسْمَعُونَ كَلَامِي قَالَ يَحْيَى فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقًّا وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} [النمل: 80] {وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ} [فاطر: 22]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنویں (جس میں کفار کے مقتولوں کو پھینک دیا گیا تھا) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: او فلاں! اوفلاں! تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے درست پایا ہے؟ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت میرا کلام سن رہے ہیں۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، وہ بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ اب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا، وہ حق تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔ نیز فرمایا: جو لوگ قبروں میں ہیں، توان کو نہیں سنا سکتا۔ [الفتح الربانی/أهم أحداث السنة الثانية للهجرة/حدیث: 10710]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3979،3980، 3981، ومسلم: 932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4864، 4958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4864»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں: حدیث نمبر (۳۳۵۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں