الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ اِنْقِيَادُ مَا اسْتَعْطَى مِنَ الْحَيَوَانَاتِ وَالْجَمَادَاتِ بِبَرَكَتِهِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَأَزْكَى التَّسْلِيمَاتِ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
حدیث نمبر: 11288
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ فَإِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعِبَ وَاشْتَدَّ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک وحشی جانور تھا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر چلے جاتے تووہ کھیلتا کو دتااور آگے پیچھے دوڑتا تھا۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد محسوس کرتا تو پرسکون ہو جاتا، پھرجب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں رہتے،وہ کوئی حرکت نہ کرتا مباداکہ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11288]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح الا ان مجاھد بن جبر لم يصرح بما يفيد سماعه ھذا الحديث من عائشة، اخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 195، والبزار: 2450، وابويعلي: 4441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25329»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11289
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كُنَّا بِالْحُرِّ انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَا عَرُوسَاهْ“ قَالَتْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِيَ الْخِطَامَ فَأَلْقَيْتُهُ فَأَعْلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم وادی حُرّ میں پہنچے اور وہاں سے واپس ہوئے، میں ایک اونٹ پر سوارتھی، اس کے بعد وہ دوڑ پڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ببول کے درختوں کے درمیان زور زور سے پکار رہے تھے: ہائے دلہن! ہائے دلہن! اورمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آوازیں سن رہی تھی۔ اللہ کی قسم! میں اسی کیفیت سے دو چار تھی کہ کسی نے مجھے پکار کر اس کی مہار نیچے پھینکنے کا کہا: میں نے مہار کو نیچے پھینک دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مہار کو اونٹ کے اگلے پاؤں میں الجھا دیا (اور وہ رک گیا)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11289]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي شداد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26641»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11290
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ قَالَ فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَضَعَ ثَوْبَهُ ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَقَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ وَقَالَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا“ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ وَضَرَبَ أُخْرَى فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا“ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَلَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا، کھدائی کے دوران ایک مقام پر چٹان آگئی، جہاں گینتیاں کام نہیں کرتی تھیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور چٹان کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گینتی کو پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اسے زور سے مارا،چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے فرمایا: اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں ہیں، اللہ کی قسم! میں اپنی اس جگہ سے اس وقت وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ گینتی چلائی، چٹان کا دوسرا ایک تہائی ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے ایران کی چابیاں دے دی گئی ہیں، اللہ کی قسم میں مدائن کو اور وہاں کے سفید محل کو اپنی اس جگہ سے اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر تیسری مرتبہ گینتی چلائی تو باقی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اس وقت اس جگہ سے صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11290]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ميمون ابي عبد الله، أخرجه النسائي في الكبري: 8858، وابويعلي: 1685، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18898»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11291
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رُشُّوهَا بِالْمَاءِ فَرَشُّوهَا“ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ أَوِ الْمِسْحَاةَ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ فَضَرَبَ ثَلَاثًا فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ قَالَ جَابِرٌ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام بغیر کچھ کھائے تین روز تک خندق کھودتے رہے، کھدائی کے دوران صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہاں ایک پہاڑی چٹان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو۔ صحابہ کرام نے اس پر پانی چھڑک دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر گینتی اٹھائی اور فرمایا: بسم اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار گینتی چلائی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اچانک میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11291]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14260»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہواکہ، سرکش، باغی اور ضدی قسم کے جانور بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر مطیع و تابع ہو جاتے تھے۔
اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ کیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں اونٹ کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنا منہ زمین پر رکھ دیا تھا۔ جیسا کہ اسی باب کی حدیث سے واضح ہے۔
اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ کیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں اونٹ کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنا منہ زمین پر رکھ دیا تھا۔ جیسا کہ اسی باب کی حدیث سے واضح ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
24. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ خَبْرُ بَعِيرٍ جَابِرِ الَّذِي أعیاہ التعبُ فَبَرَكَ بِهِ فِي الطَّرِيقِ فَضَرَبَهُ ﷺ بر جُلِهِ فَقَامَ كَأَنْشَطِ مَا يَكُونُ مِنَ الْإِبِلِ
اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
حدیث نمبر: 11292
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ يَقُولُ إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَرَكَ بِهِ بَعِيرٌ قَدْ أَزْحَفَ بِهِ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ”مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟“ فَأَخْبَرَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ ”ارْكَبْ يَا جَابِرُ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَقُومُ فَقَالَ لَهُ ”ارْكَبْ“ فَرَكِبَ جَابِرٌ الْبَعِيرَ ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ بِرِجْلِهِ فَوَثَبَ الْبَعِيرُ وَثْبَةً لَوْ لَا أَنَّ جَابِرًا تَعَلَّقَ بِالْبَعِيرِ لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ ”تَقَدَّمْ يَا جَابِرُ الْآنَ عَلَى أَهْلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَجِدْهُمْ قَدْ يَسَّرُوا لَكَ كَذَا وَكَذَا“ حَتَّى ذَكَرَ الْفُرُشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا اونٹ تھک ہار کر اور چلنے سے عاجز ہو کر بیٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کی طرف گئے اور فرمایا: جابر! سوار ہو جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سوار تو ہو جاؤ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اونٹ پر سوار ہوگئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں اونٹ کو مارا اوروہ اچھل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اونٹ کو قابو کرکے پکڑ نہ لیتے تو اوپر سے نیچے جا گرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اب تم چلو اور اپنے اہل خانہ میں پہنچو۔ تم گھر جا کر دیکھو گے کہ وہ تمہارے لیے فلاں فلاں چیز تیار کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بستروں تک کا بھی ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گھر میں) ایک بستر مرد کے لیے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11292]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5079، 5245، 5247، ومسلم: ص 1088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14170»
وضاحت: فوائد: … یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ اور برکت تھی کہ اس طرح کا تھکا ہوا اونٹ خوب چلنے پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ (اس قسم کی) احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے میں حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ (اس قسم کی) احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے میں حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
25. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ تَفَجرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أصَابِعِهِ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ
اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
حدیث نمبر: 11293
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَّةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ ”مَا شَأْنُكُمْ؟“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا فَقُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چمڑے کا ایک چھوٹا سا برتن تھا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کیا کرتے تھے، لوگ اس برتن کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ انہوں نے عر ض کیا: اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے موجود پانی کے علاوہ ہمارے پاس پینےیا وضو کرنے کے لیے پانی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چمڑے کے اس برتن میں رکھ دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی چشموں کی مانند پھوٹنے لگا۔ہم نے پانی پیااور وضو کیا۔سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی رہتا،ویسے ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11293]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3576،ومسلم: 1856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14576»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11294
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ“ قَالَ الْأَعْمَشُ فَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ كَمْ كَانَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، صحابہ کو پانی نہ ملا، پھر پانی سے بھرا ہوا پیتل کا ایک برتن لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا۔میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹ رہا ہے۔ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: وضو کے پانی اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی برکت کی طرف آؤ۔ اعمش کہتے ہیں: مجھے سالم بن ابی جعد نے بتایا کہ انہوں نے جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم پندرہ سو (1500) تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11294]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3807»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11295
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ ”هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”فَأْتِنِي بِهِ“ قَالَ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ ”نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ“
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حال میں صبح کی کہ لشکر میں (لوگوں کے پاس اپنی ضروریات کے لیے) پانی (بالکل) نہ تھا۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! لشکرمیں پانی بالکل نہیںہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ پانی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وہ پانی میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں برتن کے منہ میں ڈال کر انگلیوں کو ذرا کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وضو کے لیے بابرکت پانی موجود ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11295]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه الدارمي: 25، والبزار: 2415، والطبراني: 12560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2268»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11296
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ كُلُّ قَرِيبِ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ وَبَقِيَ مَنْ كَانَ أَهْلُهُ نَائِيَ الدَّارِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حَجَارَةٍ فَصَغُرَ أَنْ يَبْسُطَ أَكُفَّهُ فِيهِ قَالَ فَضَمَّ أَصَابِعَهُ قَالَ فَتَوَضَّأَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ حُمَيْدٌ وَسُئِلَ أَنَسٌ كَمْ كَانُوا قَالَ ثَمَانِينَ أَوْ زِيَادَةً
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز کے لیے آواز دی گئی، جن لوگوں کے گھر مسجد کے قریب تھے، وہ سب اٹھ کر گھروں کو چلے گئے، (تاکہ وضو کر کے آئیں)۔ صرف وہ لوگ رہ گئے جن کے گھر مسجد سے دور تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا، وہ اس قدر چھوٹا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں ہتھیلی کو نہ پھیلا سکے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں کو آپس میں ملالیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کتنے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسییا اس سے کچھ زائد افراد تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11296]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12055»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11297
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبَعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا ثَلَاثَمِائَةٍ
سیدنا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوراء مقام پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں محض اس قدر پانی بھی نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیاں اس میں ڈوب جاتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو وضو کرنے کا حکم دیااور اپنی ہتھیلی پانی میں رکھ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے اور ان کے کناروں سے پانی نکلنے لگا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم تین سو تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11297]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3572، ومسلم: 2279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12772»
الحكم على الحديث: صحیح