الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11259
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11259]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3216، والنسائي: 6/ 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24638»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۱۴) اور اس کے فوائد۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11260
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ مَا شَاءَ قُلْتُ عَمَّنْ تُؤْثِرُ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ ذَلِكَ
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ آپ جس قدر چاہیں، مزید عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیایہ آپ کس سے روایت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے یاد نہیں۔ میرا خیال ہے کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11260]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26171»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11261
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11261]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»
وضاحت: فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہما۔
الحكم على الحديث: صحیح
17. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: Q11262]
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي اخْتِصَامِهِ ﷺ بِنُزُولِ الْقُرْآنِ عَلَيْهِ وَهُوَ أَفْضَلُ الْمُعْجِزَاتِ عَلَى الْإِطْلَاقِ
اس امر کا بیان کہ آپ پر قرآن مجید نازل کرکے آپ کو خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ اور یہ معجزہ علی الاطلاق تمام معجزات سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 11262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو معجزات اور نشانیوں میں سے وہ کچھ عطا کی گئی کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، اور جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ صرف وحی1 ہے، اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11262]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4981، 7274، ومسلم: 152، 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8472»
وضاحت: فوائد: … ہر نبی کو اس کے زمانے کے مطابق معجزات اور خارق عادت امور عطا کیے گئے، جن سے ان کی تصدیق ہوتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مختلف معجزاب عطا کیے گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد والے افراد کو بھی حیران و ششدر کیے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پر ایمان لانے والوں کی اکثریت قرآن مجید سے متأثر ہوئی، اب پندرہویں صدی جاری ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام اور خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا اعجاز قائم ہے اور قائم رہے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11263
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ فَقَالَ كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ مَنِ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ مَرَّتَيْنِ قَوْلٌ فَصْلٌ وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنَى أَعَاجِيبُهُ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ کے بعد آپ کی امت اختلاف کا شکار ہو گی، میں نے کہا: اے جبریل! اس اختلاف سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کی شان توڑتا ہے، جو اس کو تھامے گا، وہ نجات پائے گا، جو اسے چھوڑ دے گا، وہ ہلاک ہوگا، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا،یہ سارا حق ہے، اس میں باطل کی آمیزش نہیں،زبانیںاس جیسا کلام پیش نہیں کر سکتیں، اس کے عجائبات اور اسرار ختم نہیں ہوتے، اس میں تم سے پہلوں کی خبریں ہیں،تمہارے مابین ہونے والے اختلافات کے فیصلے ہیں اور تمہارے بعد ہونے والی اخبار کا بیان ہے۔! وہ صرف وحی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کا معجزہ صرف وحییعنی قرآن مجید ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باقی معجزات اس سے کم درجہ میں ہیں۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/حدیث: 11263]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور، ثم ھو منقطع، محمد بن اسحاق، لاتعريف له رواية عن محمد بن كعب القرظي، أخرجه الترمذي: 2906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 704»
الحكم على الحديث: ضعیف
19. بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ إِنْشِقَاقُ الْقَمَرِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ چاند کا پھٹنا، کا بیان
حدیث نمبر: 11264
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اشْهَدُوا“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چانددو ٹکڑے ہوا، یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گواہ ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11264]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3636، 4865،ومسلم: 2800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3583»
وضاحت: فوائد: … یہ ایسا عالمی اور کائناتی معجزہ ہے کہ جو ہمارے نبی کے ساتھ خاص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو ایسا معجزہ عطا نہیں کیا گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11265
عَنْ أَنَسٍ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} [القمر: 1-2]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں دو بار چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیںیہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری نے ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی (ج۴، ص۱۹۱) میں اور حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری (ج۷، ص۱۸۳) میں دیگر روایات کو سامنے رکھ کر اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ مرتین کا معنی فِلْقَتَیْنِ ہے یعنی چاند دو ٹکڑے ہوا نہ کہ دو مرتبہ پھٹا۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/حدیث: 11265]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»
وضاحت: فوائد: … اہل مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا، علماء کے درمیانیہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند ثابت شدہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن قریش نے ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11266
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
قتادۃ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11266]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14003»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11267
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَفِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ فَقَالُوا سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ فَقَالُوا إِنْ كَانَ سَحَرَنَا فَإِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوی میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر نظر آ رہا تھا، کافروں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا، لیکن بعض لوگوں نے کہا: اگر ہم پر جادو کر دیا ہے تو اس کو اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ سب لوگوں پر جادو کر دے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11267]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حصين بن عبد الرحمن لم يسمع ھذا الحديث من محمد بن جبير بن مطعم، بينھما جبير بن محمد بن جبير وھو مجھول، أخرجه الترمذي: 3289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16871»
الحكم على الحديث: ضعیف