🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابٌ وَمِن مُعْجِزَائِهِﷺ نُطْقُ الْجَمَادَاتِ وَالْحَيَوَانِ وَحَنِيْنِ الْجِذْعِ لِفِرَاقِهِ
اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11278
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ قَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ عَنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَقَالَ يَا عَجَبِي ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ فَقَالَ الذِّئْبُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ قَالَ فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِي ”أَخْبِرْهُمْ“ فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنے بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11278]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، أخرجه الترمذي: 2181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11814»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11279
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يَهُشُّ عَلَيْهَا فِي بَيْدَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِذْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ فَرَمَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ ثُمَّ إِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتَّى أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ
۔(دوسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں پر درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھا، اچانک ایک بھیڑ ئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری چھڑا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، … …۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11279]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11866»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے سابقہ مذہبی ادب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح تذکرہ ملتاہے۔ اس ضمن میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑا خوبصورت تذکرہ موجود ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)، نیز حدیث نمبر (۱۰۴۸۶) میں مذکورہ مضمون ملاحظہ ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11280
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عَبْسٍ قَالَ كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً قَالَ فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا يَا آلَ ذَرِيحٍ قَوْلٌ فَصِيحٌ رَجُلٌ يَصِيحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ
مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹ سے یہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11280]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر اسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن ابي زياد وھو ممن لا يحتمل تفرده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16815»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ جمادات کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی و رسول ہونے کا شعور تھا۔ اور مکہ میں ایک پتھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل آپ کو سلام کہا کرتا تھا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ چاہے تو جمادات کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے۔
نیز معلوم ہوا کہ علامات قیامت میں سے ایکیہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل درندے یعنی جانور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہم کلام ہوں گے اور اللہ چاہے تو جانوروں کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے جیسا کہ بھیڑیئے نے چرواہے کے ساتھ گفتگو کی۔

الحكم على الحديث:
ھذا الاثر اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ حَنِيْنِ الْجِذْعِ لِفِرَاقِهِ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں غمگین ہونے پر کھجور کے تنے کا گریہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11281
عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرُبُ وَفِي رِوَايَةٍ يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَرَاكَ النَّاسُ وَتُسْمِعَهُمْ خُطْبَتَكَ قَالَ ”نَعَمْ“ فَصُنِعَ لَهُ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ اللَّاتِي عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ الْمِنْبَرَ مَرَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا جَاوَزَهُ خَارَ الْجِذْعُ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَّى إِلَيْهِ فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ وَغُيِّرَ أَخَذَ ذَاكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَكَانَ عِنْدَهُ حَتَّى بَلِيَ وَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:جب مسجد کھجور کے تنوں اور شاخوں سے بنی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے پاس نماز ادا کیا کرتے تھے اور اسی کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اجازت دیں تو ہم آپ کے لیے ایک ایسی چیز تیار کردیں جس کے اوپر کھڑے ہو کرآپ جمعہ کے دن خطبہ دیا کریں،تاکہ سب لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ اپنا خطاب (آسانی سے) سب لوگوں کو سنا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تین سیڑھیوں والا منبر بنا دیا گیا، جب منبر تیار ہوگیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی جگہ پر رکھوا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جانے کے لیے اس تنے کے پاس سے گزرے تو وہ تنا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، یہاں تک کہ وہ پھٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف واپس پلٹے، اپنا ہاتھ مبارک اس پر پھیرا،یہاں تک کہ وہ پر سکون ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی طرف گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی نماز پڑھتے تو اسی تنے کے قریب پڑھا کرتے تھے۔ جب مسجد کو گرا کراس کی عمارت تبدیل کی گئی،تب اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ لے گئے، وہ انہی کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ بو سیدہ ہو گیا، اسے دیمک کھا گئی اور وہ ریزہ ریزہیعنی بھر بھرا ہوگیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11281]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قصة اخذ ابي بن كعب للجذع، ومداره علي عبد الله بن محمد بن عقيل، وھو حسن الحديث في المتابعات والشواھد، ولم يتابع علي ھذه القصة، ولم يرد ما يشھد لھا، فھي ضعيفة، اخرجه ابن ماجه: 1414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21568»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11282
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَصَنَعُوا لَهُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يَقُومُ فَصَغَى الْجِذْعُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ ”اسْكُنْ“ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ”هَذَا الْجِذْعُ حَنَّ إِلَيَّ“ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اسْكُنْ إِنْ تَشَأْ غَرَسْتُكَ فِي الْجَنَّةِ فَتَأْكُلَ مِنْكَ الصَّالِحُونَ وَإِنْ تَشَأْ أَعِيدُكَ كَمَا كُنْتَ رَطْبًا“ فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ دُفِعَ إِلَى أُبَيٍّ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى أَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ
۔(دوسری سند) اس میں یہ ہے کہ صحابہ نے آپ کے لیے تین سیڑھیوں والا منبر تیار کیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسب معمول خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو وہ تنا آپ سے جدائی پر رونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: خاموش ہو جا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: یہ تنا میری جدائی پر رویا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: خاموش ہو جا، اگر تو چاہتاہے تو میں تجھے جنت میں لگا دوں تاکہ صالحین تیرا پھل کھائیں اور اگر تو چاہے تو تجھے پہلے کی طرح تروتازہ کردوں۔ پس اس نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو وہ تنا سیدنا ابیبن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا گیا۔ وہ انہی کے پاس رہا یہاں تک کہ اسے دیمک چاٹ گئی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فقد تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل بھذه السياقة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21580»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11283
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ مِنْبَرُهُ اسْتَوَى عَلَيْهِ فَاضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَنَتْ وَفِي رِوَايَةٍ فَسَكَتَتْ
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے وقت مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنے کا سہارا لیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے منبر تیار کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون (تنا) اونٹنی کی طرح بے چین ہو کر رونے لگا۔ یہاں تک کہ اس کی آواز مسجد میں موجود سب لوگوں نے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر سے نیچے اتر کر اس تنے کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11283]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 449، 918، 3585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14189»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 449
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11284
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ قَالَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ قَالَ ”بَلَى“ قَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ“
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، ایک انصاری خاتون،جس کا غلام بڑھئی تھا، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عر ض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا ایک غلام بڑھئی ہے، کیا میں اس سے کہہ کر آپ کے خطبہ دینے کے لیے ایک منبر تیار کروا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں۔۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرکھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما نے لگے، تو وہ تنا جس کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوا کرتے تھے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے قریب جو اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا،اس سعادت سے محرومی پر یہ رویا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11284]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14255»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14255
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11285
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ قَالَ ”وَلَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ منبر تیار ہونے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ستون کے قریب کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، منبر تیارہونے پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر منتقل ہو گئے تو وہ تنا رونے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قریب آکر اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے سینے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11285]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن ماجه: 1415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2236»
وضاحت: فوائد: … یہ تنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے متأثر تھا، جب اس نے اس ذکر کو گم پایاتو وہ رونے لگا، اللہ تعالی، اس کی علامات اور اس کے ذکر کے سلسلے میں کائنات کی ہر چیز کو شعور ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ اِنْقِيَادُ مَا اسْتَعْطَى مِنَ الْحَيَوَانَاتِ وَالْجَمَادَاتِ بِبَرَكَتِهِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَأَزْكَى التَّسْلِيمَاتِ
اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11286
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتَصْعَبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ وَإِنَّهُ اسْتَصْعَبَ عَلَيْنَا وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ”قُومُوا“ فَقَامُوا فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَةٍ فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ فَقَالَ ”لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ“ فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ نَحْوَهُ حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ بَهِيمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَكَ وَنَحْنُ نَعْقِلُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ ”لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلُحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ“
سیدنا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصاریوں کے ایک گھرانے کا اونٹ تھا، جس پروہ پانی لاد کر لاتے اور فصلوں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ اونٹ سر کش ہو گیا اور اپنی پشت پر کوئی وزن اٹھانے سے انکاری ہو گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک اونٹ تھا،جس پر ہم فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اب وہ ضدی اور سر کش ہو گیا ہے اور اپنی پشت پر کوئی وزن نہیں لادنے دیتا۔ ہماری کھیتیاں اور کھجوروں کے درخت خشک ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایاـ: اٹھو۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں داخل ہوئے، وہ اونٹ باغ کے ایک کونے میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف چل کر گئے، انصار رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! وہ باؤلے کتے کی طر ح باؤلا ہو چکا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ نہ کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی طرف سے کوئی اندیشہ نہیں۔ اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لپک کرآیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پیشانی کے بال پکڑے تووہ ازحد مطیع و تابع فرمان ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کام میں لگا دیا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بے عقل جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ کرتا ہے،جبکہ ہم تو عقل مند ہیںاور ہمیں زیادہ حق پہنچتا ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنا روا نہیں، اگر کسی انسان کے لیے کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میںبیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر شوہر کے بہت حقوق ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شوہر پاؤں سے سر کی چوٹی تک پھوڑوں سے بھرا ہوا ہو اور ان میں سے خون اور پیپ رستی ہو، اور بیوی آکر اسے چاٹ چاٹ کر صاف کرے، تب بھیوہ اپنے شوہر کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکتی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11286]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: والذي نفسي بيده لو كان من قدمه الخ۔ تفرد به حسين المروزي عن خلف بن خليفة، وخلف كان قد اختلط قبل موته، اخرجه البزار: 2454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12641»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: والذي نفسي بيده لو كان من قدمه الخ۔ تفرد به حسين المروزي عن خلف بن خليفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11287
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَاتُوا خِطَامًا“ فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ قَالَ ”إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک سفر سے واپس آئے، جب ہم بنو نجار کے ایک باغ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سرکش اونٹ تھا، جو کوئی بھی باغ میں جاتا اونٹ اس پر حملہ کر دیتا، انصار نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو بلایا، اس نے آکر اپنے ہونٹ زمین پر رکھ دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ــ اس کی مہار لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رسی اس سے باندھ کر اس کے سر پر رکھ دی اور اونٹ کو اس کے مالک کے سپرد کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: سرکش اور نا فرمان جن و انس کے سوا زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز میرے متعلق جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11287]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 473، والدارمي: 18، والطبراني في الكبير: 12744، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14385»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک اہم قانون بیان کیا گیا ہے کہ سرکش اور باغی جن وانس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز میں شعور اور احساس ہے، جس شعور کی روشنی میں وہ اللہ تعالی، اس کی علامتوں اور اس کے رسول کو سمجھتی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں