الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي قِيَامِهِ ﷺ بِاللَّيْلِ وَوِتْرِهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل اور وتر وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 11360
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ دَخَلَ الْمَنْزِلَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ أَطْوَلَ مِنْهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ لَا يَفْصِلُ فِيهِنَّ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَرْكَعُ وَهُوَ جَالِسٌ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ جَالِسٌ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد گھر تشریف لاتے تو دو رکعتیں ادا فرماتے، پھر ان سے زیادہ طویل دو رکعتیں ادا فرماتے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین وتر ادا کرتے اور ان میں کوئی فاصلہ نہیں کرتے تھے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا فرماتے اور ان کے رکوع و سجود بھی بیٹھ کر ہی ادا کر لیتے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25738»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11361
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ
اسود کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کی بابت دریافت کیا، انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں سو جاتے اور آخری حصہ میں قیام فرمایا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24846»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رات کے ہر حصے میں قیام کرنا ثابت ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترجیحیہی ہوتی تھی کہ رات کے آخری حصے میں قیام کیا جائے، کیونکہیہ وقت افضل ہوتا ہے۔تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11362
عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ
یعلی بن مملک سے مروی ہے کہ انہوں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد نوافل ادا فرماتے، اس کے بعد رات کو جس قدر اللہ توفیق دیتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرماتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز سے ہٹ کرتقریباً اتنی دیر سو جاتے جتنی دیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا ہوتا۔ پھر نیند سے بیدار ہو کر اتنی ہی دیر پھر قیام کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11362]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن مملك، اخرجه عبد الرزاق: 4709، وابن حبان: 2639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27082»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11363
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا قَالَتْ بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فَقَالَتْ الْمُفَصَّلَ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ يَزِيدُ يَقْرِنُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں،ہاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو پڑھ لیتے۔ میں نے پوچھا: کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ عمر والے ہوگئے تو بیٹھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورتوں کوملا کر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل سورتیں پڑھاکرتے تھے۔ میں نے سوال کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا مہینہ بھی روزے رکھاکرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی پورا مہینہ روزوں کا ناغہ بھی نہیں کیا۔وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ کچھ نہ کچھ روزے ضروررکھا کرتے تھے۔ یزید کی روایت میں یقرأ کی بجائے یقرن کا لفظ ہے۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے)۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11363]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25899»
وضاحت: فوائد: … ان تمام مسائل کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
حَطَمَہُ النَّاسُ: لوگوں نے اسے بوڑھا کر دیا،یعنی وہ آدمی لوگوں کے مسائل و مشاکل حل کرنے کی وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا۔
حَطَمَہُ النَّاسُ: لوگوں نے اسے بوڑھا کر دیا،یعنی وہ آدمی لوگوں کے مسائل و مشاکل حل کرنے کی وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِهِ تَطَوُّعًا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفلی روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 11364
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ حَتَّى يُقَالَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ الْأَيَّامَ حَتَّى لَا يَكَادُ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنَ الْجُمُعَةِ إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ وَإِلَّا صَامَهُمَا وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادُ أَنْ تَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا قَالَ ”أَيُّ يَوْمَيْنِ؟“ قَالَ قُلْتُ يَوْمُ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ ”ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأَحَبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ“ قَالَ قُلْتُ وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ قَالَ ”ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ“
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی کئی دن تک مسلسل روزے رکھتے یہاں تک کہ کہاجاتا کہ لگتا ہے کہ اب آپ ناغہ نہیں کریں گے، لیکن کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل عرصہ تک ہفتہ کے دو دنوں کے سوا کوئی روزہ نہ رکھتے اور آپ جس قدر نفلی روزے ماہ شعبان میں رکھتے اتنے روزے دوسرے کسی مہینہ میں نہیں رکھتے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے رکھنے لگتے ہیں تو چھوڑتے ہی نہیں اور اگر ترک کرنے لگتے ہیں تو ہفتہ میں دو دنوں کے سوا روزے رکھتے ہی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سے دو دن؟ میں نے عرض کیا: سوموار اور جمعرات کا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دو دنوں میںانسانوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں اور مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اللہ کے سامنے جب پیش کیے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ جتنے نفلی روزے ماہ شعبان میں رکھتے ہیںاتنے روزے دوسرے کسی اور مہینے میں نہیں رکھتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان والا یعنی شعبان ایسا مہینہ ہے کہ لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں، جبکہ اس مہینے میں اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اللہ کے حضور اس حال میں پیش کیے جائیں تو میں روزے سے ہوں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11364]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه النسائي: 4/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22096»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11365
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کی بابت دریافت کیا،انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس مہینے بھی (نفلی) روزے رکھے اس میں سے کچھ دن ناغہ بھی کیا اور جس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزوں کا ناغہ کیا، اس میں کچھ نہ کچھ روزے بھی ضرور رکھے ہیں، وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی معمول رہا۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11365]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24838»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11366]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 2920، 3405، والنسائي: 4/ 199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25420»
وضاحت: فوائد: … تمام مسائل کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ بَعْضٍ مَا جَاءَ فِي حَجَّهِ ﷺ
حج نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11367
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةَ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ ”مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ“ وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا، کچھ لوگ تو قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے، لیکن کچھ لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، ان پر احرام کی وجہ سے جو حلال چیز حرام ہو چکی ہے، وہ حج پورا ہونے تک حلال نہیں ہو گی، لیکن جن کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیں، پھر وہ حج کے لیے علیحدہ احرام باندھیں گے اور قربانی کریں گے، جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین روزے حج کے ایام میںاور سات روزے گھر جا کر رکھے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا، اس کے بعد بیت اللہ کے گرد سات چکروں میں سے پہلے تین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں عام رفتار سے چلے، طواف مکمل کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراہیم کے قریب دو رکعتیں ادا کی اور جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو صفا پر تشریف لے گئے، اور صفا مروہ کی سعی کی اور حج سے فارغ ہونے تک احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حلال نہ ہوئی، دس ذوالحجہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی ہر چیز حلال ہو گئی،جو لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، انھوں نے بھی اسی طرح کے اعمال سرانجام دیئے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادا کیے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11367]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1691، ومسلم: 1227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6247»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے شروع میں مذکورہ تَمَتَّعَ کے لغوی معنی مراد ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی حاصل کر لیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران ادا کر رہے تھے، لغوی اعتبار سے حج قران پر حج تمتع کا اطلاق بھی ہو جاتا ہے، اصطلاحی طور پر ان کی تعریفات میں فرق ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر اس کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی شامل کر لیا۔ اس حدیث کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا سے مراد یہ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کے دوران تلبیہ کہتے تو پہلے عمرے کا ذکر کر دیتے اور پھر حج کا، اس سے مراد ابتدائے احرام کی حالت نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر اس کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی شامل کر لیا۔ اس حدیث کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا سے مراد یہ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کے دوران تلبیہ کہتے تو پہلے عمرے کا ذکر کر دیتے اور پھر حج کا، اس سے مراد ابتدائے احرام کی حالت نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11368
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ ”اسْقُونِي“ فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ فَقَالَ ”لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11368]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء اليي السقاية فاستسقي،فقال العباس: يا فضل! اذھب الي امك فأت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقني۔)) قال: يا رسول الله! انھم يجعلون ايديھم فيه، قال: ((اسقني۔)) فشرب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1841»
وضاحت: فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہونے کی حالت ہی میں بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنی لاٹھی سے حجر اسود کا استلام کیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم پینے کے مقام پر تشریف لے گئے اور فرمایا: مجھے زمزم پلائو۔ پلانے والوں نے عرض کی کہ یہاںتو لوگ بکثرت آتے رہتے ہیں۔ (یعنییہ پانی صاف نہیں ہے) ہم آپ کے لیے گھر سے صاف ستھرا پانی لا دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے بھی وہیں سے پلائو جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔ فوائد: … کتاب الحج میں تفصیل کے ساتھ یہ مسائل گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح