🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي لِبَاسِهِ ﷺ وَزِينَةٍ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور زینت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11350
عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَلَا أَلْبَسُ الْقَمِيصَ الْمُكَفَّفَ بِالْحَرِيرِ“ قَالَ وَأَوْمَأَ الْحَسَنُ إِلَى جَيْبِ قَمِيصِهِ وَقَالَ أَلَا وَطِيبُ الرِّجَالِ رِيحٌ لَا لَوْنَ لَهُ أَلَا وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ سرخ رنگ کی ریشم کی چادر پر سوار ہوں گا، نہ عصفر بوٹی سے رنگا کپڑا پہنوں گا اور نہ ایسی قمیص پہنوں گا، جس کے گریبان اور آستینوں پر ریشم لگا ہوا ہو۔ ساتھ ہی حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کیطرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: خبردار!مردوں کی خوشبو وہ ہے، جس کی مہک ہو لیکن اس میں رنگ نہ ہو اورعورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس میں رنگ ہو اور خوشبو کی مہک نہ ہو۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11350]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله: ’ولا البس القميص المكفف بالحرير فقد صح ما يخالفه، وھذا اسناد لم يمسع الحسن البصري من عمران، أخرجه ابوداود: 4048، وأخرجه مختصرا الترمذي: 2788، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20217»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۶۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11351
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیانیعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11351]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 4189،و ابن ماجه: 3633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26887»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۲۰) والا باب

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11352
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الْمِسْكُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کستوری کا ذکر کیا گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سب سے عمدہ خوشبو ہے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11352]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11289»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11353
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
سیدنا عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونسی خوشبو لگاتی تھیں؟ انھوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11353]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24606»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11354
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے میرے نزدیک پسندیدہ چیزیں بیویاں اور خوشبو ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11354]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 7/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12318»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۵۷)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11355
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْتَحِلُ بِالْإِثْمَدِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَكْتَحِلُ فِي كُلِّ عَيْنٍ ثَلَاثَةَ أَمْيَالٍ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سونے سے پہلے اثمد سرمہ ڈالا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آنکھ میں تین سرمچو ڈالتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11355]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه الترمذي في الشمائل: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3320»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11356
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم بوئی کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 726، والبيھقي في دلائل النبوة: 1/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17636»
وضاحت: فوائد: … کتم: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے، اگر کتم اور مہندی کو ملایا جائے تو سیاہی اور سرخی کا درمیانہ رنگ نکلتا ہے، جس کو ہم (رضی اللہ عنہما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضی اللہ عنہا رحمتہ اللہ علیہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہا own)کہتے ہیں۔
خلاصہیہ ہے کہ داڑھی اور سر کے بالوں کو وہ رنگ نہیں لگایا جا سکتا جو واضح طور پر کالا نظر آتا ہو، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۰۱) والا باب اور اس سے اگلا باب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11357
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو سیدھا چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11357]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن خالد فمن رجال مسلم، والصواب في ھذا الحديث الارسال، أخرجه الحاكم: 2/ 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13287»
وضاحت: فوائد: … عادات میں جب تک نہی نہ آئے، جواز قائم رہتا ہے، چونکہ مانگ نکالنے سے نہی وارد نہیں ہوئی، لہذا مانگ نکالنا جائز ہے اور نہ نکالنا بھی جائز ہے، کیونکہ نکالنے کا حکم بھی وارد نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگ نکالنا بھی ثابت ہے اور نہ نکالنا بھی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی بابت شریعت نے کوئی مخصوص حکم نہیں دیا، حالات کے تحت دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، ایسے مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل کتاب کی موافقت کرنا ان کی تالیف قلبی کے لیے تھا کہ شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں، مگر جب محسوس ہوا کہ ان کی موافقت مفید نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے بھی پسند تھی کہ وہ کم از کم، دعوے کی حد تک ہی سہی، سماوی دین پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار تھے، اس کے برعکس مشرکین تو پکے بت پرست تھے۔ مانگ درمیان میںنکالنی چاہیے کیونکہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ درمیان سے مانگ نکالنا ہی تھی۔ واللہ اعلم۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۸۲۲۵) والا باب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَاتِهِ ﷺ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11358
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ يَعْنِي بِالْعِبَادَةِ قَالَتْ كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ كَانَ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ
علقمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبادت کے لیے ایام مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبادات کے لیے ایام مخصوص یا متعین نہیں کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال دائمی ہوتے تھے۔ عمل کرنے کے لیے جس قدر استطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھتے تھے تم میں سے کون اتنی استطاعت رکھتا ہے؟ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11358]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1987،ومسلم: 783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26077»
وضاحت: فوائد: … زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادات دائمی اور مسلسل ہوتی تھیں، ما سوائے چند مواقع کے، جیسے شعبان میں روزے رکھنا، شب قدر میں قیام کرنا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي قِيَامِهِ ﷺ بِاللَّيْلِ وَوِتْرِهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل اور وتر وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11359
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ائْتِ عَائِشَةَ فَسَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ حَكِيمٌ وَعَرَفَتْهُ قَالَ نَعَمْ أَوْ بَلَى قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ فَصَارَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا مِنْ بَعْدِ فَرِيضَةٍ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ ثُمَّ بَدَا لِي وِتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكْعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ فَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا شَغَلَ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ أَوْ وَجْعٍ أَوْ مَرَضٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ أَمَا لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً
زرارہ بن اوفی سعد بن ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور ان سے وتر کے متعلق سوالات کیے۔ انہوں نے جواب دیا:کیا میں تجھے یہ نہ بتلاؤں کہ روئے زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتروں کے متعلق سب سے زیادہ علم کسے ہے؟سعد نے کہا: جی بتایئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے دریافت کرو۔ پھر واپس آکر مجھے بھی ان کے جواب سے مطلع کرنا۔ ابن ہشام کہتے ہیں: ان کی بات سن کر میں حکیم بن افلح کے ہاں گیا اور ان کو بھی اپنے ساتھ ام المؤمنین کے ہاں لے جانا چاہا تو انہوں نے کہا کہ میں ان کے ہاں نہیں جاؤں گا۔ میں نے انہیں ان (سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ہونے والی جنگ جمل کے) دوگروہوں کے متعلق کسی قسم کی بات کرنے سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی، بلکہ وہ خود سیاست میں نکل آئیں۔ ابن ہشام کہتے ہیں: لیکن جب میں نے ان کو قسم دی تو وہ میرے ساتھ چلے آئے، ہم ان کے ہاں گئے۔ انہوں نے حکیم کو پہچان کر پوچھا: حکیم ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ حکیم نے جواب دیا: یہ سعد بن ہشام ہے۔ انہوں نے پوچھا: ہشام کون؟ حکیم نے بتایا کہ عامر کا بیٹاتو انہوں نے عامر کے حق میں رحمت کی دعا کی اور کہا: عامر بہت اچھا آدمی تھا۔ میں نے (حکیم نے) عرض کی:ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ کہنے لگیں: قرآن ہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق ہے۔ یہ سن کر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کی بات یاد آگئی۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: کیا تم سورۂ مزمل نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں پڑھتا ہوں۔ کہنے لگیں:اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع والے حصے میں قیام اللیل فرض کیا تھا،۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ایک سال تک اس قدر طویل قیام کرتے رہے کہ ان کے پاؤں سوج جاتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ ماہ تک آسمانوں پر رو کے رکھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں اس حکم کی تخفیف نازل فرمائی۔ قیام اللیل جو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فرض تھا، اس کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نفل قرار پایا۔ اس کے بعد میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے یاد آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وتر کے بارے میں تو پوچھ لوں۔ میں نے عرض کی: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کینماز وتر کے متعلق بھی آگاہ فرما دیں۔ انہوں نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، اللہ تعالیٰ کو جب منظور ہوتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کے کسی حصہ میں بیدار کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کرتے، پھر وضو کرتے، پھر مسلسل آٹھ رکعات یوں پڑھتے کہ آٹھویں میں (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے دعائیں اور استغفار کرتے،پھر سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت ادا کرتے۔ پھر بیٹھ کر (آخری تشہد میں) اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعائیں کرتے۔ پھر اس قدر مناسب آواز سے سلام پھیرتے کہ ہمیں سلام کی آواز سنائی دے جاتی۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں ادا کرتے۔ بیٹے! اس طرح کل گیارہ رکعات ہوتیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وزن بڑھ گیا (اور عمر زیادہ ہونے لگی) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات وتر ادا کرتے اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات ادا فرماتے۔ بیٹے! یہ اس طرح نو رکعات ہو گئیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کبھی کسی وقت میں نماز ادا فرماتے تو اس وقت میں نماز ادا کرنے پر دوام فرماتے۔ اور کبھی نیندیا خرابی طبع یا بیماری کی وجہ سے قیام اللیل نہ کر سکتے تو دن کے وقت بارہ رکعات ادا فرماتے۔ میرے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں سارا قرآن پڑھا ہو یا صبح تک قیام کیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ مسلسل روزے نہیں رکھے۔ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی حدیث ان کو سنائی توکہنے لگے: انہوں نے بالکل درست بیان کیاہے۔ اگر میں ان کے ہاں جاتا ہوتا تو میں خودان کی خدمت میں حاضر ہوتا تاکہ وہ براہ راست مجھے بیان فرمائیں۔ [الفتح الربانی/العادات المباركة/حدیث: 11359]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24773»
وضاحت: فوائد: … نماز وتر اور قیام اللیل کی تمام کیفیات ان سے متعلقہ ابواب میں گزر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں