الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ حَيَاةِ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ وَأُمُورٍ تاريخِيَّةِ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ وَبِغَيْرِهِمْ
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
حدیث نمبر: 11612
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَتَلَاعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ لِلَّذِي يَكْرَهُ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، جبکہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے۔ پھر لعان کرنے والی عورت نے ایسی شکل والا بچہ جنم دیا تھا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11612]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6854، 7165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23189»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے لعان مسجد میں کیا تھا اور میں حاضر تھا اور عصر کے بعد کیا تھا، یہ تمام مسائل پہلے گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11613
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَتَوَضَّأُ إِذَا جَامَعَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ“ قَالَ سُفْيَانُ أَبُو سَعِيدٍ أَدْرَكَ الْحَرَّةَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی ایک دفعہ مجامعت کے بعد دوبارہ لوٹنا چاہے تو وہ وضو کر لے۔ سفیان نے کہا: سیدنا ابو سعید، حرّہ کی لڑائی کے بعد تک زندہ رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11613]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11050»
وضاحت: فوائد: … ۶۳ھمیںیزید بن معاویہ اور اہل مدینہ کے ما بین حرہ کی لڑائی واقع ہوئی تھی۔
اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۶) کا باب
اس باب کی احادیث سے اور حدیث نمبر (۹۰۳) کی شرح میں مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ جنبی آدمی کھانا کھاتے وقت ہاتھ دھوئے یا وضو کرے، اگر ہاتھوں پر نجاست کے آثار ہوں تو ہاتھ دھونا ضروری ہوں گے۔
دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۶) کا باب
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11614
حَدَّثَنَا قَرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خِفَافٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْغَلَّةَ بِالضَّمَانِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي سَمِعْتُ مِنْ قَرَّانَ بْنِ تَمَّامٍ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ وَكَانَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بَاقِيًا وَفِيهَا مَاتَ ابْنُ الْمُبَارَكِ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نفع ضمانت کے عوض ہوتا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد امام احمد بن حنبل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: میں نے قران بن تمام سے ۱۸۱ ھ میں سماع کیا تھا، اس سال امام ابن مبارک حیات تھے، لیکن پھر اسی سال ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11614]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه الترمذي: 1285، والنسائي: 7/ 254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25790»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11615
عَنْ شَرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ سَبْعَةَ نَفَرٍ خَمْسَةً قَدْ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاثْنَيْنِ قَدْ أَكَلَا الدَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلَمْ يَصْحَبَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا اللَّذَانِ لَمْ يَصْحَبَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَبُو عُقْبَةَ الْخَوْلَانِيُّ وَأَبُو فَاتِحٍ الْأَنْمَارِيُّ
شرجیل بن مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے سات ایسے افراد کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے کہ ان میں سے پانچ تو وہ ہیں، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا اعزاز حاصل تھا اور دو آدمی ایسے تھے، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل نہ ہو سکا، وہ قبل از اسلام دور جاہلیت میں جانوروں کے جسم سے بہنے والا خون پیا کرتے تھے، ان کے نام ابو عقبہ خولانی اور ابو صالح انماری ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11615]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17938»
وضاحت: فوائد: … ابو عقبہ خولانی کے صحابی ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح