الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں مشترک ہیں
حدیث نمبر: 11582
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ ”رَأَيْتُ قُبَيْلَ الْفَجْرِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ الْمَقَالِيدَ وَالْمَوَازِينَ فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهَذِهِ الْمَفَاتِيحُ وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهِيَ الَّتِي تَزِنُونَ بِهَا فَوُضِعْتُ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُ ثُمَّ جِيءَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُزِنَ بِهِمْ فَوَزَنَ ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُزِنَ فَوَزَنَ ثُمَّ جِيءَ بِعُثْمَانَ فَوُزِنَ بِهِمْ ثُمَّ رُفِعَتْ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز طلوع آفتاب کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج طلوع فجر سے کچھ دیر قبل یوں دیکھا کہ گویا مجھے چابیاں اور ترازو دیئے گئے، چابیاں تو یہی چابیاں ہیں، اور ترازو سے مراد بھی یہی ترازو ہیں، جن سے تم اشیاء کا وزن کرتے ہو۔ مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر میرا ان کے بالمقابل وزن کیا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لا کر ان کے بالمقابل وزن کیا گیا۔ تو وہ بھاری رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور وزن کیا گیا تو وہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو کو اوپر اٹھا لیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11582]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبيد الله بن مروان في عداد المجھولين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5469»
وضاحت: فوائد: … یہ چابیاں، اس سے یہ تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ امت ان چابیوں کے ذریعے زمین کے خزانے دریافت کرے گی۔
یہ ترازو، جن سے تم وزن کرتے ہو، ممکن ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترازو دیئے گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو عدل وانصاف کا حکم دیں، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ اس امت کو اسرار و رموز عطا کیے گئے ہیں، جن کے ذریعےیہ بعض امور کو بعض پر ترجیح دے گی، جیسے بعض انبیا کو بعض پر ترجیح دینا، بعض صحابہ کو بعض پر ترجیح دینا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کہ ان ترازوؤں کو ان ہی ہستیوں کا وزن کرنے کے لیے لایا گیا ہو، تاکہ ان کی فضیلت ثابت ہو جائے۔
یہ ترازو، جن سے تم وزن کرتے ہو، ممکن ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترازو دیئے گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو عدل وانصاف کا حکم دیں، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا معنییہ ہو کہ اس امت کو اسرار و رموز عطا کیے گئے ہیں، جن کے ذریعےیہ بعض امور کو بعض پر ترجیح دے گی، جیسے بعض انبیا کو بعض پر ترجیح دینا، بعض صحابہ کو بعض پر ترجیح دینا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کہ ان ترازوؤں کو ان ہی ہستیوں کا وزن کرنے کے لیے لایا گیا ہو، تاکہ ان کی فضیلت ثابت ہو جائے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
7. بَابُ مَا اشْتَرَكَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَبِلَالُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ وَفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
حدیث نمبر: 11583
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيَّ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَ بِلَالٌ قَالَ فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ قِيلَ لِي أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَاهُنَا بِالْبَابِ يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ وَأَمَّا النِّسَاءُ فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَرَجَحْتُ بِهَا ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ فَوُضِعُوا فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا فَرَجَحَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُرِضَتْ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ فَقُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے آگے کسی کے پاؤں کی آہٹ سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ جبریل نے بتایا کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ ہے، میں آگے گیا تو دیکھا کہ جنت میں زیادہ تعداد غریب مہاجرین اور مسلمانوں کی چھوٹی اولادوں کی ہے اور جنت میں مال داروں اور خواتین کی بہت کم تعداد نظر آئی، مجھے بتایا گیا کہ مال داروں کو وہاں جنت کے دروازے پر حساب دینے اور کوتاہیوں سے پاک و صاف کیے جانے کے لیے روک لیا گیا ہے۔ باقی رہیں خواتین تو انہیں سونے اور ریشم کے شوق نے غفلت میں مبتلا کیے رکھا، پھر ہم جنت کے آٹھ میں سے ایک دروازے سے باہر آئے اور جب میں دروازے کے قریب تھا تو ترازو کا ایک پلڑا میرے قریب کیا گیا اور مجھے اس میں رکھ کر میری امت کو دوسرے میں رکھا گیا، تو میں وزنی رہا۔ پھر ابو بکرکو لایا گیا، ان کو ایک پلڑے میں اور باقی ساری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا، ابو بکر وزنی رہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، ان کو ایک پلڑے میں اور ساری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھاری رہے، میری ساری امت ایک ایک کرکے میرے سامنے پیش کی گئی اور لوگ گزرتے گئے۔ مجھے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ دکھائی نہ دیئے، میں ان کی طرف سے مایوس ہو چکا تھا کہ وہ آگئے۔ میں نے کہا: عبدالرحمن! تم کہاں رہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول میرے والدین آپ پر فدا ہوں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں آپ تک بمشکل پہنچا ہوں، میں تو سمجھ رہا تھا کہ اب میں بہت زیادہ مشکلات کے بعد ہی آپ کی زیارت کر سکوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے میرا بہت زیادہ حساب کتاب لیا گیا اور کوتاہیوں سے پاک کیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11583]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، فيه علي بن زيد الالھاني واھي الحديث، وعبيد الله بن زحر الضمري و ابو المھلب مطرح بن يزيد ضعيفان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22587»
الحكم على الحديث: ضعیف
8. بَابُ مَا اشْتَرَكَ فِيهِ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٌ وَعَبْدُ اللهِ بن رَوَاحَةَ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِرَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11584
عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ وَقَالَ ”عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ“ فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا قَالَ ”امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ“ قَالَ فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَابَ خَبَرٌ أَوْ ثَابَ خَبَرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ“ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ ”ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ“ وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ“ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ“ فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا
خالد بن سمیر سے مروی ہے کہ عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ لوگ ان کے اردگرد جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاہ سوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء بھیجا اور فرمایا تمہارے اوپر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ امیر ہیں۔ اگر وہ شہید ہو جائیں تو ان کے بعد جعفر رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر رضی اللہ عنہ اچھل کر بولے اے اللہ کے نبی میرا والد آپ پر فدا ہو مجھے یہ توقع نہ تھی کہ آپ زید رضی اللہ عنہ کو مجھ پر امیر مقرر فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ۔ تم نہیں جانتے کہ کونسی بات زیادہ بہتر ہے۔ لشکر روانہ ہو گیا۔ جب تک اللہ کو منظور تھا وہ لوگ سفر میں رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ نماز ہونے کا اعلان کیا جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک خبر پھیلی ہے۔ کیا میں تمہیں غزوہ میں مصروف اس لشکر کے متعلق نہ بتلاؤں؟ یہ لوگ گئے ان کی دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ اور زید رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ تم ان کی مغفرت کی دعاء کرو۔ تو لوگوں نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھام لیا۔ وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ تم ان کی شہادت کی گواہی دو۔ لوگوں نے ان کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کی۔ پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھا لیا۔ وہ بھی دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے یہاں تک کہ وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوئے۔ صحابہ نے ان کے حق میں بھی دعائے مغفرت کی۔ ان کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امیروں میں سے نہ تھے۔ پیش آمدہ حالات کے پیش ِنظر وہ از خود امیر بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اُٹھا کر فرمایا: یا اللہ! یہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔ تو اس کی مدد فرما۔ عبدالرحمن راوی نے ایک دفعہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے وہ فتح یاب ہوئے۔ اس روز سے خالد رضی اللہ عنہ سیف اللہ کہلائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہو جاؤ اور جا کر اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ اور تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے۔ لوگ شدید گرمی میں پیدل اور سوار روانہ ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11584]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي في الكبري: 8159، وابن ابي شيبة: 14/ 512، والدارمي: 2448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22918»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ موتہ میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین آدمیوں کو یکے بعد دیگرے امیر لشکر مقرر فرمایا تھا، اس لیے اس لشکر کو جیش الامرائ بھی کہا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان امراء کی شہادت کی خبر دی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی اور صحابہ نے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی، اس سے معلوم ہوا کہ شہداء کے حق میں دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کی شہادت کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے از خود لشکر کی امارت کی ذمہ داری سنبھال لی، کیونکہ لشکر کو امیر کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے مواقع پر قوم کو یونہی چھوڑنے کی بجائے کوئی مناسب آدمی کی قیادت کو سنبھال سکتا ہے۔
غزوۂ موتہ میں مجاہدین کی امارت و کمان سنبھالنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کا لقب دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ امراء کی شہادت کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے از خود لشکر کی امارت کی ذمہ داری سنبھال لی، کیونکہ لشکر کو امیر کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کے مواقع پر قوم کو یونہی چھوڑنے کی بجائے کوئی مناسب آدمی کی قیادت کو سنبھال سکتا ہے۔
غزوۂ موتہ میں مجاہدین کی امارت و کمان سنبھالنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سیف اللہ کا لقب دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ مَا اخْتَصَّ بِهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
حدیث نمبر: 11585
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَرْحَمُ أُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهَا فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهَا حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهَا بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَقْرَؤُهَا لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيٌّ وَأَعْلَمُهَا بِالْفَرَائِضِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر ہیں، امت میں دین کے بارے میں عمر سب سے سخت ہیں، امت میں عثمان رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ حیا دار ہیں، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ جانتے ہیں، قرآن کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ قاری ابی بن کعب ہیں اور امت میں مسائل وراثت (یا فرائض) کے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11585]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3791،وابن ماجه: 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12935»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11586
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا قَالَ أَجْلِسُونِي فَقَالَ إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا ثُمَّ أَسْلَمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ“
یزید بن عمیرہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمن! آپ ہمیں کوئی وصیت ہی کر دیں،انھوں نے کہا:مجھے بٹھا دو۔ پھر انھوں نے کہا: علم اور ایمان ایسی چیزیں ہیں کہ جو آدمی انہیں ان کے مرکز اور مقام سے حاصل کرنے کی کوشش کرے تو وہ انہیں حاصل کر ہی لیتا ہے۔ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ تم چار آدمیوں سے علم حاصل کرو: سیدنا ابو درداء عویمر، سیدنا سلمان فارسی، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن سلام سے، مؤخر الذکر پہلے یہودی تھے، بعد میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ وہ جنت میں جانے والے خاص دس آدمیوں میں سے ایک ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11586]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 3804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22455»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11587
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَقَالَ ”إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي“ وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ”وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ عَمَّارٍ وَمَا حَدَّثَكُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ“
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میں کتنا عرصہ تمہارے درمیان رہوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تم میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا، عمار کے عہد کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور عبداللہ بن مسعود تمہیں جو کچھ بیان کریں ان کی تصدیق کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11587]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه وشواھده، اخرجه الترمذي باثر الحديث: 3799، وابن ماجه: 97، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23665»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں بعض صحابہ کی اغلبی صفات کابیان ہے، جس صحابی میں جو صلاحیت غالب تھی، وہ اس لائق ہوتا کہ اس سے یہ فیض حاصل کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. بَابُ مَا اشْتَرَكَ فِيهِ جَمَاعَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
خواتین صحابہ رضی اللہ عنہنکی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
حدیث نمبر: 11588
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو باقی تمام عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11588]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5418، ومسلم: 2431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19904»
وضاحت: فوائد: … مردوں میں بڑے بڑے باکمال اور کثیر تعداد میں افراد گزرے ہیں، جیسے انبیاء و رسل، صالحین، شہید، پرہیزگار، مجاہدین اور ذاکرین وغیرہ، لیکن خواتین میںایسا کمال کم عورتوںکے نصیبے میں آیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11589
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خَيْرُ نِسَائِهَا بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام اپنے زمانے کی اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے عہد کی خواتین میں سب سے بہتر تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11589]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3432، ومسلم: 2430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 640»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسی خصوصیات عطا کیں کہ جو دوسری خواتین کا مقدر نہ بن سکیں، سیدہ مریم علیہا السلام کو طاہر بنایا، مخصوص امور کے لیے ان کا انتخاب کیا، جبریل علیہ السلام نے ان سے کلام کیا، ان کے اندر روح پھونکی، وہ خاوند کے بغیر ایک عظیم پیغمبر کی ماں بن گئیں، ان کے بچے نے بچپنے کلام کیا اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی شہادت دی، سیدہ مریم نے اپنے ربّ کے کلمات اور کتب کی تصدیق کی اور وہ عبادت گزاروں میں سے تھی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، کون ہے سیدہ خدیجہ، جب لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کر رہے تھے، اس وقت سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں، جب تکبر کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رک رہے تھے، تب سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بخل کر رہے تھے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخاوت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اجنبیت طاری تھی، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انس کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا جبریل علیہ السلام کی پہلی آمد پر پریشان ہوئے، اس وقت سیدہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائل حمیدہ کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پا س لے گئیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11590
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ ”تَدْرُونَ مَا هَذِهِ“ فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11590]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2710، والطبراني: 2168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2668»
وضاحت: فوائد: … موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمت ِ خداوندی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمت ِ خداوندی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعَشَرَةِ الْمُبَشِّرِينَ بِالْجَنَّةِ وَغَيْرِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
حدیث نمبر: 11591
حَدَّثَنِي جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ فَقَالَ مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرَةُ قَالَ يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ يَا مُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَا مُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ثَلَاثًا أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ لَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ فَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَنْهُ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ أَنَّهُ قَالَ ”أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ“ وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ قَالَ فَضَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ مَنِ التَّاسِعُ قَالَ نَاشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ وَاللَّهِ الْعَظِيمِ أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ ثُمَّ أَتْبَعَ ذَلِكَ يَمِينًا قَالَ وَاللَّهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ رَجُلٌ يُغَبِّرُ فِيهِ وَجْهَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ
ریاح بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مسجد اکبرمیں تشریف فرما تھے اور اہل کوفہ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔اتنے میں سیدنا سعید بن زید ان کی خدمت میں آئے اور سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خوش آمدید کہا اور اپنی چار پائی کی پائنتی کی طرف ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ اتنے میں کوفہ کا ایک اور آدمی آیا۔ اس نے آکر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کرکے بہت زیادہ برا بھلاکہنے لگا۔ سیدنا سعید نے کہا: اے مغیرہ! یہ کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا ہے۔ اس نے کہا: اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب، اے مغیر بن شعب! کیا میں یہ نہیں سنتا کہ آپ کے سامنے اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی جاتی ہیں، لیکن آپ نہ ان کا انکار کرتے ہیں اور نہ اس سے کسی کو روکتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، میرے دل نے خوب یاد رکھا ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی ایسا جھوٹ باندھنے والا نہیں، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاقات کے وقت مجھ سے باز پر س کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں، سعد بن مالک رضی اللہ عنہ جنتی ہے، اور اہل ایمان میں سے نویں نمبر پر مسلمان ہونے والا جنتی ہے۔ میں چاہوں تو اس کا نام ذکر کر سکتا ہوں۔ ریاح کہتے ہیں: اس کی بات سن کر اہل مسجد زور زور سے کہنے لگے: اے اللہ کے رسول کے صحابی! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں آپ بتلائیں کہ نواں آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: اب جبکہ تم لوگوں نے مجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہی ہے تو میں بتا دیتا ہوں کہ اللہ عظیم کی قسم میں اہل ایمان میں سے نواں ہوں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے دسویں فرد ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری قسم اٹھا کر کہا کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوۂ میں شریک ہو اور اس میں اس کے چہرے پر غبار پڑی ہو وہ تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے افضل ہے خواہ اسے عمر نوح ہی مل جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11591]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4650، وابن ماجه: 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1629»
وضاحت: فوائد: … بہت سارے صحابہ کو جنت کی خوشخبری سنائی گئی، جن دس صحابہ کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے، ان سے مراد وہ دس افراد ہیں کہ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہی موقع پر جنت کی بشارت سنائی ہے، اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان دس میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ دیگر احادیث صرف دس صحابہ کا ہی نام لیا گیا ہے اور وہ دس صحابۂ کرام درج ذیل ہیں:
سیدناابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا علی،سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد بن مالک، سیدنا سعید بن زید، سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح۔
سیدناابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا علی،سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد بن مالک، سیدنا سعید بن زید، سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح۔
الحكم على الحديث: صحیح