🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَّةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11602
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ جَاءَ غُلَامُ حَاطِبٍ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَبْتَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“
سیدہ ام مبشر زوجہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے غلام نے آکر کہا: اللہ کی قسم! حاطب جنت میں نہیں جائے گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم غلط کہہ رہے ہو، وہ تو بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11602]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27585»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ سے ایک خطا سرزد ہوئی تھی، جس کا ذکر ذیل میں مذکورہ حدیث میں ہے، ممکن ہے کہ ان کے غلام کا یہی شکوہ ہو، لیکن اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ کسی اور وجہ سے اس غلام نے اپنے مالک کی شکایت کی ہو:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: ((انْطَلِقُوا حَتّٰی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ فَخُذُوہُ مِنْہَا۔)) فَانْطَلَقْنَا تَعَادٰی بِنَا خَیْلُنَا حَتّٰی أَتَیْنَا الرَّوْضَۃَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِینَۃِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِی الْکِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِی مِنْ کِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّیَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ الْکِتَابَ مِنْ عِقَاصِہَا،
فَأَخَذْنَا الْکِتَابَ، فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَإِذَا فِیہِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلٰی نَاسٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ بِمَکَّۃَ،یُخْبِرُہُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((یَا حَاطِبُ! مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ، وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا، وَکَانَ مَنْ کَانَ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ أَہْلِیہِمْ بِمَکَّۃَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذٰلِکَ مِنْ النَّسَبِ فِیہِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِیہِمْیَدًایَحْمُونَ بِہَا قَرَابَتِی، وَمَا فَعَلْتُ ذٰلِکَ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِینِی وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّہُ قَدْ صَدَقَکُمْ۔)) فَقَالَ عُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: دَعْنِی أَضْرِبْ عُنُقَ ہٰذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا، وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللّٰہَ قَدِ اطَّلَعَ عَلٰی أَہْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) (صحیح بخاری: ۳۰۰۷، ۴۲۷۴، ۴۸۹۰، صحیح مسلم: ۲۴۹۴، واللفظ لاحمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کی بنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں نسبی لحاط سے ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور! چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کر گزرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔
سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاری اور آمد کی خبر ارسال کی تھی۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں صحابۂ کرام کے مقام و مرتبہ کو سمجھنے کے لیے بہت بڑا نقطہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ اقدس سے جن صحابہ کی پیشگی معافی کا اعلان ہو چکا ہے، ان سے بعد میں ہونے والی خطاؤں کو نظر انداز کر دیا جائے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اس مغفرت کا اعلان کروا رہا تھا، اس کو پتہ تھا کہ ان نفوسِ قدسیہ میں سے فلاں آدمی سے اس قسم کی غلطی ہو گی۔ دراصل آغوشِ نبوت کی پروردہ ہستیوں کی نیکیوں کو قبول کرنے اور ان کے بشری تقاضوں کو معاف کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے امت ِ مسلمہ کے دوسرے افراد سے مختلف ہیں۔
دیکھیں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا بڑا راز فاش کر رہے ہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کو منافق سمجھ کر واجب القتل سمجھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ان کی معافی کا اعلان تو پیشگی ہو چکا ہے۔ سبحان اللہ۔ لہذا صحابۂ کرام کے بارے میں زبان درازی کی رائے رکھنے والوں کو محتاط رہنا چاہیے اور اپنے نظریوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11603
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11603]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابوداود: 4653، والترمذي: 3860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14837»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11604
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر والے دن صحابۂ کرام کی تعداد اتنی تھی، جتنی جالوت والے دن طالوت کے ساتھیوں کی تھی،یعنی تین سو چودہ پندرہ افراد تھے، جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہرکو عبور کیا تھا اور نہر سے گزر جانے والے صرف مؤمن تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11604]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3958، 3959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18754»
وضاحت: فوائد: … موسی علیہ السلام کی وفات کے کچھ عرصہ بعد بنو اسرائیل کے مطالبے پر طالوت کو بادشاہ بنایا گیا، لیکن بنو اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق ان کی بادشاہت پر اعتراض کرنا شروع کر دیے، دوسرے پارے کے آخر میں اسی بادشاہ کا ذکر ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11605
عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ مَا أَخْبِيَةٌ بَعْدَ أَخْبِيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ مَا يُدْفَعُ عَنْهُمْ مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبِيَةِ وَلَا يُرِيدُ بِهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُ
بلال عبسی سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو خیمے تھے، ویسے اب خیمے کہاں ہیں؟ جو شرف اور مقام اہل بدر کا ہے وہ کسی دوسرے خیمے والوں کا کیسے ہو سکتا ہے؟ جس نے بھی اہل بدر کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ کی طرف سے اس کی ایسی گرفت ہوئی کہ وہ اسی میں پھنسے رہ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11605]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح، اخرجه البزار: 2944، والطبراني في الاوسط: 3052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23655»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں غزوۂ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کرنے والوں کی بڑی منقبت بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ حَيَاةِ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ وَأُمُورٍ تاريخِيَّةِ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ وَبِغَيْرِهِمْ
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11606
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ بِشَهْرٍ ”مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ أَوْ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ الْيَوْمَ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے تقریباً ایک ماہ قبل ارشاد فرمایا: آج روئے زمین پر تم میں سے جو کوئی بھی نفس موجود ہے، سوسال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11606]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2538، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14332»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11607
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دِجَاجَةَ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ“ وَاللَّهِ إِنَّ رَجَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ
نعیم بن دجانہ سے مروی ہے کہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ کہتے ہو کہ لوگوں پر سو سال گزریں گے تو ان میں سے کوئی بھی آنکھ پھڑکتی نہ ہوگی (یعنی قیامت بپا ہو جائے گی اور کوئی آدمی زندہ باقی نہ رہے گا۔) جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جو بھی آنکھ پھڑک رہی ہے یعنی جو بھی انسان زندہ موجود ہے، آج سے سوسال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ ہوگا۔ اللہ کی قسم! اس امت کی خوش حالی کا اصل دور تو سوسال کے بعد بھی ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11607]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه ابويعلي: 467، والطبراني في الكبير: 17/ 693، والحاكم: 4/ 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 714»
وضاحت: فوائد: … جو روایت سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، اس کا مفہوم بھی دوسری روایات والا ہے، صرف لفظوں میں کچھ فرق ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11608
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ ”أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ“ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَبْقَى الْيَوْمَ مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يُرِيدُ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے اواخر میں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائی اور پھر کھڑے ہو کر فرمایا: آج رات جو بھی جان دار اس روئے زمین پر موجود ہے، سو سال بعد ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا۔ سیدنا عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات سن کر سب لوگ دم بخود رہ گئے اور سو سال سے متعلقہ ان احادیث کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ آج جو لوگ روئے زمین پر موجود ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ باقی نہ رہے گا، یعنی یہ طبقہ اور زمانہ ختم ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11608]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 601،ومسلم: 2537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6028»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مستقبل کے بارے میں مختلف پیشین گوئیاں کی تھیں، ایک پیشین گوئی کا ذکر درج بالا احادیث میں ہے۔
ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کے آخری دور میں جتنے انسان موجود تھے، وہ سارے کے سارے سو سال کے اندر اندر فوت ہو جائیں،یعنی سو برسوں تک یہ زمانہ اور طبقہ ختم ہو جائے گا، اور ایسے ہی ہوا۔
حافظ ابن حجر نے کہا: وکذالک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط أمرہ ممن کان موجودا حینئذ أبو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد أجمع أھل الحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی رأس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واللہ اعلم۔ … اور تحقیقی طور پر اسی طرح واقع ہوا، پس آخری صحابی جس کے حالات قلم بند کیے گئے اور جو اس وقت موجود تھا، وہ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ہے، اس پر محدثین کا اتفاق ہے کہ وہ صحابہ میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے، زیادہ سے زیادہ ان کے لیٹ فوت ہونے کے بارے میں رائے
یہ ہے کہ وہ ۱۱۰؁ھمیں فوت ہوئے، (نہ کہ پہلی صدی کے آخر میں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو سو سال اسی کی وفات پر پورے ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۲/ ۹۵)
وضاحت: درج ذیل احادیث میں بعض تاریخی واقعات بیان کیے گئے، اگر کسی حدیث میں کوئی فقہی مسئلہ ہے تو وہ متعلقہ کتاب اور باب میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11609
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ثَنَا زُهْرَةُ أَبُو عَقِيلٍ الْقُرَشِيُّ أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ احْتَلَمَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَكَحَ النِّسَاءَ
ابو عقیل زہرہ قرشی نے بیان کیا کہ اس کا دادا سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بالغ ہوا اور عورتوں سے نکاح بھی کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11609]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھعية، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22871»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کا مقصود یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ نے دورِ نبوت کو پایا اور اسی دور میں بالغ ہو گئے تھے اور شادیاں کی تھیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11610
عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ فِي وَجْهِهِ مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ
زہری سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا محمود بن لیبد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اور (انھوں نے اس زیارت کو خوب سمجھا ہے، یہاں تک کہ) انھوں نے یہ بھی سمجھا کہ ان کے گھر میں ایک ڈول تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کلی کی اور کلی والا پانی اس کے چہرے پر پھینکا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 839، 6422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24038»
وضاحت: فوائد: … سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ اپنی زیارت کی ایک دلیل بیان کر رہے ہیں، چونکہ یہ بڑا شرف تھا، اس لیے صحابۂ کرام باریک بینی کے ساتھ اس کا معائنہ کرتے اور پھر اس کو بیان کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11611
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَّ بِي أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شرکت کی تھی، جبکہ میری عمر سات برس تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11611]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15809»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں