الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعَشَرَةِ الْمُبَشِّرِينَ بِالْجَنَّةِ وَغَيْرِهِمْ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
حدیث نمبر: 11592
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ لَمَّا خَرَجَ مُعَاوِيَةُ مِنَ الْكُوفَةِ اسْتَعْمَلَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ فَأَقَامَ خُطَبَاءَ يَقَعُونَ فِي عَلِيٍّ قَالَ وَأَنَا إِلَى جَنْبِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ فَغَضِبَ فَقَامَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَتَبِعْتُهُ فَقَالَ أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ الَّذِي يَأْمُرُ بِلَعْنِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ قَالَ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ“ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ“ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ قَالَ قُلْتُ وَمَنِ الْعَاشِرُ قَالَ قَالَ أَنَا وَفِي لَفْظٍ اهْتَزَّ حِرَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اثْبُتْ حِرَاءُ“ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
عبداللہ بن ظالم مازنی سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ سے باہر تشریف لے گئے تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کر گئے، انہوں نے بعض ایسے خطباء کا تقرر کر دیا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے تھے۔ عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں کہ میں سعید بن زید کے پہلو میں بیٹھاتھا۔ وہ شدید غصے میں آئے اور اٹھ گئے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ انہوں نے کہا: کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سب جنتی ہیں۔ اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں کہ وہ بھی جنتی ہے تو میں گنہگار نہیں ہوں گا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا:وہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اے حرا! تو سکون کر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہیں یا صدیق یا شہید۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون کون تھے؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن مالک، اس سے آگے وہ خاموش رہے۔ میں نے پوچھا اور دسواں آدمی کون تھا؟ انھوں نے کہا: میں خود۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ حراء خوشی سے حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے حراء، سکون کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11592]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4648، والترمذي: 3757، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1644 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1644»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11593
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ“ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ“
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدناابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر یہ سب کوہ حراء پر تھے کہ پہاڑی حرکت کرنے لگی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہر جا، تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہے، یا صدیق ہے، یا شہید ہے۔ نیزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر اچھا آدمی ہے، ابو عبیدہ بن جراح اچھا آدمی ہے، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہے، ثابت بن قیس بن شماس کیا عمدہ آدمی ہے، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خوب آدمی ہے اور معاذ بن عمرو بن جموح اچھا آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11593]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، اخرجه الترمذي: 3795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9421»
الحكم على الحديث: صحیح
12. بَاب مَا جَاءَ فِي النُّجَبَاءِ وَالْأَبْدَالِ وَأَصْحَابِ الصُّفَّةِ
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
حدیث نمبر: 11594
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ نُجَبَاءَ وُزَرَاءَ وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ حَمْزَةُ وَجَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَالْمِقْدَادُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَيْفَةُ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَبِلَالٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے ہر نبی کو سات بہترین اور عمدہ ساتھی بطور وزیر دیئے گئے تھے، جبکہ مجھے اس قسم کے چودہ افراد دیئے گئے ہیں، ان کے نام یہ ہیں، حمزہ، جعفر، علی، حسن، حسین، ابو بکر، عمر، مقداد، عبداللہ بن مسعود، ابو ذر، حذیفہ، سلمان، عمر، بلال۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11594]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، كثير النوائ، الجمھور علي تضعيفه، وعبد الله بن مليل لم يوثقه غير ابن حبان، اخرجه البزار: 896، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1263»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11595
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا“ قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ فِيهِ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ الْوَهَّابِ كَلَامٌ غَيْرُ هَذَا أَوْ هُوَ مُنْكَرٌ يَعْنِي حَدِيثَ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام جیسے تیس ابدال ہوں گے، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11595]
تخریج الحدیث: «منكر، واسناده ضعيف من اجل الحسن بن ذكوان وعبد الواحد بن قيس السلمي، ثم رواية ھذا الاخير عن عبادة مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23131»
وضاحت: فوائد: … ابدال کی واحد بدل ہے، لوگوں میں مشہور ہے کہ ہر زمانے میں اللہ کے انتہائی مقرب بندے روئے زمین پر موجود رہتے ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے کو اس کا نائب بنا دیتا ہے، ان مقرب شخصیات کو ابدال کہتے ہیں۔ مگر ابدال کے متعلق یہ تصور کسی صحیح حدیث میں ثابت نہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11596
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْنَا الْحَوْتَكِيَّةُ فَيَقُولُ ”لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ وَلَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ“
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس صفہ میں تشریف لاتے، جبکہ ہم پر پگڑی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اگر تم یہ جان لو کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا کچھ جمع ہے، تو تمہیں ان چیزوں پر کوئی غم نہیں ہو گا، جو تم کو دنیا میں نہیں دی گئیں،یاد رکھو کہ تمہارے ہاتھوں فارس اور روم ضرور بالضرور فتح ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11596]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، شريح بن عبيد لم يدرك العرباض بن سارية، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17293»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ بات احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ فقیری کا انجام خیر بہت اچھا ہے، جیسا کہ فضالہ بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو نماز کے قیام کی وجہ سے لوگ بھوک کی وجہ سے گر پڑتے تھے اور یہ اصحاب صفہ ہوتے تھے، بدّو لوگ ان کے بارے میں کہتے تھے: یہ تو پاگل لوگ ہیں، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْتَعْلَمُوْنَ مَا لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ لَاَحْبَبْتُمْ اَنْ تَزْدَادُوْا حَاجَۃً وَّ فَقْرًا۔)) … اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا اجرو ثواب ہے تو تم پسند کرو گے کہ تمہاری حاجت اور فقیری میں اور اضافہ ہو جائے۔ (ترمذی: ۲۳۶۸)
الحكم على الحديث: ضعیف
13. بَابُ فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَّةَ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 11597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرتے رہو، میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11597]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4654، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7927»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11598
عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی آدمی جہنم میں ہر گز نہیں جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11598]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15335»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11599
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَوْ مَلَكًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ قَالُوا ”خِيَارَنَا“ قَالَ كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام یاکوئی اور فرشتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: تم لوگوں کے ہاں اہل بدر کا کیا مقام ہے؟ صحابۂ کرام نے کہا: وہ ہم میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ اس فرشتے نے کہا:ہمارے ہاں بھی معاملہ اسی طرح ہے کہ بدر میں شریک ہونے والے فرشتے باقی فرشتوں کی بہ نسبت بہتر اور افضل ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11599]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3993، 3994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15914»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11600
عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ“ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا“ [مريم: 72]
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کوئی فرد ان شاء اللہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرح نہیں ہے کہ {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} … اور تم میں سے کوئی نہیں ہے، مگر وہ جہنم میں وارد ہونے والا ہے۔ سیدہ کہتی ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے آگے یوں تلاوت کرتے ہوئے سنا: {ثُمَّ نُنْجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیَّا} … پھر ہم اللہ سے ڈرنے والوں کو نجات دے دیں گے اور کافروں کو گھٹنوں کے بل جہنم میں پڑا رہنے دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11600]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ماجه: 4281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26972»
وضاحت: فوائد: … سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَۃِ أَحَدٌ الَّذِینَ بَایَعُوْا تَحْتَہَا۔)) فَقَالَتْ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَانْتَہَرَہَا، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((قَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} [مریم: ۷۲] ۔)) (صحیح مسلم: ۲۴۹۶، واللفظ لاحمد)
جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} … اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} … پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔
اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَعْمَالِہِمْ فَأَوَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔ (ترمذی)
ارشادِ باری تعالیٰ ہیں:
{وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا} … تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔
جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} … اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} … پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔
اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَعْمَالِہِمْ فَأَوَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔ (ترمذی)
ارشادِ باری تعالیٰ ہیں:
{وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا} … تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ (سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11601
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ ”لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ“ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ ”أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا فَإِنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ رات کو آگ نہ جلائیں (تاکہ دشمن کو ہمارا اندازہ نہ ہو)۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب حالات پر امن ہوئے تو آپ نے عام اجازت دے دی تھی کہ جب چاہو آگ جلا اور کھانا تیار کر سکتے ہو، پس بیشک شان یہ ہے کہ تمہارے بعد والی کوئی قوم تمہارے صاع اورمُدّ کو نہیں پہنچ سکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل والمناقب/حدیث: 11601]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابويعلي: 984، والحاكم: 3/ 36، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11226»
وضاحت: فوائد: … یعنی تم نے ان گھڑیوں میں صاع اور مُد کے بقدر اللہ کی راہ میں جو خرچ کیا ہے، بعد والے لوگ صدقے کی بڑی بڑی مقداروں کے ذریعے بھی اس اجر و ثواب کو نہیں پا سکتے۔
الحكم على الحديث: صحیح