🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدِي بْنِ حَاتِمِ الطَّائِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11845
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَنَعَتَ لِي الصَّلَاةَ وَكَيْفَ أُصَلِّي كُلَّ صَلَاةٍ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ قَالَ لِي: ”كَيْفَ أَنْتَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِذَا رَكِبْتَ مِنْ قُصُورِ الْيَمَنِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ حَتَّى تَنْزِلَ قُصُورَ الْحِيرَةِ?“، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيْنَ مَقَانِبُ طَيِّئٍ وَرِجَالُهَا، قَالَ: ”يَكْفِيكَ اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا“، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ وَالْبُزَاةِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: ”يَحِلُّ لَكُمْ {مَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ} فَمَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ“، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: ”وَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ“، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَ كِلَابُنَا كِلَابٌ أُخْرَى حِينَ نُرْسِلُهَا؟ قَالَ: ”لَا تَأْكُلْ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ كَلْبَكَ هُوَ الَّذِي أَمْسَكَ عَلَيْكَ“، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا؟ قَالَ: ”لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ“
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ کتوں اور بازوں کے ذریعے شکارکرتے ہیں، ہمارے لیے ان کے شکار میں سے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شکاری کتے تم نے سدھائے ہیں، اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے، ان کے روکے ہوئے شکار کو کھا سکتے ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہو اور جو کتایا باز تم نے چھوڑا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے، تو وہ جو شکار روک کر رکھیں، وہ کھا لو۔ میں نے کہا: اگرچہ یہ شکار کو مار بھی دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ یہ مار بھی دیں،لیکن شکار سے خود نہ کھایا ہو تو انہوں نے شکار تمہارے لیے روکا ہے۔ میں نے کہا: اب یہ فرمائیں کہ چھوڑتے وقت اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے مل جل جاتے ہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک شکار نہ کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ شکار تمہارے کتے نے ہی کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تیر کے درمیانی موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تیر کے اس حصے سے مر جائے، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ خود ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11845]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة في بعض الفاظه، وھذا اسناد ضعيف من اجل مجالد بن سعيد، أخرج منه قسم الصيد بالكلاب والبزاة ابوداود: 2851، والترمذي: 1467، 1470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18447»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں مذکورہ مسائل کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۸۰) والا باب۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11846
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا وَقَالَ: ”أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلَبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً?“، فَأَتَيْتُ الْجَلَبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ، فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ أَقُودُهُمَا، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَسَاوَمَنِي فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ، فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا دِينَارُكُمْ وَهَذِهِ شَاتُكُمْ، قَالَ: ”وَصَنَعْتَ كَيْفَ?“، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ“، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي، وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِي وَيَبِيعُ
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سامان تجارت لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! تم جا کر ہمارے لیے ایک بکری خرید لاؤ۔ میں مقام فروخت یعنی منڈی میں گیا اور میں نے مالک سے سودا طے کرکے ایک دینار میں دو بکریا ںخرید لیں، میں انہیں ہانک کر لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، اس نے میرے ساتھ ایک بکری کا معاملہ طے کیا اور میں نے ایک دینار میں ایک بکری اس کے ہاتھ فروخت کر دی۔ میں ایک دینار اور ایک بکری لے کر آ گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہے آپ کا دیا ہوا ایک دینار اور یہ ہے ایک بکری۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسے؟ جواباً میں نے سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! اس کی خرید و فروخت میں برکت فرما۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعا کی برکت سے)میں نے اپنے آپ کو اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ میں کوفہ کی گندی روڑی پر کھڑا ہوا ہوتا اور اپنے گھر پہنچنے سے پہلے پہلے چالیس ہزار منافع کما لیا کرتا تھا۔یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19579»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُكَاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11847
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ“، فَقَالَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ“، ثُمَّ قَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: ”قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی حساب کتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! اسے ان لوگوں میں سے بنا دے۔ بعد ازاں ایک اور آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11847]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:6542،ومسلم: 216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8599»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، انہوں نے غزوۂ بدر میں شریک ہو کر بہادری کے خوب جوہر دکھائے، غزوۂ احد اور خندق میں بھی شریک ہوئے، بدر کے دن ان کی تلوار ٹو ٹ گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کھجور کی ایک ٹہنی عنایت فرمائی تھی جو ان کے ہاتھ میں آتے ہی لوہے کی سفید اور مضبوط ترین تلوار میں تبدیل ہوگئی،یہ اسی تلوارسے لڑتے رہے تاآنکہ اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی،یہ بابرکت تلوار ان کے پاس آخر تک رہی تاآنکہ دور صدیقی میں چوالیس برس کی عمر میں مرتدین کے خلاف جہاد کرتے ہوئے خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَ مِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11848
عَنِ ابْنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِنَفْسِهِ
ابن علاء حضرمی سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک تحریر بھیجی تو تحریر کی ابتداء اپنے آپ سے کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11848]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن العلائ، اخرجه ابوداود: 5134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19195»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تھا، بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے اس عہدے کو برقرار رکھا، یہاں تک کہ (۱۴یا۲۱) سن ہجری میں ولایت بحرین کے دوران ہی ان کا انتقال ہوا، یہمستجاب الدعاء بزرگ تھے، چند دعائیں پڑھ کر یونہی سمندر کے اندرداخل ہوگئے تھے۔ بحرین کے علاقے میں مرتدین کے خلاف جہاد میں انہوںنے بڑا حصہ لیا تھا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہرقل کی طرف خط لکھا تو بسم اللہ کے بعد یوں تحریر کیا: مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلٰی ہِرَقْلَ عَظِیمِ الرُّومِ (اللہ کے بندے اور رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے عظیم الروم ہرقل کی طرف)
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اپنا نام لکھا، اسی طرح جب سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف خط لکھا تو انھوں نے بھی مِنَ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِیِّ اِلٰی مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11849
عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَلَامٌ، فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُ إِلَّا غِلْظَةً، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، قَالَ: ”مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ“، قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ، فَلَقِيتُهُ فَرَضِيَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مابین کچھ تکرار ہوگئی،میں نے ان سے کچھ سخت باتیں کہہ دیں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ میری شکایت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں چلے گئے، ان کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ بھی ان کی شکایت کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئے اور ان کے متعلق سخت باتیں کرنے لگے، ان کی باتوں کی شدت بڑھتی ہی جاتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش تھے، کوئی کلام نہیں کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا آپ دیکھتے نہیں یہ کیا کچھ کہہ رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا: جو شخص عمار سے عداوت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے عداوت رکھے گا اور جو کوئی عمار سے بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بغض رکھے گا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے واپس ہوا تو میری نظروں میں سب سے اہم اور پسندیدہ بات یہی تھی کہ عمار رضی اللہ عنہ مجھ سے راضی ہو جائیں، چنانچہ میں نے جا کر ان سے ملاقات کی اور وہ مجھ سے راضی ہوگئے۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں:میں نے یہ حدیث اپنے والدسے دو مرتبہ سنی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11849]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 120، والنسائي في الكبري: 8268، وابن حبان: 7081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16938»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ صحابی ہیں،یہ اور ان کے والدین پہلے پہل ایمان لانے والوں میں سے ہیں، اس گھرانے کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں بہت سے مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا، بعض اوقات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کو عذاب دیا جاتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی صبر کیا اور ان کو بھی صبر کرنے کی تلقین کی، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور تمام غزوات میں شریک رہے، جنگ یمامہ میں ان کا ایک کان کام آیا، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ کا عامل مقرر فرمایا تھا، جنگ صفین میں امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اورتریسٹھ برس کی عمر میں۳۷ ھ میں اسی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11850
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ هَدَايَا فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
عمرو بن دینار مصر کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتا تھا کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی خدمت میں تحائف بھیجے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو زیادہ اور قیمتی تحفے بھیجے، اس بارے میں جب ان سے دریافت کیا گیا کہ ان کو اس قدر اہمیت دینے کی کیا وجہ ہے؟ تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک باغی گروہ ان کو قتل کرے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11850]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 302، وابويعلي: 7342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17918»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، ان دو گروہوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بر حق تھی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہادی معاملہ بغاوت اور خطا پر مبنی تھا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور جنگ صفین میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ وہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11851
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ فَوَقَعَ فِي عَلِيٍّ وَفِي عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ أَمَّا عَلِيٌّ فَلَسْتُ قَائِلَةً لَكَ فِيهِ شَيْئًا وَأَمَّا عَمَّارٌ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا“
عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آیا اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناروا باتیں کرنے لگا۔سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جہاں تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات ہے تو میں ان کے بارے میں تجھ سے کچھ نہیں کہوں گی، البتہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا ہے کہ عمار کو جب بھی دو باتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے تو انھوں نے زیادہ بہتر اور ہدایت والی بات کو منتخب کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11851]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الترمذي: 3799،وابن ماجه: 148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25331»
وضاحت: فوائد: … جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سامنے دو مؤقف رکھ دیئے جائیں تو وہ درست اور زیادہ ہدایت والے مؤقف کو اختیار کریں گے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد جب مسلمانوں کے دو گروہوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شریک ہونے کا مسئلہ پیدا ہوا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق درست مؤقف اختیار کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہو گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11852
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ابْنُ سُمَيَّةَ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن سمیہ کے سامنے جب بھی دو باتیں پیش کی گئیں تو انہوں نے ان میں سے بہتر بات کو اختیار کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11852]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 119، والحاكم: 3/ 388، والطبراني في الكبير: 10072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3693»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی امی جان سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا تھیں، ابوجہل ملعون نے ان کو اس قدر سزائیں دیں کہ یہ دم توڑ گئیں، سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا اسلام کی سب سے پہلی شہیدہ ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11853
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي (يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ السُّلَمِيَّ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ ”بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک ایسے آدمی نے مجھے بیان کیا جو مجھ سے بہتر اور افضل ہے،ان کی مراد سیدنا ابو قتادہ سلمی انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، اس نے بیان کیا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ خندق کھود رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرما رہے تھے: ہائے ابن سمیہ کی مصیبت،(اے عمار!) تجھے ایک باغی گروہ قتل کر ے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11853]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22983»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11854
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ فَجَاءَنَا فَقَعَدَ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى عَلَى ذِكْرِ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ قَالَ كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ وَيَقُولُ ”يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ“ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ مِنَ اللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ وَيَقُولُ ”وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ“ قَالَ فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ
عکرمہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے اور میرے بیٹے علی سے کہا: تم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا کر ان سے احادیث سن کر آؤ، پس ہم چلے گئے، وہ اپنے باغ میں تشریف فرما تھے، انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر سنبھال کر ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے اور ہمیں احادیث سنانے لگے(یا ہم سے باتیں کرنے لگے) یہاں تک کہ مسجد (نبوی) کی تعمیر کا ذکر آگیا۔ انھوں نے کہا: ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے: عمار! تم بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھاتے؟ انہوں نے کہا: میں اللہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنا چاہتا ہوں، آپ ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے جاتے اور فرماتے جاتے: ہائے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ انہیں جنت کی طرف بلائے گا، لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں فتنوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 447، 2812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11883»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں