الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَان رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11676
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ فَقَالُوا نَحْنُ سَمِعْنَاهُ قَالَ لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالُوا أَجَلْ قَالَ لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ تِلْكَ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ قُلْتُ أَنَا قَالَ لِي أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ عَرْضَ الْحَصِيرِ فَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَصِيرَ الْقَلْبُ عَلَى قَلْبَيْنِ أَبْيَضَ مِثْلَ الصَّفَا لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرِ أَسْوَدَ مُرْبَدٍّ كَالْكُوزِ مُخْجِيًا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے واپس آئے تو بیان کیا کہ کل جب ہم ان کی خدمت میں بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابۂ کرام سے دریافت کیا کہ تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت سے قبل بپا ہونے والے فتن کے بارے میں حدیث سنی ہو؟ تو سب نے کہا کہ اس بارے میں تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت کچھ سن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا:شاید تم لوگ میری بات سے انسان کے اس کے اہل اور مال کا فتنہ سمجھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، ان فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقات مٹا دیتے ہیں، میں تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان فتنوں کے بارے میں سنا ہو جو سمندر کی موجوں کی طرح تندی تیزی سے آئیں گے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر سب لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھ گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: میں سن چکا ہوں۔ انھوں نے کہا: بہت خوب، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے بیان کیا کہ فتنے انسانوں کے دلوں پر اس طرح مسلسل چھا جائیں گے جیسے چٹائی کے تنکے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوتے ہیں، جو دل ان فتنوں سے مانوس نہیں ہوں گے یعنی ان میں ملوث نہ ہوں گے ان پر سفید نقطے لگتے جائیں گے اور جو دل ان فتنوں سے مانوس ہو جائیں گے یعنی ان میں ملوث ہو جائیں گے ان پر سیاہ نقطے لگتے جائیں گے۔ یہاں تک کہ لوگوں کے دل یعنی لوگ دو قسم کے ہو جائیں گے۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے دل چکنے پتھر کی مانند صاف ہوں گے، جب تک آسمان اور زمین باقی ہیں یعنی قیامت تک کوئی فتنہ ان کو ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوگی جن کے دل کا لے سیاہ اور ٹیڑھے ہوں گے (ساتھ ہی آپ نے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بھی دکھایا) ایسے اپنی خواہشات کے ہی تابع ہوں گے، وہ کسی بھی اچھائی کو اچھا یا برائی کو برانہیں سمجھیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11676]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23669»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں جن مسائل اور احکام کا بیان ہے، مثلا نماز میں کنکریاں صاف کرنا، دشمنوں سے کیا گیا عہد و پیمان اور فتنے وغیرہ،یہ سب متعلقہ ابواب میں تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَرَامِ بْنِ مِلْحَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِ أَنْسِ بن مالك رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11677
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ حَرَامًا خَالَهُ أَخَا أُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَجُلًا فَقُتِلُوا يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ وَكَانَ رَئِيسُ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَكَانَ هُوَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اخْتَرْ مِنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَيَكُونُ لِي أَهْلُ الْوَبَرِ أَوْ أَكُونُ خَلِيفَةً مِنْ بَعْدِكَ أَوْ أَغْزُوكَ بِغَطَفَانَ أَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَاءَ قَالَ فَطُعِنَ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ فَقَالَ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ائْتُونِي بِفَرَسِي فَأُتِيَ بِهِ فَرَكِبَهُ فَمَاتَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَرَجُلَانِ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ وَرَجُلٌ أَعْرَجُ فَقَالَ لَهُمْ كُونُوا قَرِيبًا مِنِّي حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي وَإِلَّا كُنْتُمْ قَرِيبًا فَإِنْ قَتَلُونِي أَعْلَمْتُمْ أَصْحَابَكُمْ قَالَ فَأَتَاهُمْ حَرَامٌ فَقَالَ أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْكُمْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ قَالُوا نَعَمْ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَأُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ ثُمَّ قَتَلُوهُمْ كُلَّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ قَالَ أَنَسٌ فَأُنْزِلَ عَلَيْنَا وَكَانَ مِمَّا يُقْرَأُ فَنُسِخَ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا قَالَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی میرے ماموں حرام کو ستر افراد کے ایک دستہ کے ہمراہ بھیجا تھا اور یہ لوگ بئر معونہ کے دن قتل کر دئیے گئے تھے۔ ان دنوں مشرکین کا لیڈر عامر بن طفیل بن مالک عامری تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر پیش کش کی تھی کہ آپ میری طرف سے تین میں سے کوئی ایک بات قبول کر لیں: (۱)دیہاتی علاقے آپ کے اور شہری علاقے میرے ہوں، یا (۲)آپ کے بعد خلافت مجھے دی جائے، یا (۳)میں بنو غطفان کو ساتھ ملا کر ایک ہزار اونٹوں اور ایک ہزار اونٹنیوں کے ساتھ آپ سے لڑوں گا۔ (اس موقعہ پر آپ نے دعا کی کہ یا اللہ عامر کے مقابلے میں میری مدد فرما) چنانچہ وہ بنو فلان کے ایک گھرانے میں تھا کہ اسے طاعون نے آلیا، وہ کہنے لگا: یہ تو بنو فلاں کی عورت کے گھر میں اونٹوں کی گلٹی جیسی گلٹی ہے، میرا گھوڑا میرے پاس لاؤ۔ اس کا گھوڑا اس کے پاس لایا گیا،یہ اس پر سوار ہو ا اور اس کی پشت پر ہی اسے موت آگئی۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا بھائی سیدنا حرام رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھ دو آدمی، ان میں سے ایک کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور دوسرا اعرج یعنی لنگڑا تھا، کو ساتھ لئے چلا، اور اس نے ان تینوں سے کہا: تم میرے قریب قریب رہنا تاکہ میں ان کے پاس جا پہنچوں، انہوں نے اگر مجھے کچھ نہ کہا تو بہتر اور اگر کوئی دوسری صورت پیدا ہوئی تو تم میرے قریب ہی ہو گئے اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر ڈالا تو تم پیچھے والے اپنے ساتھیوں کواطلاع تو دے سکو گے۔ چنانچہ حرام رضی اللہ عنہ ان کے قریب پہنچے اور ان سے کہا: کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا سکوں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں، یہ ان کے سامنے گفتگو کرنے لگے اور ان لوگوں نے حرام رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا ور اس نے ان پر نیزے کا وار کیا، جوان کے جسم سے پار ہو گیا۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔ پھر انہوں نے اعرج کے سوا باقی دو کو قتل کر دیا، وہ پہاڑ کی چوٹی پر تھا اس لئے بچ گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اسی واقعہ کے سلسلہ میں ہم پر یہ آیت نازل ہوئی، اس کی باقاعدہ تلاوت کی جاتی تھی،یہ بعد میں منسوخ کر دی گئی: بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ (ہماری قوم تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے جا ملے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہمیں بھی راضی کر دیا ہے۔)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان رِعل، ذکوان، بنو لحیان اور بنو عصیہ پر چالیس دن تک بددعا کی، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصیت کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11677]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2801، 4091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13227»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۷۴۴)
الحكم على الحديث: صحیح
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَسَّانَ بْن ثَابِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوایا تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر (کفار کے ہجو والے اشعار کے جواب میں) اشعار پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: حسان جب تک اللہ کے رسول کا دفاع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت تک روح القدس یعنی جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس کی مدد فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11678]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره دون قوله: ’وضع لحسان منبرا في المسجد وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي الزناد أخرج مسلم: 2490 عن عائشة مرفوعا ضمن حديث طويل: ان روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24941»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11679
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ”اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مشرکین کی ہجو کا جواب دو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11679]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3213، 4123،ومسلم: 2486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18901»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شاعر اسلام اور شاعر رسول تھے، وہ اپنے کلام کے زور پر دشمنانِ رسول کو لاجواب کر دیتے تھے، اس سلسلے میں ان کو جبریل علیہ السلام کا تعاون بھی حاصل تھا۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
20. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَنْظَلَةَ بْن حُدّيم رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11680
عَنْ ذَيَّالِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ جَدِّ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ دَنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ ”بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيهِ“ قَالَ ذَيَّالٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوِ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعِ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ ذَيَّالٌ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ
سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جا بٹھایا اور عرض کیا: میرے بیٹے باریش یعنی بڑی عمر کے بھی ہیں اور ان سے چھوٹے بھی ہیں،یہ سب سے چھوٹا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تمہارے اندر برکت فرمائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھاکہ جب کسی آدمی کا چہرہ یا جانور کا تھن متورم ہو جاتا اور ایسے آدمی یا جانور کو سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا جاتا اور وہ بسم اللہ کہہ کر اپنے سر کے اس حصے پر ہاتھ لگاتے، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی مبارک رکھی تھی اور اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ اس بیمار آدمی یا جانور پر پھیرتے تو اس کا ورم زائل ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11680]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 3477، 3500، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20941»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11681
عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ“
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین کے مقابلے کے لیے مقرر فرمایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کہ ”خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ کا بہترین بندہ اور قوم کا بہترین فرد ہے، یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین پر مسلط کیا ہے۔“ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11681]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواھده، اخرجه الطبراني: 3798، والحاكم: 3/ 298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 43 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 43»
وضاحت: فوائد: … یہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
21. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11683
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا تَحْتَ ثَنِيَّةِ لِفْتٍ طَلَعَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الثَّنِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ ”انْظُرْ مَنْ هَذَا“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم لفت نامی پہاڑی گھاٹی پر پہنچے تو گھاٹی میں سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: دیکھنا،یہ کون آرہا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا بہترین بندہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11683]
تخریج الحدیث: «حسن، اخرجه الترمذي: 3846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8705»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11684
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَزْهَرِ يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ جُرِحَ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عَلَى الْخَيْلِ خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ الْأَزْهَرِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا هَزَمَ اللَّهُ الْكُفَّارَ وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ يَمْشِي فِي الْمُسْلِمِينَ وَيَقُولُ ”مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ“ قَالَ فَمَشَيْتُ أَوْ قَالَ فَسَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ أَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدٍ حَتَّى حَلَلْنَا عَلَى رَحْلِهِ فَإِذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤْخِرَةِ رَحْلِهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد الرحمن بن ازہر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس دن زخمی ہو گئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سواروں کے دستہ کے قائد تھے۔ ابن ازہر کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست سے دو چار کیا اور مسلمان اپنے خیموں کی طرف واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان چلتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے آرہے تھے کہ کوئی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے بارے میں بتلائے، میں آپ کے آگے آگے تیزی سے گیا، میں ان دنوں بالغ تھا، میں پکارتاجا رہا تھا کہ کوئی ہے جو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے متعلق بتلائے۔ یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے ان کے خیمے میں جا داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ خالد رضی اللہ عنہ اپنے پالان کے پچھلے حصہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے قریب آئے۔ ان کے زخم کو دیکھا۔ زہری سے مروی ہے میرا خیال ہے کہ عبدالرحمن بن ازہر نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے زخم پر لعاب مبارک بھی لگایا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11684]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الزھري لم يسمع من عبد الرحمن بن الازھر اخرجه ابوعوانة: 4/203، وعبد الرزاق: 9741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19291»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11685
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُسْلِمَ فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ أَيْنَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِيٌّ أَذْهَبُ وَاللَّهِ أُسْلِمُ فَحَتَّى مَتَى قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنا قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانے کا قصد کرکے روانہ ہوا، یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے، میری خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، وہ مکہ کی طرف سے آرہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابو سلیمان! کدھر کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب تو راستہ واضح اور نکھر چکا ہے اور وہ آدمی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی اللہ کا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر اسلام قبول کرتا ہوں، کب تک ادھر ادھر دھکے کھاتا رہوں گا۔ ان کی باتیں سن کر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی مسلمان ہونے اور اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے اسی حدیث کے ایک راوی ابن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک انتہائی با اعتماد آدمی نے بیان کیا کہ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11685]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في المتابعات والشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17930»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۸۶۴)
الحكم على الحديث: صحیح