🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. الْفَضْلُ الْأَوَّلُ فِي عَطْفِ بَعْضِ الْصَحَابَةِ عَلَى عُثْمَانَ يَوْمَ الدَّارِ
باب پنجم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12268
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى وَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ وَإِمَّا أَنْ نَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ“ فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور ہوچکے تھے، میں ان کی خدمت میں گیا اور کہا:آپ لوگوں کے امام اور حاکم ہیں اور آپ کے ساتھ جو حالات پیش آچکے ہیں، وہ بھی آ پ کے سامنے ہیں، میں آپ کے سامنے تین صورتیں پیش کرتا ہوں، آپ ان سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں، یا تو آپ باہر نکل کر ان باغیوں سے لڑائی کریں، آپ کے پاس طاقت ہے اور بہت سے افرد آپ کے ساتھ ہیں، اس سے بڑھ کر یہ کہ آپ حق پر ہیں اور ان لوگوں کا موقف باطل ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ وہ لوگ جس دروازے پر موجود ہیں، اسے چھوڑ کر آپ گھر کی کسی دیوار میں راستہ بنا کر باہر نکل جائیں اور اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ پہنچ جائیں، یہ وہاں آپ کو مارنے کی جسارت نہیں کریں گے، تیسری صورت یہ ہے کہ آپ بلا د شام کی طرف چلے جائیں، وہ لوگ اہل شام ہونے کی وجہ سے اچھے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود ہیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ باتیں سن کر کہا: رہا مسئلہ تمہارے بیان کردہ پہلی صورت کا کہ میں باہر نکل کر قتال کروں، تو یہ نہیں ہوسکتا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلا خون بہانے والا بنو ں، دوسری صورت کہ میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں، کیونکہ یہ لوگ وہاں مجھے قتل نہیں کریں گے، تو گزارش ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک قریشی آدمی مکہ میں الحاد کامرتکب ہوگا، ساری دنیا کا نصف عذاب صرف اس ایک آدمی کو دیا جائے گا۔ پس میں وہ آدمی نہیں بنوں گا اور تمہاری بیان کردہ تیسری صورت کہ میں سرزمین شام کی طرف چلا جاؤں کہ شام والے لوگ اچھے ہیں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود ہیں ہیں، تو گزارش ہے کہ میں اپنی ہجرت گاہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوس کو نہیں چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12268]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن عبد الملك قتل سنة 132ھـ، والمغيرة بن شعبة مات سنة 50ھـ، فيبعد ان يسمع منه، ولذا قال ابن حجر: وما اظن ان روايته عن المغيرة الا مرسلة، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 1/ 163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 481»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12269
عَنِ ابْنِ أَبْزَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُلْحِدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ“
ابن ابزیٰ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس عمدہ قسم کی اونٹنیاں ہیں، میں نے ان کو آپ کے لیے تیار کر رکھا ہے، اگر آپ چاہیں تو مکہ تشریف لے چلیں، اس کے بعد جو آپ کے پاس آنے کا ارادہ رکھتا ہوگا، وہ آ کر مل لے گا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مکہ مکرمہ میں عبد اللہ نامی ایک قریشی آدمی الحاد کرے گا، اس پر تمام لوگوں کے گناہوں کے نصف کے بقدر گناہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12269]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ومتنه منكر شبه موضوع، اخرجه البزار: 375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 461»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے یہ حدیث قلم بند کرنے کے بعد(البدایۃ: ۸/ ۳۳۹) میں کہا: یہ حدیث منکر جدا ہے، اس کی سند میں ضعف ہے، یعقوب بن القمی میں شیعیت ہے، اس قسم کے راوی کا تفرد قبول نہیں ہوتا، اگر اس حدیث کو صحیح فرض کر بھی لیں تو اس سے مراد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، کیونکہ وہ خصائلِ حمیدہ سے متصف تھے اور ان کی امارت اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، پھر معاویہ بن یزید کے بعد بہر صورت حاکم بننا ان ہی کا حق تھا اور وہ مروان بن حکم سے زیادہ اہل تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12270
وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ حِينَ حُصِرَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ قَالَ قَيْسٌ فَكَانُوا يَرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
ابو سہلہ سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ جب گھرمیں محصور کر دئیے گئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میں اسی پر کار بند رہو ں گا۔ قیس نے کہا: اس دن لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو حسرت سے دیکھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12270]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 113، والترمذي: 3711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 501»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي انْقِيَادِ عُثْمَانَ وَ لِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْتِدَارِهِ وَبَيَانِهِ لِلنَّاسِ وَتَعْدَادِ مَنَاقِبِهِ
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12271
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَضَعُوا رِجْلَيَّ فِي الْقَيْدِ فَضَعُوهَا
سعد سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تمہیں کتاب اللہ میں سے یہ اجازت ملتی کہ تم میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو تو تم ایسا کر سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12271]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 524»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12272
عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَبَّاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا لَهُ فَقَالَ نَشَدْتُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَقَالَ ”مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونَ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ“ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَجَعَلْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهُ إِلَّا رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونَ دَلْوُهُ فِيهَا كَدَلْوِ الْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ“ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَعْلَمَانِ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَا اللَّهُمَّ نَعَمْ
ثمامہ بن حزن قشیری سے مروی ہے کہ جس روز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، میں اس روز ان کے مکان پر حاضر تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرف جھانک کر کہا: لوگو تم اپنے ان دو سرکردہ آدمیوں کو بلاؤ، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف اکسایاہے۔ پس جب انہیں بلایا گیا تو انھوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں آیا تم جانتے ہو کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور نمازیوں کے لیے مسجد تنگ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنے خالص مال سے اس قطعہ زمین کو خرید کر مسجد میں شامل کردے اور اس کا اس قطعۂ زمین پر کوئی استحقاق نہ ہو، بلکہ وہ عام مسلمانوں کی طرح ہی اس پر حق رکھتا ہو اور اسے اس کے عوض جنت میں اس سے بہتر جگہ ملے گی۔ تو میں نے اپنے خالص ذاتی مال سے وہ قطعہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا، لیکن اب حال یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہو۔ پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو رومہ کے کنوئیں کے علاوہ کوئی کنواں شیریں پانی کا نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اپنے ذاتی مال سے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے اور اس میں اس کا حصہ بھی عام مسلمانوں کی طرح ہی ہو، اس کے عوض اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر کنواں ہو گا۔ تو میں نے یہ کنوں اپنے ذاتی مال سے خریدا تھا، لیکن اب حال یہ ہے کہ تم مجھے اس سے پانی تک پینے نہیں دیتے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں جیش العسرۃ یعنی غزوہ تبوک کے لشکر کو تیار کرنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ یہ سب باتیں درست ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12272]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3703، والنسائي: 6/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 555»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گوناگوں مناقب ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12273
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَشْرَفَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذَا اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ثُمَّ قَالَ ”اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ“ وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ ”هَذِهِ يَدِي وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ فَبَايَعَ لِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بِهَذَا الْبَيْتِ فِي الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ“ فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِي فَوَسَّعْتُ بِهِ الْمَسْجِدَ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَ ”مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً“ فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ وَأَنْشُدُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا ابْنَ السَّبِيلِ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا لِابْنِ السَّبِيلِ قَالَ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے، تو وہ مکان کے اوپر سے جھانکے اور کہا: لوگو! میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم میں سے کوئی اس وقت موجود تھا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حراء پر تھے اور پہاڑ جھومنے لگ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم مبارک پہاڑ پر مار کر فرمایا تھا: اے حراء! ٹھہر جا، تیرے اوپر صرف نبی، صدیق یا شہید موجود ہیں۔ اس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، کئی لوگوں نے ان کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر اس آدمی سے پوچھتا ہوں، جو بیعت رضوان کے دن حاضر تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے مشرکین مکہ کی طرف قاصد بنا کر روانہ کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت لیتے اور کرتے وقت فرمایا تھا: یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف سے بیعت لی تھی، کئی لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی،پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت موجود ہو، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو مسجد کے ساتھ والے گھر کو خرید کر مسجد میں شامل کرے اور اسے اس کے عوض جنت میں گھر ملے گا۔ تو میں نے اپنے ذاتی مال سے وہ جگہ خرید کر مسجد کو وسیع کر دیا تھا، بہت سے لوگوں نے اس دعوے کی بھی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو جیش العسرہ یعنی غزوہ تبوک کے لشکر کے موقع پر موجود تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کون ہے، جو آج اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس کا یہ عمل اللہ کے ہاں مقبول ہو۔ تو میں نے اپنے ذاتی مال سے آدھے لشکر کی ضروریات کا انتظام کر دیا تھا، بہت سے لوگوں نے اس منقبت کی بھی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ کیا کوئی جانتا ہے کہ رومہ کا پانی مسافروں کو قیمتاً دیا جاتا تھا، میں نے اپنے ذاتی مال سے اسے خرید کر مسافروں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس کی بھی تصدیق کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12273]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3699، والنسائي: 6/ 236، وعلقه البخاري: 2778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 420»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شہادت کی پیشین گوئی کر دی تھی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12274
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ فَدَخَلَ مَدْخَلًا كَانَ إِذَا دَخَلَهُ يَسْمَعُ كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ قَالَ فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ وَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا قَالَ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَبِمَ يَقْتُلُونَنِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا“ فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي
ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے، وہ اپنے گھر کے ایک ایسے مقام میں آئے، جہاں سے آواز باہر سنی جاسکتی تھی، وہ اس جگہ پر گئے اور ہماری طرف جھانکا اور کہا: اب یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں، ہم نے کہا: اے امیر المومنین! ان کے مقابلے میں آپ کے لیے اللہ کافی ہے، انہوں نے پھر کہا: یہ لوگ مجھے کیونکر قتل کریں گے، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون اِن تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں: کوئی آدمی اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے، یا کسی کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جائے۔ اللہ کی قسم! اللہ نے جب سے مجھے ہدایت دی ہے، میں نے اپنے دین کے مقابلے میں کسی دین کو پسند نہیں کیا، اور میں نے قبل ازاسلام یا بعد ازاسلام کبھی بھی زنانہیں کیا اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، پھر یہ لوگ میرے قتل کے درپے کیوں ہیں؟ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12274]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابوداود: 4502، وابن ماجه: 2533، والترمذي: 2158، والنسائي: 7/ 91، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 437»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. الفَضْلُ الثَّالِثُ فِي سَوَالِ عُثْمَانَ وَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمُعَاتَبَيْهِ إِيَّاهُ
فصل سوم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12275
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ عَلَى الَّذِينَ حَصَرُوهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفِي الْقَوْمِ طَلْحَةُ قَالَ طَلْحَةُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُسَلِّمُ عَلَى قَوْمٍ أَنْتَ فِيهِمْ فَلَا تَرُدُّونَ قَالَ قَدْ رَدَدْتُ قَالَ مَا هَكَذَا الرَّدُّ أُسْمِعُكَ وَلَا تُسْمِعُنِي يَا طَلْحَةُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يُحِلُّ دَمَ الْمُسْلِمِ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ أَنْ يَكْفُرَ بَعْدَ إِيمَانِهِ أَوْ يَزْنِيَ بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ يَقْتُلَ نَفْسًا فَيُقْتَلَ بِهَا“ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَكَبَّرَ عُثْمَانُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَنْكَرْتُ اللَّهَ مُنْذُ عَرَفْتُهُ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَقَدْ تَرَكْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَكَرُّهًا وَفِي الْإِسْلَامِ تَعَفُّفًا وَمَا قَتَلْتُ نَفْسًا يَحِلُّ بِهَا قَتْلِي
مجبر کہتے ہیں: جن لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کا محاصرہ کیا ہوا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مکان کے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر انہیں سلام کہا، لیکن ان لوگوں نے سلام کا جواب نہیں دیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم لوگوں میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ، میں لوگوں کو سلام کہہ رہا ہوں، جبکہ تم ان میں موجود ہو اور تم سلام کا جواب نہیں دے رہے؟ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی میں نے جواب دیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: طلحہ! جواب اس طرح نہیں دیا جاتا، تم میری آواز سن رہے ہو اور میں تمہاری آواز نہیں سن رہا، اچھا طلحہ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ اِن تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں کسی مسلمان کاخون بہانا جائز نہیں: ایمان کے بعد کفر کرنا یعنی مرتدّ ہو جاتا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنا، یا کسی کو قتل کرنا، قتل کے بدلے قاتل کو قتل کر دیا جائے گا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اکبر، میں نے جب سے اللہ کو پہچانا ہے، میں نے اس کا انکار نہیں کیا، اور نہ میں نے جاہلیت کے دور میں زنا کیا اور نہ اسلام قبول کرنے کے بعد، میں تو قبل از اسلام بھی اس کو انتہائی ناپسند سمجھتا تھا اور بعد ازاسلام گناہ سے بچتے ہوئے میں نے اس کا ارتکاب نہیں کیا اور میں نے کسی ایسی جان کو قتل نہیں کیا، جس کے بدلے میں مجھے قتل کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12275]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1402»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12276
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي تَلِي مَقَامَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفِيكُمْ طَلْحَةُ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ تَكُونُ فِي جَمَاعَةٍ تَسْمَعُ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ تَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا طَلْحَةُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَمَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ هَذَا يَعْنِينِي رَفِيقِي مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ“ قَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ انْصَرَفَ
اسلم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جن دنوں میں عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے، میں اس جگہ تھا، جہاں جنازے پڑھے جاتے ہیں، اور لوگوں کا ازدحام اس قدر تھا کہ اگر پتھر پھینکا جاتا تو وہ کسی نہ کسی کے سر پر لگتا،میں نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے مکان کے اس سوراخ سے باہر کو جھانکا جو مقام جبریل علیہ السلام سے متصل ہے، انہوں نے کہا: لوگو! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، انھوں نے پھر کہا: لوگو! کیا تمہارے اندر طلحہ موجود ہیں؟ لوگ خاموش رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تیسری بار کہا: لوگو! کیا تمہارے اندر طلحہ موجود ہیں؟ بالآخر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا میں تمہیں ان لوگوں میں نہیں دیکھ رہا؟ میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم کسی جماعت کے اندر ہو اورمیں تمہیں تین بار پکاروں اور تم جواب تک نہ دو؟ طلحہ! اب میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں یا د ہے کہ ایک روز میں اور تم فلاں مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، میرے اور تمہارے سوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کوئی دوسرا ساتھی نہ تھا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاںـ،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے کہا تھا: طلحہ! ہر نبی کا اس کی امت میں سے ایک صحابی جنت میں اس نبی کا ساتھی ہوگا اور یہ عثمان بن عفان جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ گواہ ہے، مجھے یاد ہے، اس کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ واپس اتر گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12276]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، القاسم بن حكم الانصاري، وقال ابو حاتم: مجھول، وليّنه الحافظ ابن حجر، وابوعبادة عيسي بن عبد الرحمن، ضعّفه البخاري والنسائي وابن حبان، وقال ابو حاتم: منكر الحديث، ضعيف الحديْث، اخرجه البزار: 374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 552»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي رُؤْيَا عُثْمَانَ وَإِخْبَارِهِ بِيَوْمِ قَتْلِهِ و اسْتِعْدَادِهِ لِذلِكَ وَصَبْرِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل چہارم: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12277
عَنْ نَائِلَةَ بِنْتِ الْفَرَافِصَةِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ نَعَسَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ فَأَغْفَى فَاسْتَيْقَظَ فَقَالَ لَيَقْتُلَنَّنِي الْقَوْمُ قُلْتُ كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَبْلُغْ ذَاكَ إِنَّ رَعِيَّتَكَ اسْتَعْتَبُوكَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالُوا تُفْطِرُ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اونگھ آئی اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: یہ لوگ یقینا مجھے قتل کر ڈالیں گے، میں نے کہا: ان شاء اللہ ہر گزنہیں، ابھی تک ایسا معاملہ نہیں ہے، آپ کی رعایا آپ کو محض ڈرا دھمکا رہی ہے، انہوں نے کہا: میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ آج رات تم ہمارے ہاں روزہ افطار کر و گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12277]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زياد بن عبد الله، فيه نظر، وام ھلال لا تعرف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 536»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں