🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي خِلَافَتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِشَارَةِ النَّبِي ﷺ إِنِّي ذُلِكَ
باب اول: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12288
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ فَتَعَاهَدَ قَالَ عَفَّانُ فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِمْرَانُ وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ قَالَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَقَالَ ”دَعُوا عَلِيًّا دَعُوا عَلِيًّا إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر فرمایا،دوران سفر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسا کام ہوا کہ چار صحابہ نے مل کر پکا عزم کیا کہ وہ ان کی اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کریں گے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارا معمول تھا کہ جب ہم سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے، آپ کو سلام کہتے۔ پس وہ کہتے ہیں: وہ چاروں آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے، ان میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا، پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا کہ اے اللہ کے رسول! علی نے یوں یوں کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منہ موڑ لیا، پھر تیسرا آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا س سے بھی اپنا رخ پھیر لیا، اتنے میں چوتھا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! علی نے ایسے ایسے کیا ہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوتھے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوچکا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو چھوڑ دو، علی کو چھوڑدو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست اور ساتھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12288]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي فيه كلام وكان يتشيع، اخرجه الترمذي: 3712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19928 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20170»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12289
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ ”فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي وَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي“
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: پس بیشک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، میرے بعد وہ تم کا دوست اور ساتھی ہے، وہ مجھ سے ہے اور میں ا س سے ہوں اور وہ میرے بعد تم سب کا دوست ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12289]
تخریج الحدیث: «ھو حديث طويل، واسناده ضعيف بھذه السياقة، اجلح الكندي ضعيف، اخرجه البزار: 2563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23400»

الحكم على الحديث:
ھو حديث طويل، واسناده ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12290
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا ”سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ“ قَالَ فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ“
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: علی کے دروازے کے سوا باقی سب دروازے بند کردو۔ لوگوں نے اس بارے میں باتیں کیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناکی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! میں نے حکم دیا ہے کہ یہ تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سواے علی کے دروازے کے، تم میں سے بعض باتیں بنانے والوں نے کچھ باتیں بنائی ہیں، اللہ کی قسم! میں نے خود کسی چیز کو نہ بند کیا ہے اور نہ کھولا ہے، مجھے تو بس جو حکم ملا ہے، میں نے اسی کی ابتاع کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12290]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه منكر، ميمون البصري الكندي ضعّفه ابن المديني ويحيي القطان وان معين وابوداود، اخرجه الحاكم: 3/ 125، والنسائي في الكبري: 8423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19502»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف ومتنه منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. الْفَضْلُ الْأَوَّلُ: فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا الْجَامِعِ لِكَثِيرِ مِنْ مَنَاقِبِ السيد عَلِيِّ بْنِ أَبِي طالب رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
باب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12291
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى قَالَ فَابْتَدَؤُا فَتَحَدَّثُوا فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا قَالَ فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ أُفْ وَتُفْ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ ”أَيْنَ عَلِيٌّ“ قَالُوا هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ قَالَ فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ ”لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“ قَالَ وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ ”أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ فَأَبَوْا فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ ”أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ ”أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ فَأَبَوْا قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَ ”أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ قَالَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] قَالَ وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ قَالَ وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَخْرُجُ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ ”لَا“ فَبَكَى عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي“ قَالَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ”أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي“ وَقَالَ ”سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ“ فَقَالَ فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ قَالَ وَقَالَ ”مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ“ قَالَ وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ حِينَ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ ”أَوَكُنْتَ فَاعِلًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ“
عمرو بن میمون سے مروی ہے کہ میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ نوآدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: اے ابو العباس! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ چلیں یا یہ لوگ اٹھ جائیں اور ہمیں خلوت دیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہارے ساتھ اٹھ جاتا ہوں، عمر و بن میمون کہتے ہیں: ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صحت مند تھے، یہ ان کے نابینا ہونے سے قبل کی بات ہے، عمرو کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے ابتداء کرتے ہوئے بات کی، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا کہا؟ کچھ دیر بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آگئے، وہ کہہ رہے تھے، ہائے افسوس یہ لوگ اس آدمی پر طعن و تشنیع کرتے ہیں، جسے دس امتیازات حاصل ہیں، یہ اس شخصیت پر معترض ہیں، جس کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: میں اب ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جسے اللہ کبھی ناکام نہیں کرے گا، وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کی یہ بات سن کر بہت سے لوگوں نے گردنیں اوپر کو اٹھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ بتانے والے نے بتایا کہ وہ اپنے خیمے میں آٹا پیس رہے ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اب تم میں سے کوئی آدمی یہ کام نہیں کرتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور وہ دیکھ بھی نہ سکتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھو ںمیں لعاب ڈالا، پھر جھنڈے کو تین بار لہرا کر ان کے حوالے کیا، وہ فتح یاب واپس ہوئے اور قیدیوں میں صفیہ بنت حیی بھی تھیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کو سورۃ التوبہ دے کر روانہ کیا، اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے روانہ فرمایا، انہوں نے جا کر اس سے سورۃ التوبہ لے لی، اور آپ نے فرمایا تھا اس سورت کو ایسا آدمی لے جائے، تو مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی برادری سے فرمایا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو دنیا اور آخرت میں میرا ساتھ دے اور میرے ساتھ رہے؟ علی رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے تھے، لوگوں نے انکار کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ رہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا اور آخرت میں تم میرے ساتھ ہی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں چھوڑ کر دوسرے آدمی کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا تم میں سے کون دنیا اور آخرت میں میرا ساتھ دے گا؟ لوگوں نے انکار کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ رہوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے ساتھی ہو، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد انہوں نے ہی سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا چادر لے کر علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے اوپر ڈال دی اور فرمایا: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ (سورۂ احزاب: ۳۳) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنی جان کا نذرانہ یوں پیش کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لباس زیب تن کر کے ان کی جگہ پر سوگئے، اور مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مار رہے تھے ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، علی رضی اللہ عنہ سوئے ہوئے تھے، انہوں نے سمجھا کہ یہ اللہ کے نبی ہیں، انہوں نے کہا، اے اللہ کے نبی! تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بئر میمون ایک کنویں کا نام ہے، کی طرف تشریف لے گئے ہیں، آپ بھی ان کے پاس چلے جائیں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی پیچھے پہنچ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ ساتھ چلے اور آپ کے ہم راہ غار میں جا داخل ہوئے، علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح پتھر مارے گئے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارے جاتے تھے، اور وہ کپڑے ہی میں کپڑے کے نیچے ہی الٹ پلٹ رہے تھے انہوں نے اپنا سر کپڑے میں اچھی طرح چھپا لیا، سر کو باہر نہ نکالتے تھے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، اس کے بعد انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا، تو مشرکین نے کہا تم بڑے ذلیل ہو، ہم تمہارے ساتھی کو پتھر مارتے تھے تو وہ اس طرح الٹتے پلٹتے نہ تھے اور تم تو پتھر لگنے پر الٹے سیدھے ہوتے تھے، اور ہمیں یہ بات کچھ عجیب سی لگتی تھی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو ساتھ لیے تبو ک کی طرف روانہ ہوئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آپ کے ہمراہ جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کردیا تو وہ رونے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو، میں جاؤں تو تم میرے خلیفہ نائب کی حیثیت سے یہاں رہو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا میرے بعد تم ہر مومن کے دوست ہو، نیز فرمایا تھا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کو چھوڑ کر باقی تم سب لوگ اپنے اپنے دروازے بند کردو،تو علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں داخل ہوجاتے تھے، کیونکہ ان کا ا س کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں علی رضی اللہ عنہ اس کا دوست ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں بتلایا کہ کہ وہ اصحاب الشجرہ یعنی صلح حدیبیہ کے موقعہ پر درخت کے نیچے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں سے راضی ہے، اور ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ تھا اللہ اس سے بھی واقف ہے، کیا اللہ نے اس کے بعد کسی موقعہ پر فرمایا کہ اب وہ ان سے ناراض ہے؟ نیز جب عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص حاطب بن ابی بلقعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہا اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑادوں تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کیا تم ایسا کرو گے، تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر ڈالی اور فرمایا اب تم جو چاہو کرتے رہو، تمہارا مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12291]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابو بلج يحيي بن سليم يقبل حديثه فيما لا ينفرد به، اخرجه الحاكم: 3/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3061»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. الْفَصْلُ الثَّانِي وَفِيهِ أَحَادِيثُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
فصل دوم: سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12292
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ اشْتَكَى عَلِيًّا النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ”أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَشْكُوا عَلِيًّا فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اللَّهِ أَوْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“
سیدنا ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں شکایتیں کیں، سو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم علی کے شکوے مت کیا کرو، وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت سخت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12292]
تخریج الحدیث: «زينب بنت كعب مختلف في صحبتھا، روي عنھا ابنا اخويھا، وزكرھا ابن حبان في الثقات، واخرج لھا اصحاب السنن، اخرجه الحاكم: 1/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11839»

الحكم على الحديث:
زينب بنت كعب مختلف في صحبتھا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12293
عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ حَتَّى وَجَدْتُ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شِكَايَتَهُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَآنِي أَمَدَّنِي عَيْنَيْهِ يَقُولُ حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ ”يَا عَمْرُو وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي“ قُلْتُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُوذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَلَى مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي“
سیدنا عمر و بن شاس اسلمی رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں یمن کی جانب گیا، دوران سفر انہوں نے میرے ساتھ کچھ سختی کی، اس سے مجھے دل میں بہت کوفت ہوئی، جب میں واپس آیا تو میں نے اعلانیہ مسجد میں ان کا شکوہ کردیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت مسجد میں داخل ہو ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں، پھر میں بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اللہ کی قسم! تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جس نے علی کو ایذا دی، اس نے درحقیقت مجھے تکلیف پہنچائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12293]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الفضل بن معقل ليس بمشھور، وترجم له البخاري وابن ابي حاتم ولم يذكرا فيه جرحا ولاتعديلا، اخرجه الحاكم: 3/122، والبزار: 2561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16056»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12294
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ“ وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ”لَا يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“
سیدنا یحییٰ بن آدم سلولی رضی اللہ عنہ، جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرتھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میری طرف سے ادائیگی یا تو میں خود کروں گا، یا علی کرے گا۔ ابن ابی بکیر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: میرا قرضہ میں خود ادا کروں گا یا میری طرف سے علی ادا کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12294]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف ومتنه منكر، ابو اسحاق السبيعي شھر بالتدليس اضافة الي انه قد تغير بأخرة، وسماعه من حبشي بن جنادة لا يثبت من طريق صحيحة، اخرجه الترمذي: 3719، وابن ماجه: 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17645»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف ومتنه منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12295
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ ”لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کوئی مومن تجھ سے بغض نہیں رکھ سکتا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہیں کر سکتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27040»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان اور نفاق کے لیے معیار ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12296
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي“
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ، یا کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا، (یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جائے) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے علی کو برا بھلا کہا، اس نے یقینا مجھے برا بھلا کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12296]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الحاكم: 3/ 121، والطبراني في الكبير: 23/737، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27284»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12297
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ مِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے خصوصی طور پر جو باتیں بیان کی، ان میں سے ایک یہ تھی: مجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا اور مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12297]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 78، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 642»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 78
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں