الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. الْبَابُ الثَّالِثُ فِي فَضْل سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ على لَأَوَاءِ هَا وَكَرَاهَةِ الْخُرُوجَ مِنْهَا رَغْبَةً عَنْهَا وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ عَنْهَا
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12647
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام پر بیعت کی، بعد میں اسے بخار ہوگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: آپ میری بیعت واپس کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا، وہ پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار کردیا، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیعت واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے پوچھا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ تو چلا گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ ایک بھٹی کی مانند ہے، یہ برے لوگوں کو باہر نکال دیتا ہے اوراچھے لوگوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12647]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7208، 7211، ومسلم: 1383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14335»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7208
حدیث نمبر: 12648
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام قبول کیا اور ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہا: آپ میری بیعت واپس کر دیں، …۔ پھر روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12648]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15287»
وضاحت: فوائد: … ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((أُمِرْتُ بِقَرْیَۃٍ تَأْکُلُ الْقُرٰی، یَقُوْلُوْنَ: یَثْرِبُ، وَھِیَ الْمَدِیْنَۃُ، تَنْفِیْ النَّاسَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ مِنْ طُرُقٍ أُخْرٰی عَنْہُ مَرْفُوْعًا بِلَفْظِ: ((یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَدْعُوْ الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّہٖ وَقَرِیْبَہٗ: ھَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ ھَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ وَالْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَّھُمْ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ، لَایَخْرُجُ مِنْھُمْ أَحَدٌ رَغْبَۃً عَنْھَا إِلَّا أَخْلَفَ اللّٰہُ فِیْھَا خَیْرًا مِّنْہُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِیْنَۃَ کَالْکِیْرِ تُخْرِجُ الْخَبِیْثَ، لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَنْفِیْ الْمَدِیْنَۃُ شِرَارَھَا کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) … مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم دیا گیا ہے جس (کے باسی) دوسری بستیوں پر غالب آ جائیں گے۔لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ وہ مدینہ ہے، جو لوگوں سے برائیوں کو اس طرح دور کرتی ہے، جس طرح دھونکنی لوہے کی میل کچیل صاف کر دیتی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی اپنے چچیرے بھائی یا کسی رشتہ دار کو یوں بلائے گا:ـ (مدینہ کو چھوڑو اور) خوشحالی کی طرف آؤ، آسودگی کی طرف آؤ۔ لیکن مدینہ میں بسیرا کرنا ان کے لیے بہتر ہو گا۔ کاش انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی آدمی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکل جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہترین فرد کو لے آئے گا۔ آگاہ رہو! مدینہ تو دھونکنی کی طرح ہے جو خبیث لوگوں کو خارج دیتا ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مدینہ شرّ پسند لوگوں (کوجلاوطن کر کے ان کی) یوں نفی نہ کر دے گا جس طرح کہ بھٹی لوہے کی کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے۔
(صحیح بخاری: ۴/۶۹۔۷۰، صحیح مسلم: ۹/۱۵۴)
اس میں مدینہ کے باسیوں کی عظمتوں کا بیان ہے، ان کو بھی چاہئے کہ جہاں ان کی پناہ گاہ عظیم ہے، وہ اپنے آپ کو بھی عظیم تر ثابت کریں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: (امرت بقریۃ): خطیب نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایک گاؤں کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(تاکل القری): کا معنی ہے کہ اس بستی والے دوسری بستیوں والوں پر غالب آ جائیں گے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق زمانۂ دجال سے ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب دجال مدینہ کا قصد کرے گا تو مدینہ تین دفعہ زور زور سے ہلے گا اور اللہ تعالیٰ ہر کافر اور منافق کو اس سے (اس دجال کی طرف) نکال دے گا، (کیونکہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا)۔ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرنے پر صبر کرنے کی فضیلت ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، جیسا کہ بد و والی درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی، لیکن اسے مدینہ میں بخار ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ نے انکار کر دیا۔ وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور کہا کہ مجھے میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ (بالآخر اجازت نہ ملنے کے باوجود)وہ بدو مدینہ سے نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو دھونکنی اور بھٹی کی طرح ہے، یہ خبیث چیز کی نفی کر دیتا ہے اور طیب چیز کو نکھارتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۱۷)
غور فرمائیں! ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ} (سورۂ توبہ: ۱۰۱) … اور کچھ مدینے والوں میں ایسے (منافق) ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔
بلا شک وشبہ منافق خیبث ہے، جبکہ وہ مدینہ میں بھی رہ رہا ہو، اس لیے ان احادیث میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مدینہ خبیث چیز کی نفی کرتا ہے، یہ اسمتراراً نہیں، بلکہ تکراراً ہے۔ ایک دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا ہے اور دوبارہ دجال کے دور میں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۱۸)
(صحیح بخاری: ۴/۶۹۔۷۰، صحیح مسلم: ۹/۱۵۴)
اس میں مدینہ کے باسیوں کی عظمتوں کا بیان ہے، ان کو بھی چاہئے کہ جہاں ان کی پناہ گاہ عظیم ہے، وہ اپنے آپ کو بھی عظیم تر ثابت کریں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: (امرت بقریۃ): خطیب نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایک گاؤں کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(تاکل القری): کا معنی ہے کہ اس بستی والے دوسری بستیوں والوں پر غالب آ جائیں گے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق زمانۂ دجال سے ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب دجال مدینہ کا قصد کرے گا تو مدینہ تین دفعہ زور زور سے ہلے گا اور اللہ تعالیٰ ہر کافر اور منافق کو اس سے (اس دجال کی طرف) نکال دے گا، (کیونکہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا)۔ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرنے پر صبر کرنے کی فضیلت ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، جیسا کہ بد و والی درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی، لیکن اسے مدینہ میں بخار ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ نے انکار کر دیا۔ وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور کہا کہ مجھے میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ (بالآخر اجازت نہ ملنے کے باوجود)وہ بدو مدینہ سے نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو دھونکنی اور بھٹی کی طرح ہے، یہ خبیث چیز کی نفی کر دیتا ہے اور طیب چیز کو نکھارتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۱۷)
غور فرمائیں! ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ} (سورۂ توبہ: ۱۰۱) … اور کچھ مدینے والوں میں ایسے (منافق) ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔
بلا شک وشبہ منافق خیبث ہے، جبکہ وہ مدینہ میں بھی رہ رہا ہو، اس لیے ان احادیث میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مدینہ خبیث چیز کی نفی کرتا ہے، یہ اسمتراراً نہیں، بلکہ تکراراً ہے۔ ایک دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا ہے اور دوبارہ دجال کے دور میں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۱۸)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15287
33. الْبَابُ الرابع في مَلاكِ مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَوْ اَرَادَهُمْ بِسُوءٍ وَطَرَدِهِ عَنْ رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
حدیث نمبر: 12649
عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ظُلْمًا أَخَافَهُ اللَّهُ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا“
سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12649]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 6635، والنسائي في الكبري: 4265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16673»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12650
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَخَافَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12650]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16675»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16675
حدیث نمبر: 12651
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا: يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ.“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک حکمران مدینہ منورہ آیا، اس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی، کسی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ اس سے ایک طرف ہی رہیں تو بہتر ہوگا، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے گئے تو انہیں چوٹ لگ گئی پس انہوں نے کہا: ہلاک ہواوہ آدمی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوف زدہ کیا، ان کے دونوں یا ایک بیٹے نے کہا: اباجان!اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے خوف زدہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو وفات پاچکے ہیں؟ انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے ڈرایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12651]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 180،و ابن حبان: 3738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14878»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12652
عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خو ف زدہ کرنے یا ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح نسیت و نابود کردے گا، جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12652]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1558»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1387
حدیث نمبر: 12653
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
ابو عبداللہ قراظ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تین بار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ انھوں نے کہا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے یوں ہلاک کر دے گا جیسے نمک پانی میں میں گھل جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12653]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1386، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8089 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8075»
وضاحت: فوائد: … ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کی اس انتقامی کاروائی کا دنیا میں بھی مصداق بن سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1386
حدیث نمبر: 12654
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا،اللہ اسے اس طرح ختم کردے گا، جیسے نمک پانی میں حل ہو کر ختم ہوجاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12654]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8672»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8672
34. الْبَابُ الْخَامِسُ فِي حِفْظِ اللَّهِ تَعَالَى الْمَدِينَةَ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ وَثُبُوتِ الْإِيْمَانِ بِهَا إِلَى آخِرِ الزَّمَانِ
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
حدیث نمبر: 12655
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کے داخلی راستوں پرفرشتے مقرر ہیں، دجال اور طاعون مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12655]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1880، 5731، ومسلم: 1379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8863»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1880
حدیث نمبر: 12656
عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يُقَالُ لَهُ عِيَاضٌ، وَكَانَتْ بِنْتُ أُسَامَةَ تَحْتَهُ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْيَافِ حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَصَابَهُ الْوَبَاءُ، قَالَ: فَأَفْزَعَ ذَلِكَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَطْلُعَ عَلَيْنَا نِقَابُهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ.“ قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَاهُ الْهَاشِمِيُّ وَيَعْقُوبُ وَقَالَا جَمِيعًا: إِنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ.
اسامہ بن زید کے چچازاد عیاض سے مروی ہے، سیدنا اسامہ کی بیٹی اسی عیاض کی زوجیت میں تھی، ان سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیاکہ وہ کسی خوشحال علاقے سے نکلا،چنانچہ جب وہ مدینہ کے ایک راستے پر پہنچا تو وہ وباء میں مبتلا ہوگیا، عیاض کہتے ہیں: یہ سن کر لوگ خوف زدہ ہوگئے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ کوئی ظالم شخص ہمارے اوپر مدینہ میں نہیں آسکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12656]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عياض ابن عم اسامة بن زيد، اخرجه الطيالسي: 633، والبزار في مسنده: 2616، والطبراني في الكبير: 401، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22147»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عياض ابن عم اسامة بن زيد