🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. الْبَابُ الْخَامِسُ فِيمَا جَاءَ فِي مَقْبُرَةِ مَكَّةَ وَالشَّعْبِ الْمُقَابِلِ لِلْبَيْتِ
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12607
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبُرَةِ، وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرِ، أَوْ قَالَ: وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ، شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْمَقْبُرَةُ هَذِهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي أَخَصَّ الشِّعْبَ، قَالَ: هَكَذَا، قَالَ: فَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ، أَشَارَ بِيَدِهِ وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ أَوْ الضَّفِيرِ، وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ لِلْبَيْتِ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مکہ کے پہلے راستہ پر جو قبرستان واقع ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وہاں ضفیریا ضفیرہ کے پیچھے پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بہترین قبرستان ہے۔ جس نے مجھے حدیث بیان کی، میں نے اس سے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھاٹی کا بھی بطور خاص ذکر کیاتھا، انہوں نے کہا: یہ الفاظ اسی طرح ہیں، گھاٹی کی تخصیص کے بارے میں انہوں نے ہمیں نہیں بتلایا، صرف اتنا ہی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضفیرہ یا ضفیر کے پیچھے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور ہم سنا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے سامنے واقع گھاٹی کی تخصیص بھی کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12607]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابراهيم بن ابي خداش، لم يوثقه غير ابن حبان، اخرجه البزار: 1179، والطبراني: 11282، وعبد الرزاق: 6734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3472»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12608
عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى، فَيُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ: إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ أَفَشَيْئٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، قَالَ: فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: فَإِذَا فِيهَا، ”مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.“ قَالَ: وَإِذَا فِيهَا، ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا، وَحِمَاهَا كُلُّهُ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا، وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ، وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ.“ قَالَ: وَإِذَا فِيهَا، ”الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، أَلَا! لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ.“
ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوئی حکم دیتے اور وہ کام کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے تو وہ کہتے: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے،اشتر نے ان سے کہا:آپ جو ایسی ایسی بات کہہ جاتے ہیں، اب یہ لوگوں میں عام پھیل گئی ہے، کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِ خاص ارشاد فرمائی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں سے الگ طور پر کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی، البتہ میں نے آپ سے ایک بات سنی ہوئی ہے، جو اس صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے اور وہ صحیفہ میری تلوار کے میان میں محفوظ ہے، لوگوں کے اصرار پر انہو ں نے وہ صحیفہ نکالا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان لکھا ہوا تھا: جو شخص دین میں نیا کام جاری کرے یا کسی نئے کام کرنے والے کو تحفظ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت مقبول نہیں ہو گی۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا اور میں مدینہ منورہ کی حرمت کاا علان کرتا ہوں، یہ دونوں حرّوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے اور اس کی تمام چراگاہوں میں سے گھاس نہ کاٹی جائے اور نہ اس کے شکار کو دھمکایا ڈرایاجائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہوتو اٹھاسکتا ہے اور نہ حدود حرم میں درخت کاٹے جائیں، ہاں کوئی آدمی اپنے اونٹ چرا سکتا ہے اور یہاں لڑائی کے لیے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ اور اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو امان دے دے تو سب مسلمان ا س عہد و پیمان کو پورا کریں اور مسلمان اپنے دشمن کے مقابلہ میں سب مل کر ایک ہیں، یاد رکھو کہ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ امان والے کو اس کی مدت امان میں قتل کیاجاسکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12608]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه مختصرا ابوداود: 2035، والنسائي: 8/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 959»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12609
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا.“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور پہاڑ تک حرم ہے، جس نے مدینہ میں کوئی بدعت جاری کی یابدعتی کو پناہ دی، پس اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12609]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3172، 6755، ومسلم: 1370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 615»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3172
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12610
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ.“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں اسے آپ کی اجازت سے حرم قرار دیتا ہوں، کوئی بدعتی یا گناہ گار یہاں پناہ نہ لے سکے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ گھاس کاٹی جائے اور اعلان کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری کے لیے یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی اجازت نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12610]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله لكل نبي حرم وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2920»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره دون قوله لكل نبي حرم وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12611
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بناتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، مدینہ حرم ہے، جو شخص یہاں بدعت یا گناہ کاکام کرے یا کسی بدعتی اور گناہ گار کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ برابر ہے، کوئی ادنیٰ مسلمان کسی غیر مسلم کو پناہ دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑا، اس پراللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12611]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9162»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1508
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12612
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ“ ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ ”يَا بَنِي حَارِثَةَ مَا أَرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ“ ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ ”بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو میری زبان کے ذریعے حرم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو حارثہ کے ہاں گئے اور فرمایا: بنو حارثہ! میرا خیال ہے کہ تمہاری سکونت حرم سے باہر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور سے دیکھا اور فرمایا: نہیں،نہیں، تم حرم کے اندر ہی ہو، تم حرم کے اندر ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12612]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7831»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12613
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى قَالَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حِمًى
سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ان دو حرّوں کے درمیان ہرن پاؤں تو میں ان کو ڈراتا دھمکاتا نہیں اور آپ نے مدینہ کے ارد گرد بار ہ میل کو حرم قرار دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12613]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1873، ومسلم: 1372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7740»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1873
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12614
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ لَوْ رَأَيْتُ الْأُرْوِيَّ تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا وَلَا مَسَسْتُهَا وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ أَوْ يُعْضَدَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر میں جنگلی بکریوں کو مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان گھومتے دیکھو ں تو میں نہ انہیں ڈراتا دھمکاتا ہوں، اور نہ اس کو ہاتھ لگاتا ہوں، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے درختوں کو جھاڑنے یا کاٹنے کو حرام قرار دے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12614]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7469»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12615
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ حَرَّتَيِ الْمَدِينَةِ لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِيرَهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے د و حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے کہ وہاں سے کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا، البتہ اگر کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ ڈالنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12615]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14671»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12616
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ مَوَالِيهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ ”مَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَصِيدُ فِيهِ شَيْئًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طَعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ ثَمَنَهُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ ثَمَنَهُ أَعْطَيْتُكُمْ
سلیمان بن ابی عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حرم مدینہ، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا تھا، میں نے ایک آدمی کو شکار کرتے دیکھا تو انھوں نے اس کے کپڑے اپنے قبضے میں لے لیے، اس کی برادری کے لوگ آئے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس حرم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا اور فرمایاکہ تم اس حرم میں کسی کو شکار کرتا دیکھو تو اس سے چھینا ہوا مال اس کا ہو گا۔ پس جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دی ہے، میں تو اسے واپس نہیں کروں گا، البتہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12616]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1460»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں