🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. الفَضْلُ الأَوَّلُ فِي فَضْلٍ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12677
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَقَالَ لَهُ: ”أَيْنَ تُرِيدُ؟“، قَالَ: أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”صَلَاةٌ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کو الوادع کرنے لگے تو اس سے پوچھا: اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا ارادہ کہاں کا ہے؟ اس نے کہا: بیت المقدس جانے کا ارادہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12677]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 1624، والبزار: 429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11756»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12678
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ، كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح باجماعت ادا کیں کہ کوئی نماز فوت نہ ہوئی تو اس کے لیے جہنم سے آزادی، عذاب سے نجات اور نفاق سے بری ہونے کا پروانہ لکھ دیاجاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12678]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة نبيط بن عمر، اخرجه الطبراني في الاوسط: 5440، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12611»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة نبيط بن عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. الفَضْلُ الثَّانِي حُكْمُ دُخُولِ الْمُشْرِكِ الْمَسْجِدَ وَبَيَانُ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أَسْسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ ﷺ بِالْمَدِينَةِ
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12679
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا مُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِنَا هَذَا غَيْرَ أَهْلِ الْكِتَابِ وَخَدَمِهِمْ“
سیدنا جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سال کے بعد ہماری اس مسجد میں کوئی مشرک داخل نہ ہو گا، البتہ اہل کتاب اور ان کے خدام آسکیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12679]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من جابر، وشريك النخعي واشعث بن سوار ضعيفان، اخرجه عبد الرزاق: 9982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14703»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12680
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: ”إِلَّا أَهْلَ الْعَهْدِ وَخَدَمَهُمْ“
دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: ذمی لوگ اور ان کے خدام آسکیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12680]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15291»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، مشرک مسجد میں آ سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15291
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12681
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: اخْتَلَفَ رَجُلَانِ أَوِ امْتَرَيَا، رَجُلٌ مِنْ بَنِي خُدْرَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، قَالَ الْخُدْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْعَمْرِيُّ: هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ”هُوَ هَذَا الْمَسْجِدُ لِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: فِي ذَاكَ خَيْرٌ كَثِيرٌ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ“ [سورة التوبة: 108]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو خدرہ اور بنو عمر بن عوف کے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا کہ قرآن کریم میں جس مسجد کے متعلق آیا ہے کہ اس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس سے کون سی مسجد مراد ہے؟ بنو حذرہ کے شخص نے کہا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور بنو عمر بن عوف کے آدمی نے کہا: اس سے مراد مسجد ِ قباء ہے۔ وہ دونوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد تو میری یہی مسجد یعنی مسجد نبوی ہے، ہاں مسجد قباء میں بھی بہت زیادہ خیر و بھلائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12681]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11196»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12682
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”هُوَ مَسْجِدِي هَذَا“ [سورة التوبة: 108]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میری یہی مسجد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12682]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 370، وابن حبان: 1604، والطبراني في الكبير:6025، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23191»
وضاحت: فوائد: … ویسے تو مسجد ِ نبوی اور مسجد قباء دونوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس اختلاف سے مراد یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں کس مسجد کا ذکر ہے: {لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ۔} … یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۰۸) ان احادیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی، اس سے مراد مسجد ِ نبوی ہے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ آیت میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس سے مراد مسجد قباء ہے اور آیت کا ظاہری معنی اور سیاق و سباق کا تقاضا بھی یہی ہے۔
حق یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس آیت کے آخری الفاظ فِیْہِ رِجَالٌ … اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس آیت میں مسجد ِ قباء کا ذکر ہے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فِیْہِ رِجَالٌ … اہل قباء کے حق میں نازل ہوئی۔
تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب میں راز یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وہم کو دور کرنا چاہتے ہیں کہ صرف مسجد ِ قباء ایسی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری و تحفۃ الاحوذی)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. الْفَضْلُ الثَّالِثُ ما جَاءَ فِي أَصْلِ مَسْجِدِ النَّبِيُّ ﷺ وَبَنَائِهِ
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12683
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ثَامِنُونِي بِهِ“، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ: ”أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةْ“، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی والی جگہ بنو نجار کی ملکیت تھی، اس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم مجھ سے اس پلاٹ کی قیمت طے کرو۔ انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کی تعمیر کر رہے تھے اور وہ لوگ تعمیر کے سلسلہ میں چیزیں اٹھا اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت یہ اشعار پڑ رہے تھے: أَلا إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْأخِرَہْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُھَاجِرَہ۔ (خبردار! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔) مسجد نبوی کی تعمیر سے قبل جہاں نماز کا وقت ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12683]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2774، 3932، ومسلم: 524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12202»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو چکے تو اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ جگہ خریدی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی، یہ دو یتیم بچوں کی زمین تھی، تقریباً سو ہاتھ لمبی اور سو ہاتھ چوڑی تھی، اس میں مشرکین کی کچھ قبریں تھیں، کچھ ویرانہ تھا اور کھجور کے اور غرقد کے چند درخت بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبریں اکھڑوا دیں، ویرانہ ختم کرا دیا، درخت اور کھجوریں کٹوا دیں اور انھیں قبلے کی جانب لگوا دیا، دیواریں مٹی اور کچی اینٹوں سے اٹھوائیں، دروازے کے دونوں بازو پتھر کے لگائے گئے، چھت کھجور کی شاخون کی اور شہتیر کھجور کے تنوں کے، فرش پر ریت اور کنکریاں بچھائی گئیں، مسجد میں تین دروازے رکھے گئے، قبلہ شمال میں بیت المقدس کی طرف تھا، بعد میں کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2774
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12684
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَتَتَرَّبُ رَأْسُهُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: ”وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، اس وجہ سے ان کا سر غبار آلود ہوگیا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنا، البتہ میرے ساتھیوں نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور ساتھ ساتھ فرما رہے تھے: سمیہ کے بیٹے! اللہ تجھ پر رحم کرے، ایک باغی گروہ تجھے قتل کر ے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12684]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 447، 2812، ومسلم: 2915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11024»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 447
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12685
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شَقَّتْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بڑی اینٹ اپنے پیٹ پرلگا کر اٹھائے آرہے تھے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کاا ٹھانا مشکل ہور ہاہے، اس لیے میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم اور اٹھا لاؤ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12685]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المطلب بن عبد الله بن حنطب لم يسمع من ابي ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8938»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث معنی اور متن کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے وقت موجود ہوں، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ہجری میں مدینہ منورہ تشریف لائے، جبکہ ۱ ہجری میں مسجد ِ نبوی کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. الْفَضْلُ الرَّابِعُ مَنْ زَادَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12686
عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ، وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی اینٹوں سے تعمیر ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ والی بنیادوں پر ہی اسکی بنیادیں اٹھائیں اور انہوں نے اسے اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی کے بنائے، بعد ازاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے تعمیر کیا اور اس میں بہت زیادہ توسیع بھی کی، انہوں نے اس کی دیوار وں کو منقش پتھروں سے چونا گچ کیا اور اس کے ستون منقش پتھروں سے اور چھت ساگواں کی لکڑی سے بنائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12686]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6139»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں