الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. الْبَابُ الْخَامِسُ فِي حِفْظِ اللَّهِ تَعَالَى الْمَدِينَةَ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ وَثُبُوتِ الْإِيْمَانِ بِهَا إِلَى آخِرِ الزَّمَانِ
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
حدیث نمبر: 12657
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، فَيَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا صُفُوفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ، فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ.“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال ظاہر ہو گا اور وہ تمام روئے زمین کو روند دے گا، ما سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے،جب وہ مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، تو وہ اس کے ہر راستے پر فرشتوں کی صفوں کو پائے گا اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا، پھر وہ جرف کی شورزدہ زمین کی طرف جائے گا اوروہاں اپنے ڈیرے ڈالے گا، مدینہ منورہ تین دفعہ جھٹکے گا اور اس میں موجود ہر منافق مرد اور عورت نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12657]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1881، ومسلم: 2943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13017»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1881
حدیث نمبر: 12658
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يُوشِكُ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى تَصِيرَ مَسَالِحُهُمْ بِسَلَاحٍ.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب لوگ مدینہ کی طرف رجوع کریں گے، یہاں تک کہ ان کی سرحد سلاح نامی جگہ کے قریب ہی ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12658]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9205»
وضاحت: فوائد: … مراد یہ ہے کہ دشمن غلبہ پا لیں گے اور مسلمان واپس لوٹ آئیں گے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 12659
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ ایمان سمٹ کر مدینہ کی طرف آجائے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف لوٹ آتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12659]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1876، ومسلم: 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7846 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7833»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1876
35. البَابُ السَّادِسُ فِي حُبُّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْمَدِينَةِ وَتَسْمِيتِهَا بِطَيِّبَةً وَكَرَاهَةِ تَسْمِيتِهَا بِيثْرِبَ
باب ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
حدیث نمبر: 12660
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ جُدْرَانَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، فَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سفر سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر جب مدینہ کی دیواروں پر پڑتی تو مدینہ سے محبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے اور اگر کسی دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو اسے بھی تیز چلنے کے لیے حرکت دیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12660]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1802، 1886، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12646»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1802
حدیث نمبر: 12661
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى، الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ“، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ”إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَيْبَةَ“
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت آلِ کسری کے سفید محلات میں موجود خزانوں کو فتح کرے گی۔ نیز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کا نام طیبہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12661]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21106»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21106
حدیث نمبر: 12662
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْمَدِينَةَ فَقَالَ: ”هِيَ طَيْبَةُ“
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ طیبہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12662]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27868»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 12663
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی یعنی اپنی فضیلت و مرتبہ کے لحاظ سے سب پر غالب آجائے گی، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ یہ مدینہ ہے، یہ منافق اوربد کردار لوگوں کو یوں نکال دے گا، جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12663]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1871، ومسلم: 1382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7231»
وضاحت: فوائد: … بعض دوسری احادیث کے مطابق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں یثرب کا ذکر کیا گیا، اس حدیث سے کراہت کا ہلکا سا اشارہ ملتا ہے کہ مدینہ کو یثرب نہیں کہنا چاہیے، طابہ، طیبہ یا مدینہ کہنا چاہیے۔ ویسے یثرب تثریب سے ماخوذ ہے، جس کے معانی زجر و توبیخ اور ملامت کے ہیں، جبکہ طابہ اور طیبہ کے الفاظ میں حسن پایا جاتا ہے، ان کے معانی پاکیزگی، عمدگی اور خوشگواری کے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1871
حدیث نمبر: 12664
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ سَمَّى الْمَدِينَةَ يَثْرِبَ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، هِيَ طَابَةُ هِيَ طَابَةُ“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مدینہ منورہ کو یثرب کے نام سے ذکر کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، یہ طابہ ہے، اس کانام طابہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12664]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف يزيد بن ابي زياد، ولاضطرابه فيه، اخرجه ابويعلي: 1688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18718»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
36. البابُ السَّابِعُ فِيمَا جَاءَ فِي خَرَابِ الْمَدِينَةِ آخِرَ الزَّمَانِ
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12665
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَقِيلَ: تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ”تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ“، ثُمَّ قَالَ: ”لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ“
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے اور ہم ذوالحلیفہ میں ٹھہرے، کچھ لوگ تو مدینہ منورہ کی طرف جلدی چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات وہیں بسر کی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی رات گزاری، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حضرات کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ بتلایا گیا کہ وہ تو مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مدینہ کی طرف اور اپنی بیویوں کی طرف جلدی چلے گئے، خبردار! عنقریب ایک دور آئے گا کہ مدینہ کی اچھی بھلی حالت ہونے کے باوجود یہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش کہ مجھے علم ہو کہ یمن کے جبل وارق سے کب وہ آگ نمودار ہوگی، جس سے بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں یوں چمکیں گی، جیسے دن میں چمکتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12665]
تخریج الحدیث: «صحيح،قاله الالباني، اخرجه البزارفي مسنده: 430، وابن حبان: 6841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21613»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12666
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجَاءٌ: أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسًا، قَالَ: وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: سُكْبَةُ يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرَيْدَةُ، قَالَ: وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ، قَالَ: يَا مِحْجَنُ! أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ مِحْجَنٌ شَيْئًا وَرَجَعَ، قَالَ: وَقَالَ لِي مِحْجَنٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ”وَيْلُ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا كَأَعْمَرِ مَا تَكُونُ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا، فَلَا يَدْخُلُهَا“، قَالَ: ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ هَذَا؟“، قَالَ: فَأَخَذْتُ أُطْرِيهِ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا وَهَذَا، قَالَ: ”اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ“، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ حُجْرَةٍ لَكِنَّهُ رَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ: ”إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ“
محجن بن ادرع سے مروی ہے کہ رجاء کہتے ہیں: میں ایک روز محجن کے ہمراہ آیا اور ہم بصرہ کی مسجد میں جاپہنچے، مسجد کے ایک دروزے پر ہم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا، مسجد میں سکبہ نامی ایک شخص تھا، وہ کافی طویل نماز پڑھتا تھا، جب ہم مسجد کے دروازے پر واپس آئے تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ وہیں موجود تھے، وہ بڑے صاحب مزاح تھے، کہنے لگے: ارے محجن! کیا تم اس طرح نماز نہیں پڑھتے، جیسے سکبہ پڑھتا ہے؟ تو محجن نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس آگئے، رجاء کہتے ہیں: محجن نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے، یہاں تک کہ احد کے اوپر چلے گئے، آپ نے مدینہ کی طرف جھانک کر فرمایا: افسوس ہے اس بستی پر کہ جب یہ خوب آباد ہوگی، یہاں کے باشندے اسے چھوڑ دیں گے یعنی یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے۔ (ایک روایت ہے محجن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے نبی! تب یہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ نے فرمایا: پرندے اور درندے) دجال اس بستی کی طرف آئے گا تو وہ اس کے ہر دروازے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھے گا اور اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے کو اترے، جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا بس وہ رکوع و سجود ہی کیے جا رہا تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے بعد اسے غور سے دیکھنا شروع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں آدمی ہے، یہ فلاں ہے اور یہ فلاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، یہ الفاظ اسے سنا کر تم اسے ہلاکت میں ڈال دو گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اورفرمایا: تمہارا بہترین دین وہ ہے، جو سب سے آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے، جس میں سب سے زیادہ آسانی ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12666]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 704، والطيالسي: 1295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20617»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره