🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. بَابُ فِي صِفَةِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هو؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12697
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ وَأَعْرِفُ مَنْ عَمِلَهُ؟ وَأَيُّ يَوْمٍ صُنِعَ؟ وَأَيُّ يَوْمٍ وُضِعَ؟ وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ، فَقَالَ لَهَا: ”مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا، أَجْلِسُ عَلَيْهَا إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ.“ فَأَمَرَتْهُ فَذَهَبَ إِلَى الْغَابَةِ فَقَطَعَ طَرْفَاءَ فَعَمِلَ الْمِنْبَرَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ هَذَا الَّذِي تَرَوْنَ فَجَلَسَ عَلَيْهِ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ فَكَبَّرَ هُوَ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي.“ فَقِيلَ لِسَهْلٍ: هَلْ كَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا يَقُولُ النَّاسُ، قَالَ: قَدْ كَانَ مِنْهُ الَّذِي كَانَ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے؟ اسے کس نے کب بنایا ہے اور کس دن لا کر اسے رکھا گیا؟ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلے دن اس پر تشریف رکھتے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاتون کو پیغام بھیجا تھا، جس کا غلام بڑھئی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنے غلام بڑھئی سے کہو کہ وہ لوگوں سے میرے مخاطب ہوتے وقت بلند جگہ بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کوئی چیز تیار کردے۔ اس خاتون نے اس غلام کو اس کا حکم دیا، تو وہ جنگل میں گیا اور وہاں سے جھاؤ کی لکڑی کاٹ کر لایا اور اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر تیار کر دیا، چنانچہ اس خاتون نے وہ منبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوادیا، چنانچہ اسے اس کی اسی جگہ پر رکھا گیا، جہاں تم اسے اب دیکھ رہے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے دن اس منبرپر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی پر اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا اس کے بعد الٹے پاؤں نیچے اتر کر زمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر منبر پر چلے گئے، تاآنکہ نماز سے فارغ ہوئے، نما ز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے عمداً یہ کام کیا ہے، تاکہ تم میری اقتدا کرسکو اور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اس تنے کا کوئی ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جو لوگ بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایسا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12697]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 448، 2094، ومسلم: 544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23259»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 448
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12698
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ مِنْ أَثَلِ الْغَابَةِ، يَعْنِي مِنْبَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: منبر نبوی جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12698]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23186»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23186
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَةِ مُجْتَمِعَةٌ
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12699
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَهُوَ جَاءَ مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ، قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى.“
عمر بن عبدالرحمن بن حارث سے روایت ہے کہ ابو بصرہ غفاری کی طور سے واپسی پرسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے کہا: کہاں سے آرہے ہو؟ انھوں نے کہا: طور سے، میں وہاں نماز ادا کرنے گیا تھا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم روانگی سے قبل مجھ سے ملتے تو تم وہاں نہ جاتے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پالانوں کو نہ کسا جائے، یعنی سفر کا خصوصی اہتمام نہ کیا جائے، مگر تین مساجد کی طرف، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12699]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطيالسي: 1348، والطبراني في الكبير: 2160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24351»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12700
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى.“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف بطور خاص سفر نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12700]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1189، ومسلم: 1397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7191»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1189
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12701
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلُهُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12701]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11055»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ تبرّک، حصول برکت اور خاص ثواب کے ساتھ نماز پڑھنے کی نیت سے کسی مقام کی طرف سفر نہیںکیا جا سکتا، ما سوائے مسجد ِ حرام، مسجد ِ نبوی اور مسجد ِ اقصی کے۔ تجارت، حصول علم یا کسی اور جائز مقصد کے لیے سفر کرنا اور بات ہے۔
شیخ ولی اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی بھی مسجد کی طرف بطور خاص سفر نہ کیا جائے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دورِ جاہلیت میں لوگ بزعم خود تعظیم والی جگہوں کی طرف سفر کر کے جاتے، ان کی زیارت کرتے اور ان سے تبرک حاصل کرتے، جبکہ ایسا کرنے میں واضح طور پر دین میں تحریف اور فساد پیدا ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کے ذریعے یہ دروازہ ہی بند کر دیا، تاکہ غیر شعائر کو شعائر کے ساتھ نہ ملایا جائے اور غیر اللہ کی پوجا پاٹ کا کوئی سبب پیدا نہ ہو جائے، میری رائے کے مطابق حق یہ ہے کہ اس معاملے میں قبر، کسی ولی کی عبادت کا محل اور کوہِ طور وغیرہ، ان سب کا حکم ایک ہے (کہ تبرّک کے حصول اور خاص اجر و ثواب کی نیت سے ان مقامات کی طرف سفر کرنا منع ہے)۔ (حجۃ اللہ البالغۃ)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 827
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل مَسْجِد قباء وَالصَّلَاةِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيحُ
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12702
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ فَيُصَلِّيَ فِيهِ كَانَ كَعَدْلِ عُمْرَةٍ“
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے گھر سے روانہ ہو کر مسجد ِ قباء میں جاکر نماز ادا کرے، اس کا یہ عمل عمرہ کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12702]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواهده، اخرجه ابن ماجه: 1412، والنسائي: 2/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16077»

الحكم على الحديث:
صحيح بشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12703
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی سو ار اور کبھی پیدل جا کر قباء مسجد کی زیارت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12703]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1191، ومسلم: 1399، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5330»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1191
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي ثُمَّ قُلْتُ ارْكَبْ أَيْ عَمِّ قَالَ أَيِ ابْنَ أَخِي لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَرَكِبْتُ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَهُ فَيُصَلِّيَ فِيهِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي قَالَ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں قبا ء میں واقع مسجد بنی عمرو بن عوف میں نماز پڑھ کر اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس آرہا تھا، راستے میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پیدل چلتے مل گئے، میں نے انہیں دیکھا تو میں اپنے خچر سے اترآیا اورمیں نے کہا: چچا جان! آ پ اس پر سوار ہو جائیں، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو ہوسکتا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل چل کرجاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر وہاں نماز ادا کی، پس میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدل جاتے دیکھا ہے، میں بھی پیدل ہی جاؤں اور انہوں نے سوار ہونے سے انکا ر کر دیا اور اسی طرح روانہ ہوگئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12704]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5999»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12705
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیر کے دن قباء کی طرف گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12705]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 343، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11058»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12706
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَضِيخٍ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسجد فضیخ میں فضیخ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نو ش فرمایا، اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام فضیخ رکھ دیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12706]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبدا لله بن نافع، اخرجه ابويعلي: 5733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5844»
وضاحت: فوائد: … کچی کھجور سے تیار شدہ مشروب کو فضیخ کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد وہ مشروب ہے، جو نشہ آور نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبدا لله بن نافع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں