🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. ذكر الإخبار عن إباحة جواب المرء بالكناية عما يسأل وإن كان في تلك الحالة مدحه-
- اس خبر کا ذکر کہ انسان کو سوال کا جواب کنایہ میں دینا جائز ہے، اگرچہ اس میں اس کی تعریف ہی کیوں نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعِرَّانَةِ، إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: اعْدِلْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا وَيْلِي! لَقَدْ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”جعرانہ“ میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں گزارش کی: آپ عدل سے کام لیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہائے افسوس! اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا، تو پھر تو میں برے نصیب والا ہو جاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3138، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14785»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (943). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيحين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. ذكر الخبر الدال على أن العالم عليه ترك التصلف بعلمه ولزوم الافتقار إلى الله جل وعلا في كل حاله-
- اس خبر کا ذکر کہ عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم پر فخر و غرور نہ کرے بلکہ ہر حال میں اللہ جل و علا کا محتاج و نیاز مند بن کر رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْخَضِرُ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، هَلُمَّ إِلَيْنَا، فَإِنِّي قَدْ تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟ فَقَالَ مُوسَى: لا، فَأَوْحَى الِلَّهِ إِلَى مُوسَى: بَلْ عَبْدُنَا الْخَضِرُ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ الِلَّهِ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَارْجِعْ فَإِنَّكَ تَلَقَّاهُ، فَسَارَ مُوسَى مَا شَاءَ الِلَّهِ أَنْ يَسِيرَ، ثُمَّ قَالَ لِفَتَاهُ: آتِنَا غَدَاءَنَا، فَقَالَ لِمُوسَى حِينَ سَأَلَهُ الْغَدَاءَ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ اذْكُرَهُ، وَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَوَجَدَا خَضِرًا، وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ الِلَّهِ فِي كِتَابِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ ان کی اور حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں ملاقات ہو گئی (یعنی جن سے ملنے کے لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام گئے تھے)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا تھا: وہ سیدنا خضر علیہ السلام تھے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں صاحبان کے پاس سے گزرے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور بولے: اے ابوطفیل! آپ ہمارے پاس تشریف لائیے۔ میری اور میرے اس ساتھی کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعے والے ان صاحب کے بارے میں بحث ہو گئی ہے، جس کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی کہ ان سے ملاقات کا راستہ مل جائے، تو کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا: کیا آپ کسی ایسے شخص سے واقف ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی: ایسا نہیں ہے، بلکہ ہمارا بندہ خضر (تم سے زیادہ علم رکھتا ہے)۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملاقات کی دعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے نشانی قرار دیا اور ان سے یہ کہا گیا: جب تم مچھلی کو گم کرو گے، تو تم واپسی کی طرف آنا تمہاری اس سے ملاقات ہو جائے گی۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام روانہ ہوئے اور جتنا اللہ کو منظور تھا وہ چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لے کر آؤ، تو اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اس وقت جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کھانا طلب کیا تھا، کیا آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی؟ ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] ”جب ہم چٹان کے سائے میں آئے تھے، تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا، اور اس کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا“۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] ”یہ وہ جگہ ہے، جسے ہم تلاش کر رہے تھے“، ﴿فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ [سورة الكهف: 64] ”تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس آئے“، تو ان دونوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پا لیا، پھر ان دونوں کا وہ واقعہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 74، 78، 122، 2267، 2728، 3278، 3400، 3401، 4725، 4726، 4727، 6672، 7478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2380، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 102، 988، 6220، 6221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3414، 4117، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3984، 4705، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3149، 3150، 3385، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21497، والحميدي فى (مسنده) برقم: 375»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. ذكر الخبر الدال على إباحة إجابة العالم السائل بالأجوبة على سبيل التشبيه والمقايسة دون الفصل في القصة-
- اس خبر کا ذکر کہ عالم کے لیے جائز ہے کہ سائل کو مثال اور قیاس کے انداز میں جواب دے بغیر قصہ کو تفصیل سے بیان کیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ جَنَّةً عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، فَأَيْنَ النَّارُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ هَذَا اللَّيْلَ قَدْ كَانَ، ثُمَّ لَيْسَ شَيْءٌ، أَيْنَ جُعِلَ؟" قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ یہ سمجھتے ہیں، جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے، تو پھر جہنم کہاں ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اس رات کے بارے میں غور کیا؟ پہلے یہ تھی، پھر یہ نہیں ہوتی۔ تو یہ کہاں سے آتی ہے؟“ اس نے کہا: اللہ بہتر جانتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کر لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 103، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 104، والبزار فى (مسنده) برقم: 9380»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2892). * [الَّذِي] .. [أَلْبَسَ عَلَيْكَ كُلَّ شَيْءٌ] قال الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من الأصل. تنبيه!! ما بين المعقوفين زيادة من «طبعة باوزير» وليس موجودا في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. عبيد الله بن عبد الله الأصم: روى عن جمع، وذكره المؤلف في «الثقات»، وأخرج حديثه مسلم، والمخزومي هو المغيرة بن سلمة، أبو هشام المخزومي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. ذكر الخبر الدال على إباحة إعفاء المسؤول عن العلم عن إجابة السائل على الفور-
- اس خبر کا ذکر کہ عالم کے لیے یہ جائز ہے کہ سوال کا جواب فوراً نہ دے بلکہ کچھ تاخیر کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ فَمَضَى صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ مَا قَالَ، وَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟" قَالَ: هَا أَنَا ذَا، قَالَ:" ضُيِّعَتِ الأَمَانَةُ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ"، قَالَ: فَمَا إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ:" إِذِ اشْتَدَّ الأَمْرُ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے کہ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے دریافت کیا: قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات جاری رکھی۔ حاضرین میں سے بعض حضرات نے یہ سمجھا کہ اس دیہاتی نے جو کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بات سن لی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سوال کو پسند نہیں کیا، جبکہ بعض نے یہ سمجھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ہی نہیں ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امانت کو ضائع کیا جائے، تو تم قیامت کا انتظار کرو۔“ اس نے دریافت کیا: اس کو ضائع کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب معاملہ (نااہل لوگوں کے) سپرد کر دیا جائے، تو تم قیامت کا انتظار کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 59، 6496، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 104، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20422، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8850»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط فليح هو ابن سليمان، أبو يحيى المدني. قال الحافظ في «الفتح» 1/ 142: صدوق، تكلم بعض الأئمة في حفظه، ولم يخرج البخاري من حديثه في الأحكام إلا ما توبع عليه. وأخرج له في المواعظ والآداب، وما شاكلها طائفة من أفراده وهذا منها. هلال بن علي يقال له: هلال بن أبي ميمونة، وهلال بن أبي هلال، فقد يظن ثلاثة وهو واحد، وهو من صغار التابعين، وشيخه في هذا الحديث من أوساطهم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. ذكر الإباحة للعالم إذا سئل عن الشيء أن يغضي عن الإجابة مدة ثم يجيب ابتداء منه-
- اس وضاحت کا ذکر کہ عالم جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد از خود جواب دے سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ؟ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ سَاعَتِهِ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟" قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ شَيْءٍ، وَلا صَلاةٍ، وَلا صِيَامٍ، أَوْ قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ، إِلا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، أَوْ قَالَ:" أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الإِسْلامِ مِثْلَ فَرَحِهِمْ بِهَذَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں (یہاں) ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لیے کوئی بڑی تیاری تو نہیں کی، نہ تو نماز کے حوالے سے اور نہ ہی روزے کے حوالے سے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے عرض کی: میں نے کسی بڑے عمل کے حوالے سے تیاری نہیں کی ہے، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اور کسی بات پر اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3688، 6167، 6171، 7153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2639، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1796، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 8، 105، 563، 564، 565، 2988، 2991، 7348، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2385، 2386، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12195، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1224، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38716»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (260/ 352)، ومضى برقم (8). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. الحسن بن الحسن المروزي: قال الحافظ في «التقريب»: صدوق، وباقي السند على شرطهما. وتقدم تخريجه من جميع طرقه برقم (8).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. ذكر الخبر الدال على إباحة إلقاء العالم على تلاميذه المسائل التي يريد أن يعلمهم إياها-
- اس خبر کا ذکر کہ عالم اپنے شاگردوں کو وہ مسائل خود بھی پیش کر سکتا ہے جنہیں وہ انہیں سکھانا چاہتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى لَهُمْ صَلاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ السَّاعَةَ، وَذَكَرَ أَنْ قَبْلُهَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلا حَدَّثْتُكُمْ بِهِ مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي"، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَأَكْثَرَ النَّاسُ الْبُكَاءَ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ:" سَلُونِي سَلُونِي"، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ"، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يَقُولَ:" سَلُونِي" بَرَكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ عُمَرُ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ آنِفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ" .
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد باہر تشریف لائے۔ آپ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ منبر پر کھڑے ہو گئے۔ آپ نے قیامت کا تذکرہ کیا اور اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس سے پہلے کچھ بڑے حیرت انگیز (واقعات رونما ہوں گے) آپ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ دریافت کرنا چاہتا ہو، وہ مجھ سے اس بارے میں دریافت کرے۔ جب تک میں اس جگہ پر کھڑا ہوا ہوں۔ اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے، میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں بتا دوں گا۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو انہوں نے زیادہ رونا شروع کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت یہ کہنا شروع کیا: ”تم لوگ مجھ سے سوال کرو۔ تم لوگ مجھ سے سوال کرو۔“ تو سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہ بات ارشاد فرماتے رہے کہ ”تم لوگ مجھ سے کچھ پوچھو۔“ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں۔ (یعنی ان پر ایمان رکھتے ہیں) راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ ابھی میرے سامنے اس دیوار پر جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، تو میں نے آج کی طرح بھلائی اور برائی کو (ایک ساتھ) کبھی نہیں دیکھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 93، 540، 749، 4621، 6362، 6468، 6486، 7089، 7090، 7091، 7294، 7295، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2359، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 106، 1502، 5792، 6429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 495، والترمذي فى (جامعه) برقم: 156، 3056، والدارمي وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2885، 4191، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12226، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15919»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (916): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. ذكر الخبر الدال على أن المصطفى صلى الله عليه وسلم قد كان يعرض له الأحوال في بعض الأحايين-
- اس خبر کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ پر بعض اوقات کچھ مخصوص حالتیں طاری ہو جاتی تھیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:" يَرْحَمُهُ الِلَّهِ، لَقَدْ ذَكَّرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک شخص کی قرأت سن کر یہ فرماتے تھے: «يَرْحَمُهُ اللَّهُ» ”اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے وہ آیت یاد کروا دی ہے، جو مجھے بھلا دی گئی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2655، 5037، 5038، 5042، 6335، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 788، 788، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 107، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7952، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1331، 3970، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4780، 4781، 4782، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24973، 25709، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4492»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1202). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. عبدة: هو ابن سليمان الكلأبي، وأبو معاوية: محمد بن خازم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. ذكر الخبر الدال على إباحة اعتراض المتعلم على العالم فيما يعلمه من العلم-
- اس خبر کا ذکر کہ طالبِ علم کے لیے استاد سے کسی مسئلے میں سوال یا اعتراض کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَعْمَلُ فِي شَيْءٍ نَأْتَنِفُهُ، أَمْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ:" بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ"، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ:" يَا عُمَرُ، لا يُدْرَكُ ذَاكَ إِلا بِالْعَمَلِ"، قَالَ: نَجْتَهِدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم جو عمل کرتے ہیں، کیا وہ پیدا ہوتا ہے؟ یا یہ کسی ایسی صورت میں ہے، جو پہلے سے طے ہو چکی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی صورت میں ہے، جو پہلے سے طے ہو چکی ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: پھر عمل کرنے کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! (اس نتیجے تک) صرف عمل کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر تو ہم اہتمام کے ساتھ عمل کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 108، والبزار فى (مسنده) برقم: 7760، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4878، والطبراني فى (الصغير) برقم: 719»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (165). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير هشام بن عمار فإنه من رجال البخاري وحده.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. ذكر الإباحة للمرء أن يسأل عن الشيء وهو خبير به من غير أن يكون ذاك به استهزاء-
- اس وضاحت کا ذکر کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرے حالانکہ وہ اسے جانتا ہے، بشرطے کہ اس کا مقصد تمسخر نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا: ”اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6129، 6203، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2150، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 109، 2308، 2506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4969، والترمذي فى (جامعه) برقم: 333، 1989، 1989 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3720، 3740، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12320، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 4065»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (201): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. حوثرة بن أشرس: هو حوثرة بن أشرس العدوي، أبو عامر البصري، روى عن جمع، وروى عنه غير واحد، وذكره المؤلف في "الثقات" 8/ 215، وأرَّخ وفاته سنة إحدى وثلاثين ومئتين، وهو مترجم في "الجرح والتعديل" 3/ 283، وباقي رجاله ثقات على شرط الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك التكلف في دين الله بما تنكب عنه وأغضي عن إبدائه-
- اس بات کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دین میں تکلف کو ترک کرے اور ان چیزوں سے دور رہے جنہیں بیان کرنے سے شریعت نے روکا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ مَسْأَلَةٍ لَمْ تُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ" .
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے جسے حرام قرار نہ دیا گیا ہو، اور پھر اس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے لیے حرام قرار دے دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7289، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2358، وابن الجارود فى "المنتقى"، 950، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 110، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1539، 1564، والحميدي فى (مسنده) برقم: 67، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 761»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3276): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں