صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. ذكر الخبر الدال على إباحة إظهار المرء بعض ما يحسن من العلم إذا صحت نيته في إظهاره-
- اس خبر کا ذکر کہ اگر نیت درست ہو تو انسان کے لیے اپنے علم میں سے کچھ ظاہر کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، وَالنَّاسُ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهُمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدَكَ فَعَلا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَبِّرْ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَالْقُرْآنُ حَلاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ، فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، أَخَذْتَهُ فَيُعْلِيكَ الِلَّهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدَكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ، أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا"، قَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ:" لا تُقْسِمْ" .
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے گزشتہ رات ایک بادل دیکھا ہے، جس سے گھی اور شہد کی بارش ہو رہی تھی اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے۔ کوئی شخص زیادہ لے رہا تھا، اور کوئی کم لے رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی دیکھی۔ پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا، تو وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر اس شخص کے لیے اسے ملا دیا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم تعبیر بیان کرو۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: بادل سے مراد اسلام کا بادل ہے، اور اس سے ٹپکنے والے گھی اور شہد (سے مراد) قرآن ہے، اس کی حلاوت اور نرمی مراد ہے۔ جہاں تک لوگوں کا اسے ہاتھوں میں لینے کا تعلق ہے، تو کچھ لوگ قرآن کا زیادہ علم حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا کم علم حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک آسمان سے نیچے لٹکنے والی رسی کا تعلق ہے، تو یہ وہ حق ہے، جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ نے اس کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سربلندی عطا فرمائی۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑ لیا، تو اس نے اس کے ذریعے سربلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا، تو اس نے اس کے ذریعے سربلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا، تو رسی منقطع ہو گئی۔ پھر اس شخص کے لیے اسے ملا دیا گیا، تو اس نے بھی سربلندی حاصل کی۔ یا رسول اللہ! آپ مجھے بتائیے، میرے والد آپ پر قربان ہوں، کیا میں نے ٹھیک تعبیر بیان کی ہے یا غلط بیان کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ تعبیر غلط بیان کی ہے، اور کچھ ٹھیک بیان کی ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ میں نے کہاں غلطی کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قسم نہ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7000، 7046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 111، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7593، 7594، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3267، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3918، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1919، والحميدي فى (مسنده) برقم: 546، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 31121»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (121)، «الظلال» (1143): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
48. ذكر الحكم فيمن دعا إلى هدى أو ضلالة فاتبع عليه-
- ہدایت یا گمراہی کی طرف بلانے والے اور اس کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں حکم۔
حدیث نمبر: 112
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دیتا ہے، تو اس شخص کو ان تمام لوگوں کے اجر جتنا اجر ملے گا جو اس ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی، اور جو شخص گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے، اس شخص کو ان تمام لوگوں جتنا گناہ ہو گا جو اس گمراہی کی پیروی کرتے ہیں اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 112، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4609، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2674، والدارمي فى (مسنده) برقم: 530، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 204، 206، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9283، 10705، 10900، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6489، والبزار فى (مسنده) برقم: 8338، 9866، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2656»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (865): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
49. ذكر البيان بأن على العالم أن لا يقنط عباد الله عن رحمة الله-
- اس بیان کا ذکر کہ عالم پر لازم ہے کہ وہ بندوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے۔
حدیث نمبر: 113
سَمِعْتُ سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيرَةَ ، يَقُولُ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَضْحَكُونَ، فَقَالَ:" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَكَ: لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي؟ قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهُمْ، فَقَالَ:" سَدَّدَوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ:" سَدَّدَوا" يُرِيدُ بِهِ: كُونُوا مُسَدَّدَينَ، وَالتَّسْدِيدُ: لُزُومُ طَرِيقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتِّبَاعُ سُنَّتِهِ، وَقَوْلُهُ:" وَقَارِبُوا" يُرِيدُ بِهِ: لا تَحْمِلُوا عَلَى الأَنْفُسِ مِنَ التَّشْدِيدِ مَا لا تُطِيقُونَ، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ لَكُمُ الْجَنَّةَ لَزِمْتُمْ طَرِيقَتِي فِي التَّسْدِيدِ، وَقَارَبْتُمْ فِي الأَعْمَالِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرے جو ہنس رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز میں جانتا ہوں اگر تم جان لو، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: بے شک اللہ تعالیٰ آپ سے یہ فرما رہا ہے کہ آپ کیوں میرے بندوں کو مایوس کر رہے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کے پاس واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا» ”تم لوگ ٹھیک رہو، میانہ روی اختیار کرو اور خوشخبری حاصل کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «سَدِّدُوا» سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ تسدید اختیار کرنے والے بن جاؤ اور تسدید سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو لازم پکڑنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنا ہے۔ روایت کے الفاظ «قَارِبُوا» سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے اوپر ایسی شدت لازم نہ کرو جس کی تم طاقت نہیں رکھتے۔ روایت کے الفاظ «أَبْشِرُوا» سے مراد یہ ہے کہ تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ جب تم میرے طریقے کو لازم پکڑ لو گے اور اعمال میں میانہ روی اختیار کرو گے تو تمہیں جنت ملے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6485، 6637، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 113، 358، 662، 5793، 6706، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8823، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2313، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13465، 19869، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7615، والبزار فى (مسنده) برقم: 7970، 8370»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3194)، «تخريج فقه السيرة» (445). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. محمد: هو ابن زياد القرشي الجمحي مولاهم، أبو الحارث المدني.
50. ذكر إباحة تأليف العالم كتب الله جل وعلا-
- اس بات کا ذکر کہ عالم کے لیے اللہ عزوجل کی کتابوں کی تصنیف و تالیف جائز ہے۔
حدیث نمبر: 114
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں مختلف ٹکڑوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 114]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 114، 7304، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2918، 2919، 4240، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3954، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22007، 22008، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 19795، 33133، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4933، 4934، 4935»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (503)، «المشكاة» (6624)، «تخريج فضائل الشام» (رقم 1). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين، غير عبد الرحمن بن شماسة، فهو من رجال مسلم وحده. عبد الأعلى: هو حماد بن نصر الباهلي، ويحيى بن أيوب: هو الغافقي المصري.
51. ذكر الحث على تعليم كتاب الله وإن لم يتعلم الإنسان بالتمام-
- قرآنِ کریم کو سکھانے پر ترغیب کا ذکر اگرچہ انسان نے اسے مکمل نہ سیکھا ہو۔
حدیث نمبر: 115
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ يَأْخُذُهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلا قَطِيعَةِ رَحِمٍ؟"، قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ عِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ أُضْمِرَ فِيهِ كَلِمَةٌ وَهِيَ: لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ: فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاثٍ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا، لأَنَّ فَضْلَ تَعَلُّمِ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ فَضْلِ نَاقَتَيْنِ، وَثَلاثٍ وَعِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُشَبِّهَ مَنْ تَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي الأَجْرِ بِمَنْ نَالَ بَعْضَ حُطَامِ الدُّنْيَا، فَصَحَّ بِمَا وَصَفْتُ صِحَّةُ مَا ذَكَرْتُ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ہم اس وقت صفہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ بطحان یا عقیق جائے اور روزانہ وہاں سے دو ایسی اونٹنیاں لے آیا کرے جن کی کوہان بلند ہو اور ان کی رنگت چمکدار ہو، اور وہ کسی گناہ اور کسی قطع رحمی کے بغیر انہیں حاصل کر لے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص مسجد جائے اور اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے، اور تین (آیات کا علم حاصل کرنا) تین اونٹنیوں حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہے، اور چار (آیات کا علم حاصل کرنا) ان کی تعداد کے جتنے اونٹوں کو حاصل کرنے سے بہتر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں ایک کلمہ پوشیدہ (یعنی محذوف) ہے اور وہ یہ ہے: ”اگر وہ اسے صدقہ کر دے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد یہ ہو گی: آدمی کا اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا اس کے لیے دو یا تین اونٹنیوں کو صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا دو یا تین اونٹنیوں یا ان جتنے اونٹوں کو صدقہ کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنے کے اجر کو دنیاوی ساز و سامان کے حصول سے تشبیہ دیں، اس لیے میں نے جو وضاحت کی ہے وہ درست ہو گی جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 803، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 115، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17680، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30697، والطبراني فى(الكبير) برقم: 799، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1309): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وحبان هو ابن موسى بن سوار السلمي المروزي، وعبد الله هو ابن المبارك.
حدیث نمبر: 116
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعًا لأَصْحَابِهِ، وَعَلَيْكُمْ بِالزَّهْرَاوَيْنِ: الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، وَعَلَيْكُمْ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قرآن کا علم حاصل کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا اور تم لوگوں پر دو چمکدار چیزوں «الزَّهْرَاوَيْنِ» کو اختیار کرنا لازم ہے: سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن یوں آئیں گی جیسے دو بادل «غَمَامَتَانِ» ہیں، یا جیسے یہ دو سایہ دار چیزیں «غَيَايَتَانِ» ہیں، یا جیسے یہ پرندوں کی دو قطاریں «حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ» ہیں اور یہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں بحث کریں گی (یعنی ان کی شفاعت کریں گی)۔ تم لوگوں پر سورہ بقرہ پڑھنا لازم ہے، اسے اختیار کرنا برکت ہے، اور اسے ترک کر دینا حسرت ہے، اور باطل لوگ «الْبَطَلَةُ» (یعنی جادوگر) اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 804، 804، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 116، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2079، 3153، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4126، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22576، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7542، 7543، 7544، 8118، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 468، 5764، 8823»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر مسلم» (2095). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله ثقات، رجاله رجال مسلم، ويحيى بن أبي كثير - وإن رواه بالعنعنة - توبع عليه.
52. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تعلم كتاب الله جل وعلا واتباع ما فيه عند وقوع الفتن خاصة-
- فتنوں کے زمانے میں خصوصاً قرآن سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 117
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ مِنْ شَرٍّ نَحْذَرُهُ؟ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ عَلَيْكَ بِكِتَابِ اللَّهِ فَتَعَلَّمْهُ، وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ خَيْرًا لَكَ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اس وقت جس بھلائی پر گامزن ہیں کیا اس کے بعد کوئی ایسی برائی بھی آئے گی جس سے بچنا چاہیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے حذیفہ! تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے، اس کا علم حاصل کرو اور اس میں تمہارے لیے جو بھلائی ہے، اس کی پیروی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 117]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3606، 3607، 7084، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1847، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 117، 5963، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 385، 416، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4244، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3979، 3981، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23754، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38268»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2739). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، سوى عبد الله بن الصامت؛ فإنه من رجال مسلم.
53. ذكر البيان بأن من خير الناس من تعلم القرآن وعلمه-
- اس بیان کا ذکر کہ لوگوں میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
حدیث نمبر: 118
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَهَذَا الَّذِي أَقْعَدَنِي هَذَا الْمَقْعَدَ.
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم میں زیادہ بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5027، 5028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 118، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7982، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1452، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2907، 2908، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 211، 212، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 21، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 412، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30694»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1306): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري.
54. ذكر الأمر باقتناء القرآن مع تعليمه-
- قرآن کو حاصل کرنے اور سکھانے کے حکم کا ذکر۔
حدیث نمبر: 119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتَنُوهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قرآن کا علم حاصل کرو اور اسے سنبھال کے رکھو۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، یہ آدمی کے ذہن سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے، جتنی تیزی سے کوئی اونٹنی رسی میں سے نکلتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 119، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7980، 7981، 7995، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17590، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8660»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 214). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
55. ذكر الزجر عن أن لا يستغني المرء بما أوتي من كتاب الله جل وعلا-
- اس بات پر وعید کا ذکر کہ کوئی شخص قرآن سے بے نیازی اختیار نہ کرے۔
حدیث نمبر: 120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيَكٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا" فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ يُرِيدُ بِهِ: لَيْسَ مِثْلَنَا فِي اسْتِعْمَالِ هَذَا الْفِعْلِ، لأَنَّا لا نَفْعَلُهُ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِثْلَنَا.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص قرآن کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ یہ اطلاع دینے کے حوالے سے ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص یہ عمل کرتا ہے، وہ ہماری مانند (عمل کرنے والا) نہیں ہے، کیونکہ ہم یہ عمل نہیں کرتے ہیں، اس لیے جو ایسا کرے گا وہ ہماری مانند نہیں ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 120]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 120، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 969، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2100، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1469، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1531، 3531، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1337، 4196، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1494، والحميدي فى (مسنده) برقم: 76، 77»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1321). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، يزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، ثقة، عابد، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله بن عبد الله بن أبي مليكة، وعبيد الله بن أبي نهيك ذكره في "التقريب" في عبد الله، وقال: ويقال: عبد الله مصغراً. وثقه النسائي.