صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
61. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الزجر عن القدوم على البلد الذي وقع فيه الطاعون والخروج منه من أجله
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس شہر میں جائے جہاں طاعون پھیلا ہو یا وہاں سے اس کی وجہ سے نکلے
حدیث نمبر: 2952
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" .
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد کو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی طاعون کے بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”طاعون ایک خرابی ہے، جو بنی اسرائیل کی طرف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: تم سے پہلے لوگوں کی طرف) بھیجی گئی تھی، تو جب تم کسی سرزمین کے بارے میں سنو کہ وہاں یہ ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2952]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3473، 5728، 6974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2218، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2952، 2954، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7481، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1065، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1555، والحميدي فى (مسنده) برقم: 554» «رقم طبعة با وزير 2941»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (1548): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 2953
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ، لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَالَ عُمَرُ: ادْعُ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوْلِينَ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: خَرَجْتَ لأَمْرٍ فَلا أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ، فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلافِهِمْ، فَقَالَ: ارْتَفِعُوا عَنِّي، ثُمَّ قَالَ: ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ، فَدَعَوْتُهُمْ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلانِ، وَقَالُوا: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ: أَفِرَارًا مِنْ قَدْرِ اللَّهِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلافَهُ نَفِرُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خِصِبَةٌ، وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخِصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے، جب وہ ”سرغ“ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ان کی ملاقات لشکر کے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس مہاجرینِ اولین کو بلا کر لاؤ۔ میں ان لوگوں کو بلا کر لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے، تو ان لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔ ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اسے چھوڑ کر واپس چلے جائیں، جبکہ بعض کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ گنے چنے لوگ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب موجود ہیں، اس لیے ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ کو وبائی علاقے میں جانا چاہیے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: میرے پاس انصار کو بلا کر لاؤ۔ میں انہیں بلا کر لایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا تو وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کے درمیان بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے پاس قریش کے ان بوڑھوں کو بلا کر لاؤ جو فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آئے تھے۔ میں نے ان لوگوں کو بلایا تو اس بارے میں ان کے دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں ہوا، انہوں نے یہی کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہیے اور اس وبائی علاقے میں نہیں جانا چاہیے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا کہ ہم کل روانہ ہو جائیں گے آپ لوگ تیاری کر لیں۔ تو سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ کے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی (تو اتنا افسوس نہ ہوتا) اے ابوعبیدہ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ اختلاف کرنا پسند نہیں آیا، (انہوں نے فرمایا) ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہوئے اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کے پاس اونٹ ہوں اور آپ انہیں کسی ایسی وادی میں لے کر اتریں جس کے ایک طرف سرسبز و شاداب جگہ اور دوسری طرف خشک سالی ہو، تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ انہیں سرسبز جگہ پر چراتے ہیں تو یہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق ہے اور اگر آپ انہیں خشک جگہ پر چرنے کے لیے چھوڑتے ہیں تو آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق چراتے ہیں؟ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے، وہ اس وقت کسی کام کے سلسلے میں موجود نہیں تھے، انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں میرے پاس علم موجود ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی سرزمین پر ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور وہاں سے واپس آ گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5729، 5730، 6973، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2219، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2912، 2953،وأبو داود فى (سننه) برقم: 3103، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6652، 14357، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1688» «رقم طبعة با وزير 2942»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2717).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
62. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر البيان بأن الطاعون إنما هو بقية من العذاب الذي أرسل على بني إسرائيل
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ طاعون وہ عذاب ہے جو بنی اسرائیل پر بھیجا گیا تھا
حدیث نمبر: 2954
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ:" بَقِيَّةُ رِجْزٍ، وَعَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَهْرَبُوا مِنْهُ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ ایک عذاب کا بقیہ حصہ ہے، یہ وہ عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے گروہ کی طرف بھیجا گیا تھا؛ جب یہ کسی سرزمین پر واقع ہو اور تم لوگ وہاں موجود ہو تو تم لوگ وہاں سے بھاگو نہیں، اور جب کسی دوسری سرزمین پر واقع ہو تو تم وہاں جاؤ نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3473، 5728، 6974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2218، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2952، 2954، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7481، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1065، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1555، والحميدي فى (مسنده) برقم: 554» «رقم طبعة با وزير 2943»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
63. باب المريض وما يتعلق به - ذكر الأمر بعيادة المرضى إذ استعماله يذكر الآخرة
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس حکم کا ذکر کہ بیماروں کی عیادت کی جائے کیونکہ اس کا استعمال آخرت کی یاد دلاتا ہے
حدیث نمبر: 2955
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عِيسَى الأُسْوَارِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُودُوَا الْمَرْضَى، وَاتَّبَعُوا الْجَنَائِزَ تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیماروں کی عیادت کرو، جنازوں کے ساتھ جاؤ، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2955، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11350» «رقم طبعة با وزير 2944»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «أحكام الجنائز» (86).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي رجال ثقات رجال الشيخين غير أبي عيسى الأسواري
64. باب المريض وما يتعلق به - ذكر خوض عائد المريض الرحمة في طريقه واغتماره فيها عند قعوده عنده
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر کہ بیمار کی عیادت کرنے والا اپنے راستے میں رحمت میں گھرا رہتا ہے اور اس کے پاس بیٹھنے پر رحمت میں ڈوب جاتا ہے
حدیث نمبر: 2956
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ، غُمِرَ فِيهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے، تو وہ جب تک وہاں بیٹھا رہے رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے اور جب تک وہ بیٹھا رہے وہ اس میں ڈوبا رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2956، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1299، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6679، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14481، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10939» «رقم طبعة با وزير 2945»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2714).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
65. باب المريض وما يتعلق به - ذكر رجاء تمكن عواد المرضى من مخاوف الجنان بفعلهم ذلك
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر کہ بیماروں کی عیادت کرنے والوں کے لیے جنت کے خوف سے محفوظ رہنے کی امید ہے
حدیث نمبر: 2957
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ غُلامُ طَالُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهَ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ" .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے، تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2568، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2957، والترمذي فى (جامعه) برقم: 967، 968، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22806» «رقم طبعة با وزير 2946»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
66. باب المريض وما يتعلق به - ذكر استغفار الملائكة لعائد المريض من الغداة إلى العشي ومن العشي إلى الغداة
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر کہ فرشتے بیمار کی عیادت کرنے والے کے لیے صبح سے شام اور شام سے صبح تک استغفار کرتے ہیں
حدیث نمبر: 2958
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ زَارَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا عَمْرُو، أَتَزُورُ حَسَنًا وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا؟ قَالَ: نَعَمْ يَا عَلِيُّ، لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي تَصْرِفُهُ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَا أَنَّ ذَلِكَ لا يَمْنَعُنِي مِنْ أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فِي أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ وَأَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ" .
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کرنے کے لیے گئے، تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے عمرو! کیا تم حسن سے ملنے کے لیے آئے ہو حالانکہ تمہارے ذہن میں کچھ اور ہے؟ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ! جی ہاں (میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہما سے ملنے آیا ہوں)، آپ پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جیسے چاہیں پھیر دیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں صرف تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا تھا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب بھی کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، خواہ وہ دن کی کسی بھی گھڑی میں (عیادت کے لیے جائے) اور وہ فرشتے شام تک ایسا کرتے ہیں، اور اگر وہ رات کی کسی بھی گھڑی میں جائے، تو صبح تک (دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6969، وأحمد فى (مسنده) برقم: 765، 970» «رقم طبعة با وزير 2947»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1367).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
67. باب المريض وما يتعلق به - ذكر ما يستحب للعواد أن يطيبوا قلوب الأعلاء عند عيادتهم إياهم
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر جو عیادت کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ بیماروں کے دلوں کو خوش کریں جب وہ ان کی عیادت کریں
حدیث نمبر: 2959
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، فَقَالَ:" لا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَقَالَ: كَلا، بَلْ حِمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُورِدُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَنَعَمْ إِذًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، اگر اللہ نے چاہا، تو یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہو گا““ تو وہ بولا: جی نہیں بلکہ یہ بخار ہے، جو ایک بوڑھے شخص پر بھڑک رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا دے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر ایسا ہی ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3616، 5656، 5662، 7470، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2959، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7457، 10811، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6691، 6692، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11951» «رقم طبعة با وزير 2948»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر الأدب المفرد» (391): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
68. باب المريض وما يتعلق به - ذكر جواز عيادة المرء أهل الذمة إذا طمع في إسلامهم
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کی جواز کا ذکر کہ آدمی اہل ذمہ کی عیادت کرے اگر اسے ان کے اسلام لانے کی امید ہو
حدیث نمبر: 2960
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، أَنَّ غُلامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرِضَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ:" اذْهَبُوا بِنَا إِلَيْهِ نَعُودُهُ"، فَأَتَوْهُ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْفَعُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَجَعَلَ الْغُلامُ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: انْظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ أَبُو الْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”تم لوگ میرے ساتھ اس کی عیادت کرنے کے لیے چلو۔“ وہ لوگ اس کے پاس آئے، اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم یہ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں گا۔“ اس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھنا شروع کیا، تو اس کے باپ نے اس سے کہا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا کہہ رہے ہیں (یعنی ان کی بات مان لو)، تو اس لڑکے نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1356، 5657، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2960، 4883، 4884، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1346، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3095، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6693، 12284، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12989» «رقم طبعة با وزير 2949»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 21) «صحيح أبي داود» (2671): خ نحوه، ويأتي برقم (4864). تنبيه!! رقم (4864) = (4884) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
69. باب المريض وما يتعلق به - ذكر بناء الله جل وعلا منزلا في الجنة لمن زار أخاه المسلم أو عاده في الله جل وعلا
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس کے لیے جنت میں مکان بناتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی زیارت یا عیادت اللہ کے لیے کرے
حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، أَوْ زَارَهُ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأْتَ مَنْزِلا فِي الْجَنَّةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو سِنَانٍ هَذَا هُوَ الشَّيْبَانِيُّ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَأَبُو سِنَانٍ الْكُوفِيُّ اسْمُهُ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے یا اس سے ملنے کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم پاکیزہ رہو اور تمہارا چلنا پاکیزہ رہے، تم نے جنت میں اپنے رہنے کی جگہ بنا لی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسنان نامی یہ راوی شیبانی ہے اور اس کا نام سعید بن سنان ہے، جبکہ ابوسنان کوفی نامی راوی کا نام ضرار بن مرہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2961، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2008، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1443، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8441» «رقم طبعة با وزير 2950»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (2632).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف