صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
128. - باب معاشرة الزوجين - ذكر الإخبار عن جواز مواقعة المرء أهله على أي حال أحب إذا قصد فيه موضع الحرث
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ مرد کو اپنی بیوی سے جس حال میں چاہے ہمبستری کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ تخلیق کی جگہ (یعنی موضعِ حرث) میں ہو۔
حدیث نمبر: 4166
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ الْيَهُودُ" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُجَبِّيَةٌ، جَاءَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَنَزَلَتْ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 إِنْ شَاءَ مُجِيبَةً، وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجِيبَةٍ، إِذَا كَانَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہود نے یہ کہا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ پچھلی طرف سے صحبت کرتا ہے تو اس کا بچہ بھینگا ہوتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] ”تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں، تم اپنے کھیت میں جس طرف سے چاہو آؤ۔“ (راوی کہتے ہیں) تو اب آدمی اگلی طرف سے کرے یا پیچھے کی طرف سے کرے، جبکہ صحبت کا مقام ایک ہی ہونا چاہیے (تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4166]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4528، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1435، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4166، 4197، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2163، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2978 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1925، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 366، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14212، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1300» «رقم طبعة با وزير 4154»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الآداب» (99): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
129. - باب معاشرة الزوجين - ذكر كتابة الله جل وعلا الصدقة للمسلم بمواقعة أهله
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مسلمان کے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنے پر بھی صدقہ لکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4167
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ؟، فَقَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ" ، هَذَا خَبَرٌ أَصْلٌ فِي الْمُقَايَسَاتِ فِي الدِّينِ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ”آدمی کے صحبت کرنے سے بھی صدقے کا ثواب ملتا ہے“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس کو اس میں بھی اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسے ناجائز طریقے سے پورا کرتا تو اسے اس کا گناہ ہوتا؟ اسی طرح اگر وہ اسے جائز طریقے سے پورا کرے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دینی معاملات میں قیاس کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں یہ روایت اصول کی حیثیت رکھتی ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 720، 1006، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 748، 1225، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 474، 529، 838، 3377، 4167، 4192، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8978، 8979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1285، 1286، 5243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1956، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 927، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21760، والحميدي فى (مسنده) برقم: 133» «رقم طبعة با وزير 4155»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (454)، «غاية المرام» (25 - 26): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
130. - باب معاشرة الزوجين - ذكر الزجر عن أن تأذن المرأة لأحد في بيتها إلا بإذن زوجها
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ عورت کے لیے منع ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو اپنے گھر میں آنے دے۔
حدیث نمبر: 4168
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَأْذَنِ الْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب عورت کا شوہر گھر میں موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اپنے شوہر کے گھر کے اندر آنے کی اجازت نہ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4168]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2066، 5192، 5195، 5360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1026، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3572، 3573، 4168، 4170، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7422، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2932، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1687، 2458، والترمذي فى (جامعه) برقم: 782، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1761، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7944، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8305، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1046» «رقم طبعة با وزير 4156»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2004): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
131. - باب معاشرة الزوجين - ذكر بعض السبب الذي من أجله تخون النساء أزواجهن
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر جس میں ان بعض وجوہات کا ذکر ہے جن کی بنا پر عورتیں اپنے شوہروں سے خیانت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 4169
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ الطَّعَامُ، وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر بنی اسرائیل نے گوشت جمع نہ کیا ہوتا تو وہ بدبودار نہ ہوتا اور اگر سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے (وہ حرکت نہ کی ہوتی) تو کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ خیانت نہ کرتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4169]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3330، 3399، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1470، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4169، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7434، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8147» «رقم طبعة با وزير 4157»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح "
132. - باب معاشرة الزوجين - ذكر البيان بأن الزجر عن الشيئين اللذين ذكرناهما قبل إنما هو زجر تحريم لا زجر تأديب
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ پچھلے دو امور (یعنی منع و زجر) حرمت کے طور پر ہیں نہ کہ محض تنبیہ یا تربیت کے طور پر۔
حدیث نمبر: 4170
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلا بِإِذْنِهِ، وَلا تَأْذَنُ لِرَجُلٍ فِي بَيْتِهَا وَهُوَ لَهُ كَارِهٌ، وَمَا تَصَدَّقَتْ مِنْ صَدَقَةٍ فَلَهُ نِصْفُ صَدَقَتِهَا، وَإِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی عورت کے لیے اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی وہ عورت اپنے گھر میں کسی ایسے مرد کو آنے کی اجازت دے سکتی ہے جسے اس کا شوہر ناپسند کرتا ہو، اور عورت جو بھی صدقہ کرتی ہے تو اس صدقے کا نصف ثواب مرد کو ملے گا، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2066، 5192، 5195، 5360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1026، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3572، 3573، 4168، 4170، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7422، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2932، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1687، 2458، والترمذي فى (جامعه) برقم: 782، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1761، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7944، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8305، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1046» «رقم طبعة با وزير 4158»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 64). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
133. - باب معاشرة الزوجين - ذكر استحباب الاجتهاد للمرأة في قضاء حقوق زوجها بترك الامتناع عليه فيما أحب
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ عورت کے لیے مستحب ہے کہ شوہر کی پسندیدہ باتوں میں انکار نہ کرے اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں کوشش کرے۔
حدیث نمبر: 4171
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مِنَ الشَّامِ سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدِمْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ، وَأَسَاقِفَتِهِمْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، قَالَ:" فَلا تَفْعَلْ، فَإِنِّي لَوْ أَمَرْتُ شَيْئًا أَنْ يَسْجُدَ لِشَيْءٍ، لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ" .
سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام سے تشریف لائے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سجدہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شام گیا وہاں میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور مذہبی پیشواؤں کو سجدہ کرتے ہیں تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، عورت اپنے پروردگار کے حق کو اس وقت تک مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی، یہاں تک کہ اگر مرد عورت سے قربت کا مطالبہ ایسی حالت میں کرے کہ وہ عورت پالان پر موجود ہو تو وہ عورت پھر بھی اسے منع نہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4171، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7418، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1853، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14828، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19713» «رقم طبعة با وزير 4159»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الإرواء» (7/ 55 - 56). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
134. - باب معاشرة الزوجين - ذكر لعن الملائكة المرأة التي لم تجب زوجها إلى ما دعاها إليه
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں جو شوہر کی دعوت پر اس کی بات نہ مانے۔
حدیث نمبر: 4172
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ دَعَا امْرَأَتَهُ، فَلَمْ تُجِبْهُ، فَبَاتَ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يُصْبِحَ، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی کو (اپنے پاس) بلائے اور وہ عورت اس کی بات کو قبول نہ کرے اور شوہر ناراضگی کے عالم میں رات بسر کرے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4172]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3237، 5193، 5194، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4172، 4173، 4174، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2141، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14825، 14826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7589» «رقم طبعة با وزير 4160»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1858): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
135. - باب معاشرة الزوجين - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فلم تجبه أراد به إذا دعاها إلى فراشه دون أمره إياها لسائر الحوائج
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "تو اس نے جواب نہ دیا" سے مراد یہ ہے کہ شوہر نے اسے بستر پر بلایا اور اس نے انکار کیا، نہ کہ عام گھریلو امور میں۔
حدیث نمبر: 4173
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمِ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ عورت آنے سے انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4173]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3237، 5193، 5194، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4172، 4173، 4174، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2141، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14825، 14826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7589» «رقم طبعة با وزير 4161»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
136. - باب معاشرة الزوجين - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم حتى تصبح أراد به إن لم تجبه في بعض الليل إلى ما رام منها
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ فرمانِ نبوی "یہاں تک کہ صبح ہو جائے" سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت رات کے کسی حصے میں شوہر کی طلب پر نہ آئے۔
حدیث نمبر: 4174
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے تو فرشتے اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4174]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3237، 5193، 5194، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1436، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4172، 4173، 4174، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2141، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14825، 14826، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7589» «رقم طبعة با وزير 4162»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (5194)، م (4/ 156). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
137. - باب معاشرة الزوجين - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من حق زوجته عليه
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ شوہر پر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 4175
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟، قَالَ:" يُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمَ، وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، ثُمَّ لا يَضْرِبُ الْوَجْهَ، وَلا يُقَبِّحُ، وَلا يَهْجُرُ إِلا فِي الْبَيْتِ" .
حکیم بن معاویہ اپنے والد (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) کا بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: عورت کا شوہر پر کیا حق ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ کھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب وہ خود کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کے چہرے پر نہ مارے، اسے قبیح قرار نہ دے اور اس کے ساتھ صرف گھر میں لاتعلقی اختیار کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 160، 4175، 7388، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2780، 3666، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2435، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2142، 2143، 2144، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2192 م، 2424، 3001، 3143، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2802، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 234، 1850، 2536، 4287، 4288، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20330» «رقم طبعة با وزير 4163»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1859). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح