🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر ثالث يدحض تأويل هذا المتأول لهذا الخبر
نکاح کی حرمت کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو اس متأول کے تأويل کو رد کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4126
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكِحَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ أَبَانُ: إِنَّ عُثْمَانَ حَدَّثَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُحْرِمُ لا يَنْكِحُ، وَلا يَخْطُبُ، وَلا يُنْكِحُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ نَفْسِهِ، وَسَمِعَهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
عمر بن عبید اللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے احرام کے دوران نکاح کرنے کا ارادہ کیا، انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا تو ابان نے کہا: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا، وہ نکاح کا پیغام نہیں بھیج سکتا اور کسی کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت ایوب بن موسیٰ نے نبیہ بن وہب کے حوالے سے بذاتِ خود سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ایوب سختیانی کے حوالے سے، نافع کے حوالے سے، نبیہ بن وہب سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4126]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4114»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر رابع يدفع قول هذا المتأول الداخل فيما ليس من صناعته
نکاح کی حرمت کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو اس متأول کے دعوے کو رد کرتی ہے جو اس کی صنعت سے باہر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4127
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْهَ بْنَ وَهْبٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يُنْكِحُ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا اور وہ کسی کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4127]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4115»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4128
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلا يُنْكِحُ" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ کسی کا نکاح کروا سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4128]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1409، الجارود فى "المنتقى"، 489، 752، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2842، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1841، والترمذي فى (جامعه) برقم: 840، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1966، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9243، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 408، والحميدي فى (مسنده) برقم: 33» «رقم طبعة با وزير 4116»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه يضاد الأخبار التي تقدم ذكرنا لها
نکاح کی حرمت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ:" تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ"، أَرَادَ بِهِ دَاخِلَ الْحَرَمِ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، كَمَا تَسْتَعْمِلُ الْعَرَبُ ذَلِكَ فِي لُغَتِهَا، فَتَقُولُ لِمَنْ دَخَلَ النَّجْدَ: أَنْجَدَ، وَلِمَنْ دَخَلَ الظُّلْمَةَ: أَظْلَمَ، وَلِمَنْ دَخَلَ تِهَامَةَ: أَتْهَمَ، أَرَادَ أَنَّهُ كَانَ دَاخِلَ الْحَرَمِ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا بِنَفْسِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ الأَخْبَارُ الَّتِي قَدَّمْنَا، وَالْخَبَرُ الْفَاصِلُ بَيْنَهُمَا الَّذِي يَرْدُفُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی آپ اس وقت حالتِ احرام میں تھے، اس کے ذریعے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کی حدود کے اندر تھے، اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے جس طرح عرب اپنے محاورے میں یہ لفظ استعمال کرتے ہیں؛ چناں چہ جو شخص نجد کی حدود میں داخل ہو اس کے لیے وہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ نجد میں داخل ہو گیا، جو شخص تاریکی میں داخل ہو جائے اس کے لیے وہ لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ تاریکی میں داخل ہو گیا، اور جو شخص تہامہ کی حدود میں داخل ہو وہ اس کے لیے لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ تہامہ کی حدود میں آ گیا، اس کے ذریعے ان کی مراد یہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کی حدود کے اندر تھے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت احرام بھی باندھا ہوا تھا، اور اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل وہ روایات ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اور وہ روایت جو ان دونوں کے درمیان فصل پیدا کرتی ہے وہ آگے آ رہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1837، 4258، 5114، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1410، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4129، 4131، 4133، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6882، 6884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2837، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1844، والترمذي فى (جامعه) برقم: 842، 843، 844، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1964، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9250، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1944» «رقم طبعة با وزير 4117»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1617): (4/ 227): ق. * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ ... لاَ أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا بِنَفْسِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ] قال الشيخ: قلت: هذا التأويل خلاف الظاهر؛ بل هو باطلٌ، تردُّه رواية يعلى بن حكيم، عن عكرمة عن ابن عبَّاس: أَنَّه كان لا يرى بأساً أن يتزوَّج الرجل وهو محرم، ويقول: إِنَّ نَبِيَّ الله تزوَّج ميمونة بماء - يقال له: سَرِفْ - وهو مُحرم، فلمَّا قضى نبيُّ الله حجَّته - وفي رواية نسكه - أقبل، حتَّى إذا كان بذلك الماء؛ أعرسَ بِهَا. أخرجه أحمد (1/ 275 و 286 و 336)، وسنده صحيح. وفي روايةٍ له (1/ 331) مِنْ طريق سعيد بن جُبير، عَنِ ابن عبَّاسٍ، قال: تزوَّج النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وهو مُحرمٌ، واحتجمَ وهو مُحرمٌ. وسنده صحيح. ويَشهدُ له حديثُ عائشةَ - الآتي عند المؤلِّف (4120) -. فهل معنى: احتجم وهو محرم؛ أي: داخل الحرم وهو حلال؟!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. - باب حرمة المناكحة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهما حلالان
نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے نکاح کیا جب دونوں حلال تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4130
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعٍ الزَّهْرَانِيُّ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلالا، وَبَنَى بِهَا حَلالا، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں نہیں تھے، جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں نہیں تھے اور میں ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4130]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4130، 4135، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5381، والترمذي فى (جامعه) برقم: 841، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1866، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9253، 14320، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3658، 3659، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27841» «رقم طبعة با وزير 4118»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف بهذا التمام - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر قد أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن نكاح المحرم وإنكاحه جائز
نکاح کی حرمت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ محرم کا نکاح اور اس کا نکاح کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4131
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4131]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1837، 4258، 5114، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1410، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4129، 4131، 4133، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6882، 6884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2837، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1844، والترمذي فى (جامعه) برقم: 842، 843، 844، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1964، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9250، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1944» «رقم طبعة با وزير 4119»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد بن مسرهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. - باب حرمة المناكحة - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
نکاح کی حرمت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4132
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ حالتِ احرام میں شادی کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں پچھنے بھی لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4132]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4132، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5387، 5388، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14324، 14326» «رقم طبعة با وزير 4120»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (4/ 227)، والشطر الأول شاذٌّ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. - باب حرمة المناكحة - ذكر الوقت الذي تزوج المصطفى صلى الله عليه وسلم فيه ميمونة
نکاح کی حرمت کا بیان - ذكر الوقت الذي تزوج المصطفى صلى الله عليه وسلم فيه ميمونة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4133
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابن إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۂ قضا کے موقع پر احرام باندھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4133]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1837، 4258، 5114، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1410، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4129، 4131، 4133، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6882، 6884، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2837، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1844، والترمذي فى (جامعه) برقم: 842، 843، 844، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1964، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9250، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3660، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1944» «رقم طبعة با وزير 4121»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 227 و 228)، «صحيح أبي داود» (1617 و 1618)، «الروض» (467).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. - باب حرمة المناكحة - ذكر البيان بأن تزوج المصطفى صلى الله عليه وسلم ميمونة كان وهو حلال لا حرام
نکاح کی حرمت کا بیان - ذكر البيان بأن تزوج المصطفى صلى الله عليه وسلم ميمونة كان وهو حلال لا حرام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4134
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَهَا حَلالا، وَبَنَى بِهَا حَلالا" ، وَمَاتَتْ بِسَرِفَ، فَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا، فَنَزَلْتُ فِي قَبْرِهَا أَنَا، وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَلَمَّا وَضَعْنَاهَا فِي اللَّحْدِ، مَالَ رَأْسُهَا، وَأَخَذْتُ رِدَائِي، فَوَضَعْتُهُ تَحْتَ رَأْسِهَا، فَاجْتَذَبَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَأَلْقَاهُ، وَكَانَتْ حَلَقَتْ فِي الْحَجِّ رَأْسَهَا، فَكَانَ رَأْسُهَا مُحَمَّمًا.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شادی کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہیں تھے، جب ان کی رخصتی ہوئی اس وقت بھی حالت احرام میں نہیں تھے۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بھی سرف کے مقام پر ہوا تھا، (راوی کہتے ہیں) ہم نے انہیں اسی جگہ پر دفن کیا جہاں ان کی رخصتی ہوئی تھی، (راوی کہتے ہیں) میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے تھے، جب ہم نے انہیں لحد میں رکھا تو ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، میں نے اپنی چادر لی اور ان کے سر کے نیچے رکھ دی، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس چادر کو کھینچ لیا اور اس کو ایک طرف رکھ دیا۔ انہوں نے حج کے موقع پر اپنا سر منڈوا دیا تھا تو ان کے بال چھوٹے چھوٹے سے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4134]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1411، وابن الجارود فى "المنتقى"، 490، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4134، 4136، 4137، 4138، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6883، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1843، والترمذي فى (جامعه) برقم: 845، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1965، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9251، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27457، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3654» «رقم طبعة با وزير 4122»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. - باب حرمة المناكحة - ذكر شهادة الرسول الذي كان بين المصطفى صلى الله عليه وسلم وبين ميمونة حيث تزوج بها أنه صلى الله عليه وسلم كان حلالا حينئذ لا محرما
نکاح کی حرمت کا بیان - ذكر شهادة الرسول الذي كان بين المصطفى صلى الله عليه وسلم وبين ميمونة حيث تزوج بها أنه صلى الله عليه وسلم كان حلالا حينئذ لا محرما
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4135
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلالٌ، وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلالٌ، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالتِ احرام میں نہیں تھے، اور جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تو اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں نہیں تھے، اور میں ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب النكاح/حدیث: 4135]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4130، 4135، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5381، والترمذي فى (جامعه) برقم: 841، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1866، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9253، 14320، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3658، 3659، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27841» «رقم طبعة با وزير 4123»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر (4118). تنبيه!! رقم (4118) = (4130) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں